اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 17, 2008

شب برأت کے فضائل و وظائف

اُم المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  "میں نے ایک رات رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کو موجود نہ پایا تو میں باہر نکلی تو آپ بقیع (جنت البقیع قبرستان )میں تھے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی (یعنی اس کی خصوصی رحمتیں)شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت )کو آسمان دنیا (نیچے والے آسمان) پر نازل ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالی "بنوکلب قبیلہ" کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرمادیتے ہیں۔"
لیکن شب برات کن کچھ بد نصیبوں کی توبہ کے بغیر مغفرت نہیں ہوتی۔ "مسند البزار" میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور "سنن ابن ماجہ" میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات تجلی فرماتا ہے اور تمام مخلوقات کو بخش دیتا ہے، ما سوائے مشرک اور مشاحن کے (مشاحن سے مراد کینہ رکھنے والا، اسلام میں نیا فرقہ بنانے والا، چغل خور ہے)۔
دیگر روایات میں کافر و مشرک و مشاحن کے علاوہ والدین کانافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بد سلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (جو محکمہ ٹیکس میں ہو اور لوگوں پر ظلم کرتا ہو )، میوزک ، سارنگی ، طبلہ اور ڈھول بجانے والا( یعنی گانے بجانے والا)، ہمسائے کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر، اور شرطہ (یعنی رشوت خور وظالم سپاہی) کا بھی ذکر آیا ہے۔ اور فرمان نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے کہ ان بخشش سے محروم لوگوں پر اللہ شعبان کی پندرہویں رات کو نظر بھی نہیں فرماتا (جب تک کہ سچی توبہ نہ کریں)۔
15شعبان کا نام شب برأت کیوں ہے؟ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "غنیۃ الطالبین" میں اور دیگرمفسرین واَئمہ دین نے احادیث مبارکہ کے مضامین ومفاہیم کی روشنی میں پندرہویں شعبان کی رات کا نام "شب برات" اس لئے رکھا ہے کہ برات کا معنیٰ ہے: دور ہونا،جداہونا، نجات پانا وغیرہ۔ اور اس رات اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آخرت کی رسوائی و ذلت سے دور کر دیئے جاتے ہیںاور بد بخت لوگ (یعنی جو اس رات کو اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ومغفرتوں سے دور رکھے جاتے ہیں۔
اس رات کو سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:  "اس رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتاہے۔"
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں رات سے مراد شب برأت ہے۔" اُم المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو کیا ہوتاہے؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول اس میں کیا ہوتا ہے؟  فرمایا:  اس سال جس بچے نے پیدا ہونا ہے اس رات وہ لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جس نے وفات پانی ہے اس رات اسے لکھا جاتا ہے، اور اس رات(سال بھر کے ) اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اور (سال بھر کا)رزق نازل کیا جاتا ہے۔"
ایک روایت میںاُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: "چار راتو ں میں اللہ تعالیٰ خیروبرکت کی بارش فرماتے ہیں:  عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، پندرہویں شعبان کی رات اس رات اللہ تعالیٰ کاموں (اور بالخصو ص موت)کے اوقات اور رزق لکھ دیتا ہے اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھ دیتا ہے، اور عرفہ یعنی یوم الحج کی رات۔ ان راتوں میں خیر وبرکت کی برسات اذان فجر تک جاری رہتی ہے۔"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں اُ ن کی روحیں قبض کرو!  بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے ، شا دیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (اور اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔
احادیث بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ شب برات رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے، کچھ بد نصیب ایسے ہیں جن کی مغفرت اس بخشش بھری رات میں بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو سال بھر کے اہم امور کا پروگرام دے دیتے ہیں۔ چونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اپنی قضاوں میںتبدیلی بھی فرما دیتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اس رات اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی خیرات و برکات کا سوال کرے اور رب غفور و رحیم کی بارگاہ میں دنیا و آخرت کے مصائب و آلام سے نجات کا سوال کرے۔
شب برأت کے معمولات: ویسے تو تمام عبادات اور تمام کلمات طیبات برکت و رحمت اور ثواب کا ذریعہ ہیں، لیکن اس مبارک رات میں درج ذیل معمولات نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام اور بزرگان سے ثابت ہیں: 15شعبان کا روزہ۔ اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: "جب شعبان کی پندرہویں تاریخ آئے تو رات کو شب بیداری اختیار کرو اور دن کو روزہ رکھو بیشک اللہ تعالیٰ یعنی اس کی رحمت غروب آفتاب کے وقت نیچے والے آسمان پر نزول فرماتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش مانگنے  والا کہ اسے بخشش دوں؟  ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟  ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں؟  ہے کوئی ایسا؟  ہے کو ئی ایسا؟  حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔"
نوٹ:  فقہاء اسلام کا اجماع ہے کہ حدیث بالا میں روزہ اور شب بیداری کا امر نبوی و جوب کیلئے نہیں ہے، بلکہ پندرہویں شعبان کا روزہ اور شب بیداری مستحب کے درجہ میں ہے۔
اس رات قبرستان جانا سنت نبوی ہے۔ جیسا کہ حدیث ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہامیں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ لہٰذا شب برات کو قبرستان میں جانا بھی سنت نبویﷺ ہے۔ نیز دیگر احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہر سال شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے، اہل قبور کو سلام فرماتے اور دعا فرماتے۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل قبور کو سلام کہو۔ بلکہ سنن بیہقی شریف میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: "جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت تک اس کا جواب دیں گے، اے مسلمانو!  تم انہیں سلام کہو اور انکی زیارت کرو۔"
ایک اور حدیث پاک میںہے کہ نبی اکر م(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو!  کیونکہ یہ عمل دنیا میں زُہد پیدا کرتا ہے، اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔"
شب برأت کا ایک اور عمل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)نے پندرہویں شعبان کو دو رکعت نفل پڑھے، دو سری رکعت میں آپ نے لمبا سجدہ کیا جو کہ فجر تک جاری رہا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)کہیں حالت سجدہ میں وصال تو نہیں فرما گئے، میں نے آپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تو حرکت فرمائی اور میں نے آپ سے حالت سجدہ میں یہ کلمات سنے: "اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَ عُوْ ذُبِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَاوُکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا َاثْنَیْتَ عَلٰی َنفْسِکَ۔ "
نماز سے فارغ ہو کر حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے فرمایا:  ان کلمات کو یاد کرلو اور دوسروں کو انکی تعلیم دو۔
نوافل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): "سنن بیہقی شریف" میں حضر ت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اس رات کو 14 رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ 14بار، قل شریف 14بار، سورہ فلق 14 بار، سورہ الناس 14 بار، آیت الکرسی 1بار اور آیت مبارکہ "لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَُسْولٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِےْزٌ عَلَےْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِےْصٌ عَلَےْکُمْ بِالْمُؤْمِنِےْنَ رَؤُفُ الرَّحِےْم۔" 1بار پڑھی اور فرمایا:  جو اس طرح کرے گا، اسے 20 حج مبرور ، 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ملے گا۔ اور جو آئند ہ دن روزہ رکھے گا اسے 120 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
صلوٰۃ الخیر: "غنیۃ الطالبین" میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شب برات کو "صلوٰۃ الخیر" ایک سو رکعت نوافل اور ہر رکعت میں دس بار قل شریف پڑھنا ہے۔ اور حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: "مجھے تیس صحابہ کرام نے بتایا کہ جو شخص اس رات کو "صلوٰۃ الخیر" پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ستر بار نظر کرم فرمائے گا، اور ایک بار نظر کرم سے اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا، جن میں کم از کم ایک حاجت گناہوں کی بخشش ہے۔"
استاد ذی مکرم مفتی اعظم سید ابو البرکات لاہوری اپنے ایک رسالہ میں جو کہ شب برأت کے موضوع پر لکھا ہوا ہے، میں درج ذیل وظائف تجویز فرمائے ہیں: 1۔  صلوٰۃ الخیر، جس کا طریقہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔  دس رکعت نفل ہر رکعت میں دو بار قل شریف ہو۔ 3۔  نماز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھنا، جبکہ ہر رکعت میں چھ بار قل شریف ہو ، پھر پہلی دو رکعت کے بعد ایک بار سورہ یس، اور اسکے بعد عمر میں برکت کی دعا، پھر دوسری دو رکعت کے بعد دوبارہ سورہ یس اور پھر رزق کی فراخی کیلئے دعا، اور آخری دو رکعتوں کے بعد پھر سورہ یس اور پھر خاتمہ بالایمان کی دعا مانگے۔
آخر میں یہ کلمات : " اَلّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔"کثرت کے ساتھ پڑھے۔
گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کا تدارک: احادیث بالا کے مطابق شب برأت کو سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا شب برات کو مغرب سے پہلے پہلے والدین، بھائیو ں ، بہنوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دیگر لوگو ں سے اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے، اور اگر کسی کا کو ئی حق ذمہ میں ہو تو اسکی ادائیگی کر دینی چاہیے یا پھر صاحب حق سے معافی مانگ لینی چاہیے، تاکہ اعمال جب اللہ کی بار گا ہ میں پیش ہو ں تو بندوں کیساتھ زیادتیوں کے گناہ دھل چکے ہوں۔
ارکانِ توبہ: اس طرح اس شب میں رب غفور الرحیم سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کیلئے چار چیزیں ضروری ہیں:
1۔  رب کریم کی بار گاہ میں گنا ہو ں کا اعتراف۔
2۔  گذشتہ گناہوں پر سخت ندامت اور آہ وزاری۔
3۔  آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ اور سچا وعدہ۔
4۔  گناہ کی تلافی۔ مثلا نمازیں نہیں پڑھیں تو حساب یا اندازے سے بالغ ہونے کے بعد کی تمام فر ض اور واجب نمازیں قضا کرے، اسی طرح رمضان کے روزوں کی قضاکرے، اسی طرح جتنے بر س کی زکوۃ ادا نہیں کی حساب یا اندازے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حد یث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے: " جو شخص (شرع شریف کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق)توبہ کرنے والا ہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا" لہٰذا شب برأت کے موقع تمام گناہوں کی معا فی مانگنی چاہئے اور فوت شدہ عبادات کی قضا کا پختہ ارادہ کر لینا چاہیے۔
ایک خاص وظیفہ: یہ رات حکم و قضا کی رات ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کو سال بھر کا پروگرام دے دیتے ہیں، اس میں موت و حیا ت، اعمال نیک و بد، ہر قسم کے رز ق اور انعامات، مصائب و آلام اور بیماریوں کا پروگرام بھی دیا جاتا ہے، لہذا اس شب کو اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے خیر و برکت کی دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔
مرشدی و استاد ذی والد صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز جو کہ "دربار عالیہ بغداد شریف" اور "دربار عالیہ بٹالہ شریف" کے خلیفہ مجاز ہیں، آپ اس رات کو نماز مغرب و عشاء کے درمیان درج ذیل و ظیفہ پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ اور مریدین و تلا مذہ کو بھی اس وظیفہ کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے: اس وظیفہ سے عمرو رزق میں برکت ہوجاتی ہے اور مصائب ومشکلات سے نجات ہوتی ہے۔
شب برأت کو غیر شرعی رسوم کا رواج
راقم الحروف کے نزدیک درج ذیل وجوہات کی بنا ء پر آتش بازی حرام ہے اور جو والدین اور ذمہ دار حضرات آتش بازی سے نہیں روکتے وہ سخت گناہگار ہیں:
*آتش بازی کھلا اسراف و فضول خرچی ہے، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ترجمہ: "بیشک بغیر کسی غرض کے پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
*اس شب کو خصوصی طور پر آتش بازی حرام ہے کہ لیلہ مبارکہ اور ملائکہ کی بے ادبی ہے۔
* آتش بازی سے عبادت گزاروں کی عباد ت، علماء وطلبہ کی تعلیم وتعلم،اور بیماروں، بوڑھوں اور تھکے ماندے لوگوں کے آرام و نیند میں خلل ڈالنا ہے، جو کہ ظلم و زیادتی ہے اور عبادات کی سخت تو ہین اور علم کا نقصان ہے۔
*آتش بازی سے بسااوقات دکانوں، گھروں اور قیمتی اشیاء کو آگ لگ جاتی ہے، اور ہر سال درجنوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا آتش بازی سخت "فساد فی الارض" ہے۔
* نیز آتش بازی کے بہانے بچے شب بھر گھروںسے باہر رہتے ہیں، غلط ماحول اور غلط سو سائٹی کی وجہ سے جرائم اور کبیر ہ گناہو ں کی عادت پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا آتش بازی سخت خطرناک و حرام ہے۔
الغرض حکومت پر لازم ہے کہ اس انتہائی خطرناک رسم کا سختی کے ساتھ انسداد کرے۔ اور اساتذہ، علماء ، والدین، اور ہر علاقہ کے معززین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے تحت ان برائیوںسے روکنے کیلئے تمام مناسب تدابیر اختیار کریں، اور شب برأت کی مبارک گھڑیوں کو غیر شرعی رسوم سے پاک کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔

August 12, 2008

المعروف کاکو شاہ اور امریکی جمہوری اسلام

 
بسم اللہ الرحمان الرحیم
 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔ وبعد!۔

المیہ یہ نہیں کہ لوگ دین کا فہم نہیں رکھتے بلکہ یہ ہے کہ بعض قوتیں دین کا نام لے کر دین پر حملہ آور ہیں دینی اصلاحات کی آڑ لے کر دین کی روح کو کچلنے کے درپے ہیں ان کے عزائم مخفی ہیں نہ ہتھکنڈے نئے بلکہ سب کچھ واضع اور صاف نظر آنے کے باوجود تحفظ دین کے ذمداران اچکوں کی وارداتوں پر مہر بلب ہیں، بلکہ اٹھائی گیروں کی حرکتوں کو دیکھنے اور جانتے ہوئے چپ ہیں کہ انتہا پسندی کا الزام نہ لگ جائے، ہماری رواداری پر دھبہ نہ لگ جائے دین چاہئے بدنام ہو اس کا چاہئے کوئی حلیہ بگاڑ دے بس ہم پر الزام نہ آئے ہمیں کانٹا نہ چھبے ہمیں برا نہ کیا جائے۔۔۔

اس احتیاط پسندی کا نتیجہ ہے کہ آج کاکوشاہ جیسے لوگ شارح دین ہونے کے دعویدار ہیں دین کی روح سے ناواقف لوگ اجتہاد کی کبڈی میں مصروف ہیں اور حالت یہ ہے کہ کشمالہ طارق کہتی ہیں (میں اجتہاد کروں گی) اجتہاد کیا ہے؟؟؟۔۔۔ اس کی شرائط کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اور حدود و قبود کے ضمن میں کیا دیکھنا پڑتا ہے یہ ایک خالصتا علمی موضوع ہے جس کا کالم سردست متحمل نہیں ہوسکتا البتہ یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ حکومت پاکستان کا مجتہد کون ہے؟؟؟۔۔۔ جو دین میں سے روشن خیالی کا ایڈیشن نکالنے میں ہے اور حکومت کے فیضی کا کردار ادا کرتے ہوئے دین اکبری سے بھی آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔

اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار اور دینی روایات کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ چودہ سوبرس میں دین کی کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے اعمال و فیصلوں سے لے کر آئمہ احادیث تک سے اختلاف کرتے ہیں اور جہاں دال نہ گلے قرآن کو چھوڑ کر تورات اور انجیل تک سے اپنے مقصد کے احکامات نکال لینے میں ثانی نہیں رکھتے۔ خود کو علامہ کہلواتے ہیں لیکن مبلغ علمی اتنا ہے کہ بی اے کرنے کے بعد علم کا دورہ پڑا اور پھر ازخود مطالعہ کرتے کرتے مجتہدین بن بیٹھے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر چند برس بعد ان کے نظریات میں جوہری تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ان کے ساتھی انہیں چھوڑ جاتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات بلکہ ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر اگلی منزلوں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں۔۔۔

حددو اللہ کے خلاف سازش کی قیادت کے علاوہ موصوف پورے اسلامی معاشرے کو روشن خیال بنانے کی فکر رکھنتے ہیں اسی باعث ان کے نزدیک، گانا بجانا، رقص و سردوست جائز ہے پردہ جہالت کی نشانی ہے اگر مغرب پسند نہیں کرتا تو ہمیں پردہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ ستر عورت کے حوالے سے ان کے خیالات میں تغیروتبدل آتا رہتا ہے بعض اوقات جذباتی ہو کر یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ فقہ حنفی میں مرد و عورت کا ستر برابر ہے سوال کریں کہ یہ حنفی کی کونسی کتاب میں ہے تو جواب دل و دماغ کو باغ باغ کردیتا ہے فرماتے ہیں کہ اب کسی کتاب میں مرقوم نہیں، امام یوسف نے بعد میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بدل دی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جب اس بات کا کہیں تذکرہ ہی نہیں ہو و (جناب) کو کہاں سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ رحمہ پر الزام دھرنے اُٹھ کھڑے ہوئے سیدھے سیدھے اپنے دل کی کیوں نہیں کہتے؟؟؟۔۔۔ صرف ستر عورت پر ہی کیا موقوف جناب کے اکثر نظریات کا یہی عالم ہے۔۔۔

ان کے جاننے والے ایک ساتھی کا موقف ہے کہ جسے اسلام پر کوئی شک و شبہ ہو جاوید غامدی سے مل لے اور کچھ نہ ہوا تو مشکوک ضرور ہو جائے گا۔۔۔

موصوف کا تازہ ترین فرمان ہے کہ قرآن کے تمام تر احکامات عملدرآمد کی خاطر نہیں۔ اکثر کا تعلق ریاست مدینہ کے دور سے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت کو آپ نہیں مانتے بلکہ آپ کے نزدیک سنت صرف وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تواتر سے ثابت ہو یعنی سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم قابل اعتناء نہیں۔ قرآن پورے کا پورا قابل نفاذ نہیں حدیث کی ثقاہت پر آپ کو اعتراض ہے تو دین کہاں گیا؟؟؟۔۔۔ یہ دین تا قیامت رہنمائی کیسے کرے گا؟؟؟۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چودہ سو برس بعد آپ پر یہ انکشاف کیسے ہوگیا کہ قرآن کے تمام احکامات قابل عمل نہیں اور پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا حکم آج کے لئے ہے کون سا متروک ہوچکا ہے موجودہ حکومت کے شارح دین کو جہاد سے بھی خاصی چڑ ہے ان کا نقطہ نظر ہے کہ طاقتور کو حق حاصل ہے کہ وہ کمزور کو دبالے لہذا افغانستان اور عراق پر امریکہ کا قبضہ جائز اور انکی مزاحمت ناجائز ہے۔۔۔

جناب فیضی جدید کے یہ نظریات وہ ہیں جو ان کے بیانات، مباحث میں عام دستیاب ہیں ورنہ فکری غامدی اور دین اسلام میں اتفاق کم اور بعد المشرقین زیادہ ہے دین اسلام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور چودہ سو برس سے نافذ اور رائج ہے اس کے مقابلہ میں فکری غامدی سراپا روشن خیالی اور امریکہ کے فرمودات کے عین مطابق ہے موجودہ حکومت کے اس فیضی کی حیثیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف احباب اور نظریات ہی نہیں بدلتے بلکہ نمایاں ہونے کے شوق میں نت نئے نام بھی اختیار کرتے رہتے ہیں۔۔۔

ماضی میں ان کے رفیق خاص رفیق چودہدری نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ علامہ جاوید غامدی کا ابتدائی نام کاکوشاہ تھا بی اے کیا تو محمد شفیق بن چکے تھے بعد ازاں ماڈل ٹاؤن میں سرکار سے پلاٹ الاٹ ہوگیا جہاں دائرۃ فکر کے نام سے ادارہ بنایا اور تحریک اسلامی کے نام سے جماعت بنا کر مولانا مودودی پر تنقید سے کار جہاں کا آغاز کیا جلدہی انہیں محسوس ہوا کہ محمد شفیق تو عام سا نام ہے اس سے علمیت کی گہری چھاپ کا اظہار نہیں ہوتا لہذا جاوید احمد کا لبادہ اوڑھ لیا اور ساتھ ہی جماعت اسلامی کی کی مخالفت چھوڑ کر مولانا مودودی کے سایہ عاطفت میں جاپناہ گزیں ہوئے جہاں انہیں پذیرائی ملی مولانا نے دارالعروبہ سے خالی ہونے والی کوٹھی چار ذیلدار پارک ان کے تصرف میں دے دی اور ساتھ ہی ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا انہیں دنوں انہیں عربی سیکھنے کا شوق ہوا اور یہ شوق انہیں فرقہ معتزلہ کے لٹریچر کے قریب لے گیا۔ جہاں ان کی خواہشات کی تکمیل یوں ہوئی کہ چونکہ اس دور میں معتزلہ کے عقائد سے لوگ آگاہ نہیں لہذا (جاوید غامدی) نے اپنی انفرادیت کا سکہ جمانے کی خاطر (کتاب المفصل) اور (الکشاف) نامی معروف معتزلہ تصنیفات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اس دور کسی مرحلہ پر انہیں جاوید احمد نام بھی عام سالگنے لگا تو غامدی کا لاحقہ لگا کر نام کی حد تک خود کو امام قرار دے دیا اور اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی سے بھی رخصت سفر باندھا کہ نظم کی پابندی اور مولانا مودودی جیسے شخص کی موجودگی میں فقیہہ دوراں بننے کا امکان کم تھا۔۔۔

نام کے ساتھ اپنے ادارہ کے نام میں بھی انہیں ہمشہ کسی مخصوص احساس کا سامنا رہا پہلے جسے دائرۃ الفکر کہا تھا وہ کئی رنگ اختیار کرتے کرتے آج کل المورد کے نام سے موجود ہے اس بحث میں نہیں پڑھنا چاہئے بار بار نام بدلنے والے شخص کو ماہرین نفسیات کس نام سے پکارتے ہیں اور اس کیفیت کا کوئی مکمل علاج ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔ اس سلسلہ میں غامدی جانیں ان کے ورثاء جانیں یا وہ جانیں جن کے وہ امام اور مجتہد ہیں ہمیں اس بات سے غرض ہے کہ حدود اللہ کے خلاف جس شخص کو استعمال کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلامی شعائر کے خلاف جسے استعمال ہونا ہے اس کا ماضی کیا ہے اور اس کی شخصیت استعمال کرنے والوں کیلئے کس قدر موزوں ہے۔۔۔۔

ذکر ہو رہا تھا کاکوشاہ المعرف علامہ جاوید احمد غامدی کا کہ کس طرح سے نمایاں ہونے اور (امام وقت) بننے کے شوق میں وہ اپنے نام تک کو بدلنے اور بدلتے رہنے کی حد تک چلے گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معتزلہ کی تعلیمات سے متاثر حدیث اور سنت سے غیر مطمئن، انفرادیت بلکہ خبط عظمت کے مریض اس شخص کا وائٹ ہاؤس کے منبع روشن خیالی سے کنکشن کیسے ہوا؟؟؟۔۔۔ اور یہ سانحہ کس طرح رونما ہوا کہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر کی چار دیواری میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر خود کو دارقد قرار دینے والے اچانک ملک بھر کے ٹی وی چینلز اور حکومت کے لئے محبوب تریں قرار پائے۔۔۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ 2004ء میں امریکہ محکمہ دفاع سے ایسوسی ایٹ ایک مشاورتی فرم (رینڈ) جسے اردو میں رانڈ بھی پڑھ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا اس ادارہ کے نیشنل سیکورٹی ڈویژن نے امریکی حکومت کے لئے ایک 80 صفحات پر مشتمل ماورتی رپورٹ پیش کی جس کا عنوان (مہذب جمہوری اسلام) رکھا۔۔۔

رپورٹ کے مصنف اور رینڈ کے عہدیدار شیرل بنیار نے اپنی رپورٹ کا ایک خلاصہ بھی تحریر کیا مکمل رپورٹ اور اس کا خلاصہ نیٹ پر جاری کر دیئے گئے۔ عالم اسلام کے ارباب دانش نے اس کا شدت سے نوٹس لیا کیونکہ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ مسلمان اس وقت سوچ و فکر کے چاروں دھاروں میں منقسم ہیں ان میں سے ایک جسے بنیاد پرست کہا جائے وہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ گروہ مغربی کلچر کو تو مسترد کرتا ہے لیکن جدید دور کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو خالص انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کی راہ روکنے کی خاطر روایت پسند طبقے کو استعمال کرنا چاہئیے جو جدید دور کی ضروریات سے عاری ہے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس گروہ کو اسلام اور بنیاد پرستوں کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئیے لیکن اسے مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔۔۔

رینڈ کے مطابق سیکولر طبقہ مغربی انداز فکر اور طرز حیات کے سبب اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ چوتھے گروہ کی حمایت کرے جسے جدت پسند کہا جاتا ہے یہ لوگ اسلام کو جدید بنا کر اور اس میں اصلاحات کر کے موجودہ حالات کے مطابق بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ وہ اس طبقہ کی مالی، مادی، اخلاقی، سیاسی مدد کرے۔۔۔

١- ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کر کے انہیں ارزاں نرخوں پر عام کیا جائے۔۔۔
٢- انہیں عام آدمی اور نوجواں کیلئے لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔۔۔
٣- ان کی آراء اور مذہبی تشریحات پر مبنی سوالات اُٹھائیں اور اس بحث کو عوام میں عام کرنے کا ہر راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔
٤- ان کے توسط سے عام مسلمانوں کے سامنے مغربی کلچر کو متبادل کے طور پر پیش کیا جئے۔۔۔
٥- ان کے ذریعے قبل ازاسلام کی تاریخ۔۔۔غیر اسلامی تاریخ اور کلچر کی نہ صرف حوصلہ افرائی کی جائے بلکہ متعلقہ مسلمان ممالک کے نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں اسے داخل کیا جائے۔۔

یہ اور اسی طرح کے بیشمار سازشی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ جدت پسندوں کو تلاش کر کے اک نئی طرف کا مغرب کے لئے قابل قبول اسلام گھڑا جائے رینڈ کی اس رپورٹ پر ایک محفل میں بحث جاری تھی کہ ایک اخبار نویس نے ازرہ تفنن کہا (لوجی غامدی صاحب کی پانچوں گھی میں ہوگئیں) وہ اس معیار پر سو فیصد پورا اترتے ہیں اس پر شریک محفل ایک اعٰلی سرکاری افسر نے ترنت پوچھا یہ غامدی صاحب کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اصل جملہ یوں تھا (ہاو از شی) انداز ایسا تھا کہ وہ انہیں نام سے عرب خیال کر گئے اس پر اخبار نویس نے کاکوشاہ کا مکمل تعارف کروادیا۔ چند روز بعد ملکی سطح پر ایک حادثہ کے بعد سرکاری افسر پاکستان اسی اخبار نویس کے کٹیاتما غریب خانہ پر غامدی صاحب کا فون نمبر مانگنے آن پہنچے اخبار نویس جانتا تھا کہ جناب غامدی آمریت کے ناقد اور جہموریت کے دلدادہ ہیں ان کے ہتھے شاید نہ چڑھ سکیں کیونکہ ابھی یہ بھرم قائم تھا کہ وہ بکاؤ مال نہیں۔۔۔

مگر پھر ایسی ہوا چلی کہ صرف کاکوشاہ المعروف غامدی اکیلے اپنی پانچوں تانگے کی سواریوں سمیت حکومت کی آنکھ کا تارہ بن کر طلوع ہوئے ہر ٹیلویژن اسکرین انہی کے رُخ (روشن) سے (منور) نظر آنے لگی۔ اشفاق احمد فو ہوئے تو پی ٹی وی نے ان کی جگہ بھی جناب غامدی کو لا بٹھایا جو بڑے دھڑلے سے اسلام کے پردے میں فکر غامدی کی ترویج میں مصروف ہیں سرکاری غیر سرکاری الیکڑانک میڈیا میں ان کا ڈنکا بجتا ہے اور رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ جو آج بھی نیٹ پر دستیاب ہے اس کا ایک ایک حرف عملدرآمد کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔۔

قصرابیض کے روسیاہ دین حنیف کا جس طرح سے حلیہ بگاڑ کر اسے اپنے معاشرے کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ماڈل میں کاکوشاہ کا مرکز روشن خیالی اس کے عین مطابق تشریحات گھڑتا چلا جا رہا ہے امریکیوں کو پردے سے چڑ ہے۔۔۔۔ فکر غامدی پردہ غیر ضروری فعل ہے۔۔۔

وائٹ ہاؤس کو جہاد سے دشمنی ہے۔۔۔۔ فکر غامدی کے لئے ایسی ایسی ناممکن العمل شرائط لگا کر جہاد کی راہ روک رہا ہے کہ جس کا کسی کو ماضی میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔۔۔

صدر بش کو اسلام سے افغانستان اور عراق پر حملہ کی حمایت چاہئے۔۔۔۔فکر غامدی حدیث اور سنت کو غیر معتبر قرار دے کران کی راہ ہموار کر رہا ہے۔۔۔مغربی خبث باطن توہیں رسالت پر آمادہ ہے۔۔۔۔فکر غامدی توہیں رسالت کی سزا پر معترض ہے اور اہل مغرت کو اس کا حق دیتا ہے۔۔۔ امریکی بدمعاش مسلمان اور قرآن کا تعلق توڑنا اور تقدس ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔فکر غامدی قرآن کے احکامات کو دور حاضر کے لئے ناقابل عمل قرار دیتا ہے۔۔۔مغربی صلیبی قرآن کے مقابلے میں جعلی کتاب لاتے ہیں۔۔۔فکر غامدی اسے ان کا حق مانتا ہے۔۔۔ اور اب امریکی حکمران پاکستان میں حدود قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔۔۔فکر غامدی کا سرخیل اس مہم کا نگران قرار پاتا ہے۔۔۔۔وہ مسلمان کے نصاب تعلیم میں غیر اسلامی کلچر داخل کرنا چاہتے ہیں یہ اسکولوں میں اسلامیات پڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔۔۔۔

کیا اب بھی یہ مان لیا جائے کہ فکر غامدی اور امریکی استعمار کی خواہشات میں مشترکات محض (اتفاق) ہے کی اب بھی اس دور کے فیضی کو شک کا فائدہ دیا جائے گا؟؟؟۔۔۔۔۔

شواہد چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ کاکوشاہ المعروف جاوید غامدی کسی نئے دین اکبری کی نوک پلک سنوار رہا ہے اس کی تعلیمات اور حدود قوانین کے خلاف سازش دراصل حدود اللہ اور اسلام کے خلاف سازش ہے کیا اب بھی اس کا نوٹس نہیں لینا چاہئے؟؟؟۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین، مفتیان شرح متین وہ اس پر چپ کیوں ہیں؟؟؟۔۔۔ اپنا فرض ادا کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟۔۔۔۔

والسلام۔۔۔
بشکریہ: محمد نعیم

July 29, 2008

واقعہ معراج مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم)قرآن و حدیث کی روشنی میں۔۔۔

معراج رسول کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) تسخیر کائنات کی جانب ایک بلیغ اشارہ ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر واقعہ کی پوری عکاسی کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی(ص) سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
تاریخ عالم میں واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) انتہائی خصوصیت کا حامل ہے یہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جس پر ایمان اور عشق رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) سے سرشار مسلمان تو بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ اس عظیم المرتبت محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کی امت ہیں کہ جنہیں رب کائنات نے حالت شعور میں زمینوں اور آسمانوں کی سیر کرائی ۔ اس واقعہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے آج تک شش و پنج میں گرفتار ہوکر اس عظیم واقعہ کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ معجزات وہی ہوتے ہیں جو عقل سے بالاتر ہوں اور معجزات کو عقل سے پرکھنا ہی بے عقلی کی نشانی ہے۔
بقول شاعر مشرق
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
عشق والوں اور عقل والوں میں یہی فرق ہے جو انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے محبوب سردار الانبیاء خاتم المرسلین حضور رحمۃ اللعالمین کو تمام انبیاء سے ممتاز کرنے کیلئے جسمانی معراج شعور کی حالت میں کرایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) راتوں رات مکہ المکرمہ، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ کائنات کی سیر کی اور سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں اس سے آگے ایک قدم بھی بڑھا تو میرے پر جل جائیں گے۔ سدرۃالمنتہیٰ کے آگے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کا سفر مبارک آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔
اس مضمون میں قرآن و احادیث اور سائنس کے کلیات کی روشنی میں واقعہ معراج کو سمجھنے اور بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ معراج مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہر لحاظ سے ایک عظیم الشان واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو شعوری حالت میں سیر کرائی اور انہیں حیات بعد الموت کے واقعات بھی دکھائے۔ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اعلان نبوت کے بارہویں سال27 ویں شب رجب المرجب کو پیش آیا قرآن پاک میں واضح الفاظ میں واقعہ معراج اور اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
معراج کے واقعہ کے وقت حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کی عمر مبارک اکاون سال8ماہ اور بیس یوم تھی، یہ نبوت کا وہ زمانہ تھا جب حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمانوں پر کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی لیکن خداوند قدوس کا پیغام حق عام کر رہے تھے۔ اس زمانہ میں حضور نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج نصیب ہوئی اس وقت آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سو رہے تھے کہ رات کے پہلے پہر حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور رب العزت کی جانب سے سلام پیش کیا اور پھر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج پر چلنے کیلئے تیاری کی درخواست کی۔ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ پہلے مدینۃ  المنورہ سے مکۃ المکرمہ اور پھر بیت المقدس کا سفر کیا۔ مسجد اقصیٰ میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء  علیہم السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے ہمراہ ایک سواری (براق) لائے تھے، براق کا مطلب بجلی یعنی بجلی سے تیز رفتار، حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے پہلے مسجد الحرام طور سینا اور بیت اللہ سے ہوتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اور پھر براق پر سوار ہوکر کائنات کی سیر کو نکلے جسے معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کہا جاتا ہے۔ براق کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک قدم اٹھاتا تو حد نگاہ سے پرے تک یعنی کم و بیش500 سال کا سفر طے کرلیتا تھا۔
آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اور جبرائیل علیہ السلام پہلے آسمان پھر دوسرے اور اسی طرح ساتویں آسمان تک پہنچے، ہر آسمان پر انبیاء کرام اور پیغمبران خدا سے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ملاقات کرائی گئی۔ بعد ازاں سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے اجازت لی اور اس سے آگے آپ نے اکیلے معراج کا سفر طے کیا جس کے بارے میں صرف خداوند تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہاں خداوند کریم کا خصوصی قرب حاصل ہوا، یہیں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو امت کیلئے50 نمازوں کا تحفہ عطاء ہوا جو بعد میں روزانہ5 نمازوں میں تبدیل ہوئیں اور یہ نمازیں روزانہ مسلمانوں پر فرض کر دی گئیں۔ اس سفر میں محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) و محب میں جو رازو نیاز کی باتیں ہوئیں ان کا علم کسی بشر کو نہیں صرف خداوند کریم ہی جانتے ہیں۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کا ذکر ام ہانیؓ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو(نعوذ باللہ) حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا  اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپؓ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ یہ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کیلئے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبرؓ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں اور معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مقدس رات عبادت و ریاضت اور ذکر الٰہی میں گزارتے ہیں۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں۔
آج انسان تسخیر کائنات کی جانب جو قدم بڑھا رہا ہے تو حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کام کی ابتدا کرنے والے تھے اور انتہا کرنے والے بھی، اس طرح واقعہ معراج تسخیر کائنات کیلئے بنی نوع انسان کیلئے خوشخبری بھی ہے، معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی رات تمام نوع انسان کیلئے بلا لحاظ رنگ و نسل مذہب، ملک و وطن تکمیل انسانیت کی جانب رجوع کی رات ہے اور مسلمانوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ دنیا میں ایک ارب کی تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان کمزور، پسماندہ اور یہود و نصاریٰ کے نرغے میں ہیں اپنی مرکزیت کھوچکے ہیں اور روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جارہے ہیں، انہیں دنیا کی امامت کیلئے رب کائنات نے خلیفہ فی الارض، زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا تھا، ان کی اکثریت ذلت اور رسوائی میں بھٹک رہی ہے اور دنیا میں رہبری کا منصب ترک کرکے بے یارومددگار بھٹک رہے ہیں، اس کی بڑی وجہ قرآن سے دوری، خداوند تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم سے بھٹک کر مادی دولت کے پیچھے بھاگنا اور محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق و محبت میں والہانہ جوش ولولہ میں کمی ہے۔ آئیں آج عہد کریں کہ ہم ایک مرتبہ پھر دنیا میں مسلمانوں کی امامت قائم کریں گے۔ قرآن و حدیث کے قانون شریعت کی بالادستی کیلئے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا جذبہ لے کر کام کا آغاز کریں گے، توحید کا ڈنکہ بجانے اور حضور رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا پیغام مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پہنچانے کیلئے تن، من، دھن سے دن رات کام کریں گے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے شکنجے سے آزاد کراکے خانہ کعبہ کو ایک ارب مسلمانوں کا مرکز بنائیں گے۔ مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ اور خلیج سے یہودی و نصاریٰ کو بے دخل کرکے اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے اور مسلمانوں کی خلافت قائم کریں گے

September 15, 2007

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم خالد

افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے

 پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک ہو۔

   روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے’اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے ‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’ خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

August 28, 2007

شب برأت کے فضائل و وظائف

اُم المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  "میں نے ایک رات رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کو موجود نہ پایا تو میں باہر نکلی تو آپ بقیع (جنت البقیع قبرستان )میں تھے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی (یعنی اس کی خصوصی رحمتیں)شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت )کو آسمان دنیا (نیچے والے آسمان) پر نازل ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالی "بنوکلب قبیلہ" کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرمادیتے ہیں۔"
لیکن شب برات کن کچھ بد نصیبوں کی توبہ کے بغیر مغفرت نہیں ہوتی۔ "مسند البزار" میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور "سنن ابن ماجہ" میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات تجلی فرماتا ہے اور تمام مخلوقات کو بخش دیتا ہے، ما سوائے مشرک اور مشاحن کے (مشاحن سے مراد کینہ رکھنے والا، اسلام میں نیا فرقہ بنانے والا، چغل خور ہے)۔
دیگر روایات میں کافر و مشرک و مشاحن کے علاوہ والدین کانافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بد سلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (جو محکمہ ٹیکس میں ہو اور لوگوں پر ظلم کرتا ہو )، میوزک ، سارنگی ، طبلہ اور ڈھول بجانے والا( یعنی گانے بجانے والا)، ہمسائے کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر، اور شرطہ (یعنی رشوت خور وظالم سپاہی) کا بھی ذکر آیا ہے۔ اور فرمان نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے کہ ان بخشش سے محروم لوگوں پر اللہ شعبان کی پندرہویں رات کو نظر بھی نہیں فرماتا (جب تک کہ سچی توبہ نہ کریں)۔
15شعبان کا نام شب برأت کیوں ہے؟ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "غنیۃ الطالبین" میں اور دیگرمفسرین واَئمہ دین نے احادیث مبارکہ کے مضامین ومفاہیم کی روشنی میں پندرہویں شعبان کی رات کا نام "شب برات" اس لئے رکھا ہے کہ برات کا معنیٰ ہے: دور ہونا،جداہونا، نجات پانا وغیرہ۔ اور اس رات اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آخرت کی رسوائی و ذلت سے دور کر دیئے جاتے ہیںاور بد بخت لوگ (یعنی جو اس رات کو اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ومغفرتوں سے دور رکھے جاتے ہیں۔
اس رات کو سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:  "اس رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتاہے۔"
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں رات سے مراد شب برأت ہے۔" اُم المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو کیا ہوتاہے؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول اس میں کیا ہوتا ہے؟  فرمایا:  اس سال جس بچے نے پیدا ہونا ہے اس رات وہ لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جس نے وفات پانی ہے اس رات اسے لکھا جاتا ہے، اور اس رات(سال بھر کے ) اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اور (سال بھر کا)رزق نازل کیا جاتا ہے۔"
ایک روایت میںاُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: "چار راتو ں میں اللہ تعالیٰ خیروبرکت کی بارش فرماتے ہیں:  عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، پندرہویں شعبان کی رات اس رات اللہ تعالیٰ کاموں (اور بالخصو ص موت)کے اوقات اور رزق لکھ دیتا ہے اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھ دیتا ہے، اور عرفہ یعنی یوم الحج کی رات۔ ان راتوں میں خیر وبرکت کی برسات اذان فجر تک جاری رہتی ہے۔"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں اُ ن کی روحیں قبض کرو!  بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے ، شا دیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (اور اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔
احادیث بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ شب برات رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے، کچھ بد نصیب ایسے ہیں جن کی مغفرت اس بخشش بھری رات میں بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو سال بھر کے اہم امور کا پروگرام دے دیتے ہیں۔ چونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اپنی قضاوں میںتبدیلی بھی فرما دیتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اس رات اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی خیرات و برکات کا سوال کرے اور رب غفور و رحیم کی بارگاہ میں دنیا و آخرت کے مصائب و آلام سے نجات کا سوال کرے۔
شب برأت کے معمولات: ویسے تو تمام عبادات اور تمام کلمات طیبات برکت و رحمت اور ثواب کا ذریعہ ہیں، لیکن اس مبارک رات میں درج ذیل معمولات نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام اور بزرگان سے ثابت ہیں: 15شعبان کا روزہ۔ اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: "جب شعبان کی پندرہویں تاریخ آئے تو رات کو شب بیداری اختیار کرو اور دن کو روزہ رکھو بیشک اللہ تعالیٰ یعنی اس کی رحمت غروب آفتاب کے وقت نیچے والے آسمان پر نزول فرماتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش مانگنے  والا کہ اسے بخشش دوں؟  ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟  ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں؟  ہے کوئی ایسا؟  ہے کو ئی ایسا؟  حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔"
نوٹ:  فقہاء اسلام کا اجماع ہے کہ حدیث بالا میں روزہ اور شب بیداری کا امر نبوی و جوب کیلئے نہیں ہے، بلکہ پندرہویں شعبان کا روزہ اور شب بیداری مستحب کے درجہ میں ہے۔
اس رات قبرستان جانا سنت نبوی ہے۔ جیسا کہ حدیث ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہامیں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ لہٰذا شب برات کو قبرستان میں جانا بھی سنت نبویﷺ ہے۔ نیز دیگر احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہر سال شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے، اہل قبور کو سلام فرماتے اور دعا فرماتے۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل قبور کو سلام کہو۔ بلکہ سنن بیہقی شریف میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: "جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت تک اس کا جواب دیں گے، اے مسلمانو!  تم انہیں سلام کہو اور انکی زیارت کرو۔"
ایک اور حدیث پاک میںہے کہ نبی اکر م(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو!  کیونکہ یہ عمل دنیا میں زُہد پیدا کرتا ہے، اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔"
شب برأت کا ایک اور عمل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)نے پندرہویں شعبان کو دو رکعت نفل پڑھے، دو سری رکعت میں آپ نے لمبا سجدہ کیا جو کہ فجر تک جاری رہا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)کہیں حالت سجدہ میں وصال تو نہیں فرما گئے، میں نے آپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تو حرکت فرمائی اور میں نے آپ سے حالت سجدہ میں یہ کلمات سنے: "اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَ عُوْ ذُبِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَاوُکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا َاثْنَیْتَ عَلٰی َنفْسِکَ۔ "
نماز سے فارغ ہو کر حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے فرمایا:  ان کلمات کو یاد کرلو اور دوسروں کو انکی تعلیم دو۔
نوافل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): "سنن بیہقی شریف" میں حضر ت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اس رات کو 14 رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ 14بار، قل شریف 14بار، سورہ فلق 14 بار، سورہ الناس 14 بار، آیت الکرسی 1بار اور آیت مبارکہ "لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَُسْولٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِےْزٌ عَلَےْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِےْصٌ عَلَےْکُمْ بِالْمُؤْمِنِےْنَ رَؤُفُ الرَّحِےْم۔" 1بار پڑھی اور فرمایا:  جو اس طرح کرے گا، اسے 20 حج مبرور ، 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ملے گا۔ اور جو آئند ہ دن روزہ رکھے گا اسے 120 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
صلوٰۃ الخیر: "غنیۃ الطالبین" میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شب برات کو "صلوٰۃ الخیر" ایک سو رکعت نوافل اور ہر رکعت میں دس بار قل شریف پڑھنا ہے۔ اور حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: "مجھے تیس صحابہ کرام نے بتایا کہ جو شخص اس رات کو "صلوٰۃ الخیر" پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ستر بار نظر کرم فرمائے گا، اور ایک بار نظر کرم سے اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا، جن میں کم از کم ایک حاجت گناہوں کی بخشش ہے۔"
استاد ذی مکرم مفتی اعظم سید ابو البرکات لاہوری اپنے ایک رسالہ میں جو کہ شب برأت کے موضوع پر لکھا ہوا ہے، میں درج ذیل وظائف تجویز فرمائے ہیں: 1۔  صلوٰۃ الخیر، جس کا طریقہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔  دس رکعت نفل ہر رکعت میں دو بار قل شریف ہو۔ 3۔  نماز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھنا، جبکہ ہر رکعت میں چھ بار قل شریف ہو ، پھر پہلی دو رکعت کے بعد ایک بار سورہ یس، اور اسکے بعد عمر میں برکت کی دعا، پھر دوسری دو رکعت کے بعد دوبارہ سورہ یس اور پھر رزق کی فراخی کیلئے دعا، اور آخری دو رکعتوں کے بعد پھر سورہ یس اور پھر خاتمہ بالایمان کی دعا مانگے۔
آخر میں یہ کلمات : " اَلّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔"کثرت کے ساتھ پڑھے۔
گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کا تدارک: احادیث بالا کے مطابق شب برأت کو سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا شب برات کو مغرب سے پہلے پہلے والدین، بھائیو ں ، بہنوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دیگر لوگو ں سے اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے، اور اگر کسی کا کو ئی حق ذمہ میں ہو تو اسکی ادائیگی کر دینی چاہیے یا پھر صاحب حق سے معافی مانگ لینی چاہیے، تاکہ اعمال جب اللہ کی بار گا ہ میں پیش ہو ں تو بندوں کیساتھ زیادتیوں کے گناہ دھل چکے ہوں۔
ارکانِ توبہ: اس طرح اس شب میں رب غفور الرحیم سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کیلئے چار چیزیں ضروری ہیں:
1۔  رب کریم کی بار گاہ میں گنا ہو ں کا اعتراف۔
2۔  گذشتہ گناہوں پر سخت ندامت اور آہ وزاری۔
3۔  آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ اور سچا وعدہ۔
4۔  گناہ کی تلافی۔ مثلا نمازیں نہیں پڑھیں تو حساب یا اندازے سے بالغ ہونے کے بعد کی تمام فر ض اور واجب نمازیں قضا کرے، اسی طرح رمضان کے روزوں کی قضاکرے، اسی طرح جتنے بر س کی زکوۃ ادا نہیں کی حساب یا اندازے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حد یث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے: " جو شخص (شرع شریف کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق)توبہ کرنے والا ہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا" لہٰذا شب برأت کے موقع تمام گناہوں کی معا فی مانگنی چاہئے اور فوت شدہ عبادات کی قضا کا پختہ ارادہ کر لینا چاہیے۔
ایک خاص وظیفہ: یہ رات حکم و قضا کی رات ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کو سال بھر کا پروگرام دے دیتے ہیں، اس میں موت و حیا ت، اعمال نیک و بد، ہر قسم کے رز ق اور انعامات، مصائب و آلام اور بیماریوں کا پروگرام بھی دیا جاتا ہے، لہذا اس شب کو اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے خیر و برکت کی دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔
مرشدی و استاد ذی والد صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز جو کہ "دربار عالیہ بغداد شریف" اور "دربار عالیہ بٹالہ شریف" کے خلیفہ مجاز ہیں، آپ اس رات کو نماز مغرب و عشاء کے درمیان درج ذیل و ظیفہ پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ اور مریدین و تلا مذہ کو بھی اس وظیفہ کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے: اس وظیفہ سے عمرو رزق میں برکت ہوجاتی ہے اور مصائب ومشکلات سے نجات ہوتی ہے۔
شب برأت کو غیر شرعی رسوم کا رواج
راقم الحروف کے نزدیک درج ذیل وجوہات کی بنا ء پر آتش بازی حرام ہے اور جو والدین اور ذمہ دار حضرات آتش بازی سے نہیں روکتے وہ سخت گناہگار ہیں:
*آتش بازی کھلا اسراف و فضول خرچی ہے، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ترجمہ: "بیشک بغیر کسی غرض کے پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
*اس شب کو خصوصی طور پر آتش بازی حرام ہے کہ لیلہ مبارکہ اور ملائکہ کی بے ادبی ہے۔
* آتش بازی سے عبادت گزاروں کی عباد ت، علماء وطلبہ کی تعلیم وتعلم،اور بیماروں، بوڑھوں اور تھکے ماندے لوگوں کے آرام و نیند میں خلل ڈالنا ہے، جو کہ ظلم و زیادتی ہے اور عبادات کی سخت تو ہین اور علم کا نقصان ہے۔
*آتش بازی سے بسااوقات دکانوں، گھروں اور قیمتی اشیاء کو آگ لگ جاتی ہے، اور ہر سال درجنوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا آتش بازی سخت "فساد فی الارض" ہے۔
* نیز آتش بازی کے بہانے بچے شب بھر گھروںسے باہر رہتے ہیں، غلط ماحول اور غلط سو سائٹی کی وجہ سے جرائم اور کبیر ہ گناہو ں کی عادت پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا آتش بازی سخت خطرناک و حرام ہے۔
کئی ایک مقامات پر رواج ہے کہ سال بھر میں جس گھر موت واقع ہوتی ہے، عورتیں موت وااے گھر جاکر ماتم و نوحہ کرتی ہیں۔ صحابہ(رض) فرماتے ہیں کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے ماتم و نو حہ کرنے والی اور سننے والی دونوں پر لعنت کی ہے۔"
ایک اور حدیث میں ہے: "وہ ہم میں سے نہیں جو (بوقت مصیبت ) اپنے رخساروں پر طمانچے مارے، اپنے گریباں پھاڑے یا زمانہ جاہلیت کی طرح بین کرے۔"
الغرض حکومت پر لازم ہے کہ اس انتہائی خطرناک رسم کا سختی کے ساتھ انسداد کرے۔ اور اساتذہ، علماء ، والدین، اور ہر علاقہ کے معززین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے تحت ان برائیوںسے روکنے کیلئے تمام مناسب تدابیر اختیار کریں، اور شب برأت کی مبارک گھڑیوں کو غیر شرعی رسوم سے پاک کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔
ماخذ: روزنامہ جناح

August 11, 2007

واقعہ معراج مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم)قرآن و حدیث کی روشنی میں۔۔۔

معراج رسول کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) تسخیر کائنات کی جانب ایک بلیغ اشارہ ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر واقعہ کی پوری عکاسی کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی(ص) سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
تاریخ عالم میں واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) انتہائی خصوصیت کا حامل ہے یہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جس پر ایمان اور عشق رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) سے سرشار مسلمان تو بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ اس عظیم المرتبت محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کی امت ہیں کہ جنہیں رب کائنات نے حالت شعور میں زمینوں اور آسمانوں کی سیر کرائی ۔ اس واقعہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے آج تک شش و پنج میں گرفتار ہوکر اس عظیم واقعہ کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ معجزات وہی ہوتے ہیں جو عقل سے بالاتر ہوں اور معجزات کو عقل سے پرکھنا ہی بے عقلی کی نشانی ہے۔
بقول شاعر مشرق
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
عشق والوں اور عقل والوں میں یہی فرق ہے جو انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے محبوب سردار الانبیاء خاتم المرسلین حضور رحمۃ اللعالمین کو تمام انبیاء سے ممتاز کرنے کیلئے جسمانی معراج شعور کی حالت میں کرایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) راتوں رات مکہ المکرمہ، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ کائنات کی سیر کی اور سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں اس سے آگے ایک قدم بھی بڑھا تو میرے پر جل جائیں گے۔ سدرۃالمنتہیٰ کے آگے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کا سفر مبارک آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔
اس مضمون میں قرآن و احادیث اور سائنس کے کلیات کی روشنی میں واقعہ معراج کو سمجھنے اور بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ معراج مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہر لحاظ سے ایک عظیم الشان واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو شعوری حالت میں سیر کرائی اور انہیں حیات بعد الموت کے واقعات بھی دکھائے۔ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اعلان نبوت کے بارہویں سال27 ویں شب رجب المرجب کو پیش آیا قرآن پاک میں واضح الفاظ میں واقعہ معراج اور اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
معراج کے واقعہ کے وقت حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کی عمر مبارک اکاون سال8ماہ اور بیس یوم تھی، یہ نبوت کا وہ زمانہ تھا جب حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمانوں پر کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی لیکن خداوند قدوس کا پیغام حق عام کر رہے تھے۔ اس زمانہ میں حضور نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج نصیب ہوئی اس وقت آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سو رہے تھے کہ رات کے پہلے پہر حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور رب العزت کی جانب سے سلام پیش کیا اور پھر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج پر چلنے کیلئے تیاری کی درخواست کی۔ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ پہلے مدینۃ  المنورہ سے مکۃ المکرمہ اور پھر بیت المقدس کا سفر کیا۔ مسجد اقصیٰ میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء  علیہم السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے ہمراہ ایک سواری (براق) لائے تھے، براق کا مطلب بجلی یعنی بجلی سے تیز رفتار، حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے پہلے مسجد الحرام طور سینا اور بیت اللہ سے ہوتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اور پھر براق پر سوار ہوکر کائنات کی سیر کو نکلے جسے معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کہا جاتا ہے۔ براق کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک قدم اٹھاتا تو حد نگاہ سے پرے تک یعنی کم و بیش500 سال کا سفر طے کرلیتا تھا۔
آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اور جبرائیل علیہ السلام پہلے آسمان پھر دوسرے اور اسی طرح ساتویں آسمان تک پہنچے، ہر آسمان پر انبیاء کرام اور پیغمبران خدا سے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ملاقات کرائی گئی۔ بعد ازاں سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے اجازت لی اور اس سے آگے آپ نے اکیلے معراج کا سفر طے کیا جس کے بارے میں صرف خداوند تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہاں خداوند کریم کا خصوصی قرب حاصل ہوا، یہیں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو امت کیلئے50 نمازوں کا تحفہ عطاء ہوا جو بعد میں روزانہ5 نمازوں میں تبدیل ہوئیں اور یہ نمازیں روزانہ مسلمانوں پر فرض کر دی گئیں۔ اس سفر میں محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) و محب میں جو رازو نیاز کی باتیں ہوئیں ان کا علم کسی بشر کو نہیں صرف خداوند کریم ہی جانتے ہیں۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کا ذکر ام ہانیؓ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو(نعوذ باللہ) حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا  اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپؓ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ یہ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کیلئے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبرؓ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں اور معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مقدس رات عبادت و ریاضت اور ذکر الٰہی میں گزارتے ہیں۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں۔
آج انسان تسخیر کائنات کی جانب جو قدم بڑھا رہا ہے تو حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کام کی ابتدا کرنے والے تھے اور انتہا کرنے والے بھی، اس طرح واقعہ معراج تسخیر کائنات کیلئے بنی نوع انسان کیلئے خوشخبری بھی ہے، معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی رات تمام نوع انسان کیلئے بلا لحاظ رنگ و نسل مذہب، ملک و وطن تکمیل انسانیت کی جانب رجوع کی رات ہے اور مسلمانوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ دنیا میں ایک ارب کی تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان کمزور، پسماندہ اور یہود و نصاریٰ کے نرغے میں ہیں اپنی مرکزیت کھوچکے ہیں اور روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جارہے ہیں، انہیں دنیا کی امامت کیلئے رب کائنات نے خلیفہ فی الارض، زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا تھا، ان کی اکثریت ذلت اور رسوائی میں بھٹک رہی ہے اور دنیا میں رہبری کا منصب ترک کرکے بے یارومددگار بھٹک رہے ہیں، اس کی بڑی وجہ قرآن سے دوری، خداوند تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم سے بھٹک کر مادی دولت کے پیچھے بھاگنا اور محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق و محبت میں والہانہ جوش ولولہ میں کمی ہے۔ آئیں آج عہد کریں کہ ہم ایک مرتبہ پھر دنیا میں مسلمانوں کی امامت قائم کریں گے۔ قرآن و حدیث کے قانون شریعت کی بالادستی کیلئے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا جذبہ لے کر کام کا آغاز کریں گے، توحید کا ڈنکہ بجانے اور حضور رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا پیغام مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پہنچانے کیلئے تن، من، دھن سے دن رات کام کریں گے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے شکنجے سے آزاد کراکے خانہ کعبہ کو ایک ارب مسلمانوں کا مرکز بنائیں گے۔ مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ اور خلیج سے یہودی و نصاریٰ کو بے دخل کرکے اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے اور مسلمانوں کی خلافت قائم کریں گے
ماخذ: روزنامہ جناح( 10۔اگست بروز جمعۃ المبارک)دینی ایڈیشن