شب برأت کے فضائل و وظائف
لیکن شب برات کن کچھ بد نصیبوں کی توبہ کے بغیر مغفرت نہیں ہوتی۔ "مسند البزار" میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور "سنن ابن ماجہ" میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات تجلی فرماتا ہے اور تمام مخلوقات کو بخش دیتا ہے، ما سوائے مشرک اور مشاحن کے (مشاحن سے مراد کینہ رکھنے والا، اسلام میں نیا فرقہ بنانے والا، چغل خور ہے)۔
دیگر روایات میں کافر و مشرک و مشاحن کے علاوہ والدین کانافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بد سلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (جو محکمہ ٹیکس میں ہو اور لوگوں پر ظلم کرتا ہو )، میوزک ، سارنگی ، طبلہ اور ڈھول بجانے والا( یعنی گانے بجانے والا)، ہمسائے کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر، اور شرطہ (یعنی رشوت خور وظالم سپاہی) کا بھی ذکر آیا ہے۔ اور فرمان نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے کہ ان بخشش سے محروم لوگوں پر اللہ شعبان کی پندرہویں رات کو نظر بھی نہیں فرماتا (جب تک کہ سچی توبہ نہ کریں)۔
15شعبان کا نام شب برأت کیوں ہے؟ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "غنیۃ الطالبین" میں اور دیگرمفسرین واَئمہ دین نے احادیث مبارکہ کے مضامین ومفاہیم کی روشنی میں پندرہویں شعبان کی رات کا نام "شب برات" اس لئے رکھا ہے کہ برات کا معنیٰ ہے: دور ہونا،جداہونا، نجات پانا وغیرہ۔ اور اس رات اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آخرت کی رسوائی و ذلت سے دور کر دیئے جاتے ہیںاور بد بخت لوگ (یعنی جو اس رات کو اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ومغفرتوں سے دور رکھے جاتے ہیں۔
اس رات کو سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے: "اس رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتاہے۔"
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں رات سے مراد شب برأت ہے۔" اُم المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو کیا ہوتاہے؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول اس میں کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اس سال جس بچے نے پیدا ہونا ہے اس رات وہ لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جس نے وفات پانی ہے اس رات اسے لکھا جاتا ہے، اور اس رات(سال بھر کے ) اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اور (سال بھر کا)رزق نازل کیا جاتا ہے۔"
ایک روایت میںاُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: "چار راتو ں میں اللہ تعالیٰ خیروبرکت کی بارش فرماتے ہیں: عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، پندرہویں شعبان کی رات اس رات اللہ تعالیٰ کاموں (اور بالخصو ص موت)کے اوقات اور رزق لکھ دیتا ہے اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھ دیتا ہے، اور عرفہ یعنی یوم الحج کی رات۔ ان راتوں میں خیر وبرکت کی برسات اذان فجر تک جاری رہتی ہے۔"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں اُ ن کی روحیں قبض کرو! بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے ، شا دیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (اور اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔
احادیث بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ شب برات رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے، کچھ بد نصیب ایسے ہیں جن کی مغفرت اس بخشش بھری رات میں بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو سال بھر کے اہم امور کا پروگرام دے دیتے ہیں۔ چونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اپنی قضاوں میںتبدیلی بھی فرما دیتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اس رات اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی خیرات و برکات کا سوال کرے اور رب غفور و رحیم کی بارگاہ میں دنیا و آخرت کے مصائب و آلام سے نجات کا سوال کرے۔
شب برأت کے معمولات: ویسے تو تمام عبادات اور تمام کلمات طیبات برکت و رحمت اور ثواب کا ذریعہ ہیں، لیکن اس مبارک رات میں درج ذیل معمولات نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام اور بزرگان سے ثابت ہیں: 15شعبان کا روزہ۔ اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: "جب شعبان کی پندرہویں تاریخ آئے تو رات کو شب بیداری اختیار کرو اور دن کو روزہ رکھو بیشک اللہ تعالیٰ یعنی اس کی رحمت غروب آفتاب کے وقت نیچے والے آسمان پر نزول فرماتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ اسے بخشش دوں؟ ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟ ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں؟ ہے کوئی ایسا؟ ہے کو ئی ایسا؟ حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔"
نوٹ: فقہاء اسلام کا اجماع ہے کہ حدیث بالا میں روزہ اور شب بیداری کا امر نبوی و جوب کیلئے نہیں ہے، بلکہ پندرہویں شعبان کا روزہ اور شب بیداری مستحب کے درجہ میں ہے۔
اس رات قبرستان جانا سنت نبوی ہے۔ جیسا کہ حدیث ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہامیں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ لہٰذا شب برات کو قبرستان میں جانا بھی سنت نبویﷺ ہے۔ نیز دیگر احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہر سال شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے، اہل قبور کو سلام فرماتے اور دعا فرماتے۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل قبور کو سلام کہو۔ بلکہ سنن بیہقی شریف میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: "جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت تک اس کا جواب دیں گے، اے مسلمانو! تم انہیں سلام کہو اور انکی زیارت کرو۔"
ایک اور حدیث پاک میںہے کہ نبی اکر م(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو! کیونکہ یہ عمل دنیا میں زُہد پیدا کرتا ہے، اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔"
شب برأت کا ایک اور عمل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)نے پندرہویں شعبان کو دو رکعت نفل پڑھے، دو سری رکعت میں آپ نے لمبا سجدہ کیا جو کہ فجر تک جاری رہا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)کہیں حالت سجدہ میں وصال تو نہیں فرما گئے، میں نے آپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تو حرکت فرمائی اور میں نے آپ سے حالت سجدہ میں یہ کلمات سنے: "اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَ عُوْ ذُبِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَاوُکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا َاثْنَیْتَ عَلٰی َنفْسِکَ۔ "
نماز سے فارغ ہو کر حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے فرمایا: ان کلمات کو یاد کرلو اور دوسروں کو انکی تعلیم دو۔
نوافل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): "سنن بیہقی شریف" میں حضر ت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اس رات کو 14 رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ 14بار، قل شریف 14بار، سورہ فلق 14 بار، سورہ الناس 14 بار، آیت الکرسی 1بار اور آیت مبارکہ "لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَُسْولٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِےْزٌ عَلَےْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِےْصٌ عَلَےْکُمْ بِالْمُؤْمِنِےْنَ رَؤُفُ الرَّحِےْم۔" 1بار پڑھی اور فرمایا: جو اس طرح کرے گا، اسے 20 حج مبرور ، 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ملے گا۔ اور جو آئند ہ دن روزہ رکھے گا اسے 120 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
صلوٰۃ الخیر: "غنیۃ الطالبین" میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شب برات کو "صلوٰۃ الخیر" ایک سو رکعت نوافل اور ہر رکعت میں دس بار قل شریف پڑھنا ہے۔ اور حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: "مجھے تیس صحابہ کرام نے بتایا کہ جو شخص اس رات کو "صلوٰۃ الخیر" پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ستر بار نظر کرم فرمائے گا، اور ایک بار نظر کرم سے اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا، جن میں کم از کم ایک حاجت گناہوں کی بخشش ہے۔"
استاد ذی مکرم مفتی اعظم سید ابو البرکات لاہوری اپنے ایک رسالہ میں جو کہ شب برأت کے موضوع پر لکھا ہوا ہے، میں درج ذیل وظائف تجویز فرمائے ہیں: 1۔ صلوٰۃ الخیر، جس کا طریقہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔ دس رکعت نفل ہر رکعت میں دو بار قل شریف ہو۔ 3۔ نماز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھنا، جبکہ ہر رکعت میں چھ بار قل شریف ہو ، پھر پہلی دو رکعت کے بعد ایک بار سورہ یس، اور اسکے بعد عمر میں برکت کی دعا، پھر دوسری دو رکعت کے بعد دوبارہ سورہ یس اور پھر رزق کی فراخی کیلئے دعا، اور آخری دو رکعتوں کے بعد پھر سورہ یس اور پھر خاتمہ بالایمان کی دعا مانگے۔
آخر میں یہ کلمات : " اَلّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔"کثرت کے ساتھ پڑھے۔
گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کا تدارک: احادیث بالا کے مطابق شب برأت کو سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا شب برات کو مغرب سے پہلے پہلے والدین، بھائیو ں ، بہنوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دیگر لوگو ں سے اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے، اور اگر کسی کا کو ئی حق ذمہ میں ہو تو اسکی ادائیگی کر دینی چاہیے یا پھر صاحب حق سے معافی مانگ لینی چاہیے، تاکہ اعمال جب اللہ کی بار گا ہ میں پیش ہو ں تو بندوں کیساتھ زیادتیوں کے گناہ دھل چکے ہوں۔
ارکانِ توبہ: اس طرح اس شب میں رب غفور الرحیم سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کیلئے چار چیزیں ضروری ہیں:
1۔ رب کریم کی بار گاہ میں گنا ہو ں کا اعتراف۔
2۔ گذشتہ گناہوں پر سخت ندامت اور آہ وزاری۔
3۔ آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ اور سچا وعدہ۔
4۔ گناہ کی تلافی۔ مثلا نمازیں نہیں پڑھیں تو حساب یا اندازے سے بالغ ہونے کے بعد کی تمام فر ض اور واجب نمازیں قضا کرے، اسی طرح رمضان کے روزوں کی قضاکرے، اسی طرح جتنے بر س کی زکوۃ ادا نہیں کی حساب یا اندازے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حد یث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے: " جو شخص (شرع شریف کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق)توبہ کرنے والا ہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا" لہٰذا شب برأت کے موقع تمام گناہوں کی معا فی مانگنی چاہئے اور فوت شدہ عبادات کی قضا کا پختہ ارادہ کر لینا چاہیے۔
ایک خاص وظیفہ: یہ رات حکم و قضا کی رات ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کو سال بھر کا پروگرام دے دیتے ہیں، اس میں موت و حیا ت، اعمال نیک و بد، ہر قسم کے رز ق اور انعامات، مصائب و آلام اور بیماریوں کا پروگرام بھی دیا جاتا ہے، لہذا اس شب کو اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے خیر و برکت کی دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔
مرشدی و استاد ذی والد صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز جو کہ "دربار عالیہ بغداد شریف" اور "دربار عالیہ بٹالہ شریف" کے خلیفہ مجاز ہیں، آپ اس رات کو نماز مغرب و عشاء کے درمیان درج ذیل و ظیفہ پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ اور مریدین و تلا مذہ کو بھی اس وظیفہ کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے: اس وظیفہ سے عمرو رزق میں برکت ہوجاتی ہے اور مصائب ومشکلات سے نجات ہوتی ہے۔
شب برأت کو غیر شرعی رسوم کا رواج
راقم الحروف کے نزدیک درج ذیل وجوہات کی بنا ء پر آتش بازی حرام ہے اور جو والدین اور ذمہ دار حضرات آتش بازی سے نہیں روکتے وہ سخت گناہگار ہیں:
*آتش بازی کھلا اسراف و فضول خرچی ہے، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ترجمہ: "بیشک بغیر کسی غرض کے پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
*اس شب کو خصوصی طور پر آتش بازی حرام ہے کہ لیلہ مبارکہ اور ملائکہ کی بے ادبی ہے۔
* آتش بازی سے عبادت گزاروں کی عباد ت، علماء وطلبہ کی تعلیم وتعلم،اور بیماروں، بوڑھوں اور تھکے ماندے لوگوں کے آرام و نیند میں خلل ڈالنا ہے، جو کہ ظلم و زیادتی ہے اور عبادات کی سخت تو ہین اور علم کا نقصان ہے۔
*آتش بازی سے بسااوقات دکانوں، گھروں اور قیمتی اشیاء کو آگ لگ جاتی ہے، اور ہر سال درجنوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا آتش بازی سخت "فساد فی الارض" ہے۔
* نیز آتش بازی کے بہانے بچے شب بھر گھروںسے باہر رہتے ہیں، غلط ماحول اور غلط سو سائٹی کی وجہ سے جرائم اور کبیر ہ گناہو ں کی عادت پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا آتش بازی سخت خطرناک و حرام ہے۔
الغرض حکومت پر لازم ہے کہ اس انتہائی خطرناک رسم کا سختی کے ساتھ انسداد کرے۔ اور اساتذہ، علماء ، والدین، اور ہر علاقہ کے معززین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے تحت ان برائیوںسے روکنے کیلئے تمام مناسب تدابیر اختیار کریں، اور شب برأت کی مبارک گھڑیوں کو غیر شرعی رسوم سے پاک کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔
- اسلام ۔ دینِ امن | Time: 7:36 pm (UTC+8) No Comments »






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)














