اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 28, 2008

فراز تجھے سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


احمد فراز چودہ جنوری 1931 کو نوشہرہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے
اقبال اور فیض کے بعد قبولِ عام کا جو درجہ فراز کو حاصل ہوا وہ اُردو شاعری میں اور کسی کو نصیب نہ ہوا۔

1976 میں وہ اکادمی ادبیات کے بانی ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور بعد میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی نگرانی بھی انھیں سونپی گئی۔ سن 2004 میں انھیں ادبی خدمات کے صِلے میں ’ہلالِ امتیاز‘ بخشا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے صدر مشرف کی پالیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ اعزاز واپس کردیا۔
قبل ازیں وہ صدر ضیا الحق کے دور میں حکومت کے زیرِ عتاب رہے۔

ایک شاعر کے طور پر فراز اگرچہ صحتِ زبان کے ساتھ ساتھ اوزان و بحور پر دسترس اور شعر کی تکنیکی باریکیوں سے واقفیت کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اس کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شحضیت اگرچہ اُن کا سیاسی آئیڈیل تھی لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ ملک کی سیاسی صورتِ حال سے سخت نالاں تھے۔ ججوں کی برطرفی ان کے نزدیک مشرف کا انتہائی بد ترین اقدام تھا اس ھوالے سے انہوں نے بیماری کی حالت میں تیرہ جون 2008کواسلام آباد میں ہونے والے لانگ مارچ میں شرکت کی اور سات آٹھ گھنٹے نعرے لگاتے رہے ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کو نوکریاں، وزارتیں، ٹھیکے اور پرمٹ دِلوانے والے کمیشن ایجنٹوں کا ایک گروہ قرار دیتے رہے۔

میڈیا پہ ہونے والی گفتگو کے دوران انھوں نے این آر او کو رشوت کی ایک قِسم قرار دیا تھا جس کے ذریعے عوام کا اربوں روپیہ لوٹ لے جانے والے ٹھگ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ سانحہ لال مسجد پر بہت دل گرفتہ رہے۔سیاسی جرنیلوں کرنیلوں کے شروع سے ہی خلاف رہے حالانکہ ان کی اولاد فوج میں اعلی عہدے کی حامل ہے۔وہ فوج کے خلاف نہیں تھے بلکہ فوج کے سیاسی کردار کے خلاف تھے۔اور فوج کو صحیح معنوں میں اپنے اصل پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔
فراز بظاہر آج ہم میں نہیں رہے لیکن اپنی جرات مندانہ شاعری کے حوالے سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
فراز تجھے سلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 فراز کی اس نظم کے عکس میں آج کے وزیرستان’سوات اور دیگر قبائلی علاقوں کی تصویر ملاحظہ کیجئے

تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو
ہم لوگ محبت والے ہیں، تم خنجر کیوں لہراتے ہو
اس شہر میں نغمے بہنے دو، اس شہر میں ہم کو رہنے دو
ہم پالن ہار ہیں پھولوں کے، ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے، ہم پیار سکھانے والے ہیں
اس شہر میں پھر کیا دیکھوگے، جب حرف یہاں مرجائےگا
جب تیغ سے لے کٹ جائے گی، جب شعر سفر کرجائےگا
جب قتل ہوا سب سازوں کا، جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا، پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں، جب دیکھوگے، ڈر جاؤ گے

 
آمریت کے حوالے سے فراز کی ایک معروف نظم
 
میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے
فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہے لشکری اس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دارورسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پے ایوانِ کج نگاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے شناگر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا ،میرے عدو کے لئے
کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدیدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا۔۔۔۔۔۔
 

August 15, 2008

تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟

شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
 
 
 
 
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں  پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟
اَب اور کتنی دیر یہ وَحشت، یہ ڈر، یہ خوف؟
گرد و غبارِ عہد ستم اور کتنی دیر؟
دَامن کے سارے چاک، گریباں  کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم، تو بہم، اَور کتنی دیر؟
شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟
 

May 14, 2008

آصف مشرف بھائی بھائی ………. شیر نے آخر گھاس ہی کھائی

جیسے اُس سے پہلے نکلے
زرداری بھی ویسا نکلا

قوم نے پھر سے ناک کٹائی
وردی لائی دیا سلائی

رحمان ملک نے آگ جلائی
ملک قیوم نے کھیر پکائی
کالے کوٹ کی شامت آئی
آصف مشرف بھائی بھائی
شیر نے آخر گھاس ہی کھائی

آس کے پتے جھڑ گئے سارے
شیدے شوکی ڈر گئے سارے
دعوے سان پے چڑھ گئے سارے
جسٹس وسٹس وڑ گئے سارے

تو اے بھولے پاکستانی
بھول کے سب کچھ کھوجا اب تو
بند کر ٹی وی سو جا اب تو!

May 5, 2008

واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی

 
واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشانی
وزیر اعظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گیلانی
سپیکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زنانی
آٹا نہ روٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی نہ پانی
واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ابھی تک باقی ہے
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سحر کا انتظار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

February 25, 2008

تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟

شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
 
 
 
 
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں  پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟
اَب اور کتنی دیر یہ وَحشت، یہ ڈر، یہ خوف؟
گرد و غبارِ عہد ستم اور کتنی دیر؟
دَامن کے سارے چاک، گریباں  کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم، تو بہم، اَور کتنی دیر؟
شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟
 

November 10, 2007

یزید چَین سے مسند نَشِین آج بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صعوبتوں  کے سفر میں ہے کاروان حسین
 
جھکے گا ظلم کا پرچم یقین آج بھی ہے
میرے خیال میں  دنیا حسین آج بھی ہے
بہت ہوا ئیں  چلیں  میرا رخ بدلنے کو
مگر نگاہ میں  وہ سرزمین آج بھی ہے
صعوبتوں  کے سفر میں ہے کاروان حسین
یزید چین سے مسند نشین آج بھی ہے
 
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

قائداعظم کے اِس تحفے، محمد الرسول اللہ کی اِس عطا کو
 زندہ رہنا ہے، سرفراز رہنا ہے
ابھی مجھے اِک دَشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
ایک مسافت ختم ہوئی ہے، ایک سفر ابھی کرنا ہے
ڈر جانا ہے دَشت و جبل نے تنہائی کی ہیبت سے
آدھی رات کو جب مہتاب نے تاریکی سے اُبھرنا ہے
یہ تو ابھی آغاز ہے جیسے اُس پہنائے حیرت کا
آنکھ نے اور سنور جانا ہے، رنگ نے اور نکھرنا ہے
 
 

November 9, 2007

جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں گا وہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔

ضابطہ
یہ ضابطہ ہے، کہ باطل کو مت کہوں  باطل
یہ ضابطہ ہے، کہ گرداب کو کہوں  ساحل
یہ ضابطہ ہے، بنوں  دست و بازوئے قاتل
یہ ضابطہ ہے، دَھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل
یہ ضابطہ ہے، کہ غم کو نہ غم کہا جائے
یہ ضابطہ ہے،  ستم کو کرم کہا جائے
بیاں  کروں ، نہ کبھی اپنے دل کی حالت کو
نہ لاؤں ، لب پہ کبھی شکوہ و شکایت کو
کمالِ حسن کہوں  عیب کو، جہالت کو
کبھی جگاؤں ، نہ سوئی ہوئی عدالت کو
یہ ضابطہ ہے، حقیقت کو اِک فسانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، قَفس کو بھی آشیانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، کہوں  دشت کو، گلستاں  زار
خزاں  کے روپ کو، لکھوں  فروغِ حسن بہار
ہر ایک دشمن جاں  کو، کہوں  میں  ہمدم و یار
جو کاٹتی ہے سَرِ حق، وہ چوم لوں  تلوار
خطا و جرم کہوں ، اپنی بے گناہی کو
سحر کا نور لکھوں ، رات کی سیاہی کو
جو مٹنے والے ہیں ، اُن کیلئے دَوام لکھوں
ثنا یزید کی، اور شمر پر سلام لکھوں
جو ڈَس رہا ہے وطن کو ، نہ اُس کا نام لکھوں
سمجھ سکیں  نہ جسے  لوگ ، وہ کلام لکھوں
دروغ گوئی کو، سچائی کا پیام کہوں
جو راہزن ہے، اُسے رہبر عوام کہوں
مرے جنوں  کو ، نہ پہنا سکو گے تم زنجیر
نہ ہوسکے گا کبھی ، تم سے میرا ذِہن اسیر
جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں  گا وہ تحریر
متاع ہر دو جہاں  بھی نہیں ، بہائے ضمیر
نہ دے سکے گی ، سہارا تمہیں  کوئی تدبیر
فنا تمہارا مقدر، بقا مری تقدیر

November 3, 2007

اس قوم کو اب تم معاف کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجرم بھی تم منصف بھی تم ، کیا تم سے کہیں انصاف کرو
بس وطن کی ایک گذار سنو ، اس قوم کو اب تم معاف کرو

اس دیس کے دھارے دیکھتے ییں
سب درد کے مارے پوچھتے ہیں

کیا اب بھی تم کو یاد ہیں دن جب لٹ کے لوگ یاں آتے تھے
آزاد فضا کی آس میں سب وہ اپنا سوگ مناتے تھے

کیا تم کو صدائیں یاد نہیں اٹھتی تھیں جو ہر زینے پر
وہ بوڑھے بچے مرد جواں قرباں ہوئے پاک نگینے پر

پھر تم نے کیا تھا عہدِ وفا اپنے سب پاک شہیدوں سے
بھائیوں کے سینے چاک کئے ، کھیلے تم سب امیدوں سے

میں بلوچ پٹھان تو پنجابی‘ بنگلہ سندھی کو کاٹ دیا
تفریق کو تم نے ھوا دے کر میری مٹی کو یوں بانٹ دیا

کبھی آزادی کے نام پہ سب یہ خواب سہانے بیچے ہیں
کبھی آڑ بھی مذہب کی لے کر لباس جسم سے کھینچے ہیں

کیا نالے ان کے یاد نہیں سہاگ جنہوں نے گنوائے تھے
بہنوں کی آہیں بھول گئےسب ویر جنہوں نے لٹائے تھے

راشد کی وفائیں بھول گئے بھٹی کا مقصد یاد نہیں
جو کمزورں کی چیخ سنے تم وہ قاسم زیاد نہیں

اپنے شہروں میں آگ لگا تم نے سب کو محصور کیا
خاموشی سے معصوموں کو پھر مرنے پر مجبور کیا

سب خوابوں کو سب وعدوں کو تبدیل کیا ہے رونے میں
ہے اپنے لئے پھر بیچ دیا اس دیس کو چاندی سونے میں

ہیں صرف اناؤں کی خاطر کتنے دل پھر ناشاد کئے
اپنے اک آج کی خاطر پھر، کل کتنوں کے برباد کئے

مجرم بھی تم منصف بھی تم ، کیا تم سے کہیں انصاف کرو
بس وطن کی ایک گذار سنو ، اس قوم کو اب تم معاف کرو

ضیاء عثمانی

August 14, 2007

*دل بے خبر ذرا حوصلہ*

آج کے پیارے دن جو کہ آزادی’محبت’غلامی اور نفرت’غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات پر مشتمل ہے کے اظہار کےلیے اپنے پاس جو الفاظ ہیں وہ کچھ بے ترتیب ہو رہے ہیں۔لہذا اس سلسلے میں محترم امجد اسلام امجد کا سہارا لے رہا ہوں ان کی شاعری کا شکریہ کہ جو میں اب کہنا چاہتا ہوں وہ بہت پہلے کہہ چکے ہیں۔مندرجہ بالا بہتے ہوئے جذبات کے دریا کو انہوں نے کس طرح کوزے میں بند کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں  جہاں  ہر مکین ہو مطمئن
کوئی ایسا دن بھی کہیں  پر ہے جسے خوف آمد شب نہیں
یہ جو گرد باد زمان ہے یہ ازل سے ہے کوئی اب نہیں
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
ترے سامنے وہ کتاب ہے جو بکھر گئی ورق ورق
ہمیں  اپنے حصے کے وقت میں  اسے جوڑنا ہے سبق سبق
ہیں  عبارتیں  تو جدا جدا مگر ایک اصل سوال ہے
جو سمجھ سکو تو یہ زندگی کسی ہفت خواں  کی مثال ہے
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
نہیں  مستقل کوئی مرحلہ
یہ جو شب نما سی ہے بے دلی یہ جو زرد رو سا ملال ہے
کیا عجب کہ کل کو یقیں  بنے، یہ جو مضطرب سا خیال ہے!
دل بے خبر ذرا حوصلہ
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امجد اسلام امجد

صبح آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض

August 7, 2007

آ ٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ ٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
روئےجب بھی رات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کو جب گہری کالی برکھا کی
سونپ گیا سوغات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بھی جب چھوڑ کے واپس پلٹے تھے
تھاما اس نے ہاتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو ہر نقصان پہ حاوی ضبط رہا
بکھر گئی جب ذات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو آنکھوں میں حیرت ٹہری تھی
سمجھ میں آئی بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات بچھڑنے پر ہی ختم نہیں ہوتی
چلا جو کوئی ساتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر الزام کو سہنے کا کچھ عہد تو تھا
اور چھڑی جب بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرن رباب نقوی
 

August 6, 2007

کن کی غیرت کو للکارا تم نے اے بد بختو۔۔۔۔۔

 

پاکستانی مسلمان خواہ سیکولر ہو یا مذہبی’روشن خیال ہو یا بنیاد پرست ‘سیاسی ہو یا غیر سیاسی’اہلکار ہو یا افسر’ اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس معاملے میں اس کی دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھمکی دے جو مکہ اور مدینہ پر حملے کی
گردن کیوں نہ مروڑی جائے بڑھ کر اس پگلے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لعنت ایسے امریکی پر’اس کے ہر حامی پر
انکل سام کے ہر چوزے پر’ایسے ہر ٹامی پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کن کی غیرت کو للکارا تم نے اے بد بختو
جب وہ اٹھیں گےملکرتو مہلت نہ ملے گی تمکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیرو شیما ناگا ساکی پر جو قیامت ڈھائی
نصف صدی بیتی’پر تمکو اس پر شرم نہ آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تصویر دکھائی تم نے اپنی دہشت گردو
ویتنام پہ ظلم کیا تھا ‘بھولے گا کون اسکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان ’ اور عراق میں کتنا خون بہایا
جس پر چاہا چڑھ دوڑیں گے’کیا دستور بنایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسی کل سیدھی ہے تیری۔۔؟ شترمثال’امریکہ
کینے سے پھٹنے کو ہے اب’ تیری کھال امریکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پر یہ تہذیب کا غرہ؟ کہو’مثالی اس کو
ٹھہرے یہ تہذیب’تو کہیے بد تہذیبی کس کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ہیں جہاں میں امن و اماں ‘انصاف اور عدل کے داعی
ظلم اور جبر جہاں بھی ہو گا کریں گے اس کی صفائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی زبان اور ذہن و عمل پر قابو رکھنا سیکھو
طاقت کے نشے میں نہ ہرگز ‘اپنی حقیقت بھولو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزت کرنا سیکھو سب کی۔۔۔۔۔۔سیکھو ملکر جینا
ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ اک دن جام ہلاکت پڑ جائے گا پینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبرت کی تصویر بنو گے ‘پرزے پرزے ہو کر
ٹوٹے گا یوں قہر خدا کا۔۔۔۔۔۔سبق یہ کر لو ازبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حفیظ الرحمان احسن