اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: طب یونانی اور ہومیو پیتھک کو عطائیت قرار دینا آئین پاکستان کی توہین ہے :: November :: 2011

طب یونانی اور ہومیو پیتھک کو عطائیت قرار دینا آئین پاکستان کی توہین ہے

طب یونانی قومی ورثہ ہے ‘جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا:حکیم قاضی ایم اے خالد
ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیانے بلامعاوضہ اہم کردار ادا کیا’کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور یکم نومبر:مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میںملکی و غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق وطن عزیز میں سرکاری طور پر تین طریقہ علاج یعنی طب یونانی’ ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک منظور شدہ ہیں۔اپنے اپنے طریق علاج کے اندر رہتے ہوئے پریکٹس عطائیت نہیں کہلا سکتی۔لہذا کسی بھی طریق علاج کے ماہرین کی طرف سے آئینی وقانونی طور پر تسلیم شدہ طریق علاج کو عطائیت قرار دیناقابل مذمت فعل اور آئین پاکستان کی توہین ہے ۔غیرملکی مفاد کے علمبردار’ ملٹی نیشنل دواسازاداروں کے تنخواہ دار’ایلوپیتھک فیملی فزیشنز کی طرف سے’ طب یونانی کودیوار سے نہیںلگنے دیںگے۔طب یونانی قومی ورثہ اور پاکستانی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔حکیم خالد نے کہا کہ طب یونانی کے کاروان میں بی ای ایم ایس ڈگری ہولڈرز’گریجوایٹس اور پوسٹ گریجوایٹس اطباشامل ہو چکے ہیں جو یقیناً متعصب طریقہ علاج کی مقبولیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اطباء اور ہومیو ڈاکٹرز کو سرٹیفکیٹس کے اجرا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی خالد نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سربراہ کی خصوصی ہدایات پر یہ ضروری ہے ایلوپیتھک فیملی فزیشنز احمقوں کی جنت میں بس رہے ہیںدنیا میں کیا ہو رہا ہے اس کیلئے انہیں اپنا نالج اپڈیٹ رکھنا چاہئے ۔ یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ جب حکومت’بیوروکریسی اور ایلوپیتھک ماہرین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اس وقت ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیا اپنا کرداربغیر کسی معاوضہ کے اداکر رہے تھے۔ڈینگی اویرنس کے حکومتی سیمینارز و تربیتی ورکشاپس میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنز’پاکستان بھر کی عوام کو بہت پہلے بتا چکی ہے۔اس سلسلے میںالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکا چھ ماہ کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ایلوپیتھک میں ڈینگی بخار کا کوئی علاج نہیں ہے۔2006میں سب سے پہلے کونسل آف ہربل فزیشنز نے ہی انتباہ کیا تھا کہ ڈینگی کے مریضوںکو اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کروائی جائیںکیونکہ وائرس کو ختم کرنا بعض وائرل ڈیزیزز میں مرض کی بجائے مریض کو ختم کرنا ہے یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی دنیا بھر کے معالجین کے کام آ رہی ہے کہ صرف جراثیم اور وائرس کے خاتمے پر زور دینے کی بجائے مدافعتی نظام کے غلبہ کیلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔ڈینگی وائرس میںانارو سیب کاجوس شہد اور پپیتے کے پتوں سے شفا یابی اس کی واضح مثال ہے۔ لہذا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان کی ہدائت کے مطابق محکمہ ہیلتھ پنجاب ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی تربیت کیلئے طب یونانی کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرے۔

4 Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2011/11/01/p407/trackback/

  1. جناب ۔ کون ايسا بيوقوف ہے جو طبِ يونانی يا طبِ اسلامی کو عطائيت کہے ؟

    Comment by افتخار اجمل بھوپال — November 1, 2011 @ 2:20 pm

  2. انکل اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بے وقوف ۔۔۔۔۔۔پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تفصیلات یہاں موجود ہیں

    Comment by hakimkhalid — November 1, 2011 @ 2:47 pm

  3. کيا يہ اکيڈيمی آف فيملی فزيشنز حکومت سے منظور شُدہ ہے ؟ يہ تو کچھ پرائيويٹ پريکٹس کرنے والے خون چُوس لگتے ہيں

    Comment by افتخار اجمل بھوپال — November 2, 2011 @ 8:46 am

  4. ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی تشخیص سوفیصد درست ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکل اجمل۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں کے بیشتر کلینکس میں میٹرک فیل ڈسپینسر ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو ڈاکٹر صاحب کی عدم موجودگی میں عطائیت پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرکاری سطح پر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔۔۔۔۔اور اس طرح کی چھ سات سوسائٹیز ناچیز نے بھی رجسٹرڈ کروارکھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Comment by hakimkhalid — November 2, 2011 @ 1:25 pm

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>