اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: ویلنٹائن ڈے ایک اخلاقی اور تہذیبی کینسر...آخری قسط :: February :: 2010

ویلنٹائن ڈے ایک اخلاقی اور تہذیبی کینسر...آخری قسط

یوم محبت کے بارے میں عصر حاضر کے علماء کرام کے فتو ے
سوال :محترم فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمن حفظہ اللہ(سعودی عرب)
السلام علیکم ورحم اللہ وبرکاتہ’ کچھ عرصہ سے ویلنٹائن ڈے( یوم محبت ) کا تہوار منایا جانے لگا ہے اور خاص کر طالبات میں اس کا اہتمام زیادہ ہوتا ہے ۔جو نصارٰی کے تہواروں میں سے ایک تہوارہے اس دن پورا لباس ہی سرخ پہنا جاتا ہے اور جوتے تک سرخ ہوتے ہیںاور آپس میں سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ,ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے تہوارمنانے کا حکم بیان کریں اور اس طرح کے معاملات میں آپ مسلمانوں کو کیا نصیحت کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے ۔
جواب:  وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ وبعد
یوم محبت کا تہوارکئی وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے
٭…یہ بدعتی تہوار ہے اور اسکی شریعت میں کوئی اصل نہیں
٭…یہ تہوار عشق ومحبت کی طرف دعوت دیتا ہے
٭…یہ تہوار دل کو اس طرح کے سطحی ذیل امور میں مشغول کردیتا ہے جو سلف صالحین کے طریقے سے ہٹ کر ہے لہذا اس دن اس تہوار کی کوئی علامت اور شعار ظاہر کرنا جائزنہیں چاہے وہ کھانے پینے میں ہویا لباس ‘یا تحفے تحائف کے تبادلہ کی شکل میں ہویا اسکے علاوہ کسی اور شکل میں ہو اور مسلمان شخص کو چاہئے کہ اپنے دین کو عزیز سمجھے اورایسا شخص نہ بنے کہ ہر ھانک لگانے والے کے پیچھے چلنا شروع کردے یعنی ہر ایک کے رائے وقول کی صحیح و غلط کی تمیزکئے بغیر پیروی اوراتباع کرنے لگے۔میری اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو ہرطرح کے ظاہری وباطنی فتنوں سے محفوظ رکھے اورہمیں اپنی ولایت میں لے اور توفیق سے نوازے واللہ تعالیٰ ا علم ۔
 
مستقل کمیٹی برائے تحقیقات وافتاء کا فتو یٰ
 سوال:بعض لوگ ہر سال چودہ فروری کو یوم محبت(ویلنٹائن ڈے)کا تہوار مناتے ہیں اور اس دن آپس میں ایک دوسرے کو سرخ گلاب کے پھول ہدیہ میں دیتے ہیں اور سرخ رنگ کا لباس پہنتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکبادی بھی دیتے ہیں, اوربعض مٹھا ئی کی د کان والے سرخ رنگ کی مٹھائی تیارکرکے اس پر دل کا نشان بناتے ہیںاوربعض دکانداراپنے مال پراس دن خصوصی اعلانات بھی چسپاں کرتے ہیں  تو اس سلسلے میں آپ کی کیارائے ہے؟
جواب :سوال پرغورفکر کرنیکے بعد مستقل کمیٹی نے کہا کہ کتاب وسنت کی واضح دلائل ‘اورسلف صالحین کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں کوئی تیسری نہیں’ایک عید الفطر اور دوسری عید الضحیٰ,ان دونوں کے علاوہ جوبھی تہواریاعید چاہے کسی عظیم شخصیت سے متعلق ہو’یا جماعت سے ‘یا کسی واقعہ سے ‘یا اورکسی معنی سے تعلق ہو سب بدعی تہوارہیں ‘مسلمان کیلئے انکامنانا یا اقرار کرنا یااس تہوارسے خوش ہونا یا اس تہوارکا کسی بھی چیزکے ذریعہ تعاون کرناجائزنہیں ‘اسلئے کہ یہ اللہ کے حدود میں زیادتی ہے اورجو شخص بھی حدوداللہ میں زیادتی پید ا کرے گا تو وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرے گا۔
اورجب ایجاد کردہ تہوار کے ساتھ یہ مل گیا کہ یہ کفارکے تہواروں میں سے ہے تویہ گنا ہ اورمعصیت ہے اسلئے کہ اس میں کفار کی مشابہت اورموالات ودوستی پائی جاتی ہے اوراللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کفارکی مشابہت اوران سے مودت ومحبت کرنے سے اپنی کتاب عزیز میں منع فرمایا ہے اورنبی کریم سے آپ کا  یہ فرمان ثابت ہے کہ’‘من تشبہ بقوم فہومنہم’‘جوشخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے تووہ انھیں میں سے ہے۔
اورمحبت کا تہواربعینہ مذکورہ بالاجنس یاقبیل سے ہے اسلئے کہ یہ بت پرست نصرانیت کے تہواروں میں سے ہے’لہذا کسی مسلمان کلمہ گوشخص کیلئے جو اللہ اوریوم آخرت پرایمان رکھتا ہواس تہوارکو منانایا اقرارکرنایا اسکی مبارکباد دینا جائزنہیں بلکہ اللہ ورسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اورانکی غضب وناراضگی سے دوررہتے ہوئے اس تہوار کا چھوڑنا اوراس سے بچنا ضروری ہے’اسی طرح مسلمان کیلئے اس تہواریا دیگرحرام تہواروں میںکسی بھی طرح کی اعانت کرنا حرام ہے چا ہے وہ تعاون کھانے’یاپینے’ یا خرید وفروخت یا صنا عت یا ہدیہ وتحفہ یا خط وکتابت یا اعلانات وغیرہ کے ذریعہ ہواسلئے کہ یہ سب گناہ وسرکشی میں تعاون اوراللہ ورسول کی نافرما نی کے قبیل سے ہیںاور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی اور پرہیزگاری کے معاملے میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اورگناہ اورظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو , اوراللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ,بے شک اللہ تعال سخت سزا دینے والا ہے  ۔( المائدہ4)
اورمسلمان کیلئے ہرحالت میںکتاب وسنت کو پکڑے رہنا خا ص طورسے فتنہ وکثرت فساد کے اوقات میں لازم وضروری ہے ۔اسی طرح ان لوگوں کی گمراہیوں میں واقع ہونے سے بچاؤ اورہوشیاری اختیارکرنا بھی ضروری ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا اورجو گمراہ ہیں(یعنی یہود ونصارٰی) اوران فاسقوں سے بھی جو اللہ کی قدروپاس نہیں رکھتے ا ورنہ ہی اسلام کی سربلندی چاہتے ہیںاورمسلمان کے لئے ضروری کہ وہ ہدایت اوراس پے ثابت قدمی کے لئے اللہ ہی کی طرف رجوع کرے کیونکہ ہدایت کا مالک صرف اللہ ہے اور اسی کے ہاتھ میں توفیق ہے اوراللہ ہمارے نبی محمد انکے آل وصحاب پر درودوسلام نازل فرمائے آمین !
(دائمی کمیٹی برائے تحقیقات وافتاء ‘الریاض ‘فتویٰ نمبر( 21203)  بتاریخ 23/11/1420ھ)
‘’ویلنٹائن ڈے’’ ہر اعتبار سے’‘یوم اوباشی’’ ہے۔ اس کا اصل مقصود عورت اور مرد کے درمیان نا جائز تعلقات اور ہم جنسیت اور بے راہ روی کو فروغ دینا ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں نوجوان نسل کو ان خرافات کے مضمرات سے آگاہ نہیں کیا جارہا۔برعکس اس کے’ اخبارو جرائد اور الیکٹرانک میڈیا میں اس’‘یوم’’ کی ترویج کے حوالے سے جس طرح ‘’کوریج’’ دی جارہی ہے عوام الناس میںا س سے اسکے مزید بڑھنے کا امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ راقم الحروف کو دئیے گئے ایک انٹرویومیں تحریک پاکستان کی عظیم کارکن محترمہ بیگم سلمیٰ تصدق حسین نے کہا تھا ‘’افسوس کہ جن مسلمانوں کیلئے پاکستان بنایا تھا وہ پاکستان کے قابل نہ رہے’’ اب آپ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ ان خرافات سے نجات حاصل کر کے ہمیں لاکھوں قربانیوں سے حاصل کردہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قابل بننا ہے یا……….٭٭
تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد
مصادر و ماخذ:۔
١)…ویلنٹائن ڈے تاریخ وتحقیق کی روشنی میں(عزیزالرحمان ثانی)
٢)…حکم الاحتفال بعید الحب فی ضو الکتاب والسن(ابو عبد المعید’شفیق الرحمن ضیاء اللہ)
٣)…فتاویٰ(المتب التعاونی للدعو وتوعی الجالیات بالربو بمدین الریاض)

٭…٭…٭

ویلنٹائن ڈے ایک اخلاقی اور تہذیبی کینسر۔۔۔مکمل تحریر

1 Comment »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2010/02/10/p303/trackback/

  1. جزاک اللہ۔
    اللہ اس قوم کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

    Comment by سعد — February 12, 2010 @ 2:26 am

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>