خود دار قوم کے لیڈر ُمردار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسلام ‘پاکستان’طبِ مشرقی’علم وادب’اور نوجوان نسل سے انتہائی پیار کرنے والے اور محبت و امن و سلامتی کے سفیرتھے۔انسانیت اورپاکستانی قوم کے سچے ہمدرد تھے۔شہیدِپاکستان حکیم محمد سعید ہمارا عظیم قومی سرمایہ تھے’افسوس کہ طاغوت کے ایجنٹوں نے انہیں ہم سے چھین لیا۔شہیدِپاکستان نے’’ خودی اور خود داری ‘’کے موضوع پرہمدرد نونہال اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یکم جنوری1996ء کو اسمبلیوں کے بارے میں کہا تھا کہ’‘ہماری اسمبلیوں کا جو حال ہے وہ سب کو معلوم ہے ان کے بارے میں ‘’خود دار قوم کے مردار لیڈر’‘سے جامع تعریف کوئی دوسری نہیں ہوسکتی ۔یہ وڈیرے ‘زمیندار اور دولتمند لوگ ہیں جو گذشتہ اڑتالیس سالوں سے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور بڑی بے دردی سے پاکستان کو لوٹ رہے ہیں’’ ۔شہیدِپاکستان خود کفالت اور خود انحصاری کے قائل تھے ان کا کہنا تھا کہ’’ خودی ہماری تلوارہے اورخودداری تلوار کی دھار’خودی قناعت کا نام ہے جب قناعت ہاتھ سے جاتی ہے تو بے غیرتی آجاتی ہے اور ہاتھ میں کاسہء گدائی آجاتا ہے’‘۔ حکیم محمد سعید نے کراچی اور پاکستان کے حالات بچوں کو سمجھانے کیلئے بہت ہی سادہ اندازاختیار کرتے ہوئے دردمندی کے ساتھ صورت حال ایک بار ان الفاظ میں بیان کی’‘مجھے ایک مکالمہ یاد آگیا جو میں نے کلفٹن پر ایک مچھلی سے کیا تھامیں بہت امن پسند آدمی ہوں اس لئے وہ مجھ سے ڈری نہیں ‘میں نے اس سے پوچھا تم صاف ماحول میں رہتی ہو’شفاف پانی تمہارے گرد گھومتا رہتا ہے تو پھر تم سے بو کیوں آتی ہے ؟مچھلی نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا کہ ہمیں ماحول تو اچھا ملا ہوا ہے لیکن ایک مچھلی دوسری مچھلی کو کھا جا تی ہے اسلئے ہم میں بو آتی ہے آپ نے سمجھ لیا ہو گا کہ کراچی میں جو کام ہورہا ہے پاکستان میں جو کام ہورہا ہے بدبو دار ہو رہا ہے اسلئے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کھا رہا ہے اسلئے بدبودار ہوگیا ہے’‘۔شاید ایسی ہی کچھ سچی باتیں تھیں جو ہمارے اس عظیم قائدکی شہادت کا باعث بن گئیں ۔
اقتباس از اداریہ ورلڈ ہپیس انٹرنیشنل اکتوبر۲۰۰۴ تحریر کردہ :قاضی ایم اے خالد






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)














حکيم محمد سعيد صاحب مجھے ہر لمحہ ياد رہتے ہيں ۔ وہ عظيم شخص تھے
Comment by افتخار اجمل بھوپال — February 23, 2010 @ 9:24 pm
بےشک انکل اجمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمدرد انسان کسی طور حکیم صاحب کو نہیں بھول سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comment by hakimkhalid — February 24, 2010 @ 12:50 am