اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: ڈاکٹر شاہد مسعود۔۔۔۔۔اے آر وائے، جیو اور عوامی ترجمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :: July :: 2010

ڈاکٹر شاہد مسعود۔۔۔۔۔اے آر وائے، جیو اور عوامی ترجمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  ڈاکٹر شاہد مسعود جیسا صحافی جس ادارے میں بھی ہوتا ہے اس ادارے کی پالیسی کے مطابق چلنا اس کے بس میں نہیں ہوتا بلکہ اس ادارے کی پالیسی کو  (اپنی آزادی رائے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے) اپنے مطابق بنانے کےلیے پالیسی سازی میں بھی شریک ہو جاتا ہے۔متعلقہ ادارے کے مالکان اگر کسی وجہ سے حکومتی دباو برداشت نہ کر سکیں تو پالیسی سے عدم مطابقت ڈاکٹر صاحب جیسے صحافی کو اس ادارے سے علیحدگی پر مجبور کر سکتی ہے۔
اپنے فرائض کی ادائیگی کےلیے ایسے فرد کو ادارہ جگہ یا مقام تبدیل ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔،
 
جیو اور جنگ گروپ نظریاتی نہیں بلکہ ایک کمرشل ادارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور وطن عزیز میں یہود و ہنود کے مفادات اور مختلف ایجنڈوں پر عمل پیرا ہے جو نظریہ پاکستان و دین اسلام سے متصادم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی تکمیل کے حوالے سے حالیہ جیو اور حکومتی ڈیل کے تحت ڈاکٹر شاہد مسعود کو پھر ہجرت کرنا پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میڈیا پر نظر رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی خو شامد کرنے والے چمچہ گیر صحافیوں کی زیادہ تر کھیپ جیو اورجنگ گروپ میں جمع کی جا چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرح میڈیا بلیک آوٹ کی جدید تکنیک کو اپنایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کامران خان، حامد میر ، سلیم صافی، افتخار احمد،حسن نثار کی ٹون میں تبدیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نذیر ناجی اور آفتاب اقبال تو ہیں ہی حکومتی پ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
جیو ٹی وی سے حکومت مخالف راگ الاپنا بند کرکے اب سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔۔۔کچھ مہینے پہلے کی بات ہے یہی لوگ تھے جو بار بار ۔۔۔اب تاج اچھالیں جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی رٹ لگائے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بات عیاں ہے کہ جیو کا کام ہی چڑھتے سورج کی پوجا کرنا ہے۔ عوام اب جیو کی اصلیت سے واقف ہوچکے ہیں۔ 

اس وقت تک جب تک حقیقی عوامی ترجمانی ڈاکٹر صاحب اور اے آر وائے کے ذریعے ممکن العمل ہو۔۔۔۔۔۔
 اے آر وائے اور ڈاکٹر صاحب کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔

بہر حال میں امید کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود جہاں بھی رہیں اپنی پیشہ وارانہ
خدمات اسی جذبے جوش اور ایمان داری سے سر انجام دیتے رہیں
جس کی مجھ سمیت وطن عزیز کے سترہ کروڑ افراد ان سے توقع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6 Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2010/07/14/p339/trackback/

  1. میں سخت حیران ہوں کہ حامد میر کے مقابلے ڈاکٹر صاب کو آپ پریفر کر رہے ہیں۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ جنرل مشرف کی کس خدمت کے عوض ڈاکٹر صاحب ایم ڈی پی ٹی وی بنے تھے اور ان کی تنخواہ کیا تھی؟
    ڈاکٹر صاب کا انداز جدا تھا مگر ہیں دراصل وہ بھی حکومتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Comment by بدتمیز — July 14, 2010 @ 2:07 pm

  2. جیو کے بارے میں میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔ ان کی ہوا ادھر ہی چلتی ہے جدھر سے نوٹوں خصوصاً ڈالروں کی خوشبو آئے

    Comment by Saad — July 14, 2010 @ 3:12 pm

  3. درست ہے بدتمیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حامد میر کا اپنا انداز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کا اپنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا پریفر کرنے کی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ بھی ادراک کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔جیو اور جنگ گروپ میں موجود مندرجہ بالا اہل صحافت کی ٹون تبدیل پائیں گے۔۔۔۔۔جو ان کی مجبوری ہے۔۔۔۔میرا اشارہ سمجھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۲۰۰۴ سے کم و بیش تین سال تک اپنے ایک ادارے کی طرف سے اسلام آباد میں موجود رہا۔۔۔۔۔۔۔۔کام کے دوران کم وبیش روزانہ ہی حامد میر سے واسطہ پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے قریب سے جاننے کی وجہ سے میں ان کی صلاحیتوں کا معتقد و معترف ہوں اور ڈاکٹر صاحب سے تقابل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس اندر کی بات سے آگاہ ہوں جو باہر کسی اور نوعیت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایم ڈی پی ٹی وی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح ہم سب نے چیف جسٹس صاحب کی بعض معیوب باتوں کو بھلا دیا ان کے قابل فخر اقدام کی وجہ سے بعینہ ڈاکٹر صاحب کے اس اقدام کو بھلا دینا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری رائے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کا اظہار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی رائے بھی سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر صاحب کو حکومتی کہنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وطن عزیز کی استقامت کے کچھ ادارے تو ہیں ڈاکٹر صاحب کی پشت پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Comment by hakimkhalid — July 14, 2010 @ 6:33 pm

  4. بالکل سعد بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ تائید کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خبروں سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے حوالے سے تو ڈالر مل ہی رہے ہیں اس ادارے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن صحافت سے کچھ آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مخصوص پراپیگنڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصاً جعلی ویڈیو۔۔۔۔۔۔۔۔اور کئی دیگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کئی ملک و اسلام دشمن ایجنڈوں کی تکمیل میں آلہ کار بننے میں جو ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس بارش میں جیو سمیت چند اور چینلز کے مالکان بھی نہارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے عوام آگاہ ہو چکی ہے

    Comment by hakimkhalid — July 14, 2010 @ 6:55 pm

  5. عکسِ ضمیر (کا لم)
    از۔۔ڈاکٹر حافظ محمّد شاہد امین (ایم بی بی ایس، ڈی ایل او))
    گجرانوالہ 15 جون 2010 drshahee@yahoo.com

    تمام مسلمانوں کےلئی ناموسِ رسالت ﷺ پر ایک اور امتحان
    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرفیس بک نامی ویب سائیٹ کو بند کر دیا گیا تھا یہ ایک نہایت مستحسن قدم تھا جس سے کروڑوں مسلمانوں کو کسی حد تک دلی اطمینان ملا جو کہ وقتی ثابت ہوا کیونکہ فیس بک کو اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اور اسی فیس بک کے چلانے والوں نے ایک اخباری اطلاع کے مطابق 20 جون 2010کو توہین آمیز وگستاخانہ کارٹونوں اور خاکوں کے ایک عا لمی مقابلی کا اعلان کیا ہے (استغفراﷲ، معاذاﷲ)کہ جس میں پوری دنیا کے غیرمسلم ان توہین آمیز خاکوں میں مقابلہ کریں گے اور اوّل آنے والے یعنی(استغفراﷲ) سب سے بہترین توہین آمیزخاکہ بنانے والے کو کروڑوں ڈالر انعام دیا جائے گا (جو کہ مسلمانوں کی نظر میں دنیا کا سب سے بڑا گستاخ اور بے ادب ہو گا)۔

    ایک اور خبر کے مطابق حالیہ بد ذمانہ فیس بک پرپاکستان میں پابندی پر امریکہ نے شدید اعتراض کیا ہے۔ امریکی ترجمان مسٹر گورڈن ڈوگ نے کہا کہ ان پابندیوں سے انسانی بنیادی حقوق کی صلبی ہوئی ہی کیونکہ آذادی اظہار ما فی الضمیر کا حق ہرکسی کو حاصل ہے۔ ان ترجمان صاحب کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ مذہبی آذادی اور مذاہب کے درمیان بہترین تعلقات و مثبت بحث کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان توہین آمیز وگستاخانہ کارٹونوں اور خاکوں کی اشاعت پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے مگر کسی بھی پابندی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کینوکہ خیالات کو دبانے سے وہ غائب نہیں ہوتے۔انہوں نے مزید کہا پابندیاں انسانی حقوق کو صلب کرتی ہیں۔ان کے بقول پابندیوں کی بجائے باہمی افہام و تفہیم سے مسائل حل کئے جانے چاہئں۔
    اب آئیے ذرا مسٹر گورڈن کے بیان پر بات کرتے ھیں۔۔ذرا ان سے پوچھئے کہ ہماری اعلٰی عدلیہ کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا ان کوکس نے حق دیا ہے، کیونکہ یہ پابندی کسی حکومتی شخص نے نہیں بلکہ ملکِ پاکستان کی ایک اعلٰی عدلیہ نے لگائی تھی۔ان کے اعتراض کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہماری تمام حکومتی پالیسیاں امریکہ کے زیر اثر ہوتی ہیں اُسی طرح اب آئندہ ہماری اعلٰی عدلیہ کے فیصلوں پر بھی امریکہ اپنے فرسودہ اعتراضات کیا کرے گا۔ان کے اعتراض کا وکلاءبرادری کو اور پاکستانی حکومت کو بھرپور جواب دینا چاہئے۔
    ذرا مسٹر گورڈن سے پوچھئے کہ جب کوئی ملک ان کی ظالمانہ اور آمرانہ پالیسیوں کے جواب میں ان کو آنکھیں دکھاتا ہے تو اپنی شاطرانہ چالوں اورطاقت کے زور پر اس بیچارے ملک پر پابندیاں لگانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے، تو اس وقت انسانی بنیادی حقوق کیا صلب نہیں ہوتے۔ ذرا مسٹر گورڈن سے پوچھئے کہ خود تو امریکہ میں ایٹمی فیکٹریوں کی ضرورت سے ذیادہ انبار لگے ہوے ہیں لیکن جب کوئی غریب اسلامی ملک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تھوڑری سی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہےتواس پر بھی پابندیوں کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہی۔کیا یہ ظلم نہیں، کیا یہ نا انصافی نہیں، کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں؟ جب پاکستان یا ایران یا دنیا کے کسی اوراسلامی ملک نے اپنی بجلی کی یا پھر طبی و دیگر ضروریات کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہی تو امریکہ بہادر اپنے عالمی سامراج کو ساتھ ملا کر پابندیاں لگانے چڑھ دوڑا۔اور یہ سلامتی کونسل تو ہر وقت امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی،کیا یہ انسانے حقوق کی پامالی نہیں؟ ادھر اسرائیل کے پاس کئی ایٹمی فیکٹریاں ہیں، کئی ایٹمی میزائیل ہیں ،اس پر کوئی ملک بات نہیں کرتا، اسے ہر قسم کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہ جب چاہے اپنے ہمسائے اسلامی ملکوں پر جس قسم کے بد معاشی کرنا چاہے،کر لیتا ہے، مظلوم اور دکھی انسانیت پر جتنا مرضی ظلم کرنا چاہے، کر لیتا ہے، اسوقت انسانی حقوق کی عالمی تنظیمں چپ ساد لیتی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کو امریکی سامراج کی پشت پناہی حاصل ہے۔
    جب امریکہ بہادر دنیا کے کسی بھی ملک کے عوام کی مجموعی مرضی کے خلاف اس ملک کے چند لالچی حکمرانوں کو خرید کر بے بس اورلاچار عوام پر اپنے مخصوص عزائم کی ظالمانہ آمرانہ پالیسیاں لگواتا ہے جس سےعوام کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، عوام ظلم کی چکی میں پس جاتی ہیں، تو یہ کیا انسانی بنیادی حقوق کی صلبی کی بات نہیں۔؟ حقیقت یہ ہی کہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک کے چند لالچی حکمران اپنے مجبور عوام پر زبردستی امریکہ کی پالیسیاں لاگو کئے ہوئے ہیں۔اور عوام بیچاری لاکھ احتجاج کرے، احتجاجی ریلیاں منعقد کرے، ان لالچی حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں، ان کو پرواہ ہے تو بس غیر ممالک میں اپنے اکاوئنٹ بھرنے کی ہے۔بیچاری عوام کٹ جائے، پس جائے ان کو بس یہ فکر ہے کہ کہیں ان کے غیر ملکی آقا یعنی امریکہ اور اس کے حواری کہیں ان سے ناراض نہ ہو جائیں اور ان سے کہیں ان کی حکومت نہ چھن جائے۔ یہ منافقانہ روّیہ شہنشاہِ ظلمستان امریکہ کا ہے جو پوری دنیا پر رائج ہے کہ جس سے انسانیت کی دھجّیاں اڑ گئی ہیں۔ دنیا کا امن تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ان لالچی حکمرانوں کی عقلوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے کہ یہ امریکہ آج تک کسی کا نہیں بنا، اس نے ہمیشہ اپنے نام نہاد مشہور زمانہ منافقانہ دوستی کا کامیاب ڈرامہ رچایا ہےاور جب کام نکل جاتا ہے تو ایک استعمال شدہ ٹشو کی طرح اس دوست کوتوڑ مڑوڑ کر پھینک دیتا ہے اور بعض اوقات تو اسی دوست کو ایک ظالم اژدھے کی طرح پورا کا پورا نگل لیتا ہے۔
    اب دیکھیں کہ کبھی امریکہ بہادر کی ایران کے سا تھ کتنی پکی دوستی تھی کیونکہ امریکہ کو اس سے کام تھا۔ اسوقت امریکن تھنک ٹینک ایران کو اپنے مذموم عزائم کے تکمیل کے لئے ٹاپ ہٹ ملک ٹارگٹ کر رہے تھے اوراُدھرایران کے بادشاہ شاہ رضا نے امریکی دوستی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی اور اپنے عوام پر بے انتہا ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رکھے تھے لیکن جب کام نکل گیا تو بے چارے شہنشاہ ایران رضا مرحوم کو اپنے ملک سے نہایئت ذلّت سے دم دبا کر بھاگنا پڑاکہ کوئی ملک اس کو پناہ نہیں دے رہا تھا یہاں تک کہ اسےدنیا میں دفن ہونے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ امریکہ ایک بھیگی بلّی کی طرح اس کا تماشہ دیکھتا رہا۔اور مزے لوٹا رہا۔
    پھر امریکہ کی دوستی عراق سے ہوئی اور اب کئ بار امریکن تھنک ٹینک عراق کو اپنے مذموم عزائم کے تکمیل کے لئے ٹاپ ہٹ ملک ٹارگٹ تصوّو کرنے لگے۔صدام حسین دنپا میں امریکہ کے بہترین دوست بن گئےلیکن کیا بنا اس دوستی کا، جب کا م نکل گیا تو اسی امریکہ نے اس پر اپنے ظالمانہ کاروائیوں کی انتہا کر دی، سالوں تک بے چاری نہّتی عوام پر ظالمانہ پابندیاں لگوائیں، کتنے بیمار لوگ لقمہِ اجل بنے صرف اس بنا پر کہ ان پابندیوں کی وجہ سے لائف سیونگ ادویاّت نہ مل سکیں، کتنے بچے مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے وجہ سےدنیا میں آتے ہے ملک ِعدم سدھار گئے۔اور نہ جانے ان سالوں کی پابندیوں کے وجہ سے مظلوم عوام کی کتنی درد ناک کہانیاں لکھی گئی ہوں گی جو منظر ِعام نہ آسکیں۔ بے چارے صدام حسین کا کتنا عبرت ناک انجام ہوا، یہ سب دنیا نے دیکھا، کیا یہ حقوق صلب کرنے کی سازشیں نہیں تھیں اس وقت یہ مسٹر ترجمان کہاں تھے۔
    ابھی حال ہی میں امریکہ کے آشیرباد سے اس کی بغل میں چھپی اسرائیل نما لومڑی نے کس طرح امن کے داعیوں پر اپنی وحشت کے پنجے گاڑے کہ جو غزہ میںاسرائیلی فوج کے محصور نہتّی عوام کے لئے امدادی سامان لے کر جا رہےتھی، یعنی آن ہی آن میں اسرائیل کے کمانڈوز کےبحریہ عرب میں جاتی امن کی کشتی پر بربرّیت آمیز حملے سےمعصوم نہتّے بیس صحافی اپنے جانوں سےہاتھ دھو بیٹھے اور کشتی پر بچ جانے والوں پر بھی غیر انسانی سلوک کیاگیا،ان کو مارا گیا پیٹا گیا ، ان لوگوں کو کئی روز تک اسرائیل کی قید میں رکھا گیا کہ بعد میں جن کو اسرائیل کو نہ چاہتے ہوے بھی عالمی کوششوں سے رہا کرنا پڑا کہ جن میں پاکستان کے ایک ٹی وٰی چینل آج نیوز کےڈارئکٹر نیوز طلعت حسین بھی تھے۔ اس وقت یہ ترجمان صاحب کہاں تھے، کیا اس وقت انسانی حقوق کی صلبی نہیں ہو رہی تھی، اس وقت مسٹر گورڈن نے حقوق کے آذادی کی بات کیوں نہیں کی تھی، اس وقت ان کے حواریوں کی یہ نام نہاد انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کدھر تھیں، آخر ان بیس صحافیوں یا امن کے داعیوں کے وحشتناک قتلِ عام کا کون حساب لے گا، کیا ان صحافیوں کی رگوں سے نکلنے والا خون کسی انسان کا نہیں تھا۔؟اگر ان لوگوں میں کوئی امریکن ہوتا توانسانی حقوق کی آذادی کےتمام سبق ساری دنیا میں بار بار سنے اور سنائے جاتے۔ کون اسرائیل کے ظلموں کے آگے بند باندھے گا، کون فلسطین کے مجبور لاچارعوام کو اسرائیل کے ظلموں سے نجات دلائےگا ۔ یہ یو این او صرف امریکہ کی پالیسیوں کو دنیا کے مسلمانوں پر لاگو کرنےکے لئے بنائی گئی ہے، یا پھر امریکی مفادات کی نگرانی کےلئے بنائی گئی ہے؟ غریب ممالک کے اور خاص طور مسلم ممالک کے لوگ انسان کہان، یہ تو بے چارے کیڑے مکوڑے ہیں، حقیر ذرّے ہیں۔ جو بھی ان کو دبانا چاہے دبا لیتا ہے، ہمیشہ بیچاری عوام ظلم کی چکّی میں پستی رہتی ہیں۔کبھی اپنے ہی ملک کے لالچی حکمرانوں کی وجہ سے ، کبھی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کے قرضوں سے مشروط ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے اور کبھی امریکہ بہادر کے ڈرون حملوں کی وجہ سے ۔
    بدنام زمانہ ویب سائٹ فیس بک پر جو کچھ ہو رہا ہے، ہم اس کو رکوا تو نہیں سکتےمگرعدلیہ اس ویب سائیٹ کو کم ازکم پاکستان میں دوبارہ بھی پہلے کی طرح نوٹس لےکر ہمیشہ کے لئے بند کروا کر کڑوڑوں مسلمانوں کو دلی و زہنی کرب و ازیت سے بچا لیں جس کا اجر و ثواب تو آخرت میں رب تعالٰی ہی آپ کو دے گا۔ کیونکہ ایک بار آپ نے پہلے بھی یہ مستحسن قدم اُٹھایا تھا جس پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔لیکن یہ فیس بک والے باز نہیں آ رہے۔ اب با ر بار ایسی بےادبی، بد تمیزی اور نہایئت ہی اخلاق سوز اشاعتیں کر رہے ہیں لہٰذا ان جیسی ویب سائیٹس کو پاکستان میں ہمیشہ کے لے بند کر وا دیا جائے تاکہ ان کو سبق مل سکے کیونکہ بندش سےان ویب سائیٹس کے چلانے والوںکو کڑوڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
    اب کچھ ہمارےمسلمان بھائیوں کے بارے کہ جن کے نزدیک فیس بک پر پابندی علم سے دوری ہے۔ان لوگوں کو شائد یہ پتا نہیں کہ ہر مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا کہ جب تک کہ کوئی بھی مسلمان اپنے جان و مال وا ولاد غرض ہر چیز سے زیادہ اپنے دل میں پیارےنبی کریمﷺ کے بارے محبّت نہیں رکھتا ایسے علم کا کیا فائدہ کہ جو ہمارے پیارے پیارے نبی کریمﷺ کے بارے گستاخیوں سے بھر پور معلومات ساتھ لیکر آئے۔
    یہاں میں صحیح بخاری و مسلم سے ایک متفقہ علیہ حدیث کا مختصر خلاصہ ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک بار پیارےکریم آقا ﷺ کی مجلس پاک لگی ہوی تھی، کہ آپﷺ کا سیدنا حضرت عمرؓ سے مشہور معروف مکالمہ ہوا۔آپﷺ نے حضرت عمرؓ سے اپنے سے محبّت کے بارے استفسار کیا۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھےآپﷺ سےمحبّت اپنے مال و جان سے زیادہ ہے، مگر آپﷺ نے ان سے مزید استفسار کیا اور حضرت عمرؓ کی خاموشی پر آپﷺ نے فرمایا کہ اے عمرؓ جب تک کہ توُ (یعنی کوئی بھی مسلمان) اپنے جان و مال وا ولاد غرض ہر چیز سےزیادہ اپنے دل میں میرے(ﷺ ) بارے محبّت نہیں رکھتاتمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔یہ حدیث پاک ہم سبکےلئے لمحہِ فکریہ ہے کہ ہمیں علم زیادہ عزیز ہے یا پھر پیارے پیارےنبی کریمﷺ سے پیار اور عقیدت عزیز ہے۔ ان فیس بک پر پابندی پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فیس بک علم اور معلومات کا خزانہ ہے، بندش سےعلم کا حصول رک جائے گا۔میرا تمام انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں سے سوال ہےکہ کیا ہم انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کر رہے ہیں؟ کیا واقعی ہم علم کے حصول کےلئےانٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں؟ اگر کوئی اپنے ضمیر کو جھنجوڑ کر جواب دے تو اس کا جواب نہیں میں آئے گا۔حقیقتاً انٹرنیٹ واقعی بے انتہا علم اور معلومات کا بڑا تیز ترین خزانہ ہے ، دنیا کو جس نے ایک گلوبل ٹاون بنا دیاہے اور گھر بیٹھے ہی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر کوئی رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ نیز زبان و مقام ورنگ و نسل کی تمام حدیں انٹرنیٹ نے ختم کر دی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ صرف اس بات پر منحصر ہے کہ ہم انٹرنیٹ کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ یعنی یہ علم کا قیمتی ذریعہ تو ہے مگرہم بہت کم اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں۔
    اگر میں پوری وثوق اور یقین سےکہوں تو انٹرنیٹ کا 80% استعمال مندرجہ ذیل کاموں میں ہو رہا ہے۔
    میوزیکل پراگرامز ڈاﺅن لوڈ اپ لوڈکرنا۔ ڈرامے فلمیں ڈاﺅن لوڈ اپ لوڈ کرنا۔بلیو پرگرامز ڈاﺅن لوڈ اپ لوڈ کرنا۔سیکسی تصویریں ڈاﺅن لوڈ اپ لوڈ کرنا اور دیکھنا دکھانا۔ آن لائن گیمز۔ اور تو اور اس براڈبینڈ یا ڈی ایس ایل نے یہ سارے کام بہت آسان کر دئیے ہیں یعنی گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے ۔ اور یہ وقت ضائع کرنے والی چیٹنگ (زیادہ تر اخلاق سوز اور سیکسی انداز میں) کہ جس نے گھروں کے گھر تباہ کر دئیے ہیں ، جس نے نہ صرف غیر شادی شدہ لڑکے لڑکیوں کے اخلاق تباہ و بر باد کر دئیے ہیں بلکہ شادی شدہ افراد بھی بری طرح متاثر ہوےہیں یعنی نام نہاد انٹیرنیٹ دوستی کا اکژ انجام طلاقوں و خلع تک معاملات پہنجا کر ختم ہوتا ہے۔ یقین جانیئےانٹرنیٹ عصمت فروشی اوربہت سے غلط کاموں کا ایک بہت بڑا رابطے کا زریعہ بن گیا ہے۔ جسم فروشی کے پیشے سے منسلک افراد اب اپنے پییشے کو جدید انداز میں کر رہے ہیں۔اب سپام یعنی غیر ضروری ای میلز کے زریعے آپ کے ان باکس میں روزانہ کئی کئی ای میلز آ جاتی ہیں کہ جن میں مکمل رابطے کےساتھ ساتھ بلکل فحش ننگی تصاویر مختلف انداز میں بنائی گئی ہوتی ہیں جو آپ کوبڑے ہی ماڈرن انداز میں دعوتِ گناہ دے رہی ہو تی ہیں۔۔ یہ ہے انٹرنیٹ کا اخلاق سوز استعمال اوران اخلاق سوز کاروائیوں میں بے شمار ویب سائیٹس اپنا کردار اد کر رہی ہیں۔
    آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر کوئی مو بائیل پر ایس ایم ایس کرتا نظر آئیے گا۔ کیا کسی کو کوئی سائنسی ویب سائیٹ کھولتے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے کسی کو
    کی سائییٹ وسٹ کرتا ہوا دیکھا ہے۔nasa کی سائنسی سائیٹ یا کوئی اور space یہ یا تو بہت ہی کم بہت کم ہوتا ہو گا یا نہ ہونے کے برابر۔افسوس صد افسوس۔۔
    دنیا میں انٹرنیٹ کا سب سے زیادہ استعمال ڈاکٹر اور انجیئنر حضرات کر رہے ہیں۔ان کی ہزاروں علمی سائنسی سائیٹس ہیں مثلاً ڈاکرز کی ہر سپیشلٹی کی بھی اپنی کئی کئی سائیٹس ہیں جہاں ڈاکٹر حضرات لمحہ بہ لمحہ روزانہ اپنے مریضوں کے امراض کے بارے تبادلہ خیالات کرتے رہتے ہیں ،بیماریوں کے باری آنے والی مشکلات ڈسکس کرتے ہیں،مریضوں کے مسائل ڈسکس کر کے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نئی نئی ڈرگز کے بارے معلومات لیتیےہیں ایک دوسرے سے اپنے اپنے تجربات شئیر کرتے ہیں۔اگر لندن میں کسی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں آپریشن کرتے کسی سرجن کو کوئی پرابلم آتی ہے تو وہ فوراً انٹرنیٹ پر پوری دنیا میں مختلف سرجنز سے اپنا کیس ڈسکس کرکے مریض کی بہتری کےلئے فوری قدم اُٹھاتا ہے۔ڈاکٹران سائینسی سائیٹس کے زریعے نئے سرجیکل آلات کے بارے تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ اسی طرح ادویات بنانے والی کمپنیوں کیکئی کئی معلوماتی سائیٹس ہی۔اور اسی طرح کی ہزاروں سائیٹس ہیں۔
    غرض انسانیت کی بہتری اور مدد اور بھلائی کےلئے انٹرنیٹ بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اگر اس کا صحیح استعمال کیا جائیے۔فیس بک یا اس جیسی ویب سائیٹس کا ان علمی اور معلوماتی اور سائینٹفک ویب سائیٹس سے دور دور تک کوئی موازنہ نہیں اور میرے مسلمان بھائی کہ جو فیس بک سایئٹ پر پابندی کو ناجائز قرار دیتے ہیں وہ بھی یہ باتیں اچھی طرح جانتے ہیں لیکن چونکہ ان کے دل و دماغ پر اپنے غیر اسلامی دوستوں اور آقاوں کا کلچر رچ بس گیا ہے انہوں نے اپنے آپ کو گوروں کے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ اس لئے ان کی بات کرنا ان کے گن گانا ان لوگوں کی دلی مجبوری ہے، کاش کہ میرے مسلمان بھائی اپنے آپ کو غیروں کے رنگ میں رنگنے کی بجائی اﷲ تعالٰی اور اس کے محبوب رسول کریم ﷺ کے رنگ میں رنگتے تو ہرگز وہ فیس بک سائیٹ پر پابندی کو ناجائز نہ قرار دیتے ۔ میری ان سب ہم وطنوں سے گذارش ہے کہ انہیں فوری اﷲ تعالٰی کے حضور اس فیس بک کی حمایت کی اپنے گناہ ِ کبیرہ سے بھی بری حرکت کی معافی مانگنی چاہئیے۔کیونکہ اﷲ تعالٰی اپنےپیارے پیارے محبوب نبی کریم ﷺ کے بارے کوئی بھی بے ادبی ،گستاخی کرنے والوں یا حمایت کرنے والوں سے بڑی سختی سے پیش آتا ہے۔لہذٰا فیس بک اور اس جیسی سایٹس کے استعمال پر ہمیشہ کے لئے پاکستان میںپابندی لگائی جائی کہ جوتوہین آمیز وگستاخانہ کارٹونوں اور خاکوں کی مسلسل اپنے ویب پیجز پراشاعتیں کر کے نہ صرف مسلمانوں کو اذیت ناک تکلیف دیتی رہتی ہیں بلکہ شر پیھلانے کی ایک نہیں کئی ایک کوششیش کرتی رہتی ہیں اور با ربار کی ہیں۔کیونکہ ان کواچھی طرح سے معلوم ہے کہ ان کی گستاخانہ حرکات سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گئےاور کوئی بھی مسلمان ہر گز ہر گز یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ان کے پیارے پیارے محبوب نبی کریم ﷺ کے بارےکوئی بھی توہین آمیز وگستاخانہ کارٹون یا خاکہ بنایا جائیے چاہے وہ مسلمان صرف نام کا مسلمان ہے یا پھر اسلامی تعلیمات پرعمل کرنے والا پکّا مسلمان ہے۔
    ان چند سائیٹس پر پابندی سے کوئی علم کا حصول نہیں رکے گا یہ صرف خام خیالی ہے کیونکہ جس نے کوئی بھی معلومات حاصل کرنی ہیں وہ وہی متعلقہ ویب سائیٹ کھولےگا ۔جس نے بھی جس قسم کا علم حاصل کرنا ہے وہ اپنے مطلوبہ ویب سائیٹ پر پہنج جائے گا۔ غرض اگر انٹرنیٹ علم اور معلومات کا لامتانہی بہتا ہوا سمندر ہے تو دوسری طرف فحاشی اوراخلاق سوز مواد سے بھی کافی حد تک مزین ہےاور وہ بھی ویب سائیٹس ہیں کہ جوعلم اور معلومات کے نام پرفحاشی اوراخلاق سوز مواد سے بھر پور ہیں اور نئے نئے انٹرنپٹ استعمال کرنے والوں کو یعنی نوعمر لڑکے لڑکیوں کو بہکانے میں بڑا سفّاکانہ اور شاطرانہ کردار ادا کر رہی ہیں ان جیسی ویب سائیٹس کو بھی بند کرنا چاہئے۔
    اب ایک اور بات کے طرف میںاسلامی دنیا کی توجّہ دلانا چاہتا ہوں۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے حواری ممالک ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے رہے ہیں۔وہ ہمیشہ کسی نہ کسی جواز کے تلاش میں ہوتے ہیںکہ کس طرح اسلامی دنیا پر اپنا ظلم ڈھانے کےلئے چڑھ دوڑیں۔ یہ توہین آمیز وگستاخانہ کارٹون یا خاکوں کو بار بار شائع کرکے مسلمانوں کے جذبات کی تذلیل کرنا اور پوری اسلامی دنیاکی دل آزاری کرنا بھی ایک چال ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کو اشتعال دلایا جائے اور جب کوئی فرد یا کوئی تنظیم جواباً ان توہین آمیز وگستاخانہ کارٹون یا خاکے شائع کرنے والوں کا خلاف جب کوئی کاروائی کرے تو ہمیشہ کے طرح نام نہاد بد زمانہ دہشت گردی کا بہانہ بنا کر اسلامی دنیا پر سخت کاروائیاں کی جائیں۔یعنی ان کو آگے نہ بڑھنے نہ دیا جائے ان پر معاشی پابندیاں لگا دی جائیں۔ میرے خیال میں یہ امریکہ یا اسرائیل کے تھنک ٹینکس کی گھناوئنی سازش ہو سکتی ہی۔
    قارئین کرام۔۔امریکہ، اسرائیل اور انکے حواریوں کے ان جیسی شاطرانہ چالوں کا ہم مسلمان بڑے اچھے طریقےسے جواب دے سکتے ہیں۔ جواب یہ نہیں کہ سینے سے بم باندھ کر انکی کوئی بلڈنگ اڑا دیں بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل کرکے بھی ہم بڑےاحسن طریقے سے انکے ہرقدم کا جواب دیے سکتے ہیں۔چناچہ اسسلسلے میں کچھ کام ہمارے لئے انفرادی طور پر کرنے کے ہیں اور کچھ کام سرکاری سطح کے کرنے کے ہیں۔ مثلاً ہم مسلمان انفرادی طور پرمندرجہ ذیل پر غور کرکے اپنانے کے کوشش کریں۔؛
    ۔۔۔ اپنی ذندگیوں میں اسلام کو پورا پورا داخل کریں اور نہائیت ہی پیارے نبی کریم ﷺ کی میٹھی میٹھی سنتوں پر عمل کیا جائے۔۔ ہمارا اوڑنا بچھونا پیارے نبی کریم ﷺ کے پیارے اسوہ ِ حسنہ کے مطابق ہو جس سے ہمیں غیر مسلموں کے خلاف اللٰہ تعالٰی کی مدد ملے گی ، جیسی کہ پہلی قوموں کی بھی بھرپور مدد ہوتی رہی ہے۔یعنی اسلام یہ نہیں کہ بس پانچ وقت کی نماز پڑھ لی یا پھر تسبیح کے دانے پھیر لئیے بلکہ اسلام یہ ہے کہ صبح بستر سےاٹھنے سے لیکر رات بستر میں جانے تک ہم کیا کھاتے کھلاتے ہیں، دیکھتےدکھاتے ہیں،سنتے سناتے ہیں، پہنتے پہناتےہیں کیا بولتے ہیں، کیا لکھتے لکھاتے ہیں،کیا اور کیسے کماتے ہیں، کیااور کیسے خرچ کرتے ہیں، کیا پکڑتے ہیں،الغرض کیا یہ سب کچھ اسلام کی روح کے مطابق کرتے ہیں۔۔ اگر نہیں تو آج سے ہی اپنے اور اپنے اھلِ خانہ کے لئیے یہ سب کچھ اسلام کے اصولوں کے مطابق کرنے کا عہد کر لیں۔
    ۔۔۔تمام مسلمان ممالک کے لوگ ان غیر مسلم ملکوں کی تمام اشیاءکا ہر قسم کا مکمل بائیکاٹ کریں کہ جو توہین آمیز وگستاخانہ کارٹون یا خاکے شائع کرنے کے مرتکب ہوتے رہتےہیں۔
    کے زریعےجہاں تک ممکن ہو ہر مسلم غیر مسلم کو قائل email messaging کرنے کی کوشش کرے کہ ایسی توہین آمیز اشاعتوں سے دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے کہ جن سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جائے۔ اور ایسی ای میلز کژت سے پوری دنیا میں بھیجی جانی چاہئیں ۔
    ۔۔ انٹرنیشنل سطح پر امن پسند فورمز منعقد کئیے جائیں اور جس کا ایجنڈہ صرف یہ ہوکہ دنیا کو خلافِ امن کاروائیوں سے ، سرگرمیوں سے ،اشاعتوں سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔؟ کہ جن سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
    حکومتی سطح پر کرنے والےیہ کام ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:
    ۔۔تمام اسلامی ممالک اپنے اپنے ملک میں فوراً وہ تمام انٹرنیٹ ویب سائیٹس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیں کہ جو توہین آمیز وگستاخانہ کارٹونوں اور خاکے شائع کرنے کی مرتکب ہو تی رہتی ہیں بلکہ وہ سائیٹس بھی کہ جو اخلاق سوز اور فحش مواد پیش کرتی ہیں۔ تاکہ اپنے نسلوں کو تمام شیطانی غیر اسلامی کامو ں سےبچایا جا سکے۔کہ جن کی وجہ سے رب کریم ہم سے ناراض ہو جاتا ہے۔
    ۔۔۔تمام مسلم ممالک متفقّہ طور پر احتجاجی قراداد بلکہ کئی قراردادیں پاس کر کے ان ممالک سے باقاعدہ پر زور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں کہ جو ایسی تو ہین آمیز گستاخانہ کاروایئاں کرتے ییں۔اور آئندہ ایسی واقعات نہ ہونے کی یقین دہانی لیں۔
    ۔۔۔ان مما لک کے سفیروں کو فوراً ملک بد ر کر دیا جائے جو ایسی تو ہین آمیز گستاخانہ کاروایئاں کرتےییں۔چاہے اس ملک سے ہماری دوستی کتنی ہی کیوں نہ اچھی ہو۔
    ۔۔۔ سلامتی کونسل میں اسلامی ملکوں کو بھی اپنے نمائندگی کے طور پر مستقل ارکان میں ایک سیٹ لینی چاہئی جسکے لئے ایک بھرپور جدوجہد کے ضرورت ہے۔
    از۔۔ڈاکٹر حافظ محمّد شاہد امین (ایم بی بی ایس، ڈی ایل او))
    گجرانوالہ drshahee@yahoo.com
    15 جون 2010

    Comment by shahid — July 24, 2010 @ 10:56 pm

  6. plz see the web page writen about Toheen Amaiz Khaky;

    thanks
    http://www.drshahid.com.pk/holyshan.htm

    Dr Shahid Amin
    GRw pak

    Comment by shahid — July 24, 2010 @ 10:57 pm

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>