اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: ڈینگی بخارکے مریض تازہ جوس اور پھل زیادہ استعمال کریں:حکیم قاضی خالد :: September :: 2011

ڈینگی بخارکے مریض تازہ جوس اور پھل زیادہ استعمال کریں:حکیم قاضی خالد

 
گھروں میں گوگل اور ہرمل کاقدیم ہربل اسپرے کیا جائے:کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور:تازہ جوس اور پھلوں کا استعما ل نہ صرف غذائی کمی کو دور کرتاہے بلکہ ‘’بلڈ پلیٹ لیٹس’’ اور قوت مدافعت میں اضافہ کرکے ڈینگی بخار کی مرض کو جلد ختم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جس کی تصدیق و تائید پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام طریقہ علاج کے معالج کر چکے ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ مصیبت کے اس وقت میں تمام طریق علاج کے معالجین کو بغیر کسی تعصب کے متحد ہوکر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں حکیم خالد نے کہا کہ ڈینگی فیور کے نوے فیصد مریض نظام انہضام کی خرابی’متلی اور قے کی وجہ سے ٹھوس غذا کھانے سے عاری ہوتے ہیں۔ایسے میں سیب’ اناریا دیگر پھلوںکے فریش جوسز انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں یہاں یہ یاد رہے کہ ڈبہ بند فلیورڈ جوس نقصان دہ ہیں۔اسی طرح دیگر موسمی پھل انگور ‘سردا’گرما’میٹھااور پپیتہ وغیرہ نہ صرف غذائی کمی کو دور کرتے ہیں بلکہ ‘’پلیٹ لیٹس’’ اور قوت مدافعت میں اضافہ کرکے مرض کو جلد ختم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیںلیکن جوسز کا استعمال مکمل علاج کے متبادل کے طورپر نہیں بلکہ معاون کے طور پر لینا چاہئے۔پپیتہ کے استعمال کے حوالے سے سوال کے جواب میں قاضی خالد نے کہا کہ سری لنکن میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرہسیتھا ٹیسیرانے بھی اسے یکسر مسترد نہیں کیا۔پپیتہ متلی ‘قے اور دیگر معدہ کے امراض میںسائنسی طور پر شفایاب ثابت ہوا ہے۔لہذا اگر اسے علاج کے طور پر نہ بھی لیا جائے توبھی ڈینگی مریضوں کیلئے یہ ایک اچھی صحت بخش غذا ہے۔ڈینگی فیور سے متاثرہ افرادکیلئے وٹامن کے’ وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک مفید ہے۔یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پرسرکاری مچھر مار اسپرے کا انتظار کرنے کی بجائے صدیوں سے آزمودہ’  جسے دنیا کا پہلا گھریلوہربل اسپرے قرار دیا جا سکتا ہے ‘اپنی مدد آپ کے تحت خود گھروں میں کر لیا جائے۔یہ صرف دو اجزاء ہرمل اور گوگل پر مشتمل ہے یہ اسپرے جلتے ہوئے کوئلوں پر مذکورہ اشیا ء چھڑک کر کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔عوام الناس سے درخواست ہے کہ اپنی دوکانداریاں چمکانے والے نام نہاد حکماء کی بجائے ڈینگی بخارکے علاج کیلئے کوالیفائیڈتعلیم یافتہ’بی ای ایم ایس یونانی گریجوایٹ ‘پوسٹ گریجوایٹ اطبا ء سے رجوع کریں۔
٭…٭…٭
NEWS@HEALTHLINEINT.CO.CC
QAZIMAKHALID@WHO.NET

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2011/09/16/p405/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>