اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

HakimKhalid's Blog :: یوم سوگ۔۔۔۔۔۔دہشت گردی کی بد ترین لہر۔۔۔۔۔پاکستان دشمن اور امریکی جنگ :: December :: 2009

یوم سوگ۔۔۔۔۔۔دہشت گردی کی بد ترین لہر۔۔۔۔۔پاکستان دشمن اور امریکی جنگ


نااہل قیادتوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت
وطن عزیز اس وقت دہشت گردی کی بد ترین لہر کی نذر ہو چکا ہے پیر کے روز لاہور پشاور‘ کوئٹہ اور منگل کی صبح ملتان میں ہونے والے بم دھماکوں  کے واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔

ان واقعات سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ان دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے‘ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اب اپنی جان بچاتے پھرتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد توقع یہ کی جا رہی تھی کہ اگر ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں صرف اور صرف تحریک طالبان کا ہاتھ ہے تو اس کے مراکز پر قبضے‘ کمانڈ کنٹرول سسٹم کے خاتمے اور خطیر تعداد اسلحہ بارود کو ناکارہ بنانے کی بناء پر خودکش اور بم دھماکوں کا سلسلہ رک جائیگا اور ملک بھر کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے لیکن گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسلام آباد‘ پشاور اور لاہور میں ہونے والے حملوں سے اس تاثر کی نفی ہوتی ہے اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے ان بیانات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔

تحریک طالبان اور القاعدہ کی طرف سے متعدد بار یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سویلین آبادی بالخصوص بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بناتے‘ لیکن وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت وفاقی حکومت کے کم و بیش تمام عہدیداروں کی سوئی قبائلی علاقوں اور طالبان پر اٹکی ہوئی ہے اور وہ ہر چھوٹے بڑے واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ جس بڑی امریکی جنگ میں ہم ملوث ہو چکے ہیں‘ اس کا فائدہ ہمارے تمام دشمن مختلف انداز میں اٹھا رہے ہیں‘ بھارت نے چونکہ آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور وہ گزشتہ باسٹھ سال سے کبھی براہ راست جارحیت کے ذریعے‘ کبھی اندرون ملک دہشت گردی اور تخریب کاری اور کبھی پاکستان کا پانی بند کرکے اقتصادی‘ معاشی اور زرعی تباہی کے ذریعے اس مملکت خداداد کو عدم استحکام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے محض اپنے اقتدار کی طوالت اور ڈالروں کے حصول کیلئے امریکہ کی جنگ میں شمولیت اختیار کرکے جو جوا کھیلا‘ وہ ملک و قوم کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی یہ سوچے بغیر کہ جس جنگ میں امریکہ کے ساتھ اسکے شیطانی اتحاد ثلاثہ کے اہم ارکان بھارت اور اسرائیل اپنا لچ تلنے میں مصروف ہیں‘ اسے آگے بڑھا کر ہم کن نقصانات کا سامنا کر سکتے ہیں اور کیا ہماری انتظامی مشینری میں اس جنگ سے عہدہ برا ہونے کی اہلیت و صلاحیت بھی ہے یا نہیں؟ پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسی کو جاری رکھا‘ جس کا نتیجہ ملک کے مختلف علاقوں میں حساس فوجی اور غیرفوجی تنصیبات‘ عمارتوں اور اہم سول و خاکی شخصیات پر حملوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ عام آدمی پریشان ہے‘ سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے‘ قومی معیشت کا پہیہ جامد ہو گیا ہے اور پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
 
حکومت نے ابتداء میں یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی لیکن طالبان سے مذاکرات کا خواہش مند امریکہ آڑے آیا اور اس نے فوجی کارروائی پر زور دیا جس کے بعد پاک فوج نے سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا اور کافی حد تک حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ آپریشن کے آغاز میں دہشت گردی کے واقعات میں شدت آئی تو اسے فوجی کارروائی کا ردعمل قرار دیا گیا مگر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد جس تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات پیش آرہے ہیں اور ان میں حساس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ اسے دیکھ کر کوئی معقول شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی ایک تنظیم یا گروہ اس میں ملوث ہے‘ خاص طور پر جب پاک فوج اس کا گھیرا تنگ کر چکی ہے۔

لاہور میں مون مارکیٹ کے واقعہ کے بعد ملتان کے حساس علاقے میں دہشت گردی کی واردات انتہائی افسوسناک ہے‘ یہ ہمارے امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار اداروں کی ناکامی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کا ذکر کیا ہے اور وزیر داخلہ رحمٰن ملک بھی بار بار یہ الزام عائد کر رہے ہیں تو صرف طالبان کا پیچھا کرتے رہنے کے بجائے بھارت کی مالی و اسلحی امداد کے علاوہ تربیت یافتہ افراد کے نیٹ ورک کا بھی کھوج لگایا جائے کیونکہ قرین قیاس یہی نظر آتا ہے کہ وہ حکومت اور مقامی تحریک طالبان کی لڑائی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور امریکہ بھی اس کی پشت پر ہے جس کا مقصد کمزور پاکستان سے اپنی شرائط منوانا‘ اپنی ہاری ہوئی جنگ کا ملبہ ہم پر ڈال کر خود محفوظ انخلاء کی راہ ہموار کرنا اور پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں پر ہاتھ صاف کرنا ہے۔ گزشتہ روز بھارتی رہنماء ششی تھرور نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے اور اس کی بقاء و استحکام کے بارے میں جو بیان دیا‘ اس سے بھی بنیاء کی منافقانہ اور عیارانہ ذہنیت عیاں ہوتی ہے اس لئے جہاں لاہور‘ ملتان‘ پشاور اور اسلام آباد کے سانحات کی تحقیقات میں دیگر پہلوئوں کا جائزہ باریک بینی سے لیا جائے‘ وہاں بھارت کے عنصر کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے جو خودکش بمبار پکڑے جائیں یا ان کے دھڑ ملیں‘ ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ ختنے چیک کئے جائیں اور ساختہ امریکہ و بھارت اسلحہ کو بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کرکے اس سازش کو ناکام بنایا جائے جو دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر پاکستان کیخلاف جاری ہے۔

ہمارا اصل دشمن بھارت ہے اس کی سرگرمیوں اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور اس کے مقابلے کیلئے ہردم چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کا فوری حل تو یہ ہے مغربی سرحد سے فوجیں ہٹا کر مشرقی سرحد پر لایا جائے اور بھارت کے مقابلے کیلئے چین کے ساتھ ساتھ جہاں سے بھی سول نیوکلیئر انرجی اور جدید اسلحہ کا حصول ممکن ہے حاصل کیا جائے۔
یہی وہ خدشات تھے جن کے  تحریری و تقریری اظہار پر محب وطن افراد کو اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں انتہائی  مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔۔۔۔۔لیکن ان افراد کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
 
نااہل حکمرانوں اور غلط خارجہ پالیسیوں کی بدولت پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اور سب سے بڑھ کر معصوم پاکستانی عوام اپنے خون کا بے پناہ نذرانہ اور قربانیاں دے چکے اور دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
لہذا اب وقت ہے کہ آئی ایس آئی کے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دیے جائیں۔۔۔۔۔کیونکہ اس ادارے پر اندرونی و بیرونی تحفظ پاکستان کے حوالے سے ہر ‘’باعلم’’ پاکستانی کو فخر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ادارہ دفاع وطن کی فرنٹ لائن ہے۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ امریکی دہشت گردی کی جنگ سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے فوری لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔ تبھی دنیا کے نقشے پر وطن عزیز کا قیام ممکن رہ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

1 Comment »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2009/12/09/p290/trackback/

  1. حکیم صاحب ۔ یہ بات اگر ہماری قوم کی سمجھ میں آ جائے تب ہی کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے

    Comment by افتخار اجمل بھوپال — December 10, 2009 @ 12:21 pm

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>