گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے:قاضی ایم اے خالد

امت مسلمہ بھرپور ردعمل ظاہر کرے:ینگ مسلمز انٹرنیشنل پاکستان

لاہور : مرکزی سیکرٹری جنرل ینگ مسلمز انٹرنیشنل قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ نبی اکرم ۖ کی حرمت کا تحفظ ہرمسلمان کے ایمان کالازمی جز ہے۔گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے ۔امت مسلمہ سمیت تمام مذہبی’سماجی وسیاسی جماعتیں متحد ہوکر گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور رد عمل ظاہر کریں۔ ناروے نے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے مذہبی دہشت گردی کا ارتکاب اور دنیا کے امن کو تاراج کرنے کی انتہائی قابل مذمت کوشش کی ہے۔اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔ اگرماضی میں ناروے اور ڈنمارک وغیرہ کے خلاف سخت اقدامات کئے جاتے توآج دوبارہ ایسی مذموم حرکت کی جرات نہ کی جاتی۔بار بار ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے نفسیاتی حربوں اور مذموم حرکتوں سے کفار سمجھتے ہیں کہ مسلمان توہین رسالت کے عادی ہوکر بے حس ہو جائیں گے اور اس حوالے سے آہستہ آہستہ ٹھوس رد عمل کم ہوتا ہوا بالکل ختم ہو جائے گاتو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہے۔محبت رسول ۖ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اس کے تحفظ کیلئے وہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتااور ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ گستاخی رسول پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے کسی طور مسلمان نہیںکہلا سکتے۔حکومت پاکستان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت میں ملوث ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرکے18کروڑ مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرے اورناروے کے سفیر کو فوری ملک بدرکرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔اہل اسلام پاکستان میں ناروے کے سفارت خانے کوبذریعہ فون ‘فیکس اور ای میل’ بھرپور رد عمل ظاہر کر کے فریضہ ایمانی سر انجام دیں۔

لاہور : مرکزی سیکرٹری جنرل ینگ مسلمز انٹرنیشنل قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ نبی اکرم ۖ کی حرمت کا تحفظ ہرمسلمان کے ایمان کالازمی جز ہے۔گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے ۔امت مسلمہ سمیت تمام مذہبی’سماجی وسیاسی جماعتیں متحد ہوکر گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور رد عمل ظاہر کریں۔ ناروے نے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے مذہبی دہشت گردی کا ارتکاب اور دنیا کے امن کو تاراج کرنے کی انتہائی قابل مذمت کوشش کی ہے۔اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔ اگرماضی میں ناروے اور ڈنمارک وغیرہ کے خلاف سخت اقدامات کئے جاتے توآج دوبارہ ایسی مذموم حرکت کی جرات نہ کی جاتی۔بار بار ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے نفسیاتی حربوں اور مذموم حرکتوں سے کفار سمجھتے ہیں کہ مسلمان توہین رسالت کے عادی ہوکر بے حس ہو جائیں گے اور اس حوالے سے آہستہ آہستہ ٹھوس رد عمل کم ہوتا ہوا بالکل ختم ہو جائے گاتو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہے۔محبت رسول ۖ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اس کے تحفظ کیلئے وہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتااور ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ گستاخی رسول پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے کسی طور مسلمان نہیںکہلا سکتے۔حکومت پاکستان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت میں ملوث ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرکے18کروڑ مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرے اورناروے کے سفیر کو فوری ملک بدرکرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔اہل اسلام پاکستان میں ناروے کے سفارت خانے کوبذریعہ فون ‘فیکس اور ای میل’ بھرپور رد عمل ظاہر کر کے فریضہ ایمانی سر انجام دیں۔
ناروے کے سفارت خانے کاخط و کتابت کاایڈریس’پوسٹ بکس نمبر 1336اسلام آباد’
فون092512279720فیکس’092512279726’ای میل
‘emb.islamabad@mfa.no
٭…٭…٭
٭…٭…٭






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)














بلاشبہ یہ نفسیاتی حربہ ہے ۔ عالم کفر نے لمبی منصوبہ بندی کے تحت اسلام کے نام لیواؤں کے خلاف نفسیاتی جنگ کے کئی محاظ کھول رکھے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ سب مسلمان حکومتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بڑی تعداد اس جنگ سے متاءثر نظر آتے ہیں
Comment by افتخار اجمل بھوپال — January 31, 2010 @ 12:28 pm
its a red news for every muslim
Comment by mehk.arshad — February 2, 2010 @ 2:37 pm