نہ یوم محبت اپنا ہے نہ عید ہماری عید ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویلنٹائن ڈے ہماری عید نہیں
یہ عید منانا کیسا ہے
یہ یوم محبت کس کا ہے
اپنا ہے یا غیروں کا؟
گر اپنا ہے تو ہر مسجد سے
کیوں اس کی صدائیں آتی نہیں؟
کیوں دین کے مصدر و ماخذ کے
سب پنے اس سے خالی ہیں؟
کیوں مائیں اپنے بچوں کو کبھی اس کی گھٹی پلاتی نہیں
کیوں بہنیں اپنے بھائیوں کو ، اس دن کی لوری سناتی نہیں
یہ بات عیاں ہے ظاہر ہے یہ عید ہمارے عید نہیں
جب مان لیا ہم سب نے کہ
نہ یوم محبت اپنا ہے ، نہ عید ہماری عید ہے یہ
پھر اس کا اتنا شور ہے کیوں؟
اس دن کو منانے کی خاطر ، پھر اتنا زیادہ زورہے کیوں
ہم اپنے رب کی بغاوت میں، کیوں ان سے محنت کرتے ہیں
کیوں پیار کے جھوٹے پردے میں ، اقدار کا سودا کرتے ہیں
کچھ ہوش کرو اے اہل وطن ہم کیسے زندہ رہتے ہیں
ہر سمت یہاں پر لاشیں ہیں، ہر آنکھ سے آنسو بہتے ہیں
بس جرم ہمارا غفلت ہے، جو مال و جاہ سے الفت ہے
غیر اللہ کی تقلید یں ہیں اور اپنے رب سے بغاوت ہے
گر چاہتے ہیں ہم کہ دن بدلیں، چہروں پے ہنسی کے پھول کھلیں
تو آو چلو گھر رب کے چلیں
کریں توبہ اپنے گناہوں کی اور درپے اپنے رب کے گریں
نہ یوم محبت اپنا ہے نہ عید ہماری عید ہے یہ
مت کھانا دھوکہ مغرب سے اتنی سی میر ی تاکید ہے یہ
٭…٭…٭
شاعر : راجہ اکرام








![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)













