اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 25, 2008

لائی”بے قدراں “ نال یاری تے ٹٹ گئی ”تڑک“ کرکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 
 
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ تقریباً چھ ماہ پرانے اپنے حکمراں اتحاد کو خیرباد کہتے ہوئے سابق چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔

پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی طرف سے بار بار معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی اور ایوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہونے کے ناتے قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کا بھی مطالبہ کرے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ آصف زرداری نے آخری خلاف ورزی اس وقت کی جب انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد ججوں کو بحال نہیں کیا اور خود کو صدرارتی امیدوار بنا دیا۔

انہوں نے ایک معاہدے کی کاپی صحافیوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کے دونوں صفحات پر ان کے اور آصف علی زرداری کے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت صدر کا امیدوار متفقہ طور پر یا اگر پیپلز پارٹی امیدوار سامنے لاتی ہے تو سترہویں ترمیم کے خاتمے کے بعد ایسا کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہایت افسوس کے ساتھ چاروں اطراف سے ناامید ہونے کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے ہیں۔ ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کا نظام کاغذات پر طے پانے والے معاہدات کے گرد گھومتا ہے اور ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کریں گے‘۔

August 18, 2008

ملک و قوم و عوام پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی

 
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک و قوم و عوام اور سیاستدانوں پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی ہو گیا۔
اس کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر کے لبادے میں ایک آمر کا دور ختم ہوا۔ایک بردہ فروش کا اقتدار ختم ہوا۔اس ملک و ملت  کو ڈی مورال کرنے والے کا مورال ختم ہوا۔ہزاروں معصوم بچوں اور پاکستانیوں کے خونی کا اقتدار ختم ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

آج دوپہر ایک بجےمشرف سے نجات متوقع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
شنید کی جارہی ہے کہ آج ریٹائرڈ جنرل مشرف مستعفی ہو جائیں گے جس کا اعلان آج دوپہر ایک بجے ان کی تقریر میں متوقع ہے۔
 

August 9, 2008

Phone-n-Net Unlimited Package

 پاکستان میں ڈائل اپ کنکشن استعمال کرنے والوں کے لئے یہ بات یقینا دلچسپی کا باعث ہوگی کہ پی ٹی سی ایل کی فون ان نیٹ سروس کا ان لمیٹیڈ نیٹ ایکسس کا نیا پیکج جاری کر دیا گیا ہے جو کہ 299روپے ماہانہ کے عوض ہے۔مزید تفصیلات کےلئے یہاں کلک کیجئے

June 14, 2008

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان ملک بچانے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
چھوڑیں اپنی غیر اہم سیاست کو! آج جس طرح وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ہیروز ہیں ویسے ہی اعتزاز احسن، منیر اے ملک، نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین احمد آج کے ہیرو ہیں جنہوں نے بے مثال پروگرام کا اہتمام کیا۔ ہر طرف ایسا زبردست جوش و جذبہ دکھائی دے رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ بن چکی ہے اور لوگوں نے ایک بار پھر اپنے 18 فروری کے فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ مشرف کو جانا چاہئے اور معزول ججز کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔ عملاً ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، سابق فوجی، صحافی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جگہ جمع تھے جو اسلام آباد میں پریڈ ایونیو ہوا کرتا تھا۔ ہر چہرہ جوش و جذبے سے بھرپور تھا اور ایک نئے پاکستان کیلئے اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا۔ اسلام آباد میں ایسا عوامی سمندر کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا ہم نے جمعہ کو دیکھا۔ اور جب پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لوگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا تو اس وقت ایسی کوئی قریبی گلی نہیں تھی جو نعرے لگاتے ہوئے پرجوش لوگوں سے خالی ہو۔ اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وکلاء برادری کی دو ریلیوں کو ابھی وہاں پہنچنا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے والی قومی اسمبلی کی جانب سے دکھائی جانے والی لاتعلقی پر لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ 18 فروری کو عوام کی جانب سے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کیخلاف واضح عدم اعتماد کا فیصلہ آیا تھا۔ الیکشن کے مینڈیٹ سے عوام کی اس خواہش کا بھی واضح اظہار ہوتا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ فوراً ہی یہ بھول گئی کہ اسے اپنے قیام کے ابتدائی چند دنوں اور ہفتوں میں کیا کام کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی، انتخابات کے فوراً بعد حقیقت پسند بن گئی اور ایک کے بعد ایک وعدے توڑنے لگی۔ الیکشن میں دیئے گئے مینڈیٹ کے برخلاف پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صدر کے مواخذے کی بجائے انکے ساتھ محبت کے عہد و پیمان شروع کردیئے۔ آزاد عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے ان فاضل ججوں کی بحالی کو پیچیدہ بنانا شروع کردیا ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر سے وفاداری کا اظہار کرنے سے انکار کردیا تھا اور بالآخر پارٹی آئینی پیکیج لیکر آگئی جس نے ان عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا جنہوں نے فروری کے انتخابات میں پی پی پر اعتماد کیا تھا۔ آئینی پیکیج میں آرٹیکل نمبر 6 کی واضح خلاف ورزی پر صدر کو سزا دینے کی بجائے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کے مسئلے پر آئینی پیکیج میں، ججوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کرنے، پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججوں کی ملازمت جاری رکھنے یا وہ جنہیں پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد مقرر کیا، کے علاوہ ایک شخص سے مخصوص ترمیم جس کا نشانہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکلاء کا یہ شو، جسے نواز لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ان دونوں مسائل پر زرداری ہاؤس کی حکمت عملی کو مسترد کرچکا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو 18 فروری سے پہلے والی صورتحال سے مختلف ہو اور مشرف دور کی جوں کی توں صورتحال کا خاتمہ ہو، وہ پارلیمنٹ، جسے عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے؛ وہ چند مصالحت کئے ہوئے غیر منتخب نام نہاد سیاست دانوں کے اشاروں پر چل رہی ہے، اسکی لاتعلقی پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مفاد پرست عناصر نے وکلاء پر تنقید کی ہے۔ اس بات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان کی صفوں میں دراڑیں ڈالی جائیں تاکہ وکلاء تحریک کا خاتمہ ہوسکے لیکن وہ پرعزم رہے اور انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی۔ جمعہ پاکستان کی تاریخ کیلئے ایک قابل ذکر دن تھا اور یہ سب کچھ وکلاء کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمیں واقعی ان پر فخر ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے موقف پر قائم رہے ہیں۔ انکا انداز، انکے الفاظ اور انکی تقاریر اور ان کا ہر اظہار بہت متاثر کن اور غیر مبہم ہے، وہ انقلابی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، عمران خان اور قاضی حسین احمد پاکستان کے آج کے دو اہم ترین مسائل پر اپنے موقف کیلئے پورے نمبروں کے مستحق ہیں۔آج ہر انسان کی صرف یہ خواہش اور تمنا ہے کہ وکلاء کا مارچ پاکستان کیلئے نئے آغاز کے پیش لفظ کا کام کرے۔ یہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ دو نومبر کی عدلیہ کے تمام حامی اور پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے کے خواہش مند ایک ساتھ مل جائیں اور اس ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں مجتمع کردیں۔
 
 (تجزیہ: … انصار عباسی)

June 12, 2008

امریکی حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ’امریکی حملے‘ میں ایک میجر سمیت تیرہ پاکستانی فوجی شہید ہوگئےاور چوبیس گھنٹوں کے اندر۔۔۔۔ پھر
خبر آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے دوسرا حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
امریکہ نے پہلے تو ہماری فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کیں، انہیں اندرونی وبیرونی دوستوں سے دور کر کے تنہا کیا۔ پاک فوج کے ذریعے نہتے عوام کو مارا اور اب بالآخر فوج کو بھی براہ راست جنگ میں گھسیٹ لیا۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
روشن خیالی کے ٹھیکےداروں کو اس انجام کا ادراک ہوتا۔
پرویز مشرف کی غلطیوں کا خمیازہ نہ صرف عوام بھگت رہے ہیں بلکہ اب اس کے "ثمرات"سے پاک فوج بھی مستفید ہورہی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام عمائدین مملکت خداداد پاکستان متحد ہو جائیں۔اور قوم کو بھی اعتماد میں لیکر جامع حکمت عملی وضع کر لی جائے ورنہ عراق اور افغانستان جیسے حشر کےلئے تیار رہا جائے۔

صرف بیان بازی سے کام نہیں چلےگا۔ جہاں تک بات ہماری خود مختاری پر حملے کی ہے تو ہماری خود مختاری بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب سے یہ احمد مختار جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔توبات بیان بازی،اور احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی احتجاج کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا نذر قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک خان صاحب کے ہاں ایک نوکر کم تنخواہ پر کام کر رہا تھا۔ ایک دن تنگ آکر اس نے اپنے مالک سے دھمکی کے انداز میں کہا: میری تنخواہ میں اضافہ کردو  ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں۔۔۔۔
مالک نے کہا: ورنہ تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا: ورنہ پھر اسی پر ہی گزارہ کروں گا۔‘
پاکستان کے احتجاج کی بھی یہی حیثیت ہے امریکہ آقا کے سامنے۔

 مکمل خود مختاری کے لیے ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی چائنہ سے دوستی مزید بڑھانی ہوگی۔ نام نہاد امریکی دوستی کا خاتمہ اب نا گذیر ہے۔

 ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی کا دوست نہیں۔ اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اندرونی اختلافات کو خیرباد کہہ کر بیرونی جارحیت کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا پڑے گا۔پاکستانی قوم گیدڑ کی زندگی کی بجائے شیر کی زندگی کو ترجیح دے گی۔افواج پاکستان ناقابل شکست تھیں اور ہیں۔ قوم آج بھی اس شجاع فوج کے ساتھ ہے۔اگر یہ کرائے کےقاتل اور امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ساتھ دینے کی بجائےاصل دفاع کے حقداروں کےلئےانیس سو پینسٹھ  والا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہو جائے۔

May 29, 2008

مشرف مستعفی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستوں کا مشورہ زیرغور

’’مشرف مستعفی ہو جائیں‘‘ دوستوں کا مشورہ ، مشرف کی طرف سے غور کا وعدہ

 صدر پرویز مشرف نے سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور سابق فوجی افسروں کے دباؤ پر اپنے خلاف ابھرتی ہوئی رائے عامہ کے پیش نظر اپنے سول اور فوجی دوستوں سے صلاح مشورہ کیا ہے جنہوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورتحال کے باعث صدر کا عہدہ چھوڑ دیں۔ ذرائع کے مطابق صدر پرویز مشرف نے ان کے اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور امید ہے کہ وہ کچھ دن میں اس بارے میں فیصلہ کرلیں گے۔

ماخذ

November 23, 2007

صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے

 
 
بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج
طلوع ہوگا

صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے

حکومت جیو اور دیگرآزاد ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل

لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صحیح معلومات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔آمریت کی اندھیری رات ہمیشہ رہنے والی نہیںاسے ختم ہوناہی ہے اور بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج طلوع ہوگاجب میڈیا بے خوف وخطر ایک بار پھر اپنے فرائض منصبی انجام دے سکے گاانشاء اللہ جیوسمیت تمام چینل پھر کھلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل قاضی ایم اے خالد نے اپنے ایک بیان میں  کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک صحتمنداور پرامن معاشرہ کی تشکیل کےلئے اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق آرڈیننس واپس لے کر جیو نیوز’اے آر وائے و دیگرآزادٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے۔علاوہ ازیں حکیم قاضی ایم اے خالد کے زیر قیادت پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل کے ایک وفد نے اظہار یکجہتی کےلئے جیو کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور گیسٹ بک میں اپنے تاثرات درج کئے۔

http://www.express.com.pk
 

November 9, 2007

٭ذرائع ابلاغ پر پابندی دہشت گردی کے مزید فروغ کا باعث بن سکتی ہے: حکیم خالد٭

٭ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے٭
٭حکومت پریس آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات
فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل٭

لاہور (نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) طب قدیم وجدید میڈیکل سائنس کے مطابق آزادی تحریر و تقریراور ذرائع ابلاغ پرقدغن لوگوں کو پرتشدد کاروائیوں پر اکساتی ہے۔ جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔اس حالت میں اگر جانبدارسرکاری ٹی وی دیکھا جائے توجھوٹ کو سچ دکھانے کے باعث ڈیپریشن وبلڈ پریشرمیں اضافہ ہو کر مزید جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔اس امر کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل ‘مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحیح معلومات تک عدم رسائی سے سینہ گزٹ اور افواہ ساز فیکٹریاں وجود میں آتی ہیں ۔جو حکومت کےلئے انتہائی نقصان دہ اور پاکستانی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ۔ لہذا اس فرسٹریشن اور دیگر نفسیاتی امراض اور پر تشدد کاروائیوں سے بچنے کےلئے حکومت اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق دونوں آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے تا کہ عوام ان پرامن ذرائع ابلاغ سے اختلاف رائے کا اظہارکر سکیں۔اور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پا سکے۔(یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جدید مغربی تحقیق کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والے ہی ریاست کے اصل وفادار ہوتے ہیں جبکہ خوشامدی اورچاپلوسی کرنے والے کئی ذہنی بیمار لوگ حکومتوں اور معاشروں کو لے ڈوبتے ہیں۔)

 
 http://www.express.com.pk

November 3, 2007

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ملک میں ٹی وی چینلوں کی نشریات بند ہیں اور حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور اس ضمن میں اسلام آباد میں پنجاب سے اضافی فورس طلب کرلی گئی ہے۔ ملک میں موبائل نیٹ ورک بھی جیم کر دیے گئے ہیں۔ شاہراہ دستور پر رینجر تعینات ہیں اور سپریم کورٹ جانے والے تمام راستے بھی بند ہیں۔

حکومتی ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہیں اور ان افواہوں میں تیزی آج اس وقت نظر آئی جب ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں حکومت کے قانونی مشیروں نے بھی شرکت کی اور اطلاعات کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کو خلاف آئین قرار دیے جانے کی صورت میں متبادل انتظامات کے بارے میں مشاورت کی گئی۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ملک بھر میں نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کردی گئی تھیں۔

اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو ڈپلومیٹک انکلیو کے باہر واقع سفارت خانوں پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ عوامی مقامات پر بھی پولیس اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں تعینات کیا گیا ہے۔

 
یا اللہ پاکستان پر رحم فرما۔آمین 

October 7, 2007

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا شمار ملکی تاریخ کے مہنگے ترین صدارتی انتخابات میں ہوگا۔
جہاں پچھلے دو ہفتے جنرل مشرف کے سیاسی مشیروں کی پس پردہ سرتوڑ کوششوں نے چھ اکتوبر کے انتخاب میں ان کی کامیابی کوتقریباً یقینی بنا لیا ہے وہاں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایک دھواں دار تشہیری مہم جاری ہے جو صدر مشرف کے مبینہ کارناموں کا پرچار کر رہی ہے۔

کہنے کو تو پاکستان کے چار صوبے ہیں لیکن صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بنیادی طور پر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں چلا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس مہم کو خوشحال پاکستان کا نام دیا گیا ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے یہ مہم خوشحال پنجاب کے نام سے چل رہی ہے۔

یہ دونوں تحریکیں ملکی اخبارات کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیلی وژن چینلز پر بھی چل رہی ہیں۔

حکومت پاکستان کی اشتہاری مہم کو سات موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف دورانیے کی اشتہاری فلمیں ہیں جن میں بنیادی سہولیات (تئیس سیکنڈ) ، پانی کی فراہمی (انیس سیکنڈ)، بجلی کی فراہمی (بائیس سیکنڈ)، سوئی گیس (پچیس سیکنڈ)، سڑکیں (پچیس سیکنڈ)، صحت (ستائیس سیکنڈ)، اور اسی طرح کے دیگر موضوعات شامل ہیں۔ ان سات مختلف اشتہاری فلموں کا کل دورانیہ لگ بھگ تین منٹ بنتا ہے۔
   

اس وقت ملک بھر میں تیس سے زائد نجی ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کم سے کم آدھے چینلز باقاعدہ یہ مہم نشر کر رہے ہیں۔

نجی چینلز کے اشتہاری شعبوں سے بات چیت کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے اس کے مطابق اس مہم کے لیے اوسط ریٹ تقریباً ایک لاکھ روپے فی منٹ طے کیا گیا ہے۔ پندرہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نجی چینلز زیادہ سے زیادہ رعایت تیس فیصد دیتے ہیں۔ اس حساب سے اگر جنرل سیلز ٹیکس نہ شامل کیا جائے تو اس اشتہاری مہم کا اوسط ریٹ تقریباً ستر ہزار روپے فی منٹ بنتا ہے۔

نجی چینلز کے افسران کے مطابق حکومت پاکستان نے اپنی اشتہاری مہم کا آغاز اٹھارہ ستمبر سے کیا ہے۔

ہر نجی چینل پر یہ اشتہاری مہم کم سے کم دن میں دو مرتبہ چلتی ہے یعنی وفاق اور پنجاب کی حکومتیں کم سے کم پندرہ ٹیلیوژن چینلز پر روزانہ کم از کم چھ منٹ کے وقت کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔

باقی حساب سیدھا سادہ ہے۔ پندرہ چینلز، چھ منٹ روزانہ، پندرہ دن اور ستر ہزار روپے فی منٹ کے حساب سے کل خرچہ ساڑھے نو کروڑ۔ واضح رہے کہ یہ ایک انتہائی محتات اندازہ ہے۔
 
اخبارات میں اگرچہ اردو روزناموں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن قومی روزناموں کی تعداد آٹھ کے قریب ہے۔ اسی طرح ملک میں پانچ بڑے انگریزی روزنامے ہیں۔

بڑے بڑے اردو اخبارات سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق صفحہ اول پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ روپے بنتی ہے اور یہ خصوصی اشتہاری نرخ صرف حکومت کو دیے جاتے ہیں۔ ان اخبارات میں پچھلے پندرہ دنوں سے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم جاری ہے۔

حساب ایک بار پھر سیدھا ہے دس اشتہار، پانچ لاکھ روپے فی اشتہار اور آٹھ قومی روزنامے، کل لاگت چھ کروڑ روپے۔

انگریزی کے قومی روزناموں میں صفحہ اوّل پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کے حکومتی نرخ تقریباً پونے تین لاکھ روپے بنتی ہے۔ انگریزی روزناموں میں بھی اگر روزانہ ایک اشتہار کی اوسط لیں تو حساب کچھ اس طرح بنتا ہے۔ پانچ اشتہارات، پونے تین لاکھ روپے اور پانچ قومی روزنامے۔ کل خرچہ تقریبا دو کروڑ روپے۔
   
اس نہایت ہی محتاط اندازے کے مطابق اٹھارہ ستمبر سے پانچ اکتوبر تک پندرہ دنوں میں حکومت پاکستان ساڑھے سترہ کروڑ روپے کے اشتہارات چلا چکی ہے۔

یہ تخمینہ پوری تصویر بالکل نہیں ہے بلکہ شاید اس کا ایک معمولی حصہ ہو۔ بڑے مقامی چینلز اور اخبارات کے علاوہ ملک بھر کے ہر طرح کے چھوٹے بڑے اخبارات، رسائل اور ٹیلیوژن چینلز کے علاوہ درجنوں ایف ایم ریڈیو سٹیشنز پر بھی یہ اشتہاری مہم پورے زورو شور سے جاری ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ محلے کی سطح پر کام کرنے والے کیبل آپریٹر کو بھی اس اشتہاری مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ کیبل آپریٹر غیر قانونی طور پر نئی ہندوستانی فلمیں نشر کرتے ہیں اور انہیں فلموں کے بیچ صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بھی چل رہی ہے۔

شاید اسی لیے اشتہاری دنیا میں کہا جا رہا ہے کہ اس اشتہاری مہم کا کل حجم اربوں روپے کا ہے۔ اور یہ سارا خرچہ حکمران مسلم لیگ کے بجٹ سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ہو رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں صدارتی انتخابی مہم پر اتنا پیسہ خرچہ گیا ہو۔

 
ماخذ

October 3, 2007

لال مسجد۔۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ کا ایک اور مستحسن اقدام

 
 
سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقعہ لال مسجد تین ماہ کی بندش کے بعد بدھ کے روز باضابطہ طور پر نمازیوں کے لیے کھول دی گئی۔

لال مسجد جولائی میں فوجی کارروائی کے بعد سے مسلسل بند تھی۔ فوجی کارروائی میں مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سمیت ہزاروں طلبہ و طالبات شہید ہو گئے تھے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے جب مسجد کو تعمیرو مرمت کے بعد جولائی کے آخری ہفتے میں دوبارہ کھولا تو جامعہ فریدیہ کے طلباء نے مسجد کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد مسجد کو دوبارہ سیل کر کے پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔

تاہم منگل کو سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ لال مسجد کو بدھ سےدوبارہ کھول دیا جائے۔

عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی حکم دیا تھا کہ ایک سال کی مدت میں منہدم کیے گئے جامعہ حفصہ کی جگہ ایک مدرسہ تعمیر کیا جائے۔ عدالت نے جامعہ فریدیہ کے مہتمم مولانا عبدالغفار کو عارضی طور پر لال مسجد کا خطیب مقرر کیا تھا جبکہ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے عامر صدیق کو نائب خطیب مقرر کیا گیا ہے۔

 
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس واقعے میں قتل اور اغوا کے مقدمات کے اندارج سے شہداء کے لواحقین کو انصاف کی امید بندھی ہے ۔
شکریہ سپریم کورٹ