لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں

لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
غزل کہنا بھی اب تو ہو گيا دشوار سردی ميں
محلے بھر کے بچوں نے دھکيلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہيں اسٹارٹ اپنی کار سردی ميں
مگر ہوتی نہيں اسٹارٹ اپنی کار سردی ميں
مئی اور جون کی گرمی ميں جو دلبر کو لکھا تھا
اسی خط کا جواب آيا ہے آخرکار سردی ميں
اسی خط کا جواب آيا ہے آخرکار سردی ميں

دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مريضوں کو
معالج خود بچارے پڑ گئے بيمار سردی ميں
معالج خود بچارے پڑ گئے بيمار سردی ميں
کئی اہل نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
بچارا کپکپايا جب کوئی فنکار سردی ميں
بچارا کپکپايا جب کوئی فنکار سردی ميں

يہی تو چوريوں اور وارداتوں کا زمانہ ہے
کہ بيٹھے تاپتے ہيں آگ پہريدار سردی ميں
کہ بيٹھے تاپتے ہيں آگ پہريدار سردی ميں
لہو کو اس طرح اب گرم رکھتا ہے مرا شاہيں
کبھی چائے، کبھی سگريٹ، کبھی نسوار سردی ميں
کبھی چائے، کبھی سگريٹ، کبھی نسوار سردی ميں
سرفراز شاہد






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)














kia kehnay..thanks for sharing
Comment by Farigh — January 13, 2010 @ 6:41 pm
بہت خوب، ہر شعر لاجواب ہے۔
Comment by میرا پاکستان — January 13, 2010 @ 6:53 pm
بہت خوب عمدہ شاعری ہے اور تصاویر بھی خوب چسپاں کی ہیں۔
Comment by محمد احمد — January 14, 2010 @ 3:44 pm
To funny yar gr8
Comment by mehk.arshad — February 2, 2010 @ 2:23 pm