اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 13, 2007

کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ 14 اگست 2007′جشن منایا جائے یا سوگ؟؟؟

زندہ قومیں  اپنا جشن آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہیں  بلاشبہ ہم بھی ایک زندہ قوم ہیں  اور ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی کا جشن بھرپور طریقہ سے مناتے ہیں  ہمیں  یہ جشن مناتے ہوئے ان 60 سالوں  کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات کو بھی یاد رکھنا چاہئے بلکہ خود احتسابی سے ان کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر سال جشن آزادی کے موقع پر 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان اور "اسلامی جمہوریہ" پاکستان میں  بار بار جمہوریت کی ناکامی اور معیشت کی زبوں  حالی کی وجوہات پر بھی غور کرکے ان کو دور کرنے اور جس حد تک ہو سکے ان کا کفارہ ادا کرنے کا بھی عہد کرنا چاہئے۔

پاکستان دنیائے عالم میں  واحد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی بناء پر معرض وجود میں  آئی ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لئے خوراک ، پوشاک ، ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اگر صرف زندہ رہنا ہی مقصد ہو تو ان ضروریات کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہیں  لیکن ایسی زندگی کو کسی بھی طرح حیوانی زندگی سے بہتر قرار نہیں  دیا جا سکتا۔ ضروریات زندگی تو کشمیریوں  کو بھارتی تسلط میں  بہت بہتر بلکہ آزاد ملک کی نسبت کئی گنا بہتر میسر آ سکتی ہیں  لیکن انہوں  نے حصول آزادی کے لئے لاکھوں  جانوں  کا نذرانہ پیش کرکے شمع آزادی کو روشن کر رکھا ہے۔ آزادی دراصل نظریہ مذہب ، خیالات ، مساوات ، عدل و انصاف اور حقوق کا نام ہے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے معاملہ میں  ہندو اور مسلمان دونوں  متفق تھے بلکہ ہندو تو اکٹھے رہتے ہوئے ہی آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند تھے اس کے لئے انہوں  نے قائداعظم کو وزارت عظمیٰ اور گورنر جنرل بنانے کا لالچ بھی دیا مگر قائداعظم کسی بھی صورت علیحدہ ملک کے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئے کیونکہ ہندو کی نفسیات ہے وہ بطور ماتحت بہت تابعدار ثابت ہوتا ہے مگر بطور حکمران اس سے بدتر شاید ہی کوئی دوسری قوم ہو ہندوؤں  نے انگزیروں  کو اپنی وفاداری کا یقین دلا کر مسلمانوں  پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے انگریز نے اقتدار چونکہ مسلمانوں  سے چھینا تھا اس لئے وہ مسلمانوں  کو اپنا حریف خیال کرتا لیکن ہندو پہلے مسلمانوں  کی رعایا تھے اور پھر انگریزوں  کے فرمانبردار ہو گئے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں  سے صدیوں  پرانا انتقام لینا شروع کر دیا جو ان کے دل و دماغ میں  مسلمانوں  کے دور اقتدار سے پل رہا تھا۔
 
قائداعظم نے ہندو ذہنیت کو سمجھتے ہوئے کسی بھی قیمت پر پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک پر سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا اور قیام پاکستان کے لئے لاکھوں  مسلمانوں  نے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں  دیں ۔ قیام پاکستان کے موقع پر تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی مسلمانوں  میں  اس وقت جذبہ ایمانی اور علیحدہ وطن حاصل کرنے کی خوشی تمام دکھ اور پریشانیاں  خوشی سے قبول کرنے کی وجہ تھی۔ چند سال قبل ایک برطانوی طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کا تھیسس "پاکستان" دیا گیا اس نے لکھا کہ "1947ء میں  ایک قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی جو اسے پاکستان کے نام پر مل گیا لیکن آج ایک ملک "پاکستان" کو ایک قوم کی ضرورت ہے"۔ برطانوی طالبہ کے اس خیال سے انکار کسی بھی طور ممکن نہیں  کیونکہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہمارے دفاتر میں  لکھنے کے لئے کاغذ اور پیپر پن کے بجائے درختوں  کے کانٹوں  سے کام چلایا گیا سب نے دن رات کام کیا اور سب کے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا پاکستان کی ترقی و کامیابی۔ ایک واقعہ ہے کہ قیام پاکستان کے موقع پر ایک بے سہارا عورت ریل میں  بغیر ٹکٹ سفر کر رہی تھی ٹکٹ چیکر نے پوچھا تو اس نے اپنی مجبوری بتا دی عام حالات میں  زیادہ سے زیادہ اس مہربانی کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سے ٹکٹ کی رقم نہ لی جاتی مگر ٹکٹ چیکر نے عورت کی مجبوری کو تسلیم کیا لیکن اس کے ذمہ واجب الادا رقم اپنی جیب سے ادا کی۔ یہ جذبہ ایک قوم کے فرد کا تھا مگر آج ہماری صورتحال کیاہے ہم اپنے دس روپے کے فائدہ ے لئے ملک کے دس ہزار روپے کے نقصان کو بخوشی تیار ہو جاتے ہیں  ہمارے اعلیٰ سرکاری ملازمین دفاتر اور اپنے اختیارات کو عوام کے مسائل میں  کمی کی بجائے ان کو مزید الجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں  ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں  کو اپنے پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک کے بکنگ سنٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں  ہمارے سیاستدان ذاتی اقتدار کی خاطر ملک کے وقار اور سلامتی کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں  کرتے ہماری عدلیہ انصاف کی فراہمی کے اسلامی اصولوں  کے بجائے ٹیکنیکل گراؤنڈز کا سہارا لینے پر مجبور ہے ہمارے وکلاء  انصاف کی فراہمی اور مظلوم کی مدد کے بجائے وکالت کو محض پیسے کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں  ہمارے صنعت کار ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے اور ملک کی نیک نامی میں  اضافہ کے بجائے ایک ہی چھلانگ میں  سمندر پار کر جانے کی کوشش میں  مصروف نظر آتے ہیں  ہمارا استاد تعلیم دینا اپنا فرض سمجھنے کے بجائے نفع نقصان کا حساب کتاب کرنے میں  مصروف ہوگیا ہے۔ ہمارا دکاندار اورتاجر چور بازاری ملاوٹ جیسے اداروں  کو صرف اورصرف دولت کمانے کے لئے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے ہماری پولیس کا صرف اور صرف ایک ہی ماٹو ہے اور وہ ہے عوام کو ذلیل کرنا اور پیسے کمانا اس کے لئے انہیں  کسی شریف آدمی کو قاتل ڈکیٹ بنانا پڑے یا کسی قاتل ڈکیت کے اشاروں  پرناچنا پڑے اس سے انہیں  قطعاً کوئی فرق نہیں  پڑتا۔ ہماری فوج ملکی دفاع جو اس کا فرض اولین ہے اس کو بھلا کر ملکی اقتدار کے مزے لوٹنے کے بہانے تلاش کرتی نظر آتی ہے ہمارے عوام کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگانے کے لئے واٹر کولرز ، پانی کی ٹینکی یا نلکے کے ساتھ زنجیر سے باندھا گیا گلاس دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری املاک کی زبوں  حالی اور عوام کی بے حسی بھی دیدنی ہے ہم اپنے گھر کا تمام کوڑا کرکٹ گلی میں  پھینک دیتے ہیں  سرکاری و عوامی فنڈز سے تعمیر کی جانے والی سڑکوں  ، گلیوں  اور نالیوں  کی دیکھ بھال ہم اپنے فرائض میں  شامل کرنے سے انکاری ہیں  ذاتی چند روپوں  کے نقصان پر ہم مارنے مرنے پر تل جاتے ہیں  لیکن ملک و قوم کے کروڑوں  کے نقصان پر بھی ہمارے کان پر جوں  تک نہیں  رینگتی۔
اگر گزشتہ 60 سالہ مختصر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں  ہوگی کہ ہمارے ملک کو سب سے زیادہ نقصان سیاستدانوں  سے یا ان کی وجہ سے پہنچا ہے۔ قائداعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک و قوم یتیم ہو گئے اور پاکستان کی حکومت و سیاست شطرنج کی بساط بن گئی ذاتی خواہشات پسند ناپسند اور انا پر ملکی مفاد کو قربان کیا جانے لگا حکومتیں  ہفتوں  میں  تبدیل ہونے لگیں  تو نہرو کو پھبتی کسنے کا موقع مل گیا کہ اتنی تو اس نے دھوتیاں  تبدیل نہیں  کیں  جتنی پاکستان میں حکومتیں  تبدیل ہو گئی ہیں ۔ پاکستان کے لئے دستور بنانے والوں  نے جب سیاسی شطرنج شروع کر دی تو ان کا فرض اولین بھی فرض دوئم ہو گیا پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ اور "ماہر معیشت" ملک غلام محمد نے بطور گورنر جنرل جو گل کھلائے وہ آج بھی ملک و قوم کو بچھو کی طرح ڈنک مار رہے ہیں  اس کے بعد سکندر مرزا کا "بھولا پن" کہ خود کو طاقتور کرنے کے لئے آرمی چیف کو وزیر دفاع کا منصب سونپ کر کابینہ کے ممبر کی حیثیت سے شریک اقتدار کیا جانا بھی کسی جمہوری ملک کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا ۔ 1956 ء کے بننے والے آئین اوراس کے نتیجہ میں  منعقد ہونے والے انتخابات سے جان چھڑوانے کے لئے مارشل لاء کی دعوت دے کر اپنے پاؤں  پر سکندر مرزا نے خود کلہاڑی ماری اور ملک کو طویل آمریت کی گود میں  دے دیا گیا ایوب خان کے دور میں  مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بیج نہ صرف بویا گیا بلکہ اس کو خوب پانی اور کھاد مہیا کی گئی مادر ملت فاطمہ جناح جنہوں  نے مشرقی پاکستان سے بہت بھاری اکثریت میں  ووٹ حاصل کئے تھے انہیں  انتظامیہ کی مدد سے ہرا دیا گیا۔حالات زیادہ خراب ہونے پر ایوب خان نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار سپیکر اسمبلی کے حوالے کرنے کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالہ کردیا جو اس کے لئے بہت بیتاب اور سازشوں  میں  مصروف تھا۔ جنرل یحییٰ آزادانہ الیکشن کی "غلطی" کر بیٹھا بھٹو کی ہر قیمت پر اقتدار کی ہوس ، عالمی سازش اور مجیب الرحمان شیخ کی "بندر کے ہاتھ ماچس" جیسی وجوہات اور یحییٰ خان کی نااہلی اور شراب و کباب میں  مست رہنے اور غلط پالیسیوں  کی وجہ سے پاکستان کی فوج کو ناقابل تلافی نقصان اور ہزیمت اٹھانا پڑی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
 
بچے کچھے پاکستان میں  بھٹو نے جمہوری لبادے میں  بدترین آمریت قائم کرنے کی کوشش کی اور جنرل ضیاء الحق کو جسے بہت جونیئر ہونے کے باوجود بھٹو نے آرمی چیف مقرر کیا تھا کو "ملک کے بہترین مفاد میں " مداخلت کرنا پڑی جو اسلام کے نام پر 1988ء تک طیارہ تباہ ہونے تک قائم رہی اس کے بعد جمہوری شہزادہ اور شہزادی باری باری لاکھوں  مسلمانوں  کی قربانیوں  سے معرض وجود میں  آنے والے ملک کو لوٹنے میں  مصروف ہو گئے بے نظیر بھٹو نے ملک کو خاندانی جاگیر کی طرح چلانے کی کوشش کی جبکہ میاں  نواز شریف نے اسے بھی اتفاق فونڈری جس کے چیف ایگزیکٹو "ابا جی" تھے کی حیثیت دینے کی کوشش کی اور آمریت کے بھی تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو میاں  نواز شریف کی طرف سے مکمل جمہوری آمریت کی خواہش کے سلسلہ میں  آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش کی اوراپنے سسرالی رشتہ دار کو آرمی چیف بنانے کی کوشش میں  ناکامی پر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میاں  نواز شریف جو جمہوری آمریت میں  ذوالفقار علی بھٹو کا نمبر بھی کراس کرنے کے لئے کوشاں  تھے کو پہلی بار جیل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ عدالت سے سزا ہونے پر سعودی مہربانوں  کے ذریعے جیل کی کوٹھری سے بھاگ نکلنے میں  کامیاب ہوگئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویز مشرف کے "انقلاب" کو نہ صرف جائز قرار دے دیا بلکہ انہیں  تین سال کا مزید وقت بھی دے دیا اور آئین میں  حسب ضرورت ترمیم کا اختیار بھی دے دیا صدر صاحب بذریعہ ریفرنڈم پانچ سال کے باوردی صدر "منتخب" ہو گئے اور پھر اسمبلیوں  کے انتخابات کی سوچی اور 2002ء کے انتخابات کے بعد معرض وجود میں  آنے والے اسمبلی سے انہوں  نے وردی سمیت پانچ سال کے لئے صدر ہونے کی توثیق کروالی۔
مسلم لیگ جو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہر کسی کے اقتدار کی سیڑھی بخوشی بنتی رہی ہے جرنیل نے بھی آزمودہ لیگ کو مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے انتخابی اکھاڑے میں  اتارا اور اسمبلی میں  اکثریتی جماعت بنا لیا لیکن اس کے صدر میاں  اظہر کو چاروں  شانے چت کرکے گجرات کے چوہدری برادران کو آل ان آل بنا دیا وزارت اعلیٰ پنجاب جو ان  کا دیرنہ خواب تھا اس کے ساتھ ساتھ ڈیفکٹو پرائم منسٹر شپ بھی چوہدری شجاعت کو مل گئی وزیراعظم جمالی قائد ایوان اور ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی اپنے پرسنل سیکرٹری تک کا تبادلہ کرنے کا اختیار حاصل نہ کر سکے قانون ساز اسمبلی میں  قائد ایوان کے انتخاب کے سوا سال بعد تک قائد حزب اختلاف کا تقرر نہ ہو سکا باقاعدہ ڈیل کے تحت ایم ایم اے (ملاں  ملٹری الائنس) کے فضل الرحمان کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا گیا اس کے کچھ دنوں  بعد ہی قائد ایوان کی چھٹی کروا کر ملکی تاریخ میں  ایک مزید انوکھے باب کا اضافہ ہوا کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ بلا جبر و اکراہ بحالت صحت نفس و اثبات عقل ، برضا و رغبت خود "مستعفی" ہونے والے وزیراعظم سردار ظفراللہ جمالی نے ملک کے آئندہ وزیراعظم کے لئے وزیر خزانہ سینیٹر شوکت عزیز کو نامزد کیا جبکہ ان کے ممبر اسمبلی منتخب ہونے تک کے عرصے کے لئے عبوری وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین صدر مسلم لیگ (ق) کو نامزد کیا گیا جنہوں  نے باقاعدہ قومی اسمبلی سے اپنے آپ کو منتخب کروایا اور بوقت انتخاب ہی بزبان خود 18 اگست 2004ء کو وزارت عظمی سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا اور شوکت عزیز کو ممبر اسمبلی منتخب کروانے کے لئے زور شور سے انتخابی مہم میں  حصہ لینے کی خاطر قومی اسمبلی سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں  ترمیم کروائی کہ حکومتی عہدے دار پارٹی عہدہ بھی رکھ سکتا ہے اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے کسی امیدوار کی انتخابی مہم بھی چلا سکتے ہیں ۔
اسمبلی کے معرض وجودمیں  آنے پر ایل ایف اوکو آئین کا حصہ بنانے پر قانون سازوں  میں  کافی لے دے ہوتی رہی اپوزیشن نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا کیونکہ جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایل ایف او آئین کا حصہ خود بخود بن چکا ہے جبکہ اپوزیشن کااصرار تھا کہ ہم اسے آئین کا حصہ نہیں  مانتے اپوزیشن نے سابق اسمبلی کے سپیکر الہی بخش سومرو کی یقین دہانی پر جس آئین (جو کتاب ان کے پاس موجود تھی) کے تحت حلف ہو رہا ہے ایل ایف او اس کا حصہ نہیں  حلف اٹھا لیا لیکن نئی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے اپنے انتخاب (بلکہ حسن انتخاب) کے فوری بعد "فرمان" جاری کیا  ایل ایف او آئین کا حصہ بن چکا ہے متحدہ اپوزیشن خصوصاً ایم ایم اے کی "ضد" پر ایل ایف او کو اسمبلی میں  پیش کر دیا گیا ایم ایم اے کی خصوصی شفقت سے حکومت دو تہائی اکثریت سے اسے پاس کروانے میں  کامیاب ہو گئی جس میں  31 دسمبر 2004ء تک صدر اور آرمی چیف میں  سے کوئی ایک عہدہ چھوڑنے کی شق بھی شامل کروائی گئی اور صدر نے اس کا قوم سے وعدہ بھی کیا کہ وہ اس مدت تک ایک عہدہ چھوڑ دیں  گے لیکن دسمبر سے کئی ماہ قبل ہی حکومتی حلقوں  سے صدر سے پرزور مطالبہ کیا جانے لگا کہ صدر کے لئے وردی ملکی مفاد کے لئے بہت ضروری ہے صدر نے "عوام کے پرزور مطالبہ" پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کیا اور آئینی شق کو مختص اسمبلی کی سادہ اکثریت سے منظور ہونے والی ایک قرارداد سے غیر موثر کر دیا گیا۔

میاں  نواز شریف اور فاروق لغاری کے دور حکومت میں  ہم نے یوسف رمزی اور ایمل کانسی جو امریکہ کو مطلوب تھے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کئے تھے اور خصوصی انعامات کے حقدار ٹھہرے لیکن جرنیلی دور میں  تو امریکی تابعداری کی حد ہو گئی "سب سے پہلے پاکستان" کے نظریہ پر 1978ء سے جاری افغان پالیسی پر یوٹرن لے لیا گیا افغانستان میں  طالبان کو ہم نے پروان چڑھایا ان کی سرپرستی کی ان کی حکومت تسلیم کی لیکن پھر ان کے مخالف شمالی اتحاد جو بھارت نواز ہے سے راہ و رسم کا امریکی آرڈر آ گیا تو ہم نے طالبان کو کچلنے کے لئے دن رات ایک کردیا جس سے ہماری افغان بارڈر بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے بھارت کے افغانستان میں  قونصل خانے پاکستان میں  تخریبی سرگرمیوں  میں  براہ راست ملوث ہیں ۔ رچرڈ آرمٹیج کی طرف سے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں  بھیج دینے کی دھمکی اور صدر بش کی طرف سے دوستی یا دشمنی کا جواب ہاں  یا نہ میں  دینے کے حکم پر ہم نے سب سے پہلے پاکستان کا نظریہ ضرورت ایجاد کرکے قومی غیرت کا سودا کر لیا جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں  کہ فاٹا کے علاقوں  میں  امریکی طیاروں  سے براہ راست بمباری سے ہزاروں  بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں  لیکن ہم مجبوراً انہیں  اپنی فورسز کی کارروائی قرار دینے پر مجبور ہیں ۔ لال مسجد آپریشن قوم کو خون کے آنسو رلانے والا سانحہ ہے آئی ایس آئی کی ناک کے بالکل نیچے اور ایوان اقتدار سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر بقول حکومت ریاست کے اندر ریاست کا قائم ہونا ہی لمحہ فکریہ ہے۔ اکبر بگٹی جو نہ صرف ایک ممتاز بلوچ لیڈر تھا بلکہ ایک بہت بڑے قبیلہ کا سردار بھی تھا ممتاز سیاستدان ، سابق گورنر ، وزیراعلیٰ اورممبر پارلیمنٹ بھی رہا۔ لال مسجد کے غازی برادران سے مذاکرات کی طرح بگٹی سے بھی مذاکرات کا خصوصی ٹاسک "ٹیبل ٹاک کے شہنشاہ" چوہدری شجاعت حسین کو ہی سونپا گیا اور کامیاب مذاکرات کی خبروں  کے بعد بھی آپریشن سائیلنس کی طرح اکبر بگٹی کے خلاف بھی آپریشن کرکے انہیں  مار دیا گیا جس سے بلوچستان لبریشن موومنٹ کی تخریبی کارروائیوں  میں  تیزی آ چکی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف جنہیں  12 اکتوبر 1999ء کو ایک باقاعدہ منتخب وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات کے استعمال سے آرمی چیف کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا جو "فوجی انقلاب" کی وجہ سے اگر کامیاب نہ ہوتا تو یقیناً بغاوت قرار پاتا الٹا پڑ گیا اور نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ کارگل کی جنگ پر دونوں  کا موقف متضاد ہے اور اصل وجہ تنازعہ بھی یہ بتائی جاتی ہے کہ جنرل صاحب تو 12 اکتوبر 1999ء کو ریٹائر ہو چکے ہیں  ریٹائرمنٹ کی عمر کراس کرنے کے باوجود "ٹو ان ون" کے مزے لے رہے ہیں  اور سب سے پہلے ذاتی اقتدار کے سنہری اصول پر عمل پیرا ہیں  اور اس کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں ۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2007ء کو آرمی ہاؤس بلا کر ساتھی افسروں  کے ہمراہ استعفیٰ پر مجبور کیا انکار پر بات دھمکیوں  اور حبس بے جا تک جا پہنچی صدر نے چیف جسٹس کو معطل کرکے قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر کر دیا اور انہیں  ان کے گھر میں  قید کر دیا گیا اوران کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں  بھیج دیا گیا جسے انہوں  نے سپریم کورٹ میں  چیلنج کر دیا

 
جس کی سماعت سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں  کی اور ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر چیف جسٹس کو بحال کر دیا اور مولوی تمیز الدین کیس میں  جسٹس منیر نے ملک غلام محمد کے دور میں  جو نظریہ ضرورت ایجاد کیا تھا اس کو گہرے کھڈے میں  دفن کر دیا چیف جسٹس کے دوروں  پر جو انہیں  عوامی پذیرائی ملی ہے اور جس پرتپاک طریقہ سے عوام نے ان کا استقبال کیا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی لیڈر (بقول جیالوں  کے) کو بھی نصیب نہ ہو سکا تھا وکلاء کی تحریک حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ تھا جس نے تحریک پاکستان کی یاد تازہ کر دی۔

صدر جنرل پرویز مشرف اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ عوامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے پینگیں  بڑھانے میں مصروف ہیں  جو یقیناً پی پی پی کے سابقہ دعوؤں  کی مکمل نفی کے مترادف ہے اور بے نظیر کے ہر قیمت پر حصول اقتدار کی خواہش کا اظہار ہے البتہ میاں  نوازشریف جو نہ صرف ایک جرنیل کی پیداوار ہیں  اور اپنے آپ کو ضیاء الحق کا سیاسی وارث قرار دیتے رہے ہیں  اور پرویز مشرف کیس میں  سزا ہونے پر سعودی حکومت کی مدد سے جان بچا کر فرار ہونے کا داغ بھی ان کے ماتھے پر لگا ہوا ہے لیکن اب انہوں  نے جرنیل کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرکے عوامی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء و مثبت پیش رفت ہے۔

12 مئی 2007ء کو صدارتی ریفرنس کے خلاف وکلاء تحریک اور چیف جسٹس کے جلوس کے جواب کے طور پر کراچی میں  صدر کی خصوصی زیر شفقت جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے کھلم کھلا دہشت گردی میں  سینکڑوں  معصوم شہریوں  کی جانیں  چلی گئیں  اور ٹی وی اسٹیشنوں  پر مسلح افراد کئی گھنٹوں  تک حملے کرتے رہے ہیں  بار بار مدد کی درخواست کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد کو نہ پہنچا اور صدر نے اسی شام اسلام آباد میں  جشن منایا اور کراچی کی غنڈہ گردی کو عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے متنازعہ ترین آپریشن اور ہزاروں بے گناہوں و معصوموں کے قتل کے بعد امریکہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے پاکستان کے جس علاقہ میں  بھی انہیں  خدشہ ہوا کہ دہشت گرد ہیں  وہاں  براہ راست امریکی فورسز حملے کریں  گی امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کا کہنا ہے اگر وہ صدر بنے تو اعتراض کے باوجود امریکی فورسز کو پاکستان میں  القاعدہ پر حملوں  کا کہوں گا کیونکہ اصل میدان جنگ پاکستان ہے۔ یہ سب سے پہلے پاکستان کے نظریہ کے موجد کو سوچنا چاہئے  اب نیا نظریہ کون سا کام آئے گا۔

 ہم نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹم بم بنانے کے "جرم" میں  کئی برسوں  سے قید میں  ڈال رکھا ہے اور بیرونی آقاؤں  کے حکم پر ان کو ٹی وی پر لا کر ان سے اقبال جرم کروا کر ملک و قوم کی عزت کو خاک میں  ملانے سے بھی دریغ نہ کیا ہے۔

آزاد عدلیہ شروع سے ہی حکمرانوں  کی "ضد" رہی ہے اپوزیشن میں  ہوتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کی بڑھکیں  اور اقتدار میں  آ کر عدلیہ کو بھی کابینہ کی سی حیثیت دینے کی خواہش۔ بے نظیر بھٹو نے تو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں  سجاد علی شاہ چیف جسٹس کی جگہ جہانگیر بدر کو چیف بنانے کی خواہش ظاہر کردی تھی جو اعتزاز احسن کی مہربانی سے عدلیہ اس "کرم" سے بچ گئی میاں  نواز شریف نے توہین عدالت کی کارروائی پر سپریم کورٹ پر باقاعدہ حملہ کروا دیا اور اب پرویز مشرف کی طرف سے نو مارچ کا واقعہ ہمارے عادلانہ اور جمہوری مزاج کی بھرپور عکاسی کے لئے کافی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی میں  ہوتے ہوئے بھی جاتی ہوئی اسمبلی سے آئندہ پانچ سال کی مدت کے لئے انتخاب کی خواہش اور اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور اور جوڑ توڑ ہمارے اقتدار برائے خدمت کے نظریہ کی وضاحت کے لئے کافی ہے ہمارے حکمرانوں  نے شاید اسلامی تاریخ اور خلفاء راشدینؓ کی حکومت کے واقعات کا مطالعہ نہیں  کیا خلیفہ وقت تمام رات سو نہ سکتا تھا حضرت عمر فاروقؓ دوپہر کے وقت شدید گرمی میں  کہیں  جا رہے تھے حضرت علیؓ نے دریافت فرمایا تو بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا ہے اس کی تلاش میں  نکلا ہوں  انہوں  نے کہا کسی ملازم کو اس کام پر روانہ کر دیتے تو جواب دیا قیامت کو اس کی جواب طلبی مجھ سے ہو گی پھر کہا اس وقت تو شدید گرمی ہے تھوڑی دیر بعد تلاش کر لیں  جب گرمی کی شدت کم ہو جائے تو جواب دیا  دوزخ کی آگ اس سے کہیں  زیادہ شدید ہو گی۔ لیکن حکومتی خزانہ کو جی بھر کر لوٹنے والوں  کو نیب کے ذریعے ہم نوا بنا کر وزیر بنا دیا جاتا ہے تا کہ مزید لوٹ مار کر سکیں  اور دیانتدار افسروں  کو چند سو روپوں  کی کرپشن کے الزام میں  جیل میں  ڈال دیا جاتا ہے۔


سیاسی دانشوروں  کا خیال ہے بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے اس وقت بھی آمریت مزیداپنے پنجے گاڑھنے کے لئے ہاتھ پاؤں  مار رہی ہے اورآمرانہ ذہن کے مالک لیڈران جو جمہوری لبادہ میں  عوام کو عرصہ سے بے وقوف بناتے چلے آ رہے ہیں  اس آمریت کے استحکام کے ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔ بقول شاعر
ہیں  کواکب کچھ نظر آئے ہیں  کچھ
دیتے ہیں  دھوکا یہ بازی گر کھلا
فوج جیسا اہم ملکی ادارہ جس کے لئے کبھی عوام آنکھیں  بچھانے کو تیار ہوتے تھے اور بچوں  کو فوج میں  بھرتی کروانا ہر والدین کا خواب تھا اس ادارہ کی صورت یہ ہو چکی ہے فوجی گاڑیوں  کو چھاؤنی سے باہر اور جوانوں  کو وردی میں  عوامی مقامات پر جانے کی ممانعت ہے اور فوجی ایریا میں  بھی خصوصی تحفظ کا بندوبست کیا گیا ہے جو پاکستان کے لئے اور اس کے استحکام کے لئے اچھی اور نیک فال نہیں ۔

14 اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2007ء کو ہم بالواسطہ بیرونی آقاؤں  کی غلامی میں  ہیں  کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں  کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں  بلکہ ہم تو اپنے سکولوں  کا نصاب بھی خود تیار نہیں  کر سکتے اور موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے اور پاکستان کی مختصر سی تاریخ غلامی سے لبریز ہے ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2007ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے یا سوگ؟؟؟’’ ۔ بقول نثار ناسک
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے
 
ماخذ:سنڈے میگزین روزنامہ جناح

August 6, 2007

کن کی غیرت کو للکارا تم نے اے بد بختو۔۔۔۔۔

 

پاکستانی مسلمان خواہ سیکولر ہو یا مذہبی’روشن خیال ہو یا بنیاد پرست ‘سیاسی ہو یا غیر سیاسی’اہلکار ہو یا افسر’ اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس معاملے میں اس کی دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھمکی دے جو مکہ اور مدینہ پر حملے کی
گردن کیوں نہ مروڑی جائے بڑھ کر اس پگلے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لعنت ایسے امریکی پر’اس کے ہر حامی پر
انکل سام کے ہر چوزے پر’ایسے ہر ٹامی پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کن کی غیرت کو للکارا تم نے اے بد بختو
جب وہ اٹھیں گےملکرتو مہلت نہ ملے گی تمکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیرو شیما ناگا ساکی پر جو قیامت ڈھائی
نصف صدی بیتی’پر تمکو اس پر شرم نہ آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تصویر دکھائی تم نے اپنی دہشت گردو
ویتنام پہ ظلم کیا تھا ‘بھولے گا کون اسکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان ’ اور عراق میں کتنا خون بہایا
جس پر چاہا چڑھ دوڑیں گے’کیا دستور بنایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسی کل سیدھی ہے تیری۔۔؟ شترمثال’امریکہ
کینے سے پھٹنے کو ہے اب’ تیری کھال امریکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پر یہ تہذیب کا غرہ؟ کہو’مثالی اس کو
ٹھہرے یہ تہذیب’تو کہیے بد تہذیبی کس کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ہیں جہاں میں امن و اماں ‘انصاف اور عدل کے داعی
ظلم اور جبر جہاں بھی ہو گا کریں گے اس کی صفائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی زبان اور ذہن و عمل پر قابو رکھنا سیکھو
طاقت کے نشے میں نہ ہرگز ‘اپنی حقیقت بھولو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزت کرنا سیکھو سب کی۔۔۔۔۔۔سیکھو ملکر جینا
ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ اک دن جام ہلاکت پڑ جائے گا پینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبرت کی تصویر بنو گے ‘پرزے پرزے ہو کر
ٹوٹے گا یوں قہر خدا کا۔۔۔۔۔۔سبق یہ کر لو ازبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حفیظ الرحمان احسن

August 1, 2007

ہر نیا فرعون طاقت سے جھکایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شورش کاشمیری کی نظم انقلاب…و …انقلاب
 ہردلعزیز فاضل بلاگر انکل اجمل اور دیگر قارئین کی نذر

انقلاب…و …انقلاب
نے کوئی ظِلِ الہی، نے کوئی عِزّت مآب
نے کوئی عالم پناہے، نے کوئی وَالا جناب
انقلاب…و …انقلاب
صورتِ حالات نازک، عصر حاضر نامراد
انقلابِ گردشِ گردُونِ گرداں  زندہ باد
انقلاب…و …انقلاب
جیب کترے خامہ عنبر شمامہ کے اَمیں
یہ تماشا اور اِس دھرتی پہ ربّ العالمین؟
انقلاب…و …انقلاب
منبروں  پر تاجرانِ دعوتِ اُمُّ الکتاب
سینہ بریاں ، روح مضطر، چشم گریاں ، دِل کباب
انقلاب…و …انقلاب
ہم کہاں  تک شہر یاروں  کی ثناخوانی کریں ؟
ہم کہاں  تک ژاژ خائی کی نگہبانی کریں ؟
انقلاب…و …انقلاب
موت کا تاریک سناٹا سویروں  کا حریف
وائے عبرت! ملحدوں  کی سان پردین حنیف
انقلاب…و …انقلاب
آگیا نزدیک سے نزدیک تر یومِ حساب
مغبچے بھی ہوگئے اس دور میں  گردوں  رَکاب؟
انقلاب…و …انقلاب
چار پیسوں  میں  سیاسی آبرو نیلام ہو
گفتگو کا بے تکا پن پارۂ الہام ہو
انقلاب…و …انقلاب
ہر نیا فرعون طاقت سے جھکایا جائے گا
اَرضِ پاکستان کا ڈَنکا بجایا جائے گا
انقلاب…و …انقلاب

July 27, 2007

جیو ٹی وی یورپی و ہندوانہ ثقافت کا امین و آلہ کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا بچ کے

دو جولائی سے تاحال جیو ٹی وی جس طرح سے امریکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہو
چکا ہے۔ یورپی و ہندوانہ ثقافت کا امیں تو وہ شروع دن سے ہی تھا۔
جیو مشرف کےسرکاری مولوی غامدی کی فکر کو  فروغ دے رہا ہے۔اور لوگوں کو مشرف بہ جدید اسلام کے نام پر گمراہ کر رہا ہے نیز جس طرح اس چینل پر شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔
لیکن جیو اور جینے دو کا نعرہ لگانے والے اس چینل نے جس طرح سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں کھیلے جانے والے موت کے کھیل میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔کامران خان کی ٹون کس طرح تبدیل ہوچکی ہے وہ بھی سب کو نظر آرہی ہے۔
اورجس طریقے سے امریکی اداروں و امریکہ دوست حکومت کی ایجنسیوں کے لیے معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری
جیو ٹی وی نیٹ ورک،جنگ گروپ آف پبلیکیشنز اور اس کے نمائندگان سرانجام دےرہے ہیں اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔۔۔
لفافہ جرنلزم اس سے بیشتر بھی چل رہی تھی لیکن اسے عروج نواز دور میں حاصل ہوا وہی سلسلہ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔صحافی اب ایجنسیوں کے لیے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو انتہائی معیوب بات ہے سی پی این ای۔اے پی این ایس۔اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی دیگر تنظیموں کو اس کا سختی سے ازخود نوٹس لینا چاہئے۔
جس طرح سے لال مسجد میں نماز جمعہ کےلیے اکٹھے ہونے والے نمازیوں پر ریاستی دہشت گردی کاباعث جیو بنا وہ قابل مذمت ہے۔ابصار عالم بھی وہی بات کہہ رہے تھے کہ مظاہرین اگر جیو کے آفس کی طرف آئے تو ہم نے اپنے دفاع کا بندوبست کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی بات غازی عبدالرشید شہید نے کہی تھی لہذا اگر وہ انتہا پسندی تھی تو اسے بھی انتہا پسندی ہی قرار دینا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے آفس پر حملے کے ڈر سے جس طرح پرویزی انتطامیہ کو ریاستی دہشت گردی پر اکسایا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے
۔جیو پر حملے کے بعد اسکی مذمت میں سب سے پہلا رد عمل میں نے ہی بھیجا تھا اور اب جیو کے مذکورہ مکروہ عمل کے حوالے سے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہا ہوں۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں لہذا اس سلسلے میں اپنا صرف اور صرف پر امن احتجاج مروجہ پلیٹ فارمز سے ریکارڈ کروایا جائے۔

July 24, 2007

آمریت کا پہلا جنازہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 
 ایک آزادی ہمیں  1947 کو ملی تھی "1947 میں برصغیر کے مسلمان قو م کی طر ح تھے جنہیں  ایک ملک کی ضرورت تھی،اس قو م سے قا ئد اعظم جیسا لیڈر پیدا ہواجس نے پاکستان بنایا۔
جبکہ وطن عزیز پاکستان کی حالت جنرل مشرف نے اسقدر بگاڑ دی ہے کہ عالمی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ اب پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے ایک قو م کی ضرورت ہے۔

مشرف جیسے لوگوں کے بارے میں تحریک پاکستان کی عظیم کارکن محترمہ بیگم سلمی تصدق حسین نے ایک انٹرویو میں مجھے کہا تھا کہ ‘’افسوس ! جن لوگوں کےلیے پاکستان بنایا وہ پاکستان کے قابل نہ رہے’‘۔

سپریم کورٹ کے حا لیہ "تاریخ ساز فیصلے"کے بعد دنیا کو پاکستانی قو م کے بارے میں  اپنی رائے اب بدلنا چاہیے۔انہیں یہ سمجھ آجانا چاہئے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔1947میں  آزادی ہمیں غیروں  کے ہاتھوں  سے ملی تھی اور20جولائی2007کو آزاد ہم اپنو ں  کے ہاتھوں  ہو ئے ہیں۔قربانیاں  اُس آزادی کے لیے بھی کم نہیں  تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور قر بانیاں اس آزادی کے لیے بھی بہت ہیں ۔

وکیل نے پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پاکستا ن بچایا بھی وکیلوں  نے ہے ور نہ آدھا پاکستان اقتدار پسند جر نیل ہڑپ کر چکے تھے اور با قی کے لیے منہ کھلا پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی ساٹھویں  سالگرہ پر عدلیہ کی جانب سے جو تحفہ قوم کو دیا ہے اُس کا جشن پورے ملک میں جاری ہے۔

اقتدار پسند جر نیلوں  کی وجہ سے ملکی و قارعالمی سطح پر مجروح ہواتھا، یہ وقار اب بحال بھی عالمی سطح پر ہواہے۔

عدلیہ کے"عادلوں "نے پہلی بار ثابت کیا کہ پاکستان ایک آئینی مملکت ہے جہاں  کے وردی پوش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من کی مرادیں اب اُس انداز میں  ہر گز نہیں پائیں  گے جس انداز میں  گذشتہ ساٹھ بر سوں  سے پا تے چلے آئے ہیں ۔

"سر کاری ایوانوں " میں "شام غریباں "برپا ہے اور وردی پو شوں  کے ہاں ماتم بھی جاری ہے۔کیسی شام غریباں ،کیسا ماتم ہے کہ جس پر پوری قو م خو ش ہے۔کو ئی ایسا گھر نہیں جہاں خوشیوں  نے رقص  نہ کیا ہو۔
 
معلوم نہیں، مکا لہراکر فسٹ پاکستان کا نعرہ لگانے والے وردی پوشوں  کی حالت اس موقع پر کیا ہو ئی گی؟
مجھ سمیت سولہ کڑوڑ افراد کی یہ خواہش ہےکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے جنرل مشرف اقتدار اب چھوڑ ہی دیں ،کسی عمل سے تو وہ ثابت کریں کہ وطن کے ساتھ محبت اُنہیں  بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اس سلسلے میں ابھی ان کو پش وپیش ہے۔ تو وہ وقت اب دور نہیں کہ جب آمریت پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دفن ہوجائے گی۔اس حوالے سےاسلام آباد کے سیکٹر ایچ۔الیون میں ایک اور "قبرستان" کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ جہاں 12جولائی کو بھی ایک قبرستان بنایا جا چکا ہے۔جہاں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے شہید سو رہے ہیں۔

آمریت کے جنازوں کو کندھا دینے کےلیے پوری قوم تیار کھڑی ہے۔ایک تابوت میں آخری کیل عدلیہ نے ٹھونک دی ہے۔ یہ تابوت ہے۔۔۔۔۔۔۔

نام نہاد اچھی حکمرانی (گڈ گورنس ) کا جس کے نعرے لگاتے موجودہ حکومت اقتدار میںآئی۔یہ جنازہ ہے اسی اچھی حکمرانی کا جو چیتھڑے چیتھڑے تو شوگر سکینڈل، سٹاک ایکسچینج  ڈکیتی اور سٹیل ملز کی اونے پونے دوستوں  کو فروخت کے دوران ہی ہو چکی تھی اور رہی سہی کسر "چند سو"وکیلوں  نے 9مارچ سے 20جولائی تک اس کی دھجیاں  اڑا کر نکال دی یہ آمریت کا پہلا جنازہ ہے۔جسے بیس جولائی کو پاکستان کی سولہ کڑوڑ عوام دفنا چکی ہے۔جنازوں کی شروعات ہوچکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں  قلم ہے ،میرے ذہن میں  اُجالا
مجھے کیا دبا سکے گا، کوئی ظلمتوں  کا پالا
مجھے فکر امن عالم، تجھے اپنی ذات کا غم
میں  طلوع ہونے والا ،تو غروب ہونے والا

آمریت مردہ باد۔اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

اک کرن جوملتی ہے ،آفتاب کہتے ہیں

 
ہم لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
دائروں  میں چلتے ہیں
دائروں  میں چلنے سے
دائرے توبڑھتے ہیں
فاصلے نہیں گھٹتے
آرزوئیں جلتی ہیں
جس طرف کوجاتے ہیں
 منزلیں  تمنا کی
ساتھ ساتھ چلتی رہیں
صبح دم ستاروں  کی تیزجھلملاہٹ کو
روشنی کی آمد کاپیش باب کہتے ہیں
اک کرن جوملتی ہے ،آفتاب کہتے ہیں
دائرہ بدلنے کو،انقلاب کہتے ہیں
امجد اسلام امجد 

July 21, 2007

امریکہ کے مذموم عزائم

 

 

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا ہے کہ صدر مشرف جو پہلے قبائلی عمائدین سے مذاکرات کی کوششیں کرتے رہے ہیں اب جارحانہ انداز اختیار کرچکے ہیں امریکہ کیلئے حملوں والے اہداف کے خلاف کارروائی سمیت کوئی بھی آپشن خارج ازامکان نہیں ہے دریں اثناء امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے صدر بش کو مشورہ دیا ہے کہ اگر پاک فوج قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو وہ امریکی فوج کووہاں حملہ کرنے کا حکم جاری کریں اگرچہ افغانستان میں موجود امریکی افواج پہلے بھی قبائلی علاقوں میں متعدد کارروائیاں کرچکی ہیں لیکن پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد امریکہ قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر حملوں کے بارے میں سنجیدگی سے غوروخوض کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اسے خارج ازامکان قرار نہیں دیا کیونکہ امریکہ2006ء میں مقامی طالبان کے خلاف امن معاہدے کی شدت سے مخالفت کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی خواہش رہی ہے کہ پاکستانی فورسز ان علاقوں میں آپریشن کا سلسلہ جاری رکھیں صدر مشرف کو دہشتگردی کے خلاف بھرپور کوششیں نہ کرنے کا موردالزام بھی ٹھہرایا جاتا رہا اور یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مقامی طالبان سے نمٹنے کے بجائے انہیں تقویت فراہم کی جارہی ہے قبائلی عمائدین کی جانب سے معاہدے کے خاتمہ پر ان کی مسرت دیدنی ہے اور اب وہ یہ جواز پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستانی فورسز کارروائی کی اہلیت نہیں رکھتیں لہذا امریکہ ازخود ان کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے حالیہ خود کش دھماکوں میں پائی جانے والی شدت بھی ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ اسے لال مسجد وجامعہ حفصہ کا ردعمل قرار دیا جارہا ہے مگر اس پہلو کو قطعی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ قوتیں بھی اس میں ملوث ہوسکتی ہیں جواپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں جس منصوبہ بندی سے یہ دھماکے کئے گئے ہیں وہ بھی ظاہر ہے کہ ان کے پیچھے ضرور کوئی بیرونی وخفیہ ہاتھ ملوث ہے یہ امر حکمرانوں کیلئے بھی قابل غور ہے کہ وہ جس سے دوستی کے دعوے کرتے ہیں وہ اس کی آزادی وخود مختاری کو پامال کرنے کے مذموم ارادوں کو پورا کرنے کیلئے پاکستانی حکومت سے اجازت کی ضرورت سے بھی انکار کررہا ہے۔

July 20, 2007

غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام

غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لال مسجد کی نورانی فضاؤں کو سلام
غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ حفصہ کی دھواں دار ہواؤں کو سلام
غازی بیٹیوں کی شہید ماؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس تمکنت سے جان دی ایسی وفاؤں کو سلام
لال مسجد کی نورانی فضاؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تم نے روح پھونکی حریت للکار سے
اک نیا جذبہ ملا ہے خون کی مہکار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھول ڈالا آج تم نے خونیں ظالم کا بھرم
کسقدر رونق لگی ہے معصوم کی پیکار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے حق میں قوم کی سچی دعاؤں کو سلام
غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تم نے پھر ابھارا انبیاء کے مشن کو
اک نیا چرکہ لگایا عشرتوں کے جشن کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک بڑے مقصد کی خاطر معرکہ تم نے لڑا
آؤ دیکھو کس ادا سے اسنے چوما کفن کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا مسکن خلا ہے جنت کی چھاؤں کو سلام
غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت آخر آگیا اب ٹاؤٹوں کے کھیل کا
ہرطرف سجنے کو ہے راستہ اب جیل کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک نئے انداز سے پیغام بیداری دیا
پھر سے موسم آگیا شہادتوں کی سیل کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہِ شہادت کے شناسا آشناؤں کو سلام
غازی حق کی دلیرانہ اداؤں کو سلام
احمد حسیب قیصر
 

منصف اعظم پاکستان کی بحالی،روشن مستقبل کی نوید

منصف اعظم پاکستان افتخار محمد چوہدری کی بحالی     
   
سپریم کورٹ کے فل بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرتے ہوئے ان کی معطلی کو غیر قانونی قرار ے دیاہے۔منصف اعظم پاکستان کی بحالی یقینا پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں13 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیاجا نا غیر قانونی تھا ،ان کے خلاف ریفرنس بھی غیر قانونی تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر بھی غیر قانونی تھا۔تین ججز نے ریفرنس کو غیر قانونی قرار دئے جانے سے اختلاف کیا۔جسٹس فقیر محمد کھوکھر،جسٹس ایم جاوید بٹر اور سید سعید اشہر نے اس بارے میں اختلافی نوٹ لکھا۔

اس سے پہلے چیف جسٹس کے وکیل اعتزازاحسن نے آج صبح اپنے دلائل مکمل کئے۔جس کے بعدجسٹس خلیل الرحمن نے سماعت کے دوران شریک وکلا اور ججز کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف فیصلہ ہوتو اسے طیش میں نہیں آنا چاہئیے اور جو فیصلے سے خوش ہوں انہیں خدا کا شکر ادا کرانا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ خوشی کو منانے کا بہتر طریقہ دو نوافل کی ادائیگی ہے۔

 
اس سال9ماچ کو ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج دیا گیا تھا۔18اپریل کوچیف جسٹس کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت میں وقفہ کے دوران صدارتی ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل184تھری کے تحت آئنی درخواست داخل کی ۔40 دن سے زائد جاری رہنے والی سماعت کے بعد آج سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ نے اپنا فیصلہ سنایا۔
 
اصولی طور پر اس فیصلے کے بعد صدر،وزیراعظم سمیت حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔لیکن ایسی کوئی روایت ہمارے ہاں موجود نہیں ۔اس بات کا عوام کو واضح ادراک ہے۔
 
قانون اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام شہریوں کو بھی اس فیصلے کا انتظار تھا ،آج تما م ہائی کورٹس اور دوسری عدالتوں سمیت گلیوں اور بازاروں میں بھی فیصلہ سننے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے ،جنہوں نے فیصلہ کے بعد خوشیاں منائیں ،مٹھائیاں بانٹیں اور نعرےلگائے وکلا اور بیشترعوام نے نوافل بھی ادا کئے۔

عدلیہ کے وقار کی سر بلندی اصل میں پاکستان کی سربلندی کی علامت ہے۔جس پر اللہ پاک کا کروڑ ہا شکر ہے۔

شکر ہے ، شکر ہے یا خدا شکر ہے

اے ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست بالکل نہ بناؤ۔القرآن۔

آیات سورۃ المائدۃ کی ہیں ۔ 51 سے  56 تک ۔ان آیات کے آسان ترجمے پر غور فرمائیں۔

 "اے ایمان والو یہودیوں  اور عیسائیوں  کو اپنا دوست بالکل نہ بناؤ یہ سارے کے سارے آپس میں  دوست ہیں  تو جو کوئی بھی انہیں  دوست بنائے گا وہ انہی میں  سے ہوجائے گا اور اللہ ظالموں  کی رہنمائی نہیں  کرتا (51)٭

  اے نبی(ص) آپ دیکھیں  گے کہ جن لوگوں  کے دل بیمار ہیں  وہ دَوڑ، دَوڑ  ان میں  جاکر گُھسیں  گے اور دوسرے مسلمانوں  سے کہیں  گے کہ ہمیں  خطرہ ہے کہ کہیں  ہمارا نقصان نہ ہوجائے یا کوئی بڑا حادثہ پیش نہ  آجائے، بہت ممکن ہے کہ اللہ تم لوگوں  کو فتح دے یا کوئی ایسا کام کر دکھائے جس کے بعد یہ لوگ اپنے دلوں  میں  چھپائی ہوئی باتوں  سے خود شرمندہ ہونے لگیں ۔(52) ٭

اُس وقت ایمان والے کہیں  گے کہ یہ تو وہی لوگ ہیں ؟ جو بڑی بڑی قسمیں  کھا، کھا کے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں  (یاد رکھیں ) ان لوگوں  کے اعمال غارت اور یہ خود بھی ناکام ہوگئے۔ (53)٭

 ایمان والو! تم میں  سے جو کوئی اپنے دین سے پیچھے ہٹ جائے(اسے یاد رکھنا چاہئے) کہ اللہ تعالی بہت جلد ایسی قوم لائے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ قوم اللہ سے محبت کرنے والی ہوگی۔ یہ لوگ مسلمانوں  کیلئے نرم دل اور مخالفین اسلام کیلئے سخت اور تیز ہوں  گے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں  جہاد کریں  گے،کسی مخالف کی ملامت اور طعنے سے نہیں  گھبرائیں  گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے کہ وہ بڑی وُسعت والا اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(54)٭

 مسلمانو! تمہارا دوست اللہ خود ہے، اس کا رسول(ص) بھی اور نماز پڑھنے والے، زکوۃ دینے والے اور رکوع کرنے والے مسلمان بھی (55)٭

 یاد رکھو کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول(ص) سے دوستی کرے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ آخر کار اللہ کے ساتھی ہی کامیاب ہوں  گے۔ (56)٭

 ان آیات کیلئے کسی تشریح یا تفسیر کی ضرورت نہیں  کہ خود بول رہی ہیں ۔ البتہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے؟؟؟

July 18, 2007

اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر؟؟؟

 

حضرت علامہ اقبال(رح) کی نظم ۔ جہاد ۔  

 دل کی گہرائی سے مطالعہ کی طالب ہے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دُنیا میں  اب رہی نہیں  تلوار کارگر
لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں ؟
مسجد میں  اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اَثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں  میں  ہے کہاں ؟
ہو بھی تو دل ہیں  موت کی لَذَّت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں  کی موت مر؟
تعلیم اُس کو چاہئے ترکِ جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں  سے ہو خطر
باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں  ڈُوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں  شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں  جنگ شر، ہے تو مغرب میں  بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات؟
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر

July 13, 2007

تو… گولیاں چلائے جا

موجودہ تناظر میں شورش کاشمیری مرحوم کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیں

عوام ہیں  ستائے جا
ابھار کر مٹائے جا
چراغ ہیں  بجھائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
ترا بڑا مقام ہے
تو مردِ خوش خرام ہے
اٹھائے جا، گرائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
ستم نواز مسخرے
عجب ہیں  تیرے چوچلے
عوام کو نچائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
قبائے شب ادھیڑ کر
غزل کا ساز چھیڑ کر
گلال ہیں  لٹائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
رَوِش روش چمن چمن
نگر نگر، دَمن دَمن
قیامتیں  اُٹھائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
مزہ ہے تیرے ساتھ میں
سبو ہے تیرے ہاتھ میں
شراب ہے پلائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
تھرک تھرک، مٹک مٹک
اِدھر اُدھر لٹک لٹک
مزاجِ یار پائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
……
لہو… تری غذا سہی
تو رِند پارسا سہی
حکایتیں  سنائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
یہ چال کٹ ہی جائے گی
یہ دال بٹ ہی جائے گی
ابھی تو ہمہمائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
خدا کا خوف چھوڑ کر
وَطن کی باگ موڑ کر
نشان ہیں  لگائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا
…………………………
لقندروں  کی فوج ہے
اِسی میں  تیری موج ہے
حرام مال کھائے جا
تو… گولیاں  چلائے جا