لال مسجد انتظامیہ اور حکومت کے مابین ڈرافٹ پر اتفاق کے بعد آپریشن کا فیصلہ بھی خفیہ ہاتھوں ہی کی کارستانی ہے اور کیا یہ مماثلت محض اتفاقی ہے یا واقعتاً حالات کے سدھار کیلئے کی جانیوالی کوششوں میں ناکامی پر انتہائی قدم اٹھایا گیا؟
قوم کو اعتدال پسندی، روشن خیالی، صبروتحمل اور برداشت کی دعوت دینے والے مختصر عرصے ہی میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئے؟
اگر48 گھنٹے قبل ہی آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا تھا تو مذاکرات کا بے معنی سلسلہ کیوں شروع کیا گیا؟
آٹھ سال تک بھارت سے مذاکرات کرتے ہوئے بے انتہا لچک کا مظاہرہ کرنے والوں کی برداشت چھ ماہ اور آپریشن کے سات دنوں ہی میں کیوں جواب دے گئی؟
آپریشن میں تاخیر کی وجہ مسجد و مدرسے کا تقدس قرار دی جا رہی ہے مگر حتمی آپریشن کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے کیوں فراموش کر دیاگیا؟
وزیرداخلہ، سیکرٹری داخلہ، وزیر مملکت برائے داخلہ اورآئی جی اسلام آباد کی عدم موجودگی میں کن ناگزیر وجوہات کی بناء پر آپریشن کا آغاز کیا گیا؟
جن خودکش بمباروں، راکٹ لانچر و بھاری اسلحے اور خودکش حملوں میں استعمال کی جانیوالی بیلٹس کا تذکرہ سامنے آتا رہا وہ کہاں ہیں؟
مسجد و مدرسہ میں ہائی ویلیو ٹارگٹ ، غیر ملکیوں اور ابوذر وابومنصور گروپوں کی موجودگی کی جو خبریں منظر عام پر آتی رہیں وہ غیر ملکی جاں بحق ہو گئے یا انہیں گرفتار کر لیا گیا؟
ان غیر ملکیوں کی تعداد کتنی ہے؟
وہ کن علاقوں سے تعلق رکھتے تھے؟
وہ مسجد و مدرسے تک کس طرح پہنچے؟
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپریشن سے دو روز قبل وزیراعظم کویہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ مسجد میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے
اگر ایجنسیوں کو پہلے سے یہ پتہ تھا کہ یہ افراد مسجد میں موجود ہیں تو ان کیخلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی؟
اور اگر پتہ نہیں تھا تو راتوں رات یہ انکشاف کس طرح ہو گیا کہ مدرسے میں 50 سے 60 یا 100 سے زائد تربیت یافتہ غیر ملکی ہیں؟
اس کے باوجود اس ضمن میں یہ کیوں کہا جاتا رہا کہ غیر ملکیوں کی موجودگی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اطلاعات محض اندازوں، مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی تھیں۔
وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے یہ کہنے کے باوجود کہ "جب تک مسجد و مدرسے میں ایک بھی بچہ اور خاتون موجود ہو گی آپریشن نہیں کیا جائے گا" آپریشن کیوں کیا گیا؟
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو آپریشن کی حمایت کا بیان جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
تین جولائی سے تاحال میڈیا کو حقائق بتانے کے بجائے دور رکھ کر چھپانے کے کیا مقاصد تھے؟
غازی عبدالرشید شہید یہ کیوں کہتے رہے کہ انتظامی ادارے مسجد و مدرسے سے ایٹم بم بھی برآمد کر سکتے ہیں؟
فریقین میں پائی جانیوالے عدم اعتماد کی فضا کے تدارک کیلئے سنجیدہ اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے؟
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اکبر بگٹی کی طرح غازی عبدالرشید شہید کے ورثاء کو ان کی میت کو اپنی مرضی سے دفنانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ورثاء کا حق ہے اور میتیں دفنانا حکومت کا کام نہیں ہے اور کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ اس طریق کار سے ہم نے مختلف شخصیات کی محبت، مقبولیت اور عقیدت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
آپریشن میں شہید ہونیوالوں کی تعداد 100 کے قریب بتائی جا رہی ہے پھر عبدالستار ایدھی 1200 کفن بھجوانے کے مطالبے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟
جو اسلحہ جامعہ حفصہ کے محصورین استعمال کرتے رہے اسے اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟
لوگوں کے اس خدشے کے ازالے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جا رہا ہے کہ جس طرح پولیس، مقابلے میں مارے جانے والوں سے اسلحہ برآمد کرنے کے علاوہ اپنے پاس سے بھی جدید اسلحہ ڈال دیتی ہے کیا کہیں یہاں بھی ایسا ہی تو نہیں ہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال بہت زیادہ سوالات ہیں اور یہ سوالات اسوقت تک پیدا ہوتے رہیں گے ، انگلیاں اس وقت تک اٹھتی رہیں گی جب تک ان کے تسلی بخش جواب نہیں دئیے جاتے شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سوالوں کے جواب کبھی بھی نہ مل سکیں ۔
یاد رہے کہ تین جولائی سے تاحال حکومت کی طرف سے اطلاعات کی رسائی کے تمام ذرائع پر عملاً سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ‘’سینہ گزٹ’‘سے خبر سازی کر رہا ہے یا پھر ٹیبل سٹوریز گھڑی جا رہی ہیں۔
اس المناک سانحہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے،
ہر دل افسردہ ہے، فضاسوگوار ہے
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید ہی کوئی ہو جو بہنے والے خون کے باعث غم و اندوہ کی کیفیت سے دوچار نہ ہو،خواہ وہ روشن خیال ہو یا اسلام پسند۔
اپنے نام کی مناسبت سے خون میں نہانے والی لال مسجد آٹھ روز تک فائرنگ، مارٹر گولوں کے دھماکوں، سموک و آنسو گیس ، انسانی خون کے لوتھڑوں، معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کی آہ وبکا و چیخ و پکار کے نرغے میں رہی۔ سرنڈر ہوتے رہے، لاشیں گرتی رہیں، خون بہتا رہا، خوف، اضطراب، مایوسی کے الاؤ دہکتے رہے، دھویں کے مرغولے آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے امید و بیم کی کشمکش میں مبتلاء طلباء کے والدین کا تماشا دیکھتے رہے۔
اسے المیہ کہاجائے یا سانحہ؟؟؟
جید علمائے کرام اور وفاق المدارس کے مطابق لال مسجد سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام طلبہ وطالبات بشمول غازی عبدالرشید و دیگر اسلامی شدت پسند ،شہید ہیں۔
ناقابل فہم امریہ ہے کہ کس سے تعزیت کی جائے کس کو پرسہ دیا جائے ، کس کا نوحہ پڑھا جائے۔ کون جاں بحق ہے، کون شہید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یااللہ کرم کر یا اللہ رحم کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔