اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 24, 2008

مستقبل کا صدر پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بے اصول اور وعدہ خلاف سیاستدان

 
 
 
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی اور دیگر امور پر ہونے والے معاہدوں کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوئی قرآن کے الفاظ یا حدیث تو نہیں ہیں کہ ان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ تبدیلی نہ لائی جاسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 پاکستانی عوام یہ جان لے کہ ان کا آٓئندہ صدر وعدوں سے پھر جانے والے’ایک بے اصول اور وعدہ خلاف سیاستدان ہیں۔(جو کبھی وطن عزیز کے سب سے زیادہ بدعنوان افراد کی  لسٹ میں سر فہرست رہے ہیں) جنھیں پاکستان اور پاکستانی عوام کے مسائل کے حل کی بجائے اپنے غیرملکی آقاوں کے احکامات کی تعمیل کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف زرداری کا صدر بننے کی خواہش رکھنا کئی اعتبار سے سمجھ سے بالاتر ہے۔
آخر وہ کسی بھی ایسے عہدے کی خواہش کیوں کریں گے جس کے اختیارات سلب کرنے کے لیے ان کی اپنی ہی جماعت نے ایک جامع آئینی اصلاحاتی پیکیج ترتیب دیا ہے۔ اور پھر ان کے صدر بننے کے بعد ان کی جماعت کا کیا ہو گا؟؟؟

آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صدر ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے چئرمین بھی رہے۔ اس لیے صدر بن کر پارٹی چھوڑنا قطعی ضروری نہیں۔

لیکن ایسی صورت میں مسلم لیگ نواز کے علاوہ کیا ان کے باقی حلیف بھی ان کے ساتھ رہ سکیں گے؟؟؟ اور کیا ان کی جماعت ایسی صورت میں ایک نئی قاف لیگ نہیں بن جائے گی جس کے سیاسی مستقبل کی ضامن اس کی اپنی سیاست سے کہیں زیادہ کرسیِ صدارت بن جائے گی۔؟؟؟

تو پھر ایسا کیا کام ہے جس کی تکمیل کے لیے آصف زرداری کے دل میں صدر کے عہدے کی خواہش جاگی؟؟؟

موجودہ حالات میں آصف زرداری کا ایک طاقتور صدر کے طور پر ابھرنا پاکستان کے
 لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی ناکامی ملک کو مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی تصادم کی راہ پر دھکیل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں سب سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوجی قیادت کی جانب سے ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں میں زبردست تیزی کی پیشین گوئی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بعید از قیاس نہ ہو گا کہ جس طرح سن دو ہزار سات میں ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی، معاشی و سکیورٹی صورتحال میں  مشرف اپنے سیاسی حریفوں سمیت مذہبی انتہا پسندوں کی نفرت کا نشانہ بن گئے تھے اسی طرح آنے والے دنوں میں ان ناراض قوتوں کا ہدف شاید آصف زرداری بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستقبل میں جو بھی ہو سو ہو، فی الحال صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ آصف زرداری کے صدارتی امیدوار بننے کے فیصلے نے ملکی سیاست کو پچھلے چند مہینوں کی اصولی اور نظریاتی بحثوں سے نکال کر ایسی سیاست میں لا پھینکا ہے۔ جہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔ اب آگے صرف موقع پرست اور جھوٹی سیاست ہے۔ یا اللہ پاکستان کی خیر’بےبس عوام دعا کے علاوہ اب کر بھی کیا سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 

August 23, 2008

شیر نے آخر گھاس ہی کھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف مشرف بھائی بھائی
شیر نے آخر گھاس ہی کھائی
 قوم نے پھر سے ناک کٹائی
کالے کوٹ کی شامت آئی
 
جیسے اُس سے پہلے نکلے
زرداری بھی ویسا نکلا

آس کے پتے جھڑ گئے سارے
شیدے شوکی ڈر گئے سارے
دعوے سان پے چڑھ گئے سارے
جسٹس وسٹس وڑ گئے سارے

تو اے بھولے پاکستانی
بھول کے سب کچھ کھوجا اب تو
بند کر ٹی وی سو جا اب تو!

 

August 22, 2008

آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
ارشاد نبویۖ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے کہ
 تم سے پہلی قومیں اسی لئے تباہ ہو گئیں کہ جب معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اورمعمولی آدمی جرم کرتے تو سزا پاتے تھے

اس حوالے سے تو مشرف کا احتساب انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کرے گا کون؟
کیونکہ احتساب کرنے والے تو خود" کانے" ہیں اور پھر انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کو یقین دہانی بھی کروا رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ مشرف احتساب سے مبرا ہے اور اس کی سلامتی کے تحفظ کے بعد ہی استعفی ممکن ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ بھی ایک ڈیل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شنید ہے کہ بروز پیر 25اگست کو عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جائے گی اور بحث کے بعد بدھ تک عدلیہ کی بحالی متوقع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب ان باتوں پر عوام کا یقین متزلزل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہا جا رہا ہے کہ مشرف کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کے بعد ہی عدلیہ کی بحالی کی توقع کی جا سکتی ہے۔اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری سب سے بڑا خطرہ ہیں لہذا انہیں دیگر اعلا عہدوں کی پیشکش کی جا رہی ہے تا کہ وہ اپنے اصل عہدے سے خود ہی دستبردار ہو جائیں ۔ تا کہ مشرف اور محترم زرداری صاحب کو تحفظ حاصل ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی بات عدلیہ کی بحالی میں آڑے آ
رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ایک اور بات بھی نظر آ رہی ہے کہ 6ستمبر کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  محترم زرداری صاحب کی پانچوں گھی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہے لہذا صدر پاکستان کے خواب نظر آنا لازم ہے جس کی تکمیل بھی ہو سکتی ہے لہذا عدلیہ کی بحالی کو صدارتی الیکشن تک لٹکایا بھی جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرف کی پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے کل واہ کینٹ دھماکوں میں پچاسی سے زائد معصوم افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ۔
بقول بلاگر ابو شامل’ صورتحال جو بھی ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ یہ سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے کہ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں “صف اول کا اتحادی” رہ کر اپنا مزید خانہ خراب کرواتا رہے گا یا پھر اس ملک کی بقا کے لیے حقیقی اقدامات بھی اٹھائے گا۔
 
مشرف کی پالیسیوں کو از سر نو مرتب کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔القائدہ اور امریکہ کی جنگ کو اپنے خطے سے دور کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے دہشتگردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں پندرہ ہزار سے زائد پاکستانی اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ 9/11میں صرف تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
کئی بہتر گھنٹے گذر چکے ہیں پاکستان کے سیاستدان اپنی مہارت نہ دکھا سکے۔موجودہ تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستانی عوام کی یہ حالت ہے کہ آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمارے سیاستدانوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمایے آمین   

August 18, 2008

ملک و قوم و عوام پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی

 
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک و قوم و عوام اور سیاستدانوں پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی ہو گیا۔
اس کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر کے لبادے میں ایک آمر کا دور ختم ہوا۔ایک بردہ فروش کا اقتدار ختم ہوا۔اس ملک و ملت  کو ڈی مورال کرنے والے کا مورال ختم ہوا۔ہزاروں معصوم بچوں اور پاکستانیوں کے خونی کا اقتدار ختم ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

آج دوپہر ایک بجےمشرف سے نجات متوقع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
شنید کی جارہی ہے کہ آج ریٹائرڈ جنرل مشرف مستعفی ہو جائیں گے جس کا اعلان آج دوپہر ایک بجے ان کی تقریر میں متوقع ہے۔
 

August 15, 2008

تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟

شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
 
 
 
 
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں  پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟
اَب اور کتنی دیر یہ وَحشت، یہ ڈر، یہ خوف؟
گرد و غبارِ عہد ستم اور کتنی دیر؟
دَامن کے سارے چاک، گریباں  کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم، تو بہم، اَور کتنی دیر؟
شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟
 

پاک فوج کے پالیسی سازوں کےلئے حکیم خالد کا ایک مشورہ

 
چودہ اگست یوم آزادی کے موقع پر جنرل کیانی نےاپنی تقریر کے ذریعے ڈی مورال قوم کا مورال بڑھانے کی کوشش کی ۔ نیز ایوان صدر کی تقریب میں شرکت نہ کر کے جمہوری استحکام کا باعث بنے جو کہ خوش آئند ہے۔
 
حکومت کو بھی چاہئے کہ صدر کے مواخذہ و رخصتی کے بعد فوج اور خارجی امور سے متعلقہ پالیسیوں کو از سر نو مرتب کرے جو کہ عوامی امنگوں کے مطابق ہوں ۔فوج اور عوام میں ٹکراو اور دشمنی کا باعث بننے والی پالیسیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں طے پانے والے حالیہ تحریری معاہدے میں یہ شامل ہے کہ صدر کی رخصتی کے تین دن کے اندر اندر تمام عدلیہ بحال کر دی جائے گی۔ اگرچہ پہلے معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے یہ معاہدہ بھی شکوک و شبہات لئے ہوئے ہے تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں اس بات پر یقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

فوج کے پالیسی سازوں میں اب بھی ایک محدود طبقہ موجود ہے جو ریٹائرڈ جنرل مشرف کے احتساب سے پریشان بلکہ خوفزدہ دکھائی دیتا ہے ۔کیونکہ وہ اسے ہزیمت سمجھتا ہے کہ فوج کے سربراہ کے جرائم کی سزا اور وہ بھی سویلین کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اگر یہ سلسلہ چل پڑا توہم تو شکنجے میں آئیں گے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئندہ کےلئے بھی اقتدار میں آنے کےلئے یہ چور دروازہ بند ہو جائے گا یہی وجہ ہے کہ وہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کو احتساب سے مستثنی کروانے کےلئے بھرپور کوشش کررہا ہے۔لیکن ان لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ جلد یا بدیر یہ معاملہ تو ہونا ہی ہے۔ لہذا انہیں چاہئے کہ اپنے سابق سربراہ کی باعزت واپسی کےلئے اسے استعفے پر مجبور کریں اور ایوان صدر سے ریٹائرڈ جنرل مشرف کو جلد از جلد چلتا کریں ۔ بصورت دیگر موصوف خود تو ڈوبیں گے ہی آپ سب کو بھی لے ڈوبیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

August 12, 2008

المعروف کاکو شاہ اور امریکی جمہوری اسلام

 
بسم اللہ الرحمان الرحیم
 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔ وبعد!۔

المیہ یہ نہیں کہ لوگ دین کا فہم نہیں رکھتے بلکہ یہ ہے کہ بعض قوتیں دین کا نام لے کر دین پر حملہ آور ہیں دینی اصلاحات کی آڑ لے کر دین کی روح کو کچلنے کے درپے ہیں ان کے عزائم مخفی ہیں نہ ہتھکنڈے نئے بلکہ سب کچھ واضع اور صاف نظر آنے کے باوجود تحفظ دین کے ذمداران اچکوں کی وارداتوں پر مہر بلب ہیں، بلکہ اٹھائی گیروں کی حرکتوں کو دیکھنے اور جانتے ہوئے چپ ہیں کہ انتہا پسندی کا الزام نہ لگ جائے، ہماری رواداری پر دھبہ نہ لگ جائے دین چاہئے بدنام ہو اس کا چاہئے کوئی حلیہ بگاڑ دے بس ہم پر الزام نہ آئے ہمیں کانٹا نہ چھبے ہمیں برا نہ کیا جائے۔۔۔

اس احتیاط پسندی کا نتیجہ ہے کہ آج کاکوشاہ جیسے لوگ شارح دین ہونے کے دعویدار ہیں دین کی روح سے ناواقف لوگ اجتہاد کی کبڈی میں مصروف ہیں اور حالت یہ ہے کہ کشمالہ طارق کہتی ہیں (میں اجتہاد کروں گی) اجتہاد کیا ہے؟؟؟۔۔۔ اس کی شرائط کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اور حدود و قبود کے ضمن میں کیا دیکھنا پڑتا ہے یہ ایک خالصتا علمی موضوع ہے جس کا کالم سردست متحمل نہیں ہوسکتا البتہ یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ حکومت پاکستان کا مجتہد کون ہے؟؟؟۔۔۔ جو دین میں سے روشن خیالی کا ایڈیشن نکالنے میں ہے اور حکومت کے فیضی کا کردار ادا کرتے ہوئے دین اکبری سے بھی آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔

اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار اور دینی روایات کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ چودہ سوبرس میں دین کی کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے اعمال و فیصلوں سے لے کر آئمہ احادیث تک سے اختلاف کرتے ہیں اور جہاں دال نہ گلے قرآن کو چھوڑ کر تورات اور انجیل تک سے اپنے مقصد کے احکامات نکال لینے میں ثانی نہیں رکھتے۔ خود کو علامہ کہلواتے ہیں لیکن مبلغ علمی اتنا ہے کہ بی اے کرنے کے بعد علم کا دورہ پڑا اور پھر ازخود مطالعہ کرتے کرتے مجتہدین بن بیٹھے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر چند برس بعد ان کے نظریات میں جوہری تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ان کے ساتھی انہیں چھوڑ جاتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات بلکہ ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر اگلی منزلوں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں۔۔۔

حددو اللہ کے خلاف سازش کی قیادت کے علاوہ موصوف پورے اسلامی معاشرے کو روشن خیال بنانے کی فکر رکھنتے ہیں اسی باعث ان کے نزدیک، گانا بجانا، رقص و سردوست جائز ہے پردہ جہالت کی نشانی ہے اگر مغرب پسند نہیں کرتا تو ہمیں پردہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ ستر عورت کے حوالے سے ان کے خیالات میں تغیروتبدل آتا رہتا ہے بعض اوقات جذباتی ہو کر یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ فقہ حنفی میں مرد و عورت کا ستر برابر ہے سوال کریں کہ یہ حنفی کی کونسی کتاب میں ہے تو جواب دل و دماغ کو باغ باغ کردیتا ہے فرماتے ہیں کہ اب کسی کتاب میں مرقوم نہیں، امام یوسف نے بعد میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بدل دی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جب اس بات کا کہیں تذکرہ ہی نہیں ہو و (جناب) کو کہاں سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ رحمہ پر الزام دھرنے اُٹھ کھڑے ہوئے سیدھے سیدھے اپنے دل کی کیوں نہیں کہتے؟؟؟۔۔۔ صرف ستر عورت پر ہی کیا موقوف جناب کے اکثر نظریات کا یہی عالم ہے۔۔۔

ان کے جاننے والے ایک ساتھی کا موقف ہے کہ جسے اسلام پر کوئی شک و شبہ ہو جاوید غامدی سے مل لے اور کچھ نہ ہوا تو مشکوک ضرور ہو جائے گا۔۔۔

موصوف کا تازہ ترین فرمان ہے کہ قرآن کے تمام تر احکامات عملدرآمد کی خاطر نہیں۔ اکثر کا تعلق ریاست مدینہ کے دور سے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت کو آپ نہیں مانتے بلکہ آپ کے نزدیک سنت صرف وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تواتر سے ثابت ہو یعنی سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم قابل اعتناء نہیں۔ قرآن پورے کا پورا قابل نفاذ نہیں حدیث کی ثقاہت پر آپ کو اعتراض ہے تو دین کہاں گیا؟؟؟۔۔۔ یہ دین تا قیامت رہنمائی کیسے کرے گا؟؟؟۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چودہ سو برس بعد آپ پر یہ انکشاف کیسے ہوگیا کہ قرآن کے تمام احکامات قابل عمل نہیں اور پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا حکم آج کے لئے ہے کون سا متروک ہوچکا ہے موجودہ حکومت کے شارح دین کو جہاد سے بھی خاصی چڑ ہے ان کا نقطہ نظر ہے کہ طاقتور کو حق حاصل ہے کہ وہ کمزور کو دبالے لہذا افغانستان اور عراق پر امریکہ کا قبضہ جائز اور انکی مزاحمت ناجائز ہے۔۔۔

جناب فیضی جدید کے یہ نظریات وہ ہیں جو ان کے بیانات، مباحث میں عام دستیاب ہیں ورنہ فکری غامدی اور دین اسلام میں اتفاق کم اور بعد المشرقین زیادہ ہے دین اسلام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور چودہ سو برس سے نافذ اور رائج ہے اس کے مقابلہ میں فکری غامدی سراپا روشن خیالی اور امریکہ کے فرمودات کے عین مطابق ہے موجودہ حکومت کے اس فیضی کی حیثیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف احباب اور نظریات ہی نہیں بدلتے بلکہ نمایاں ہونے کے شوق میں نت نئے نام بھی اختیار کرتے رہتے ہیں۔۔۔

ماضی میں ان کے رفیق خاص رفیق چودہدری نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ علامہ جاوید غامدی کا ابتدائی نام کاکوشاہ تھا بی اے کیا تو محمد شفیق بن چکے تھے بعد ازاں ماڈل ٹاؤن میں سرکار سے پلاٹ الاٹ ہوگیا جہاں دائرۃ فکر کے نام سے ادارہ بنایا اور تحریک اسلامی کے نام سے جماعت بنا کر مولانا مودودی پر تنقید سے کار جہاں کا آغاز کیا جلدہی انہیں محسوس ہوا کہ محمد شفیق تو عام سا نام ہے اس سے علمیت کی گہری چھاپ کا اظہار نہیں ہوتا لہذا جاوید احمد کا لبادہ اوڑھ لیا اور ساتھ ہی جماعت اسلامی کی کی مخالفت چھوڑ کر مولانا مودودی کے سایہ عاطفت میں جاپناہ گزیں ہوئے جہاں انہیں پذیرائی ملی مولانا نے دارالعروبہ سے خالی ہونے والی کوٹھی چار ذیلدار پارک ان کے تصرف میں دے دی اور ساتھ ہی ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا انہیں دنوں انہیں عربی سیکھنے کا شوق ہوا اور یہ شوق انہیں فرقہ معتزلہ کے لٹریچر کے قریب لے گیا۔ جہاں ان کی خواہشات کی تکمیل یوں ہوئی کہ چونکہ اس دور میں معتزلہ کے عقائد سے لوگ آگاہ نہیں لہذا (جاوید غامدی) نے اپنی انفرادیت کا سکہ جمانے کی خاطر (کتاب المفصل) اور (الکشاف) نامی معروف معتزلہ تصنیفات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اس دور کسی مرحلہ پر انہیں جاوید احمد نام بھی عام سالگنے لگا تو غامدی کا لاحقہ لگا کر نام کی حد تک خود کو امام قرار دے دیا اور اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی سے بھی رخصت سفر باندھا کہ نظم کی پابندی اور مولانا مودودی جیسے شخص کی موجودگی میں فقیہہ دوراں بننے کا امکان کم تھا۔۔۔

نام کے ساتھ اپنے ادارہ کے نام میں بھی انہیں ہمشہ کسی مخصوص احساس کا سامنا رہا پہلے جسے دائرۃ الفکر کہا تھا وہ کئی رنگ اختیار کرتے کرتے آج کل المورد کے نام سے موجود ہے اس بحث میں نہیں پڑھنا چاہئے بار بار نام بدلنے والے شخص کو ماہرین نفسیات کس نام سے پکارتے ہیں اور اس کیفیت کا کوئی مکمل علاج ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔ اس سلسلہ میں غامدی جانیں ان کے ورثاء جانیں یا وہ جانیں جن کے وہ امام اور مجتہد ہیں ہمیں اس بات سے غرض ہے کہ حدود اللہ کے خلاف جس شخص کو استعمال کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلامی شعائر کے خلاف جسے استعمال ہونا ہے اس کا ماضی کیا ہے اور اس کی شخصیت استعمال کرنے والوں کیلئے کس قدر موزوں ہے۔۔۔۔

ذکر ہو رہا تھا کاکوشاہ المعرف علامہ جاوید احمد غامدی کا کہ کس طرح سے نمایاں ہونے اور (امام وقت) بننے کے شوق میں وہ اپنے نام تک کو بدلنے اور بدلتے رہنے کی حد تک چلے گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معتزلہ کی تعلیمات سے متاثر حدیث اور سنت سے غیر مطمئن، انفرادیت بلکہ خبط عظمت کے مریض اس شخص کا وائٹ ہاؤس کے منبع روشن خیالی سے کنکشن کیسے ہوا؟؟؟۔۔۔ اور یہ سانحہ کس طرح رونما ہوا کہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر کی چار دیواری میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر خود کو دارقد قرار دینے والے اچانک ملک بھر کے ٹی وی چینلز اور حکومت کے لئے محبوب تریں قرار پائے۔۔۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ 2004ء میں امریکہ محکمہ دفاع سے ایسوسی ایٹ ایک مشاورتی فرم (رینڈ) جسے اردو میں رانڈ بھی پڑھ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا اس ادارہ کے نیشنل سیکورٹی ڈویژن نے امریکی حکومت کے لئے ایک 80 صفحات پر مشتمل ماورتی رپورٹ پیش کی جس کا عنوان (مہذب جمہوری اسلام) رکھا۔۔۔

رپورٹ کے مصنف اور رینڈ کے عہدیدار شیرل بنیار نے اپنی رپورٹ کا ایک خلاصہ بھی تحریر کیا مکمل رپورٹ اور اس کا خلاصہ نیٹ پر جاری کر دیئے گئے۔ عالم اسلام کے ارباب دانش نے اس کا شدت سے نوٹس لیا کیونکہ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ مسلمان اس وقت سوچ و فکر کے چاروں دھاروں میں منقسم ہیں ان میں سے ایک جسے بنیاد پرست کہا جائے وہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ گروہ مغربی کلچر کو تو مسترد کرتا ہے لیکن جدید دور کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو خالص انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کی راہ روکنے کی خاطر روایت پسند طبقے کو استعمال کرنا چاہئیے جو جدید دور کی ضروریات سے عاری ہے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس گروہ کو اسلام اور بنیاد پرستوں کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئیے لیکن اسے مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔۔۔

رینڈ کے مطابق سیکولر طبقہ مغربی انداز فکر اور طرز حیات کے سبب اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ چوتھے گروہ کی حمایت کرے جسے جدت پسند کہا جاتا ہے یہ لوگ اسلام کو جدید بنا کر اور اس میں اصلاحات کر کے موجودہ حالات کے مطابق بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ وہ اس طبقہ کی مالی، مادی، اخلاقی، سیاسی مدد کرے۔۔۔

١- ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کر کے انہیں ارزاں نرخوں پر عام کیا جائے۔۔۔
٢- انہیں عام آدمی اور نوجواں کیلئے لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔۔۔
٣- ان کی آراء اور مذہبی تشریحات پر مبنی سوالات اُٹھائیں اور اس بحث کو عوام میں عام کرنے کا ہر راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔
٤- ان کے توسط سے عام مسلمانوں کے سامنے مغربی کلچر کو متبادل کے طور پر پیش کیا جئے۔۔۔
٥- ان کے ذریعے قبل ازاسلام کی تاریخ۔۔۔غیر اسلامی تاریخ اور کلچر کی نہ صرف حوصلہ افرائی کی جائے بلکہ متعلقہ مسلمان ممالک کے نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں اسے داخل کیا جائے۔۔

یہ اور اسی طرح کے بیشمار سازشی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ جدت پسندوں کو تلاش کر کے اک نئی طرف کا مغرب کے لئے قابل قبول اسلام گھڑا جائے رینڈ کی اس رپورٹ پر ایک محفل میں بحث جاری تھی کہ ایک اخبار نویس نے ازرہ تفنن کہا (لوجی غامدی صاحب کی پانچوں گھی میں ہوگئیں) وہ اس معیار پر سو فیصد پورا اترتے ہیں اس پر شریک محفل ایک اعٰلی سرکاری افسر نے ترنت پوچھا یہ غامدی صاحب کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اصل جملہ یوں تھا (ہاو از شی) انداز ایسا تھا کہ وہ انہیں نام سے عرب خیال کر گئے اس پر اخبار نویس نے کاکوشاہ کا مکمل تعارف کروادیا۔ چند روز بعد ملکی سطح پر ایک حادثہ کے بعد سرکاری افسر پاکستان اسی اخبار نویس کے کٹیاتما غریب خانہ پر غامدی صاحب کا فون نمبر مانگنے آن پہنچے اخبار نویس جانتا تھا کہ جناب غامدی آمریت کے ناقد اور جہموریت کے دلدادہ ہیں ان کے ہتھے شاید نہ چڑھ سکیں کیونکہ ابھی یہ بھرم قائم تھا کہ وہ بکاؤ مال نہیں۔۔۔

مگر پھر ایسی ہوا چلی کہ صرف کاکوشاہ المعروف غامدی اکیلے اپنی پانچوں تانگے کی سواریوں سمیت حکومت کی آنکھ کا تارہ بن کر طلوع ہوئے ہر ٹیلویژن اسکرین انہی کے رُخ (روشن) سے (منور) نظر آنے لگی۔ اشفاق احمد فو ہوئے تو پی ٹی وی نے ان کی جگہ بھی جناب غامدی کو لا بٹھایا جو بڑے دھڑلے سے اسلام کے پردے میں فکر غامدی کی ترویج میں مصروف ہیں سرکاری غیر سرکاری الیکڑانک میڈیا میں ان کا ڈنکا بجتا ہے اور رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ جو آج بھی نیٹ پر دستیاب ہے اس کا ایک ایک حرف عملدرآمد کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔۔

قصرابیض کے روسیاہ دین حنیف کا جس طرح سے حلیہ بگاڑ کر اسے اپنے معاشرے کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ماڈل میں کاکوشاہ کا مرکز روشن خیالی اس کے عین مطابق تشریحات گھڑتا چلا جا رہا ہے امریکیوں کو پردے سے چڑ ہے۔۔۔۔ فکر غامدی پردہ غیر ضروری فعل ہے۔۔۔

وائٹ ہاؤس کو جہاد سے دشمنی ہے۔۔۔۔ فکر غامدی کے لئے ایسی ایسی ناممکن العمل شرائط لگا کر جہاد کی راہ روک رہا ہے کہ جس کا کسی کو ماضی میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔۔۔

صدر بش کو اسلام سے افغانستان اور عراق پر حملہ کی حمایت چاہئے۔۔۔۔فکر غامدی حدیث اور سنت کو غیر معتبر قرار دے کران کی راہ ہموار کر رہا ہے۔۔۔مغربی خبث باطن توہیں رسالت پر آمادہ ہے۔۔۔۔فکر غامدی توہیں رسالت کی سزا پر معترض ہے اور اہل مغرت کو اس کا حق دیتا ہے۔۔۔ امریکی بدمعاش مسلمان اور قرآن کا تعلق توڑنا اور تقدس ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔فکر غامدی قرآن کے احکامات کو دور حاضر کے لئے ناقابل عمل قرار دیتا ہے۔۔۔مغربی صلیبی قرآن کے مقابلے میں جعلی کتاب لاتے ہیں۔۔۔فکر غامدی اسے ان کا حق مانتا ہے۔۔۔ اور اب امریکی حکمران پاکستان میں حدود قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔۔۔فکر غامدی کا سرخیل اس مہم کا نگران قرار پاتا ہے۔۔۔۔وہ مسلمان کے نصاب تعلیم میں غیر اسلامی کلچر داخل کرنا چاہتے ہیں یہ اسکولوں میں اسلامیات پڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔۔۔۔

کیا اب بھی یہ مان لیا جائے کہ فکر غامدی اور امریکی استعمار کی خواہشات میں مشترکات محض (اتفاق) ہے کی اب بھی اس دور کے فیضی کو شک کا فائدہ دیا جائے گا؟؟؟۔۔۔۔۔

شواہد چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ کاکوشاہ المعروف جاوید غامدی کسی نئے دین اکبری کی نوک پلک سنوار رہا ہے اس کی تعلیمات اور حدود قوانین کے خلاف سازش دراصل حدود اللہ اور اسلام کے خلاف سازش ہے کیا اب بھی اس کا نوٹس نہیں لینا چاہئے؟؟؟۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین، مفتیان شرح متین وہ اس پر چپ کیوں ہیں؟؟؟۔۔۔ اپنا فرض ادا کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟۔۔۔۔

والسلام۔۔۔
بشکریہ: محمد نعیم

August 6, 2008

6اگست 1945ء انسانی تاریخ کا بدترین دن

 
 
  6اگست 1945ء انسانی تاریخ کا بدترین دن کہ جس دن ایک درندے نے حیوانیت کی انتہا کردی۔جی ہاں یہ درندہ امریکہ ہی تھا۔جس کی درندگی اس المناک واقعہ کے 60سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔
 یہ وہ دن تھا جب عالمی دہشت گرد امریکہ نے صبح 8:15منٹ پر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کے بہیمانہ دہشت گردی کی۔ ماہرین کے مطابق ایٹم بم کے گرنے سے اٹھنے والے مشروم نما دھوئیں میں43سیکنڈ کے اندر 66000معصوم جانیں دفن ہوگئیں پھر فضا میں تابکاری گیس کی وجہ سے اور زخمیوں کی ہلاکت چند ہی دنوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 140000تک پہنچا دی ۔ اس بم کے اثرات 60سال گزرنے کے بعد بھی آج تک محسوس کئے جاتے ہیں ۔
 
 
 المیہ یہ ہے کہ ایک ایٹم بم کے گرنے سے پیدا ہونے والی تباہی سے جس میں 1.40000معصوم ا فراد ہولناک سانحہ کی نظر ہوگئے اوروہ شہر کھنڈر بن گیا اس کے باوجود بھی دنیا کی آنکھیں نہ کھلیں حقیقت یہ ہے کہ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اس المناک قیامت خیز سانحے کے بعد تو انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ایٹم بم کے وجود کو دنیا سے بالکل ختم کردینا چاہیے تھا ۔ مگر بالکل اس کے برعکس ہوا بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ایٹم بم کی دوڑ میں بھرپور حصہ لے کر دنیا کو انتہائی غیر محفوظ بنا کررکھ دیا ۔اب صورتحال یہ ہے کہ دنیا بارود پر بیٹھی ہے ۔
 
 
 ذرا تصور کریں 9/11کے خود کش حملوں کے نتیجے میں کم و بیش 3000 جانیں گئیں جبکہ 7/7میں 56 افراد ہلاک ہوئے۔ بڑی طاقتوں نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر ایک ایک منٹ کی متعدد بار خاموشی کرکے دکھ کا اظہار کیا ۔9/11کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کا ایک بڑی تقریب میں نام لے کر افسوس کیا جاتا ہے ۔
 مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ ان 1,40000 انسانوں کی ہلاکت پر ان کا کوئی نام لینے والا نہیں ۔ اگر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہر سال 6اگست کو ایٹم بم سے مرنے والوں کی یاد میں پوری دنیا میں بڑی بڑی تقریبات منعقد کرکے ایٹم بم کے خاتمے کے خلاف اگرمہم چلاتیں تو دنیا جتنی آج غیر محفوظ ہے وہ نہ ہوتی لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے خاموشی اختیار کیے رکھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا آج بارود پر بیٹھی ہے ۔
 

 
 ایٹم بم کی تباہی سے ہزاروں خاندان ایک ہی دھماکے کی نظر ہوگئے ہزاروں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے جو کبھی بھی زندہ ہونے کے باوجود کبھی بھی ایک دوسرے سے نہ مل سکے ۔6اگست 1945ء کا دن تاریخ کا بدترین قیامت خیز ہولناک دن تھا جس پر تاریخ بھی خون کے آنسو بہاتی رہے گی ۔
 

June 14, 2008

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان ملک بچانے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
چھوڑیں اپنی غیر اہم سیاست کو! آج جس طرح وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ہیروز ہیں ویسے ہی اعتزاز احسن، منیر اے ملک، نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین احمد آج کے ہیرو ہیں جنہوں نے بے مثال پروگرام کا اہتمام کیا۔ ہر طرف ایسا زبردست جوش و جذبہ دکھائی دے رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ بن چکی ہے اور لوگوں نے ایک بار پھر اپنے 18 فروری کے فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ مشرف کو جانا چاہئے اور معزول ججز کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔ عملاً ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، سابق فوجی، صحافی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جگہ جمع تھے جو اسلام آباد میں پریڈ ایونیو ہوا کرتا تھا۔ ہر چہرہ جوش و جذبے سے بھرپور تھا اور ایک نئے پاکستان کیلئے اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا۔ اسلام آباد میں ایسا عوامی سمندر کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا ہم نے جمعہ کو دیکھا۔ اور جب پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لوگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا تو اس وقت ایسی کوئی قریبی گلی نہیں تھی جو نعرے لگاتے ہوئے پرجوش لوگوں سے خالی ہو۔ اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وکلاء برادری کی دو ریلیوں کو ابھی وہاں پہنچنا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے والی قومی اسمبلی کی جانب سے دکھائی جانے والی لاتعلقی پر لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ 18 فروری کو عوام کی جانب سے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کیخلاف واضح عدم اعتماد کا فیصلہ آیا تھا۔ الیکشن کے مینڈیٹ سے عوام کی اس خواہش کا بھی واضح اظہار ہوتا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ فوراً ہی یہ بھول گئی کہ اسے اپنے قیام کے ابتدائی چند دنوں اور ہفتوں میں کیا کام کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی، انتخابات کے فوراً بعد حقیقت پسند بن گئی اور ایک کے بعد ایک وعدے توڑنے لگی۔ الیکشن میں دیئے گئے مینڈیٹ کے برخلاف پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صدر کے مواخذے کی بجائے انکے ساتھ محبت کے عہد و پیمان شروع کردیئے۔ آزاد عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے ان فاضل ججوں کی بحالی کو پیچیدہ بنانا شروع کردیا ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر سے وفاداری کا اظہار کرنے سے انکار کردیا تھا اور بالآخر پارٹی آئینی پیکیج لیکر آگئی جس نے ان عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا جنہوں نے فروری کے انتخابات میں پی پی پر اعتماد کیا تھا۔ آئینی پیکیج میں آرٹیکل نمبر 6 کی واضح خلاف ورزی پر صدر کو سزا دینے کی بجائے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کے مسئلے پر آئینی پیکیج میں، ججوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کرنے، پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججوں کی ملازمت جاری رکھنے یا وہ جنہیں پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد مقرر کیا، کے علاوہ ایک شخص سے مخصوص ترمیم جس کا نشانہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکلاء کا یہ شو، جسے نواز لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ان دونوں مسائل پر زرداری ہاؤس کی حکمت عملی کو مسترد کرچکا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو 18 فروری سے پہلے والی صورتحال سے مختلف ہو اور مشرف دور کی جوں کی توں صورتحال کا خاتمہ ہو، وہ پارلیمنٹ، جسے عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے؛ وہ چند مصالحت کئے ہوئے غیر منتخب نام نہاد سیاست دانوں کے اشاروں پر چل رہی ہے، اسکی لاتعلقی پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مفاد پرست عناصر نے وکلاء پر تنقید کی ہے۔ اس بات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان کی صفوں میں دراڑیں ڈالی جائیں تاکہ وکلاء تحریک کا خاتمہ ہوسکے لیکن وہ پرعزم رہے اور انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی۔ جمعہ پاکستان کی تاریخ کیلئے ایک قابل ذکر دن تھا اور یہ سب کچھ وکلاء کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمیں واقعی ان پر فخر ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے موقف پر قائم رہے ہیں۔ انکا انداز، انکے الفاظ اور انکی تقاریر اور ان کا ہر اظہار بہت متاثر کن اور غیر مبہم ہے، وہ انقلابی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، عمران خان اور قاضی حسین احمد پاکستان کے آج کے دو اہم ترین مسائل پر اپنے موقف کیلئے پورے نمبروں کے مستحق ہیں۔آج ہر انسان کی صرف یہ خواہش اور تمنا ہے کہ وکلاء کا مارچ پاکستان کیلئے نئے آغاز کے پیش لفظ کا کام کرے۔ یہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ دو نومبر کی عدلیہ کے تمام حامی اور پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے کے خواہش مند ایک ساتھ مل جائیں اور اس ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں مجتمع کردیں۔
 
 (تجزیہ: … انصار عباسی)

June 12, 2008

امریکی حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ’امریکی حملے‘ میں ایک میجر سمیت تیرہ پاکستانی فوجی شہید ہوگئےاور چوبیس گھنٹوں کے اندر۔۔۔۔ پھر
خبر آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے دوسرا حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
امریکہ نے پہلے تو ہماری فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کیں، انہیں اندرونی وبیرونی دوستوں سے دور کر کے تنہا کیا۔ پاک فوج کے ذریعے نہتے عوام کو مارا اور اب بالآخر فوج کو بھی براہ راست جنگ میں گھسیٹ لیا۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
روشن خیالی کے ٹھیکےداروں کو اس انجام کا ادراک ہوتا۔
پرویز مشرف کی غلطیوں کا خمیازہ نہ صرف عوام بھگت رہے ہیں بلکہ اب اس کے "ثمرات"سے پاک فوج بھی مستفید ہورہی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام عمائدین مملکت خداداد پاکستان متحد ہو جائیں۔اور قوم کو بھی اعتماد میں لیکر جامع حکمت عملی وضع کر لی جائے ورنہ عراق اور افغانستان جیسے حشر کےلئے تیار رہا جائے۔

صرف بیان بازی سے کام نہیں چلےگا۔ جہاں تک بات ہماری خود مختاری پر حملے کی ہے تو ہماری خود مختاری بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب سے یہ احمد مختار جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔توبات بیان بازی،اور احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی احتجاج کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا نذر قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک خان صاحب کے ہاں ایک نوکر کم تنخواہ پر کام کر رہا تھا۔ ایک دن تنگ آکر اس نے اپنے مالک سے دھمکی کے انداز میں کہا: میری تنخواہ میں اضافہ کردو  ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں۔۔۔۔
مالک نے کہا: ورنہ تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا: ورنہ پھر اسی پر ہی گزارہ کروں گا۔‘
پاکستان کے احتجاج کی بھی یہی حیثیت ہے امریکہ آقا کے سامنے۔

 مکمل خود مختاری کے لیے ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی چائنہ سے دوستی مزید بڑھانی ہوگی۔ نام نہاد امریکی دوستی کا خاتمہ اب نا گذیر ہے۔

 ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی کا دوست نہیں۔ اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اندرونی اختلافات کو خیرباد کہہ کر بیرونی جارحیت کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا پڑے گا۔پاکستانی قوم گیدڑ کی زندگی کی بجائے شیر کی زندگی کو ترجیح دے گی۔افواج پاکستان ناقابل شکست تھیں اور ہیں۔ قوم آج بھی اس شجاع فوج کے ساتھ ہے۔اگر یہ کرائے کےقاتل اور امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ساتھ دینے کی بجائےاصل دفاع کے حقداروں کےلئےانیس سو پینسٹھ  والا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہو جائے۔

June 10, 2008

پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث
 

 
 پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔ مغرب کے افکار کو پاکستانی معاشرے میںشامل کرنے کیلئے ‘’روشن خیالی’’ کا نعرہ ایجاد کیا گیا۔ اسی ‘’روشن خیالی’’ کی آڑ لے کر پہلے پہل توتہواروں کے موقع پر شراب کو عام کیا گیا اور اب یہ حال ہے کہ ‘’اعلیٰ’’ تقریبات شراب کے بغیر ادھوری تصور ہوتی ہیں۔

بیشتر اراکین اسمبلی اوربیوروکریٹس تو اس کے عادی تھے ہی اب ایلیٹ کلاس سے لیکرعام غریب آدمی کی رسائی بھی ‘’ام الخبائث’’ تک ہو چکی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق چند سالوں کے اندر پاکستان میں شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح اور ٹریفک حادثات میں حیران کن اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈانلڈ۔آر۔کریسی اپنے مضمون Criminological Research and the Definition of Cirmeمیں لکھتے ہیں کہ 80فیصد جرائم کی وجہ شراب خانہ خراب ہے۔ معصوم لوگوں کے قتل ‘آبروریزی کے واقعات ‘ڈاکہ زنی’ دھوکہ دہی ‘غبن اور دیگر جرائم میں شراب ایک محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ شراب کے حوالے سے ہی ایک بہت پرانا واقعہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ میسور کرناٹک(بھارت )1881 ء میں ایک انگریز چیئرمین بنائے گئے تو ایک غیرمسلم نے اس انگریز چیئر مین سے یہ درخواست کی کہ مسلمان اپنی پسند کا گوشت کھاتے اور فروخت کرتے ہیں تو ہمارے کھائے جانے والے گوشت پر پابندی کیوں؟

لہذٰا مجھے بھی بازار میں خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا جائے چنانچہ چیئرمین نے اس غیر مسلم کو لائسنس دے دیا دوسرے دن ہی خنزیر کے گوشت کی دکان کھل گئی اور بورڈ بھی آویزاں کر دیا گیا جب مسلمانوں کو لحم خنزیر کی دکان سے متعلق علم ہوا تو شہر کے سارے مسلمانو ں نے انگریز چیئرمین کا گھیرائو کر لیا اور کہا کہ آپ میسو ر کرناٹک کے پہلے چیئرمین ہیں جنہوں نے خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا ہے آپ کو یہ لائسنس منسوخ کر کے دکان بند کرانا پڑے گی۔

چیئرمین نے شہر کے سارے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ تمہیں اس دکان کے کھلنے پر اس وجہ سے غصہ آ رہا ہے کہ تمہارے مذ ہب میں لحم خنزیر حرام ہے دوسری اور کوئی وجہ نہیں لیکن میں تم مسلمانوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تمہارے مذہب میں شراب بھی حرام ہے اس سے پہلے میں نے بیشتر لائسنس شراب کی دکانوں کیلئے دئیے اور شہر میں بے شمار دکانیں شراب کی کھلی ہوئی ہیں لیکن تم میں سے کوئی مسلمان میرے پاس نہیں آیا کہ انہیں بند کیا جائے محض اس لئے کہ بہت سارے مسلمان خود شراب کے عادی ہیں۔

قارئین محترم ! … تھا تو وہ انگریز اور غیر مسلم بھی لیکن بات بہت سچی اور پکی کہہ گیا۔ ہمارے عظیم مذہب اسلام میں لحم خنزیراور شراب دونوں حرام ہیں ان کی حرمت میں رتی برابر فرق نہیں دونوں کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر نوے (90) کے چار کلمات شراب کی حرمت کو واضح کرتے ہیں۔
رجس …شراب ایک ناپاک چیز ہے۔
من عمل الشیطان… شراب نوشی شیطانی عمل ہے۔
فاجتنبوہ …شراب نوشی سے بچو۔
لعلکم تفلحون… شراب نوشی ترک کرو گے تو فلاح پاجاؤ گے۔
اگلی آیت مبارکہ میں اس شیطانی عمل کے مزید نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان’ شراب نوشی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور شیطان کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے۔

حدیث قدسی ۖہے کہ ‘’شراب پینے والے، پلانے والے، فروخت کرنے والے اور خریدنے والے اور جس کے لئے نچوڑی جائے، اٹھاکر لے جانے والے اور جس کے لئے اٹھاکر لے جائی جائے ان تمام لوگوں پر خدائے تعالیٰ کی لعنت ہے ‘’۔

سنن ابن ماجہ’ابواب الشرب ’ ص 250 میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شراب کو دس وجوہات کی بناپر ملعون قرار دیاگیا ہے۔
1…شراب پر لعنت ہے۔
2…اس کو نچوڑنے والا ملعون ہے۔
3…جس کیلئے نچوڑی جائے وہ لعنتی ہے۔
4…اس کا بیچنے والا لعنتی ہے
5…اس کے خریدنے والے پر لعنت ہے۔
6…اس کا اٹھانے والا ملعون ہے۔
7…جس کیلئے اٹھائی جائے اس پر بھی لعنت ہے۔
8…اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت ہے۔
9…شراب کے پینے والا لعنتی ہے۔
10…اور اس کا پلانے والا بھی لعنت کا مستحق ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق شراب منہ، معدہ، جگر، انتڑیوں اور چھاتی کے کینسر، دل کے امراض اور بیسیوں دیگر خطرناک بیماریوں کا باعث ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت شراب کی حرمت کو سمجھتے ہوئے اس پر مکمل پابندی عائد کرتی لیکن اس کی بجائے حدیث پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق لعنتوں کے طوق گلے میں ڈالتے ہوئے پورے ملک میں غیر مسلموں کے نام پرشراب فروشی کے پرمٹ جاری کرتی ہے جس سے یہ خبائث عام آدمی کی دسترس میں بھی موجود ہے پاکستان کا کوئی نہ کوئی قریہ ایسا نہیں جہاں شراب دستیاب نہ ہو۔

شراب کو قرآن حکیم میں ‘’ام الخبائث’’ کہا گیا ہے اور اس کے استعمال سے اہل اسلام کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی شراب کو کسی طور جائز قرار نہیں دیا گیا تمام مذاہب اور ادیان میں شراب کی ممانعت ہے اسی لئے اکثر پاکستان میں عیسائی اور دیگر مذہبی راہنمائوں کے واضح بیان آتے رہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں بھی شراب قطعی حرام ہے لہذٰا صرف اس بنا ء پرکسی کو پرمٹ نہ دیا جائے کہ وہ عیسائی یا غیر مسلم ہے یہ اقدام ہمارے مذاہب کی توہین کے مترادف ہے۔

اس کے باوجود حکومت کی طرف سے شراب فروشی کے پرمٹوں کا اجراء وطن عزیز میں شراب نوشی کی حوصلہ افزائی اور اس کے استعمال کے چور راستے کھولنے کے برابر ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ حکومت شراب کے عام استعمال سے اس قوم کے ضمیرکو مردہ اور احساس کو ہمیشہ کیلئے سلانے میں دشمنوں کی معاونت کررہی ہے ۔بھارت اور دیگر مغربی ممالک جو کہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت اٹھا چکے ہیں ایک خدا ‘ایک قرآن اور کلمہ طیبہ پر متحد ہو جانے والوں سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔

موجودہ دور میں جنگوں کے طریقہ کار بدل چکے ہیںمسلمان قوم کو بے حس اور بے غیر ت بنانے کیلئے الیکٹرانک میڈیا ‘پرنٹ میڈیاکے استعمال کے علاوہ شراب اور دیگر منشیات کے عام استعمال کا دائو چلایا جارہا ہے ۔ امریکی ایجنڈے کے تحت بے حیائی کے تحفظ کے قوانین بن چکے ہیں ۔ محترم محمد بشیر احمد کی باغ جناح لاہور میں فحاشی کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ اور کم و بیش ملک بھر میں فحاشی کی یہی صورتحال غیر محسوس طریقے سے پیدا کی جارہی ہے۔

پاکستان کا قیام صرف اور صرف اسلامی اقدار کو فروغ دینے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا’ قرارداد مقاصد اس کا بین ثبوت ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ نہ تو اس پر کسی حکمران نے عملدرآمد کیا اور نہ ہی بیورو کریسی نے اس کا نفاذ ممکن ہونے دیا ان حالات میں شراب پر مکمل پابندی اور شریعت ایکٹ نافذ کرنے کے حوالے سے صوبہ سرحدکی سابق حکومت نے کچھ کوشش کی جبکہ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے موجودہ اے این پی کی مخلوط حکومت نے بھی مقامی طور پرکچھ معاہدے کئے ہیں جو لائق تحسین ہیںاور جس کی تقلید دیگر صوبوں سمیت مرکز کو بھی کرنی چاہئے حکومت پاکستان اور دیگر صوبائی حکومتیں وطن عزیزمیں ام الخبائث بننے بنانے’لانے لیجانے’ خریدوفروخت کرنے اور پینے پلانے پر مکمل پابندی عائدکریں۔ ملک بھر میںشریعت کے نفاذ کو جلد ازجلد یقینی بنایا جائے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر فوری عملدرآمدکیا جائے ۔

پرویز مشرف ‘چند سیکولر ذہن رکھنے والے مشیران’ وزراء مملکت ’ امراء اور دیگر بیوروکریٹ آفیسران نیز غیرملکی آقائوں کے آلہ کاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے آئینِ پاکستان ‘قرار داد مقاصد’مقاصد قیامِ پاکستان اور سب سے بڑھ کراحکامِ خداوندی کو پس ِپشت نہ ڈالیں۔امریکی حکام پرویز مشرف کو مندرجہ بالا مطالبات کی تکمیل کسی صورت نہیں کرنے دیں گے ۔ لہذا انہیں پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بچانے کیلئے فوری مستعفی ہو جانا چاہئے (کیونکہ سیاسی ڈھانچے کی تعمیر ہوسکتی ہے سماجی ڈھانچے کی نہیں) ورنہ اگر ملک بھر میں غیرت مسلم جاگ اٹھی تو وسیع پیمانے پر احتجاج اور ایسی بد امنی پھیلے گی کہ جس پر حکومت اور اس کے سر پرست بھی قابو نہ پا سکیں گے۔

تحریر: قاضی ایم اے خالد

 
یہ کالم مندرجہ ذیل اخبارات اور ویب سائٹس پر بھی پڑھا جا سکتا ہے