اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: چھ اگست 1945ء انسانی تاریخ کا بدترین دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :: August :: 2010

چھ اگست 1945ء انسانی تاریخ کا بدترین دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 
  چھ اگست 1945ء انسانی تاریخ کا بدترین دن کہ جس دن ایک درندے نے حیوانیت کی انتہا کردی۔جی ہاں یہ درندہ امریکہ ہی تھا۔جس کی درندگی اس المناک واقعہ کے 65سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔
 یہ وہ دن تھا جب عالمی دہشت گرد امریکہ نے صبح 8:15منٹ پر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کے بہیمانہ دہشت گردی کی۔ ماہرین کے مطابق ایٹم بم کے گرنے سے اٹھنے والے مشروم نما دھوئیں میں43سیکنڈ کے اندر 66000معصوم جانیں دفن ہوگئیں پھر فضا میں تابکاری گیس کی وجہ سے اور زخمیوں کی ہلاکت چند ہی دنوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 140000تک پہنچا دی ۔ اس بم کے اثرات 65سال گزرنے کے بعد بھی آج تک محسوس کئے جاتے ہیں ۔
 
 
 المیہ یہ ہے کہ ایک ایٹم بم کے گرنے سے پیدا ہونے والی تباہی سے جس میں 1.40000معصوم ا فراد ہولناک سانحہ کی نظر ہوگئے اوروہ شہر کھنڈر بن گیا اس کے باوجود بھی دنیا کی آنکھیں نہ کھلیں حقیقت یہ ہے کہ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اس المناک قیامت خیز سانحے کے بعد تو انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ایٹم بم کے وجود کو دنیا سے بالکل ختم کردینا چاہیے تھا ۔ مگر بالکل اس کے برعکس ہوا بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ایٹم بم کی دوڑ میں بھرپور حصہ لے کر دنیا کو انتہائی غیر محفوظ بنا کررکھ دیا ۔اب صورتحال یہ ہے کہ دنیا بارود پر بیٹھی ہے ۔
 
 
 ذرا تصور کریں 9/11کے خود کش حملوں کے نتیجے میں کم و بیش 3000 جانیں گئیں جبکہ 7/7میں 56 افراد ہلاک ہوئے۔ بڑی طاقتوں نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر ایک ایک منٹ کی متعدد بار خاموشی کرکے دکھ کا اظہار کیا ۔9/11کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کا ایک بڑی تقریب میں نام لے کر افسوس کیا جاتا ہے ۔
 مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ ان 1,40000 انسانوں کی ہلاکت پر ان کا کوئی نام لینے والا نہیں ۔ اگر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہر سال 6اگست کو ایٹم بم سے مرنے والوں کی یاد میں پوری دنیا میں بڑی بڑی تقریبات منعقد کرکے ایٹم بم کے خاتمے کے خلاف اگرمہم چلاتیں تو دنیا جتنی آج غیر محفوظ ہے وہ نہ ہوتی لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے خاموشی اختیار کیے رکھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا آج بارود پر بیٹھی ہے ۔
 

 
 ایٹم بم کی تباہی سے ہزاروں خاندان ایک ہی دھماکے کی نظر ہوگئے ہزاروں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے جو کبھی بھی زندہ ہونے کے باوجود کبھی بھی ایک دوسرے سے نہ مل سکے ۔6اگست 1945ء کا دن تاریخ کا بدترین قیامت خیز ہولناک دن تھا جس پر تاریخ بھی خون کے آنسو بہاتی رہے گی ۔
 

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2010/08/06/p349/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>