اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


November 9, 2007

٭ذرائع ابلاغ پر پابندی دہشت گردی کے مزید فروغ کا باعث بن سکتی ہے: حکیم خالد٭

٭ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے٭
٭حکومت پریس آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات
فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل٭

لاہور (نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) طب قدیم وجدید میڈیکل سائنس کے مطابق آزادی تحریر و تقریراور ذرائع ابلاغ پرقدغن لوگوں کو پرتشدد کاروائیوں پر اکساتی ہے۔ جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔اس حالت میں اگر جانبدارسرکاری ٹی وی دیکھا جائے توجھوٹ کو سچ دکھانے کے باعث ڈیپریشن وبلڈ پریشرمیں اضافہ ہو کر مزید جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔اس امر کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل ‘مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحیح معلومات تک عدم رسائی سے سینہ گزٹ اور افواہ ساز فیکٹریاں وجود میں آتی ہیں ۔جو حکومت کےلئے انتہائی نقصان دہ اور پاکستانی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ۔ لہذا اس فرسٹریشن اور دیگر نفسیاتی امراض اور پر تشدد کاروائیوں سے بچنے کےلئے حکومت اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق دونوں آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے تا کہ عوام ان پرامن ذرائع ابلاغ سے اختلاف رائے کا اظہارکر سکیں۔اور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پا سکے۔(یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جدید مغربی تحقیق کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والے ہی ریاست کے اصل وفادار ہوتے ہیں جبکہ خوشامدی اورچاپلوسی کرنے والے کئی ذہنی بیمار لوگ حکومتوں اور معاشروں کو لے ڈوبتے ہیں۔)

 
 http://www.express.com.pk

October 13, 2007

٭عید پر روزہ دار افرادکھانے پینے میں خصوصی احتیاط برتیں :حکیم خالد٭

٭روزے رکھنے سے جسمانی اعضاء کو ملنے والی شفا یکدم بسیار خوری سے ضائع ہوسکتی ہے٭
٭رمضان کریم کے نظم و ضبط کو قائم رکھ کر مستقل صحتمند رہا جا سکتا ہے٭

 مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ‘جگر’انتڑیوں ‘گردوں ‘پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں اورعید کے دن مرغن غذائیں مثلاًروسٹ’ بروسٹ’تکے ‘کباب’کڑاہی گوشت’ہریسہ’قورمہ’بریانی’حلوہ پوری’قتلمہ’کیک ‘مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذا یکدم بہت زیادہ مرغن غذاؤوں کے استعمال سے بچیں۔عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں’دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کےلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں’دماغی کمزوری’ہائی بلڈ پریشر’شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کریم کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحت مند رہ سکتے ہیں۔

 
میری طرف سے تمام قارئین’زائرین’تارکین وطن اورتمام امت مسلمہ کو عید مبارک
 
 
آپ کا اپنا حکیم خالد 

September 15, 2007

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم خالد

افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے

 پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک ہو۔

   روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے’اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے ‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’ خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

August 5, 2007

موسمی امراض سے بچاؤکےلئے برسات میں خصوصی احتیاط کریں۔

 

٭۔۔۔۔۔۔ موسمی امراض سے بچاؤکےلئے برسات میں خصوصی احتیاط کریں :حکیم قاضی ایم اے خالد

٭۔۔۔۔۔۔ رہائشی کمروں میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں’پانی ابال کر پیئں’لیموں پانی کا بکثرت استعمال کریں ‘سرکہ موسم برسات کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے

لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) اگر موثّراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم برسات بیشتر امراض کا باعث بنتا ہے اکثر وبائی امراض بھی اسی موسم میں پھوٹتے ہیں جسکا بنیادی سبب ‘ہمارے ہاں ناقص سیوریج سسٹم کی وجہ سے سیلابی اور بارشوں کے پانی کاعرصہ دراز تک جگہ جگہ کھڑا ہو جانا ہے جو متعفّن ہوکر وبائی امراض کا باعث بنتا ہے ملیریا’ٹائیفایڈاور دیگر موسمی بخار’یرقان’ہیپا ٹائٹس ‘گیسٹرو’اسہال(دست)پیچش و پیٹ کے امراض ‘جسم میں کھچاؤٹ ‘دردیں ‘خون کی خرابی پھوڑے پھنسیاں اور گلے کی سوزش جیسے امراض برسات میں عام ہو جاتے ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے افادہ عام کےلئے نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس موسم میں رہائشی کمروں کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ تازہ ہوا اوردھوپ سے وہ خشک رہیں نیز ہر ہفتے ان میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں یا دیگر جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کریں۔ گندے پانی اور کیچڑوغیرہ کی صفائی کا بھی فوری بندوبست ہونا چاہیئے موسم برسات میں اے سی یا روم کولرکے استعمال سے اعصابی کھنچاؤ’دردیں اوربخارجیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اس موسم میں ہلکے سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم برسات میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہیئے اس موسم میں بعض پھل مثلا امرود ‘خربوزہ’سردا’گرمااور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔ اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کےلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبوی (ص) کے مطابق سرکہ موسم برسات کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ برسات کے موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کےلئے لہسن ’ ادرک اور پیاز کا استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریں تو یقیناً ہم اس موسم کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔

http://dailywaqt.com/openlink.asp?ddir=050807&im=p3-17.gif

رائل ون،ایف ایم ۱۰۳،روزنامہ دن،روزنامہ الاخبار،روزنامہ اسلام ،روزنامہ وقت،روزنامہ جنگ اور دیگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں ملاحظہ فرمائیں

May 17, 2007

موسم گرما کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں

٭… موسم گرما کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد

٭… سوتی ملبوسات استعمال کریں’پانی ابال کر پیئں’لیموں کی سکنجبین اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں ‘سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے 

لاہور ( نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا  )اگر موثّراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا’بھوک کی کمی ‘سردرد’صفراوی بخار’گھبراہٹ’خفقان ‘ٹائیفائڈ’پھوڑے پھنسیاں’گیسٹرو’ہیضہ ‘اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی ’ بزوری ‘صندل ‘فالسہ اور نیلوفر کا شربت’لیموں پانی ‘تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی’نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان’‘موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ’‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ’تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖکے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریںتو یقینناًہم موسم گرماکے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔

April 7, 2007

عالمی یومِ صحت

عالمی یومِ صحت


 آج پاکستان سمیت پوری دنیا عالمی یومِ صحت’’ صحت کےلئے سرمایہ کاری’محفوظ تر مستقبل کی تعمیر ‘’کے سلوگن کی ساتھ منارہی ہے۔ یہ دن1950سے ہرسال7 ۔اپریل کومختلف موضوع کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یوم صحت منانے کا مقصد لوگوں ‘ملکوں ‘حکومتوںاور صحت سے متعلقہ تنظیموں میں امراض کے بارے میں شعور بیدار کرنااور اس ضمن میں عملی اقدامات کی تحریک پیدا کرناہے۔ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی تعمیر کےلئے موثراجتماعی نظام صحت کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔جس کا وطنِ عزیز میں فقدان ہے۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی 86 فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کے مطابق پاکستان کی 76فیصد آبادی مختلف امراض کے سلسلے میں طب یونانی کی ہربل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔اس کے باوجود وطن عزیز کی کسی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم میں طب یونانی کو شامل نہیں کیا جاتاحالانکہ عالمی ادارہ صحت بھی اس کی سفارش کرچکا ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ہیلتھ پالیسی اوراسکیم ہمارے ملک میں کامیاب نہیں ہوتی۔ حکومت کے صحت پروگراموں کے ثمرات پاکستانی عوام خصوصاً دیہاتیوں کو تبھی پہنچ سکیں گے جب ان میں طب یونانی کو بھی شامل کیا جائے گا انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ طب یونانی اور اس کی صنعت دواسازی کو فروغ دیا جائے’ اس سلسلے میں قانون سازی کی جلد ازجلد تکمیل کی جائے نیزصحت کے حوالے سے سرمایہ کاری کرتے وقت طب یونانی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ حکومت کے ان اقدامات سے پاکستان اپنا قومی مسلہ ء صحت حل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

 یونانی میڈیکل آفیسر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان حکیم قاضی ایم اے خالد کا عالمی یوم صحت کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینارسے خطاب

March 24, 2007

چوبیس مارچ۔ورلڈ ٹی بی ڈے

دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے
ہربیس سیکنڈ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے
اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے:

یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور24 مارچ ۔۔۔۔۔۔بھوک اور وزن میں کمی ’ لگاتار ہلکا بخار’ بہت جلد تھکاوٹ ہونا’خصوصاً رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہربیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے کم وبیش بیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہء اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سلسلے میں یہ دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیںجبکہ ان میں ہرسال دو لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دو لاکھ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصاً ڈیرہ غازی خان’ اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی ‘مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک ‘کان’ تھوک ‘بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے ‘کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئی مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی ‘نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ وکچا گوشت استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ میڈیکل’طبی تنظیموںاور دیگر این جی اوز کو اس مرض کی بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا چاہئے جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے لیکن اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے اس موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔

(World TB Day 2007 Theme:TB ANY WHERE IS EVERY WHERE)

March 23, 2007

یومِ پاکستان اور طب اسلامی

  یومِ پاکستان اور طب اسلامی

تئیس مارچ 1940ء

کے دن کی یاد ہمیں سعی مسلسل کی ترغیب دیتی ہے۔اسی دن ہمارے بزرگوں
نے ایک قراداد کے ذریعے اپنی زندگیوں کا ایک مقصد اور منزل کا تعین کیا تھا اور انہوں نے متحد
ہوکر اپنی تمام تر توانائیاں اس مقصد کے حصول کےلئے وقف کردیں اور صرف سات سال کے عرصے میں دنیا کے خطے پر پہلی اسلامی نظریاتی مملکت وجود میں آگئی اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان سچے مسلمانوں نے حضرت عثمان غنی(رض )کے اس قول پر عمل کیا کہ’‘زندگی کا کوئی مقصد بنالو پھر اپنی ساری طاقت اس پر لگا دو تو تم ضرور کا میاب ہو جاؤ گے ‘’۔یوم پاکستان کایہ دن ہمارے لئے تجدید عہد کا دن بھی ہے بے شک قیام پاکستان کی منزل پا لی گئی مگر تعمیر پاکستان کا سفر تو ہنوزجاری ہے لیکن اس سلسلے میں منزل ہم سے دور ہو چکی ہے دیگر تمام شعبوںاور اداروں کی تعمیر میں کوتا ہیوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی قوم کے

مسلہ ء صحت کے حل کےلئے بھی اغیار کے محتاج ہیں حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1942ء میں طلبائے طبیہ کالج دہلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ’‘جب زمام اختیار مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی تو وہ تمام علوم و فنون اسلامیہ کے ساتھ طب اسلامی (یونانی)کے تحفظ و بقا کا بھی خیال رکھیں گے کیونکہ یہ ایک بہترین قومی ورثہ ہے اور اس کی حفاظت قوم کا فرض ہے۔’‘اسی طرح مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1956ء میں کراچی میں پاکستان طبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’‘طب اسلامی اور اس کا تحفظ ایک مسلمہ امر ہے اگرچہ طب اسلامی کی روشنی طب مغرب کی مصنوعی چمک کے سامنے دھندلا گئی ہے تاہم آج بھی ہمارے عوام اس طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں ۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی بھی فن حکومت کے تعاون اور امداد کے بغیر بلندیوں کو نہیں چھو سکتا ۔طباسلامی (یونانی) عوام کی عادات و مزاج کے عین مطابق ہے اس خصوصیت نے اس طریقہ علاج کو ہر آزمائش میں کامیاب کیا ہے۔ اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔پاکستان میں اس کےلئے ہر دروازہ کھلا رہنا چاہئے طبی ہسپتال ‘طبی شفا خانے اور تجربہ گاہیں بالکل ان ہی خطوط پر جن پر طب مغرب کو یہ سب سہولتیں فراہم کی گئی ہیں مہیا کی جائیں تاکہ امراض اور ادویات پر تحقیقات کی جائیں ۔’’ لیکن آج نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود طب اسلامی کی حالت انتہائی ابتر اور سنگین تر ہے۔قومی طبی کونسل ‘طب اسلامی کے معاملات اوردیگر ادارے نا اہل قیادتوں اور منفی سیاست کی وجہ سے مزید زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہیں ۔طبی نظام تعلیم انتہائی ناقص ہوچکا ہے۔ طبی دواسازی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان حالات میں تمام منتشر اطبائے کرام ‘طبی تنظیمیں اور عمائدین و قائدین طب’ متحد ہوں اورہرقسم کی سیاستوتعصب سے بالا تر ہو کر’علمی و سائنسی انداز فکر اپناتے ہوئے ‘طب یونانی اسلامی مشرقی کی ترویج و ترقی کو اپنا مقصد اولین بنالیں نیز اپنی منزل کا تعین کرکے تمام تر قوت اورتوانائیاں اس پر لگاکرتعمیر پاکستان کی تکمیل کےلئے تعمیر طب کے سفر کانئے سرے سے آغاز کریں’قائدین ِطب اس مقولہ پر عمل کریں کہ’‘آگے بڑھو یا راستہ چھوڑ دو’’ یا درکھئے !جمود موت ہے اور حرکت زندگی ۔قائد اعظم کے بقول ‘’آگے بڑھئے اور بڑھتے ہی جائیے ‘’کیونکہ مل جل کر کرنے کےلئے ابھی بہت کام باقی ہیں اگر ہم مندرجہ بالا پر عمل کرکے ایک متحد طاقت بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے مقصد
میں کامیاب نہ ہوسکیں۔آخر میں ایک بات مزید کہوں گا
کہ۔۔۔
نیک باتوں پر عمل کرنا تمھارا کام ہے
یہ نہ دیکھوکہنے والا کون ہے کیا نام ہے

March 2, 2007

نیشنل کونسل فار طب کے الیکشن کےلیے ووٹر لسٹوں کا اجراء کر دیا گیا ہے

نیشنل کونسل فار طب کے الیکشن کےلیے ووٹر لسٹوں کا اجراء

نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کے الیکشن کے سلسلے میں ووٹر لسٹوں کا اجراء کر دیا گیا ہے تمام اطباء اور طبی تنظیمیں درج ذیل ویب ایڈریس پر ملاحظہ فرمائیں

http://www.nct.com.pk/Voters.asp

December 31, 2006

٭گوشت ضرور کھائیں لیکن ذرا احتیاط سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

عید قربان مبارک ہو

عیدالاضحٰی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے

 ٭گوشت ضرور کھائیں لیکن ذرا احتیاط سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ جوڑوں کے درد ‘ہائی بلڈ پریشرکے مریض قربانی کا گوشت اعتدال سے کھائیں گوشت کے ساتھ سلاد ‘پودینہ ’ لیموں اور دہی کا رائتہ ضرور استعمال کریں ‘پانی زیادہ پئیں :حکیم قاضی ایم اے خالد ٭دل کے مریض گردے ‘مغز’سری پائے’اور کلیجی نہ کھائیں٭بھنے ہوئے گوشت کی بجائے بھاپ سے تیار شدہ اور ابلا ہوا گوشت زیادہ بہتر ہے ٭یورک ایسڈ کی زیادتی اور گردوں کے مریض گوشت کا استعمال معالج کے مشورے کے مطابق کریں۔ لاہور (نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )عیدالاضحی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔گوشت ضرور کھائیں لیکن اس ضمن میں اعتدال اور احتیاطی تدابیر کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں ۔مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عید قربان کے موقع پر گوشت کھانے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوشت کے پکوانوں میں زیادہ مرچ مصالحے نہ ڈالیں نیز ان پر سبز دھنیے کی گارنش ضرور کریں گوشت کے ہمراہ سلادخصوصاًپودینہ ‘لیموں اوردہی کا رائتہ ضرور استعمال کریں ۔ایسی چٹنیاں جن میں زیرہ پودینہ اجوائن شامل ہو، کا استعمال مفید ہے۔گوشت کا مزاج گرم ہے اس لئے اسے معتدل کرنا ضروری ہے۔اس کےلئے گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کا استعمال بھی جاری رکھیں،سبزیوں میں ٹماٹر، پھلیاں، سلاد (مولی گاجر چقندر مٹر)کا استعمال مفید ہے واضح رہے کہ کھیرا سردیوں میں استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ۔ابلا ہوا یا بھاپ میں تیارکیا ہواگوشت بھنے ہوئے گوشت سے بہت بہتر ہے ۔گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال اگر فوری طورپرنقصان نہ دے تو بھی آنے والے دنوں میں کئی دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے جوڑوں کے درد ‘ہائی بلڈ پریشراور شوگر کے مریض گوشت کم کھائیں۔یورک ایسڈ کی زیادتی اور گردوں کے مریض گوشت کا استعمال اپنے معالج کے مشورے پرہی کریں ۔خصوصاً دل کے مریض چربی والا گوشت ‘گردے ’ مغز’سری پائے ‘کلیجی وغیرہ استعمال نہ کریں کیونکہ چربیلے مادے کولیسٹرول کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ بکرے کا گوشت ہر عمر اورہر مرض کے افراد کے لئے ضروری ہے جبکہ گائے کا گوشت خارش جگر ہائی بلڈ پریشر ہائی کولیسٹرول بواسیر شوگر کے مریض احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔ گائے کے گوشت میں کولیسٹرول بکرے کے گوشت کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جبکہ اونٹ کے گوشت میں کولیسٹرول بہت کم ہوتا ہے۔گوشت کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے دل کی تکالیف مزید بڑھ سکتی ہیں لہذا گوشت کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے اجتناب کیا جائے ۔ اسکے علاوہ ضروری ہے کہ قربانی کے گوشت والے ایک کھانے کے بعد دوسرے کھانے میں کم از کم 5 سے 6 گھنٹے کا فرق رکھا جائے۔عید الاضحی کے موقع پراکثر حلق میں ہڈی پھنسنے کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں ۔لہذا ہڈی والا گوشت کھاتے ہوئے خصوصی احتیاط برتیں خصوصاًچھوٹے بچوں کو بغیر ہڈی کے گوشت اپنی نگرانی میں کھلائیں ۔

December 29, 2006

٭ اونٹ کا گوشت کھائیں’ بیماریاں دور بھگائیں٭

٭بقر عید مبارک ہو٭
٭ اونٹ کا گوشت کھائیں’ بیماریاں دور بھگائیں٭
٭اونٹ کا گوشت کھانے سے کئی بیماریاں دور ہوجاتی ہیں:حکیم قاضی ایم اے خالد٭
٭ اونٹ کا گوشت بخار ‘عرق ا لنساء (شیاٹیکا)کالا یرقان ‘ہیپاٹائیٹس سی اوراعصابی وجسمانی کمزوری کا بہترین علاج ہے٭

لاہور ( نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا)اونٹ کا گوشت عام طور پر شاذوناظر ہی ملتا ہے لیکن عید قربان پر یہ گوشت بھی وافر مقدار میں ہوتا ہے اور جنہیں یہ گوشت میسر آجائے وہ بہت سی امراض سے بچ سکتے ہیں ۔افادہ ِعام کےلئے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اونٹ کا گوشت بخار ‘عرق النساء (شیا ٹیکا ) سیاہ یرقان ‘ہیپا ٹائٹس سی اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے اعضائے رئیسہ کی طاقت اور تقویت باہ کےلئے بھی مستعمل ہے ۔اعصابی کمزوری اور جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے ۔مذکورہ بالا فوائد حاصل کرنے کےلئے اس کی مقدار خوراک ایک سو گرام ہے بواسیر کےلئے اونٹ کی چربی کا لیپ انتہائی مفید ہے ۔لہذا عید الا ضحی پر اگر یہ گوشت مل جائے تو اس سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے ۔

December 21, 2006

پاکستان بھر میں آج طب یونانی کا قومی دن منایا جا رہا ہے

موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہے :حکیم قاضی ایم اے خالد

دنیا کی 86فیصداور پاکستان کی76فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کرتی ہے۔طب یونانی کے دن پر خطاب

لاہور( نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )ملک بھر میںطب یونانی کا قومی دن طبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا۔اس موقع پر سیمینارز’نمائشوں اور فری طبی کیمپس کاانعقاد کیا گیا۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا کہ21۔دسمبر 1978ء کا دن اطبائے پاکستان اور طب یونانی اسلامی نیز اس سے تعلق رکھنے والے ہر فردکےلئے انتہائی اہم اور تاریخ ساز دن تھااس دن محسنِ طب اسلامی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نےآل پاکستان طبی کانفرنس بلوا کرطب اسلامی کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا اور اس سلسلے میں مراعات و سرکاری طبی اداروں اور عہدوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔فیڈرل گورنمنٹ میں طب کی وزارت قائم کی گئی۔مشیر طب کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا اوریہ عہدہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو تفویض کیا گیا ۔آج ہم یہ دن تجدید عہد کے دن کے طور پر منا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہی اس کا ہر سال طب یونانی کا سال ہے ۔
ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کی رپورٹ کےمطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی  86فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہکے فنڈبرائے آبادی کے مطابق پاکستان کی 76فیصد آبادی مختلفامراض کے سلسلے میں طب یونانی کی ہربل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔لہذاطب یونانی کی صنعت دواسازی کو فروغ دیکر پاکستان کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔سیمینار سے حکیم ذوالفقار علی ‘حکیم محمد صابر ‘حکیم محمد افضل میو اور دیگر نے خطاب کیا۔# # #
ا