زندہ قومیں اپنا جشن آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہیں بلاشبہ ہم بھی ایک زندہ قوم ہیں اور ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی کا جشن بھرپور طریقہ سے مناتے ہیں ہمیں یہ جشن مناتے ہوئے ان 60 سالوں کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات کو بھی یاد رکھنا چاہئے بلکہ خود احتسابی سے ان کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر سال جشن آزادی کے موقع پر 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان اور "اسلامی جمہوریہ" پاکستان میں بار بار جمہوریت کی ناکامی اور معیشت کی زبوں حالی کی وجوہات پر بھی غور کرکے ان کو دور کرنے اور جس حد تک ہو سکے ان کا کفارہ ادا کرنے کا بھی عہد کرنا چاہئے۔

پاکستان دنیائے عالم میں واحد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی بناء پر معرض وجود میں آئی ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لئے خوراک ، پوشاک ، ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اگر صرف زندہ رہنا ہی مقصد ہو تو ان ضروریات کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہیں لیکن ایسی زندگی کو کسی بھی طرح حیوانی زندگی سے بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ضروریات زندگی تو کشمیریوں کو بھارتی تسلط میں بہت بہتر بلکہ آزاد ملک کی نسبت کئی گنا بہتر میسر آ سکتی ہیں لیکن انہوں نے حصول آزادی کے لئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے شمع آزادی کو روشن کر رکھا ہے۔ آزادی دراصل نظریہ مذہب ، خیالات ، مساوات ، عدل و انصاف اور حقوق کا نام ہے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے معاملہ میں ہندو اور مسلمان دونوں متفق تھے بلکہ ہندو تو اکٹھے رہتے ہوئے ہی آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند تھے اس کے لئے انہوں نے قائداعظم کو وزارت عظمیٰ اور گورنر جنرل بنانے کا لالچ بھی دیا مگر قائداعظم کسی بھی صورت علیحدہ ملک کے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئے کیونکہ ہندو کی نفسیات ہے وہ بطور ماتحت بہت تابعدار ثابت ہوتا ہے مگر بطور حکمران اس سے بدتر شاید ہی کوئی دوسری قوم ہو ہندوؤں نے انگزیروں کو اپنی وفاداری کا یقین دلا کر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے انگریز نے اقتدار چونکہ مسلمانوں سے چھینا تھا اس لئے وہ مسلمانوں کو اپنا حریف خیال کرتا لیکن ہندو پہلے مسلمانوں کی رعایا تھے اور پھر انگریزوں کے فرمانبردار ہو گئے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں سے صدیوں پرانا انتقام لینا شروع کر دیا جو ان کے دل و دماغ میں مسلمانوں کے دور اقتدار سے پل رہا تھا۔

قائداعظم نے ہندو ذہنیت کو سمجھتے ہوئے کسی بھی قیمت پر پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک پر سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا اور قیام پاکستان کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دیں ۔ قیام پاکستان کے موقع پر تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی مسلمانوں میں اس وقت جذبہ ایمانی اور علیحدہ وطن حاصل کرنے کی خوشی تمام دکھ اور پریشانیاں خوشی سے قبول کرنے کی وجہ تھی۔ چند سال قبل ایک برطانوی طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کا تھیسس "پاکستان" دیا گیا اس نے لکھا کہ "1947ء میں ایک قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی جو اسے پاکستان کے نام پر مل گیا لیکن آج ایک ملک "پاکستان" کو ایک قوم کی ضرورت ہے"۔ برطانوی طالبہ کے اس خیال سے انکار کسی بھی طور ممکن نہیں کیونکہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہمارے دفاتر میں لکھنے کے لئے کاغذ اور پیپر پن کے بجائے درختوں کے کانٹوں سے کام چلایا گیا سب نے دن رات کام کیا اور سب کے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا پاکستان کی ترقی و کامیابی۔ ایک واقعہ ہے کہ قیام پاکستان کے موقع پر ایک بے سہارا عورت ریل میں بغیر ٹکٹ سفر کر رہی تھی ٹکٹ چیکر نے پوچھا تو اس نے اپنی مجبوری بتا دی عام حالات میں زیادہ سے زیادہ اس مہربانی کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سے ٹکٹ کی رقم نہ لی جاتی مگر ٹکٹ چیکر نے عورت کی مجبوری کو تسلیم کیا لیکن اس کے ذمہ واجب الادا رقم اپنی جیب سے ادا کی۔ یہ جذبہ ایک قوم کے فرد کا تھا مگر آج ہماری صورتحال کیاہے ہم اپنے دس روپے کے فائدہ ے لئے ملک کے دس ہزار روپے کے نقصان کو بخوشی تیار ہو جاتے ہیں ہمارے اعلیٰ سرکاری ملازمین دفاتر اور اپنے اختیارات کو عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے ان کو مزید الجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں کو اپنے پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک کے بکنگ سنٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں ہمارے سیاستدان ذاتی اقتدار کی خاطر ملک کے وقار اور سلامتی کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہماری عدلیہ انصاف کی فراہمی کے اسلامی اصولوں کے بجائے ٹیکنیکل گراؤنڈز کا سہارا لینے پر مجبور ہے ہمارے وکلاء انصاف کی فراہمی اور مظلوم کی مدد کے بجائے وکالت کو محض پیسے کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں ہمارے صنعت کار ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے اور ملک کی نیک نامی میں اضافہ کے بجائے ایک ہی چھلانگ میں سمندر پار کر جانے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں ہمارا استاد تعلیم دینا اپنا فرض سمجھنے کے بجائے نفع نقصان کا حساب کتاب کرنے میں مصروف ہوگیا ہے۔ ہمارا دکاندار اورتاجر چور بازاری ملاوٹ جیسے اداروں کو صرف اورصرف دولت کمانے کے لئے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے ہماری پولیس کا صرف اور صرف ایک ہی ماٹو ہے اور وہ ہے عوام کو ذلیل کرنا اور پیسے کمانا اس کے لئے انہیں کسی شریف آدمی کو قاتل ڈکیٹ بنانا پڑے یا کسی قاتل ڈکیت کے اشاروں پرناچنا پڑے اس سے انہیں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہماری فوج ملکی دفاع جو اس کا فرض اولین ہے اس کو بھلا کر ملکی اقتدار کے مزے لوٹنے کے بہانے تلاش کرتی نظر آتی ہے ہمارے عوام کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگانے کے لئے واٹر کولرز ، پانی کی ٹینکی یا نلکے کے ساتھ زنجیر سے باندھا گیا گلاس دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری املاک کی زبوں حالی اور عوام کی بے حسی بھی دیدنی ہے ہم اپنے گھر کا تمام کوڑا کرکٹ گلی میں پھینک دیتے ہیں سرکاری و عوامی فنڈز سے تعمیر کی جانے والی سڑکوں ، گلیوں اور نالیوں کی دیکھ بھال ہم اپنے فرائض میں شامل کرنے سے انکاری ہیں ذاتی چند روپوں کے نقصان پر ہم مارنے مرنے پر تل جاتے ہیں لیکن ملک و قوم کے کروڑوں کے نقصان پر بھی ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
اگر گزشتہ 60 سالہ مختصر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوگی کہ ہمارے ملک کو سب سے زیادہ نقصان سیاستدانوں سے یا ان کی وجہ سے پہنچا ہے۔ قائداعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک و قوم یتیم ہو گئے اور پاکستان کی حکومت و سیاست شطرنج کی بساط بن گئی ذاتی خواہشات پسند ناپسند اور انا پر ملکی مفاد کو قربان کیا جانے لگا حکومتیں ہفتوں میں تبدیل ہونے لگیں تو نہرو کو پھبتی کسنے کا موقع مل گیا کہ اتنی تو اس نے دھوتیاں تبدیل نہیں کیں جتنی پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہو گئی ہیں ۔ پاکستان کے لئے دستور بنانے والوں نے جب سیاسی شطرنج شروع کر دی تو ان کا فرض اولین بھی فرض دوئم ہو گیا پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ اور "ماہر معیشت" ملک غلام محمد نے بطور گورنر جنرل جو گل کھلائے وہ آج بھی ملک و قوم کو بچھو کی طرح ڈنک مار رہے ہیں اس کے بعد سکندر مرزا کا "بھولا پن" کہ خود کو طاقتور کرنے کے لئے آرمی چیف کو وزیر دفاع کا منصب سونپ کر کابینہ کے ممبر کی حیثیت سے شریک اقتدار کیا جانا بھی کسی جمہوری ملک کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا ۔ 1956 ء کے بننے والے آئین اوراس کے نتیجہ میں منعقد ہونے والے انتخابات سے جان چھڑوانے کے لئے مارشل لاء کی دعوت دے کر اپنے پاؤں پر سکندر مرزا نے خود کلہاڑی ماری اور ملک کو طویل آمریت کی گود میں دے دیا گیا ایوب خان کے دور میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بیج نہ صرف بویا گیا بلکہ اس کو خوب پانی اور کھاد مہیا کی گئی مادر ملت فاطمہ جناح جنہوں نے مشرقی پاکستان سے بہت بھاری اکثریت میں ووٹ حاصل کئے تھے انہیں انتظامیہ کی مدد سے ہرا دیا گیا۔حالات زیادہ خراب ہونے پر ایوب خان نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار سپیکر اسمبلی کے حوالے کرنے کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالہ کردیا جو اس کے لئے بہت بیتاب اور سازشوں میں مصروف تھا۔ جنرل یحییٰ آزادانہ الیکشن کی "غلطی" کر بیٹھا بھٹو کی ہر قیمت پر اقتدار کی ہوس ، عالمی سازش اور مجیب الرحمان شیخ کی "بندر کے ہاتھ ماچس" جیسی وجوہات اور یحییٰ خان کی نااہلی اور شراب و کباب میں مست رہنے اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی فوج کو ناقابل تلافی نقصان اور ہزیمت اٹھانا پڑی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

بچے کچھے پاکستان میں بھٹو نے جمہوری لبادے میں بدترین آمریت قائم کرنے کی کوشش کی اور جنرل ضیاء الحق کو جسے بہت جونیئر ہونے کے باوجود بھٹو نے آرمی چیف مقرر کیا تھا کو "ملک کے بہترین مفاد میں " مداخلت کرنا پڑی جو اسلام کے نام پر 1988ء تک طیارہ تباہ ہونے تک قائم رہی اس کے بعد جمہوری شہزادہ اور شہزادی باری باری لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے معرض وجود میں آنے والے ملک کو لوٹنے میں مصروف ہو گئے بے نظیر بھٹو نے ملک کو خاندانی جاگیر کی طرح چلانے کی کوشش کی جبکہ میاں نواز شریف نے اسے بھی اتفاق فونڈری جس کے چیف ایگزیکٹو "ابا جی" تھے کی حیثیت دینے کی کوشش کی اور آمریت کے بھی تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف کی طرف سے مکمل جمہوری آمریت کی خواہش کے سلسلہ میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش کی اوراپنے سسرالی رشتہ دار کو آرمی چیف بنانے کی کوشش میں ناکامی پر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میاں نواز شریف جو جمہوری آمریت میں ذوالفقار علی بھٹو کا نمبر بھی کراس کرنے کے لئے کوشاں تھے کو پہلی بار جیل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ عدالت سے سزا ہونے پر سعودی مہربانوں کے ذریعے جیل کی کوٹھری سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویز مشرف کے "انقلاب" کو نہ صرف جائز قرار دے دیا بلکہ انہیں تین سال کا مزید وقت بھی دے دیا اور آئین میں حسب ضرورت ترمیم کا اختیار بھی دے دیا صدر صاحب بذریعہ ریفرنڈم پانچ سال کے باوردی صدر "منتخب" ہو گئے اور پھر اسمبلیوں کے انتخابات کی سوچی اور 2002ء کے انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والے اسمبلی سے انہوں نے وردی سمیت پانچ سال کے لئے صدر ہونے کی توثیق کروالی۔
مسلم لیگ جو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہر کسی کے اقتدار کی سیڑھی بخوشی بنتی رہی ہے جرنیل نے بھی آزمودہ لیگ کو مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے انتخابی اکھاڑے میں اتارا اور اسمبلی میں اکثریتی جماعت بنا لیا لیکن اس کے صدر میاں اظہر کو چاروں شانے چت کرکے گجرات کے چوہدری برادران کو آل ان آل بنا دیا وزارت اعلیٰ پنجاب جو ان کا دیرنہ خواب تھا اس کے ساتھ ساتھ ڈیفکٹو پرائم منسٹر شپ بھی چوہدری شجاعت کو مل گئی وزیراعظم جمالی قائد ایوان اور ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی اپنے پرسنل سیکرٹری تک کا تبادلہ کرنے کا اختیار حاصل نہ کر سکے قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے سوا سال بعد تک قائد حزب اختلاف کا تقرر نہ ہو سکا باقاعدہ ڈیل کے تحت ایم ایم اے (ملاں ملٹری الائنس) کے فضل الرحمان کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا گیا اس کے کچھ دنوں بعد ہی قائد ایوان کی چھٹی کروا کر ملکی تاریخ میں ایک مزید انوکھے باب کا اضافہ ہوا کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ بلا جبر و اکراہ بحالت صحت نفس و اثبات عقل ، برضا و رغبت خود "مستعفی" ہونے والے وزیراعظم سردار ظفراللہ جمالی نے ملک کے آئندہ وزیراعظم کے لئے وزیر خزانہ سینیٹر شوکت عزیز کو نامزد کیا جبکہ ان کے ممبر اسمبلی منتخب ہونے تک کے عرصے کے لئے عبوری وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین صدر مسلم لیگ (ق) کو نامزد کیا گیا جنہوں نے باقاعدہ قومی اسمبلی سے اپنے آپ کو منتخب کروایا اور بوقت انتخاب ہی بزبان خود 18 اگست 2004ء کو وزارت عظمی سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا اور شوکت عزیز کو ممبر اسمبلی منتخب کروانے کے لئے زور شور سے انتخابی مہم میں حصہ لینے کی خاطر قومی اسمبلی سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کروائی کہ حکومتی عہدے دار پارٹی عہدہ بھی رکھ سکتا ہے اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے کسی امیدوار کی انتخابی مہم بھی چلا سکتے ہیں ۔
اسمبلی کے معرض وجودمیں آنے پر ایل ایف اوکو آئین کا حصہ بنانے پر قانون سازوں میں کافی لے دے ہوتی رہی اپوزیشن نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا کیونکہ جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایل ایف او آئین کا حصہ خود بخود بن چکا ہے جبکہ اپوزیشن کااصرار تھا کہ ہم اسے آئین کا حصہ نہیں مانتے اپوزیشن نے سابق اسمبلی کے سپیکر الہی بخش سومرو کی یقین دہانی پر جس آئین (جو کتاب ان کے پاس موجود تھی) کے تحت حلف ہو رہا ہے ایل ایف او اس کا حصہ نہیں حلف اٹھا لیا لیکن نئی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے اپنے انتخاب (بلکہ حسن انتخاب) کے فوری بعد "فرمان" جاری کیا ایل ایف او آئین کا حصہ بن چکا ہے متحدہ اپوزیشن خصوصاً ایم ایم اے کی "ضد" پر ایل ایف او کو اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ایم ایم اے کی خصوصی شفقت سے حکومت دو تہائی اکثریت سے اسے پاس کروانے میں کامیاب ہو گئی جس میں 31 دسمبر 2004ء تک صدر اور آرمی چیف میں سے کوئی ایک عہدہ چھوڑنے کی شق بھی شامل کروائی گئی اور صدر نے اس کا قوم سے وعدہ بھی کیا کہ وہ اس مدت تک ایک عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن دسمبر سے کئی ماہ قبل ہی حکومتی حلقوں سے صدر سے پرزور مطالبہ کیا جانے لگا کہ صدر کے لئے وردی ملکی مفاد کے لئے بہت ضروری ہے صدر نے "عوام کے پرزور مطالبہ" پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کیا اور آئینی شق کو مختص اسمبلی کی سادہ اکثریت سے منظور ہونے والی ایک قرارداد سے غیر موثر کر دیا گیا۔
میاں نواز شریف اور فاروق لغاری کے دور حکومت میں ہم نے یوسف رمزی اور ایمل کانسی جو امریکہ کو مطلوب تھے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کئے تھے اور خصوصی انعامات کے حقدار ٹھہرے لیکن جرنیلی دور میں تو امریکی تابعداری کی حد ہو گئی "سب سے پہلے پاکستان" کے نظریہ پر 1978ء سے جاری افغان پالیسی پر یوٹرن لے لیا گیا افغانستان میں طالبان کو ہم نے پروان چڑھایا ان کی سرپرستی کی ان کی حکومت تسلیم کی لیکن پھر ان کے مخالف شمالی اتحاد جو بھارت نواز ہے سے راہ و رسم کا امریکی آرڈر آ گیا تو ہم نے طالبان کو کچلنے کے لئے دن رات ایک کردیا جس سے ہماری افغان بارڈر بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے بھارت کے افغانستان میں قونصل خانے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہیں ۔ رچرڈ آرمٹیج کی طرف سے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں بھیج دینے کی دھمکی اور صدر بش کی طرف سے دوستی یا دشمنی کا جواب ہاں یا نہ میں دینے کے حکم پر ہم نے سب سے پہلے پاکستان کا نظریہ ضرورت ایجاد کرکے قومی غیرت کا سودا کر لیا جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں کہ فاٹا کے علاقوں میں امریکی طیاروں سے براہ راست بمباری سے ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں لیکن ہم مجبوراً انہیں اپنی فورسز کی کارروائی قرار دینے پر مجبور ہیں ۔ لال مسجد آپریشن قوم کو خون کے آنسو رلانے والا سانحہ ہے آئی ایس آئی کی ناک کے بالکل نیچے اور ایوان اقتدار سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر بقول حکومت ریاست کے اندر ریاست کا قائم ہونا ہی لمحہ فکریہ ہے۔ اکبر بگٹی جو نہ صرف ایک ممتاز بلوچ لیڈر تھا بلکہ ایک بہت بڑے قبیلہ کا سردار بھی تھا ممتاز سیاستدان ، سابق گورنر ، وزیراعلیٰ اورممبر پارلیمنٹ بھی رہا۔ لال مسجد کے غازی برادران سے مذاکرات کی طرح بگٹی سے بھی مذاکرات کا خصوصی ٹاسک "ٹیبل ٹاک کے شہنشاہ" چوہدری شجاعت حسین کو ہی سونپا گیا اور کامیاب مذاکرات کی خبروں کے بعد بھی آپریشن سائیلنس کی طرح اکبر بگٹی کے خلاف بھی آپریشن کرکے انہیں مار دیا گیا جس سے بلوچستان لبریشن موومنٹ کی تخریبی کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف جنہیں 12 اکتوبر 1999ء کو ایک باقاعدہ منتخب وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات کے استعمال سے آرمی چیف کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا جو "فوجی انقلاب" کی وجہ سے اگر کامیاب نہ ہوتا تو یقیناً بغاوت قرار پاتا الٹا پڑ گیا اور نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ کارگل کی جنگ پر دونوں کا موقف متضاد ہے اور اصل وجہ تنازعہ بھی یہ بتائی جاتی ہے کہ جنرل صاحب تو 12 اکتوبر 1999ء کو ریٹائر ہو چکے ہیں ریٹائرمنٹ کی عمر کراس کرنے کے باوجود "ٹو ان ون" کے مزے لے رہے ہیں اور سب سے پہلے ذاتی اقتدار کے سنہری اصول پر عمل پیرا ہیں اور اس کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں ۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2007ء کو آرمی ہاؤس بلا کر ساتھی افسروں کے ہمراہ استعفیٰ پر مجبور کیا انکار پر بات دھمکیوں اور حبس بے جا تک جا پہنچی صدر نے چیف جسٹس کو معطل کرکے قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر کر دیا اور انہیں ان کے گھر میں قید کر دیا گیا اوران کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج دیا گیا جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
جس کی سماعت سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں کی اور ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر چیف جسٹس کو بحال کر دیا اور مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر نے ملک غلام محمد کے دور میں جو نظریہ ضرورت ایجاد کیا تھا اس کو گہرے کھڈے میں دفن کر دیا چیف جسٹس کے دوروں پر جو انہیں عوامی پذیرائی ملی ہے اور جس پرتپاک طریقہ سے عوام نے ان کا استقبال کیا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی لیڈر (بقول جیالوں کے) کو بھی نصیب نہ ہو سکا تھا وکلاء کی تحریک حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ تھا جس نے تحریک پاکستان کی یاد تازہ کر دی۔

صدر جنرل پرویز مشرف اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ عوامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں جو یقیناً پی پی پی کے سابقہ دعوؤں کی مکمل نفی کے مترادف ہے اور بے نظیر کے ہر قیمت پر حصول اقتدار کی خواہش کا اظہار ہے البتہ میاں نوازشریف جو نہ صرف ایک جرنیل کی پیداوار ہیں اور اپنے آپ کو ضیاء الحق کا سیاسی وارث قرار دیتے رہے ہیں اور پرویز مشرف کیس میں سزا ہونے پر سعودی حکومت کی مدد سے جان بچا کر فرار ہونے کا داغ بھی ان کے ماتھے پر لگا ہوا ہے لیکن اب انہوں نے جرنیل کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرکے عوامی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء و مثبت پیش رفت ہے۔

12 مئی 2007ء کو صدارتی ریفرنس کے خلاف وکلاء تحریک اور چیف جسٹس کے جلوس کے جواب کے طور پر کراچی میں صدر کی خصوصی زیر شفقت جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے کھلم کھلا دہشت گردی میں سینکڑوں معصوم شہریوں کی جانیں چلی گئیں اور ٹی وی اسٹیشنوں پر مسلح افراد کئی گھنٹوں تک حملے کرتے رہے ہیں بار بار مدد کی درخواست کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد کو نہ پہنچا اور صدر نے اسی شام اسلام آباد میں جشن منایا اور کراچی کی غنڈہ گردی کو عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے متنازعہ ترین آپریشن اور ہزاروں بے گناہوں و معصوموں کے قتل کے بعد امریکہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے پاکستان کے جس علاقہ میں بھی انہیں خدشہ ہوا کہ دہشت گرد ہیں وہاں براہ راست امریکی فورسز حملے کریں گی امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کا کہنا ہے اگر وہ صدر بنے تو اعتراض کے باوجود امریکی فورسز کو پاکستان میں القاعدہ پر حملوں کا کہوں گا کیونکہ اصل میدان جنگ پاکستان ہے۔ یہ سب سے پہلے پاکستان کے نظریہ کے موجد کو سوچنا چاہئے اب نیا نظریہ کون سا کام آئے گا۔

ہم نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹم بم بنانے کے "جرم" میں کئی برسوں سے قید میں ڈال رکھا ہے اور بیرونی آقاؤں کے حکم پر ان کو ٹی وی پر لا کر ان سے اقبال جرم کروا کر ملک و قوم کی عزت کو خاک میں ملانے سے بھی دریغ نہ کیا ہے۔
آزاد عدلیہ شروع سے ہی حکمرانوں کی "ضد" رہی ہے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کی بڑھکیں اور اقتدار میں آ کر عدلیہ کو بھی کابینہ کی سی حیثیت دینے کی خواہش۔ بے نظیر بھٹو نے تو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سجاد علی شاہ چیف جسٹس کی جگہ جہانگیر بدر کو چیف بنانے کی خواہش ظاہر کردی تھی جو اعتزاز احسن کی مہربانی سے عدلیہ اس "کرم" سے بچ گئی میاں نواز شریف نے توہین عدالت کی کارروائی پر سپریم کورٹ پر باقاعدہ حملہ کروا دیا اور اب پرویز مشرف کی طرف سے نو مارچ کا واقعہ ہمارے عادلانہ اور جمہوری مزاج کی بھرپور عکاسی کے لئے کافی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی میں ہوتے ہوئے بھی جاتی ہوئی اسمبلی سے آئندہ پانچ سال کی مدت کے لئے انتخاب کی خواہش اور اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور اور جوڑ توڑ ہمارے اقتدار برائے خدمت کے نظریہ کی وضاحت کے لئے کافی ہے ہمارے حکمرانوں نے شاید اسلامی تاریخ اور خلفاء راشدینؓ کی حکومت کے واقعات کا مطالعہ نہیں کیا خلیفہ وقت تمام رات سو نہ سکتا تھا حضرت عمر فاروقؓ دوپہر کے وقت شدید گرمی میں کہیں جا رہے تھے حضرت علیؓ نے دریافت فرمایا تو بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا ہے اس کی تلاش میں نکلا ہوں انہوں نے کہا کسی ملازم کو اس کام پر روانہ کر دیتے تو جواب دیا قیامت کو اس کی جواب طلبی مجھ سے ہو گی پھر کہا اس وقت تو شدید گرمی ہے تھوڑی دیر بعد تلاش کر لیں جب گرمی کی شدت کم ہو جائے تو جواب دیا دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ شدید ہو گی۔ لیکن حکومتی خزانہ کو جی بھر کر لوٹنے والوں کو نیب کے ذریعے ہم نوا بنا کر وزیر بنا دیا جاتا ہے تا کہ مزید لوٹ مار کر سکیں اور دیانتدار افسروں کو چند سو روپوں کی کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

سیاسی دانشوروں کا خیال ہے بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے اس وقت بھی آمریت مزیداپنے پنجے گاڑھنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اورآمرانہ ذہن کے مالک لیڈران جو جمہوری لبادہ میں عوام کو عرصہ سے بے وقوف بناتے چلے آ رہے ہیں اس آمریت کے استحکام کے ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔ بقول شاعر
ہیں کواکب کچھ نظر آئے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
فوج جیسا اہم ملکی ادارہ جس کے لئے کبھی عوام آنکھیں بچھانے کو تیار ہوتے تھے اور بچوں کو فوج میں بھرتی کروانا ہر والدین کا خواب تھا اس ادارہ کی صورت یہ ہو چکی ہے فوجی گاڑیوں کو چھاؤنی سے باہر اور جوانوں کو وردی میں عوامی مقامات پر جانے کی ممانعت ہے اور فوجی ایریا میں بھی خصوصی تحفظ کا بندوبست کیا گیا ہے جو پاکستان کے لئے اور اس کے استحکام کے لئے اچھی اور نیک فال نہیں ۔
14 اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں تھے اور اب 14 اگست 2007ء کو ہم بالواسطہ بیرونی آقاؤں کی غلامی میں ہیں کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں بلکہ ہم تو اپنے سکولوں کا نصاب بھی خود تیار نہیں کر سکتے اور موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے اور پاکستان کی مختصر سی تاریخ غلامی سے لبریز ہے ان حالات میں ہمیں 14 اگست 2007ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے یا سوگ؟؟؟’’ ۔ بقول نثار ناسک
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ دے
ماخذ:سنڈے میگزین روزنامہ جناح