ذہنی امراض کی سب سے بڑی وجہ ناانصافی ہے:ہیلتھ پاک
- ہیلتھ کارنر, ہیلتھ نیوز۔خبرنامہ صحت | Time: 12:05 pm (UTC+8) No Comments »
لاہور (نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) طب قدیم وجدید میڈیکل سائنس کے مطابق آزادی تحریر و تقریراور ذرائع ابلاغ پرقدغن لوگوں کو پرتشدد کاروائیوں پر اکساتی ہے۔ جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔اس حالت میں اگر جانبدارسرکاری ٹی وی دیکھا جائے توجھوٹ کو سچ دکھانے کے باعث ڈیپریشن وبلڈ پریشرمیں اضافہ ہو کر مزید جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔اس امر کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل ‘مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحیح معلومات تک عدم رسائی سے سینہ گزٹ اور افواہ ساز فیکٹریاں وجود میں آتی ہیں ۔جو حکومت کےلئے انتہائی نقصان دہ اور پاکستانی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ۔ لہذا اس فرسٹریشن اور دیگر نفسیاتی امراض اور پر تشدد کاروائیوں سے بچنے کےلئے حکومت اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق دونوں آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے تا کہ عوام ان پرامن ذرائع ابلاغ سے اختلاف رائے کا اظہارکر سکیں۔اور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پا سکے۔(یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جدید مغربی تحقیق کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والے ہی ریاست کے اصل وفادار ہوتے ہیں جبکہ خوشامدی اورچاپلوسی کرنے والے کئی ذہنی بیمار لوگ حکومتوں اور معاشروں کو لے ڈوبتے ہیں۔)
مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ‘جگر’انتڑیوں ‘گردوں ‘پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں اورعید کے دن مرغن غذائیں مثلاًروسٹ’ بروسٹ’تکے ‘کباب’کڑاہی گوشت’ہریسہ’قورمہ’بریانی’حلوہ پوری’قتلمہ’کیک ‘مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذا یکدم بہت زیادہ مرغن غذاؤوں کے استعمال سے بچیں۔عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں’دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کےلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں’دماغی کمزوری’ہائی بلڈ پریشر’شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کریم کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحت مند رہ سکتے ہیں۔

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے
پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک ہو۔

روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے’اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے ‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’ خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔
٭۔۔۔۔۔۔ موسمی امراض سے بچاؤکےلئے برسات میں خصوصی احتیاط کریں :حکیم قاضی ایم اے خالد
٭۔۔۔۔۔۔ رہائشی کمروں میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں’پانی ابال کر پیئں’لیموں پانی کا بکثرت استعمال کریں ‘سرکہ موسم برسات کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے
لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) اگر موثّراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم برسات بیشتر امراض کا باعث بنتا ہے اکثر وبائی امراض بھی اسی موسم میں پھوٹتے ہیں جسکا بنیادی سبب ‘ہمارے ہاں ناقص سیوریج سسٹم کی وجہ سے سیلابی اور بارشوں کے پانی کاعرصہ دراز تک جگہ جگہ کھڑا ہو جانا ہے جو متعفّن ہوکر وبائی امراض کا باعث بنتا ہے ملیریا’ٹائیفایڈاور دیگر موسمی بخار’یرقان’ہیپا ٹائٹس ‘گیسٹرو’اسہال(دست)پیچش و پیٹ کے امراض ‘جسم میں کھچاؤٹ ‘دردیں ‘خون کی خرابی پھوڑے پھنسیاں اور گلے کی سوزش جیسے امراض برسات میں عام ہو جاتے ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے افادہ عام کےلئے نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس موسم میں رہائشی کمروں کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ تازہ ہوا اوردھوپ سے وہ خشک رہیں نیز ہر ہفتے ان میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں یا دیگر جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کریں۔ گندے پانی اور کیچڑوغیرہ کی صفائی کا بھی فوری بندوبست ہونا چاہیئے موسم برسات میں اے سی یا روم کولرکے استعمال سے اعصابی کھنچاؤ’دردیں اوربخارجیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اس موسم میں ہلکے سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم برسات میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہیئے اس موسم میں بعض پھل مثلا امرود ‘خربوزہ’سردا’گرمااور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔ اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کےلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبوی (ص) کے مطابق سرکہ موسم برسات کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ برسات کے موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کےلئے لہسن ’ ادرک اور پیاز کا استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریں تو یقیناً ہم اس موسم کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔
http://dailywaqt.com/openlink.asp?ddir=050807&im=p3-17.gif
رائل ون،ایف ایم ۱۰۳،روزنامہ دن،روزنامہ الاخبار،روزنامہ اسلام ،روزنامہ وقت،روزنامہ جنگ اور دیگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں ملاحظہ فرمائیں
٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں 60لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں
٭۔۔۔۔۔۔دولت کی فراوانی’ غربت’ عدم مساوات’ناانصافی اورگھریلو تنازعات منشیات کے استعمال کا باعث ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔کونسل آف ہربل فزےشنز پاکستان اور ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمینار سے مقررین کا خطاب
لاہور(نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )عالمی یوم انسداد منشیات کے موقع پر کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ایک سیمینار بعنوان’’ عالمی یوم ترک منشیات اور اس کے تقاضے’’ منعقد ہوا کونسل ہذا کے مرکزی سیکرٹری جنرل حکیم قاضی ایم اے خالد نے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بیس کروڑجبکہ پاکستان میں60 لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں ۔ دس سال قبل 1997ء میں ان کی تعداد28لاکھ تھی ۔ملک کی22فیصددیہاتی آبادی اور38فیصد شہری آبادی منشیات کا شکار ہے۔ان نشیؤں میں سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشے کے عادی ہیںاور 80فیصد افراد مشترکہ سرنج استعمال کرتے ہیں جس سے بعد ازاں مہلک ترین بیماریاںہیپاٹائٹس سی’ ایڈز’ کئی قسم کے کینسر اور دیگر خطرناک امراض جنم لیتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر 14 سے 18سال کے نوجوان ہیں۔پاکستان میں کم وبیش2ملین افراد ہیروئن اور 50ہزار افراد افیون کے نشے کے عادی ہیں ۔ نشہ آور اور سکون آور ٹرانکولائزر گولیاں استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 9لاکھ کے قریب ہے اور سکون ونیندآور ان ادویات کی بغیر نسخہ دستیابی سے ان کا استعمال کرنے والوں کا گراف بتدریج بڑھ رہا ہے۔ ان گولیوں کا استعمال چھوٹے اور بڑے مرد اور عورتیں جوان اور بوڑھے سب ہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی کوالیفائڈ طبیب جنسی اور دیگر امراض میں نشہ آور دوا دینے سے پرہیز کرتا ہے تاہم ملک میں عطائیوں اورنیم حکیموں کی بھی کمی نہیں جن کی وجہ سے ہر سال 45ہزار افراد صرف نشہ آورجنسی ادویہ کا شکار ہورہے ہیں۔ نئی نسل میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کا رجحان درحقیقت دولت کی انتہائی فراوانی یا انتہائی غربت’ دوستوں کی بری صحبت، جنس مخالف کی بے وفائی، اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھنے،اپنے مقاصد میں ناکامی اور اس تناظر میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی ’ والدین کی مادیت پرستی ‘انتہائی مصروفیت اور بچوں کے معاملات میں عدم دلچسپی وعدم تعاون’معاشرہ کی طرف سے نظر انداز کئے جانے’ عدم مساوات’ناانصافی’انارکی ‘والدین کے گھریلو تنازعات بھی نشہ کے آغاز کے اسباب ہو سکتے ہیں۔اسلام نے 14 سو سال قبل تاقیامت’ انسان کے لئے جو ضابطہ حیات تفویض کیا گیا’اس میں ہر طرح کے نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روحانی و جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ ظاہر ہے اس بد عادت کا بھی پرہیز ہی اصل علاج ہے۔شراب ‘ہیروئن’ چرس’ افیون’ بھنگ ‘صمد بونڈ ‘نشہ آور ٹیکے اور ادویات نیز دیگر جدید نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔منشیات فروش مافیا اور ان کے سرپرست وطنِ عزیز میںہر طرف دندنا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان منشیات فروشوں کوایسی حکومت عبرت ناک سزا دے سکے گی جس نے شراب کے پرمٹ اور لائسنس ہر خاص و عام کو جاری کرکے منشیات فروشی کا دھندہ اپنا رکھا ہے۔پاکستان کی آنے والی نسل کس طرح انسانیت کے ان دشمنوں سے محفوظ رہے گی؟ان کے خلاف ایکشن کون لے گا؟ ان کو پھانسی پر کون لٹکائے گا؟یہ ایک لمحہء فکریہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی منشیات کے تدارک کےلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسا شخص جو نشہ کرتا ہے اس سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے کمتر سمجھتے ہیں جبکہ منشیات کے عادی سے نفرت نہیں کرنی چاہئے بلکہ منشیات بیچنے والوں اور اس دلدل کی جانب دھکیلنے والوں سے نفرت کی جانی چاہئے۔سیمینار سے حکیم راحت نسیم سوہدروی ‘حکیم رفیق احمد صابر’چیئرمین آلٹرنیٹو میڈیسن حکیم محمد افضل میو’مولانابلال احمد قریشی اور دیگر نے خطاب کیا ۔
٭۔۔۔۔۔۔ تمباکو نوشی انسانی جسم کودیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔طبی ماہرین
٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ جبکہ دنیا بھر میں 50لاکھ سے زائد افراد
سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں
٭۔۔۔۔۔۔ حکومت پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرے
ڈاکٹررفیق بشارت’یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالداورڈاکٹر ضیا ء اللہ چیمہ
کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو

لاہور( نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ) دنیا میں اس وقت 65 کروڑ افراد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں اوراس پر سالانہ دو کھرب ڈالر ضائع کر دیئے جاتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ جبکہ دنیا بھر میں 50لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔اگر تمباکو نوشی کا موجودہ رجحان یونہی برقرار رہا تو 2020ء تک تمباکو نوشی سے اموات کی موجودہ سالانہ شرح دوگنی ہو جائے گی۔اس امر کا اظہار پی جی ایم آئی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرآف میڈیسن و نیوروفزیشن ڈاکٹر رفیق بشارت ‘یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالداور ڈاکٹر ضیا ء اللہ چیمہ نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی ایک ایسازہر ہے جو انسانی جسم کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔اس سال عالمی دن کا موضوع ‘’ سوفیصد تمباکو سے پاک ماحول پیدا کرنا ‘’ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں نیز آرتھرائٹس اور تھائی رائڈ غدود کے امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔اور تمباکونوشی کرنےوالے افراد میں گلوکوز برداشت نہ کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو ذیابطیس کے مرض کی شروعات ہیں۔اس طرح بلواسطہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔عورتوں میں تمباکو نوشی اکثر جلد سن یاس کا باعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے بوسیدگیِ استخواںکی مرض بھی پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کسی فرد کو نہ صرف جسمانی بلکہ معاشی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ اور آج کل کم عمر نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے حکومت کوچاہئے کہ سگریٹ نوشی کی روک تمام کیلئے موثر اقدامات کرے اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کےونکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالے دھویں سے ان لوگوں کی کثیر تعدادبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتے۔ لوگوں میں تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کیلئے شعور پیدا کرناحکومت سمیت ہم سب کا فرض ہے۔
٭… موسم گرما کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد
٭… سوتی ملبوسات استعمال کریں’پانی ابال کر پیئں’لیموں کی سکنجبین اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں ‘سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے
لاہور ( نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )اگر موثّراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا’بھوک کی کمی ‘سردرد’صفراوی بخار’گھبراہٹ’خفقان ‘ٹائیفائڈ’پھوڑے پھنسیاں’گیسٹرو’ہیضہ ‘اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی ’ بزوری ‘صندل ‘فالسہ اور نیلوفر کا شربت’لیموں پانی ‘تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی’نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان’‘موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ’‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ’تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖکے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریںتو یقینناًہم موسم گرماکے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔
عالمی یومِ صحت
آج پاکستان سمیت پوری دنیا عالمی یومِ صحت’’ صحت کےلئے سرمایہ کاری’محفوظ تر مستقبل کی تعمیر ‘’کے سلوگن کی ساتھ منارہی ہے۔ یہ دن1950سے ہرسال7 ۔اپریل کومختلف موضوع کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یوم صحت منانے کا مقصد لوگوں ‘ملکوں ‘حکومتوںاور صحت سے متعلقہ تنظیموں میں امراض کے بارے میں شعور بیدار کرنااور اس ضمن میں عملی اقدامات کی تحریک پیدا کرناہے۔ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی تعمیر کےلئے موثراجتماعی نظام صحت کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔جس کا وطنِ عزیز میں فقدان ہے۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی 86 فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کے مطابق پاکستان کی 76فیصد آبادی مختلف امراض کے سلسلے میں طب یونانی کی ہربل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔اس کے باوجود وطن عزیز کی کسی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم میں طب یونانی کو شامل نہیں کیا جاتاحالانکہ عالمی ادارہ صحت بھی اس کی سفارش کرچکا ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ہیلتھ پالیسی اوراسکیم ہمارے ملک میں کامیاب نہیں ہوتی۔ حکومت کے صحت پروگراموں کے ثمرات پاکستانی عوام خصوصاً دیہاتیوں کو تبھی پہنچ سکیں گے جب ان میں طب یونانی کو بھی شامل کیا جائے گا انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ طب یونانی اور اس کی صنعت دواسازی کو فروغ دیا جائے’ اس سلسلے میں قانون سازی کی جلد ازجلد تکمیل کی جائے نیزصحت کے حوالے سے سرمایہ کاری کرتے وقت طب یونانی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ حکومت کے ان اقدامات سے پاکستان اپنا قومی مسلہ ء صحت حل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔
یونانی میڈیکل آفیسر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان حکیم قاضی ایم اے خالد کا عالمی یوم صحت کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینارسے خطاب
دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے
ہربیس سیکنڈ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںحکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے
اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے:
یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد
لاہور24 مارچ ۔۔۔۔۔۔بھوک اور وزن میں کمی ’ لگاتار ہلکا بخار’ بہت جلد تھکاوٹ ہونا’خصوصاً رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہربیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے کم وبیش بیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہء اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سلسلے میں یہ دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیںجبکہ ان میں ہرسال دو لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دو لاکھ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصاً ڈیرہ غازی خان’ اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی ‘مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک ‘کان’ تھوک ‘بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے ‘کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئی مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی ‘نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ وکچا گوشت استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ میڈیکل’طبی تنظیموںاور دیگر این جی اوز کو اس مرض کی بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا چاہئے جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے لیکن اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے اس موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
(World TB Day 2007 Theme:TB ANY WHERE IS EVERY WHERE)

گردوں کی بیماریوں کے خلاف جنگ
لاہور جنرل ہسپتال کے سنگ
پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور گردے فیل ہونا،گردوں میں پتھری بننا،مثانے میں پتھری ہونا یا گردوں اور مثانے کے کینسر کے کیسز بھی کافی تعداد میں سامنے آرہے ہیں،اس کی وجوہات میں بہت سے عوامل شامل ہیں جس میں سے پینے کے لئے استعمال ہونے والے پانی کا آلودہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی،ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش،پان مصالحے،گٹکے کا استعمال ،پان کھانے کی لت،نیم حکیموں اور عطائیوں سے علاج،کشتہ کھانے اور بڑھاپے میں جوان بننے کی خواہش میں مختلف ادویات وغیرہ کا بے تحاشا استعمال بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بلڈ پریشر اور شوگر(زیابطس)کے برے اثرات بھی گردوں میں خرابی اور ان کے ناکارہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔بلڈ پریشر کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے اور شوگر کنٹرول نہ ہونے سے بعض اوقات اچانک گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر اور شوگر کے علاج کے دوران گردوں کے فنکشن پر بھی توجہ دی جائے اور ضروری ٹیسٹ وغیرہ کروائے جائیں تا کہ بیماری کا بروقت پتہ چل سکے۔ گردے کی بیماریوں کی علامات میں گردوں میں درد،کمرایک یا دونوں طرف درد کا ہونا،پیشاب کا بار بار آنا،اس کی مقدار میں کمی یا زیادتی اور خون آنا،جسم میں سوجن کا نمودار ہونا،متلی یا قے کی کیفیت ،جسمانی کمزوری، سانس کی تکلیف۔ آج سے کچھ سال پہلے تک گردوں کی بیماریوں کے بارے میں عوامی سطح پر زیادہ آگاہی نہیں تھی اور نہ ہی اس موضوع پراخبارات وغیرہ میں مضامین اور خبریں نمایاں تھیں لیکن جس سے پاکستان ایسوسی ایشن آف یور الوجیکل سرجنز کی سربراہی پروفیسر سجاد حسین کے حصہ آئی اور وہ صدر بنے تب سے عوامی سطح پر لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی کہ پاکستان میں گردوں کی بیماریوں کا مسئلہ بھی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔پروفیسرسجاد حسین نے اس مسئلہ کو ہر پلیٹ فارم پر اُجاگر کیا ہے۔انہوں نے کراچی میں ہونی والی متعدد کانفرنسز میں بھی اس مسئلہ کی سنگینی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ یورالوجی کے امراض کی روک تھام کے سلسلہ میں بہت سر گرم ہیں۔انہوں نے پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹرز کو یورالوجی میں خصوصی تریبیت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے اور متعدد کورسزميں بھی شروع کئے ہیں تا کہ تربیت یافتہ یورالوجسٹ کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکے۔اس سلسلہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ممتاز احمد بھی ان کے دست راست ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں صرف 200یورالوجی کے سرجنز اور90نیفر الوجسٹ دستیاب ہیں جو 14,15کروڑ کی آبادی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اسی طرح یورالوجی کے فزیشنز کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں ہے اور ان کی تعداد بھی بہت کم ہے ۔اس مسئلہ کی سنگینی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے حکام کو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے فوری توجہ دینی چاہئیے کیونکہ گردوں کی بیماریوں میں روز افزوں میں اضافے کے سبب اموات بڑھ رہی ہیں۔ گردوں کی خرید و فروخت کے سکینڈل آئے دن اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔حکومت نے اس مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے اگرچہ انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کو ممنوع قرار دینے کے لئے اسمبلی میں قانون سازی تو ضرور کی ہے لیکن جب تک طلب برقرار رہی اس کو روکا نہیں جا سکتا۔اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر صحت کے انفراسٹر کچر کو اَپ گریڈ کیا جائے اور گردوں کی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور علاج معالجہ کے سلسلے میں بنیادء صحت مراکز، رورل ہیلتھ سینٹرز،تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں یورالوجسٹس تعینات کئے جائیں تا کہ لوگوں کو مقامی سطح پر گردوں کی بیماریوں سے متعلق احتیاطی تدا بیر اور علاج معالجہ سے متعلق معلومات مہیا ہو سکیں اور ان کا علاج ممکن ہو کیونکہ ہمارے دیہی علاقوں میں غربت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ان بیماریوں میں زیادہ مبتلا ہو رہی ہیں۔ صاف پانی کو عدم دستیابی اور دریاؤں ،ندی نالوں میں کارخانوں کا کیمیکل زدہ اور زہر آلودہ پانی لوگ ہینڈ پمپوں اور کنوؤں سے حاصل کرتے ہیں جوانہیں جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ اس کا تدارک اپنی جگہ انتہائی ضروری ہے۔بڑے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم کرنے کےلئے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر امراض کی روک تھام ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے۔ گردے انسان کے جسم میں جو حیثیت رکھتے ہیں اُس کو عام طور پر قابل غور نہیں سمجھا جاتا۔گردوں کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ جس کے گردے پاس ہوں وہی زندگی پاس کرسکتا ہے۔گردوں کے فیل ہونے کی دیر ہے،بندہ لمحوں میں زندگی سے فیل ہو جاتا ہے۔ دل،دماغ اور جسم کے دیگر حصے صرف اس وقت تک متحرک رہتے ہیں جب تک گردے پوری طرح کام کر رہے ہوں۔ انسان جب بکرے کے گردے کھاتا ہے اُس وقت شاید اُس نے کبھی نہیں سوچا کو وہ کتنی اہم شے کھا رہا ہے۔گردے جتنے اہم،اُن کی اُتنی نگہداشت اور پرواہ نہیں کرتے۔انہیں جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے انہیں اتنا پانی فراہم نہیں کرتے۔جب گردے ناراض ہو جاتی ہیں تو مشینوں کے ذریعے پانی دے کر راضی رکھنا پڑتا ہے۔ صوبہ پنجاب پاکستان کس سب سے بڑا صوبہ ہے۔سندھ جیسے چھوٹے صوبے میں گردوں کے علاج کے تین خصوصی مراکز قائم ہیں جبکہ پنجاب میں ایک مرکز بھی موجود نہیں۔صرف سرکاری ہسپتالوں میں دیگر امراض کے ساتھ گردوں کے علاج کئے جا رہے ہیں۔اس صورتحال میں مریضوں کا رش کنٹرل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔ان سرکاری ہسپتالوں میں لاہور جنرل ہسپتال ایک ایسا ہسپتال ہے جہاں گردوں کے علاج کے لئے قائم شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال کسی دور میں صرف نیورو سرجری کی وجہ سے پہچانا جاتا تھالیکن آج اس ہسپتال کی شناخت و شہرت گردوں کے علاج اور بالخصوص ڈائلسز کے باعث ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تمام بڑے ہسپتالوں اور کچھ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں گردوں کی صفائی ڈائلسز کی سہولت موجود ہے لیکن مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور ان ہسپتالوں میں ڈائلسز مشینیں دن رات کام کر رہی ہیں لیکن رش کم ہونے میں نہیں آتا۔لاہور جنرل ہسپتال میں20ڈائلسز مشینیں دن رات لوگوں کو یہ سہولت مفت فراہم کر رہی ہیں۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے سب سے اہم ضرورت عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔جس کے لئے ماہرین کو ہنگامی بنیادوں پر مہم کا آغاز کرنا چاہئیے اورذرائع ابلاغ کے علاوہ دیہات اور چھوٹے شہروں میں سےمینار اور اجتماعات منعقد کر کی لوگوں کو باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ بڑے بڑے ہوٹلوں کے ائیر کنڈیشنڈ ہالز میں سیمینار اور ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں۔ماہرین ایک دوسرے کو اپنی تقاریر اور تحقیقی مقالے قسم کی تحریریں سنا کر مجلس ستائش باہمی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ ان محفلوں تک عوام کی رسائی ممکن نہیں ہوتی ۔ ایسی تقاریب کا اہتمام ضرور ہونا چاہئیے مگر مسئلہ کے اصل متاثرین جنہیں آپ سٹاک ہولڈربھی کہہ سکتے ہیں وہ تو بے چارے عوام ہیں جو نا خواندہ یا نیم خواندہ ہونے کی وجہ سے ماہرین کی طرح بدیشی زبان میں کی جانے والی تقریروں کو نہیں سمجھتے ۔لہذا ضروری ہے کہ پورے ملک میں ان بیماریوں سے متعلق معلومات اور احتیاطی تدابیر پر مبنی مقامی زبانوں میں لٹریچر شائع کر کے لوگوں میں تقسیم کیا جائے اور آگاہی کے لئے دیگر ذرائع بھی استعمال میں لائے جائیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی 8مارچ کو گردوں کا عالمی دن(کڈنی ڈے) منایا جائے گا۔اس دن دیگر تقریبات کے علاوہ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورالو جیکل سرجنز کے صدر اور پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل پروفیسر سجاد حسین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ممتاز نے فیروز پور روڈ پر عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے ایک’’واک’’کا بھی اہتمام کیا ہے۔ان دونوں شخصیات کی کوششیں بجا لیکن ان کوششوں کا دائرہ کار بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔عالمی دن منانے اور واک کا اہتمام کرتے وقت ہمیں محض رسم نہیں پوری کرنی چاہئیی بلکہ ایسے مواقعوں سے بھر پور استفادہ کرنا ضروری ہے۔اس دن کے حوالے سے منعقد ہونے والے سیمینار میں ماہرین کو اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا چاہئیے اور حکومت کو اپنی مفید اور ماہرانہ تجاویز سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے کہ شعور اور آگاہی کے سلسلہ میں زیادہ کام دیہات اور دور درازکے علاقوں میں کرنا زیادہ ضروری ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر لوگ’’واک’’اور دیگر سر گرمیوں کا مرکز لاہور کی بڑی شاہراہیں اور بڑے ہوٹل ہی ہوتے ہیں۔ہمیں ان مسائل پر توجہ دینے کےلئے آرام کو بھی چھوڑنا ہوگا اور محض اخبارات میں تصاویر شائع کرانے کی خواہش کو بھی کم کر کے ان لوگوں کے پاس ان علاقوں میں بھی جانا ہوگا جہاں اخبارات نہیں پہنچتے اور نہ وہاں ان کو پڑھنے والا موجود ہوتا ہے۔لیکن ان بیماریوں کا شکار بھی وہی لوگ زیادہ بنتے ہیں اور جب تک یہ بے چارے بڑے ہسپتالوں تک پہنچتے ہیں تو بہت سا پانی بلوں سی بہہ چکا ہوتا ہے۔ آخری بات اس سلسلہ کی یہ ہے کہ عالمی کڈنی ڈے کے موقع پر گردہ کی بیماریوں کی روک تھام سے متعلق ٹھوس عملی تجاویز اگر وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو پیش کی جائیں تو وہ یقینا اس سلسلہ میں بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ان کے پاس جذبہ بھی ہے اور اختیار بھی۔