اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: طب یونانی ایک قومی ورثہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان :: November :: 2009

طب یونانی ایک قومی ورثہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور( ثناء نیوز )ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایماء اوربعض مفاددپر ست عناصر کی ملی بھگت سے طبی میڈیسن ایکٹ کو ڈرگ ایکٹ 1976ء کا حصہ بنا کر لاگوکیا جارہا ہے جسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔یاد رہے کہ طب یونانی کے خلاف اس سازش کی نشاندہی کونسل ہذا کئی سال بیشتر کر چکی ہے۔طب یونانی ایک قومی ورثہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔ اطبائے پاکستان کو صرف اور صرف علیحدہ طبی میڈیسن ایکٹ ہی قابل قبول ہوگا اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے قوانین اوروطن عزیز کے ڈرگ ایکٹ کے مطابق بھی دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ ہربل میڈیسنز’’ڈرگ‘‘کے زمرے میں نہیں آتیںلہذاطبی میڈیسن ایکٹ کو 1976کے میڈیسن ایکٹ سے منسلک کرنے سے چند ایک بڑے طبی دواساز اداروں کو توفائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اجتماعی طور پرطب یونانی اور 55ہزار سے زائد اطباء کرام تباہی و بربادی سے ہمکنارہوں گے۔ اس وقت عالمی ادارہ صحت(WHO) کی رپورٹوںکے مطابق دنیا کی 86فیصد آبادی اور پاکستان کی 76فیصد آبادی ہربل (یونانی) ادویات استعمال کرتی ہے ۔پاکستان کا مسئلہ صحت طب یونانی کو شامل کئے بغیر کسی طور حل نہیں ہو سکتا۔یونانی طریق علاج کو قواعدو ضوابط کے تحت منظم کرنے کے قوانین بنانے کا اطباء نے ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے لیکن ایلوپیتھک اور طب یونانی کے مسائل و ضروریات ایک دوسرے سے جدا ہیںجس کا ادراک حکومت اور متعلقہ حکام کو کرنا چاہئے اور ایلوپیتھک طریقہ علاج کیلئے وضع کردہ ڈرگ ایکٹ 1976ء کو طب یونانی و اطباء پر نافذ کرنے کے اقدام سے باز رہنا چاہئے بصورت دیگر اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے بھر پور مزاحمت سمیت تمام اطباء و طبی تنظیمیں متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں گی۔ابتدائی طور پر اطباء کے تحفظات کے اظہار کیلئے کونسل ہذا کے وفود جلد ہی وفاقی وزیرصحت‘سینیٹرز‘ ممبران قومی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔اس موقع پرحکیم محمد رضوان ‘حکیم محمد صابرآف گوجرانوالہ‘حکیم محمد یوسف اورحکیم محمد اجمل نے بھی خطاب کیا۔
٭…٭…٭
news@healthlineint.co.cc
 
 
 

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2009/11/02/p277/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>