پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم ذیابیطس منایا جا رہا ہے

ذیابیطس ایک خاموش قاتل اورایڈز کے بعددوسری خطرناک مرض ہے
ہرپانچ سیکنڈ بعدشوگر کے مریض میں اضافہ’ جبکہ ہر دس سیکنڈ بعد ذیابیطس سے ایک موت ہوتی ہے
جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری’ شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت ہیں
جدید تحقیقات کے مطابق نباتاتی علاج سے شوگر کنٹرول کی جاسکتی ہے
یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالداوروفاقی مشیرطب حکومت پاکستان حکیم رضوان حفیظ ملک کی گفتگو

لاہور14نومبر:ذیابیطس کی مرض کو بھی خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے لاحق ہونے کا علم بھی عموماًتاخیر سے ہوتا ہے ۔پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد جبکہ دنیابھر میں چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد افراد شوگر میں مبتلا ہیں۔جنوبی ایشیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہر پانچ سیکنڈ بعدشوگر کا ایک نیا مریض سامنے آرہا ہے۔ اقوام متحدہ نے ذیابیطس کو ایچ آئی وی ایڈز کے بعد دوسری خطرناک ترین بیماری قرار دیا ہے جو ہر 10سیکنڈ بعد ایک فرد کو موت کے منہ میں لے جانے کاباعث بن رہی ہے ۔ذیابیطس کی دونوں قسمیں ‘ذیابیطس نوع اول اور نوع دوم تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد اوروفاقی مشیر طب حکومت پاکستان حکیم رضوان حفیظ ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔حکومتی اداروں کی طرف سے ایسے عطائیوں کے خلاف کاروائی اشد ضروری ہے۔ تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے ‘یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر مروج طریقہ علاج (ایلوپیتھک وغیرہ )کی طرح یونانی میڈیکل سائنس یعنی طب یونانی ‘اسلامی میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں اورصدیوں سے مستعمل ہیں جبکہ حال ہی میں کنیڈا’امریکہ’جرمنی’جاپان اور پاکستان میںدارچینی ‘کریلا’جامن ‘گل بابونہ اور دیگر ہربز پرکئے گئے متعدد مطالعوں اور جدیدتحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ ذیابیطس کے بڑھنے کی وجوہات میںسرفہرست یہ ہے کہ ہم نے اپنے روایتی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔آرام طلبی میں اضافہ’جسمانی مشقت میں کمی ‘کھیل کود ‘سیراور ورزش کی بجائے ٹی وی’ویڈیو گیمزاور کمپیوٹرکا بکثرت استعمال’کولا مشروبات’برگرز’ چپس و دیگر مرغن غذاؤںکا انتہائی استعمال شوگر کے بنیادی اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپااور جینیاتی ساخت بھی ڈایابیٹیزکا باعث بنتی ہے۔#
٭…٭…٭
healthlineint@gmail.com
ہرپانچ سیکنڈ بعدشوگر کے مریض میں اضافہ’ جبکہ ہر دس سیکنڈ بعد ذیابیطس سے ایک موت ہوتی ہے
جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری’ شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت ہیں
جدید تحقیقات کے مطابق نباتاتی علاج سے شوگر کنٹرول کی جاسکتی ہے
یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالداوروفاقی مشیرطب حکومت پاکستان حکیم رضوان حفیظ ملک کی گفتگو

لاہور14نومبر:ذیابیطس کی مرض کو بھی خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے لاحق ہونے کا علم بھی عموماًتاخیر سے ہوتا ہے ۔پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد جبکہ دنیابھر میں چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد افراد شوگر میں مبتلا ہیں۔جنوبی ایشیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہر پانچ سیکنڈ بعدشوگر کا ایک نیا مریض سامنے آرہا ہے۔ اقوام متحدہ نے ذیابیطس کو ایچ آئی وی ایڈز کے بعد دوسری خطرناک ترین بیماری قرار دیا ہے جو ہر 10سیکنڈ بعد ایک فرد کو موت کے منہ میں لے جانے کاباعث بن رہی ہے ۔ذیابیطس کی دونوں قسمیں ‘ذیابیطس نوع اول اور نوع دوم تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد اوروفاقی مشیر طب حکومت پاکستان حکیم رضوان حفیظ ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔حکومتی اداروں کی طرف سے ایسے عطائیوں کے خلاف کاروائی اشد ضروری ہے۔ تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے ‘یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر مروج طریقہ علاج (ایلوپیتھک وغیرہ )کی طرح یونانی میڈیکل سائنس یعنی طب یونانی ‘اسلامی میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں اورصدیوں سے مستعمل ہیں جبکہ حال ہی میں کنیڈا’امریکہ’جرمنی’جاپان اور پاکستان میںدارچینی ‘کریلا’جامن ‘گل بابونہ اور دیگر ہربز پرکئے گئے متعدد مطالعوں اور جدیدتحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ ذیابیطس کے بڑھنے کی وجوہات میںسرفہرست یہ ہے کہ ہم نے اپنے روایتی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔آرام طلبی میں اضافہ’جسمانی مشقت میں کمی ‘کھیل کود ‘سیراور ورزش کی بجائے ٹی وی’ویڈیو گیمزاور کمپیوٹرکا بکثرت استعمال’کولا مشروبات’برگرز’ چپس و دیگر مرغن غذاؤںکا انتہائی استعمال شوگر کے بنیادی اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپااور جینیاتی ساخت بھی ڈایابیٹیزکا باعث بنتی ہے۔#
٭…٭…٭
healthlineint@gmail.com






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)










اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ نقالی لے ڈوبی ہے ۔ اللہ نے جو جہاں پیدا کیا وہاں وہی کھانا چاہیئے ۔ دارچینی ۔ کریلہ اور جامن کا استعمال نہ کرنا یا کم کرنا بھی اہم سبب ہے
Comment by افتخار اجمل بھوپال — November 15, 2009 @ 11:33 am
درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکل اجمل
Comment by hakimkhalid — November 15, 2009 @ 1:10 pm