ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس سے قائداعظم کی تصاویر ہٹا دی گئیں‘ عوام کا شدید احتجاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی تقریبات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔ تین روز قبل صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں ٹونٹی 20ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بنوایا۔ اس موقع پر پسِ منظر میں ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ بلاول بھٹو اور خود صدر زرداری کی تصاویر دیوار پر لگی ہوئی تھیں لیکن بانی پاکستان کی تصویر نظر نہیں آئی۔ اسی طرح دو روز قبل جمعہ کو اسلام آباد میں انٹرن شپ ایوارڈ دینے کی تقریب میں وزیراعظم مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر سٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تصاویر تو تھیں لیکن بانی پاکستان کی تصویر دکھائی نہیں دی۔ ایسی ایک تصویر میں صدر زرداری ڈاکٹر شعیب سڈل سے وفاقی محتسب کے عہدے کا حلف لے رہے تھے لیکن پس منظر میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر تو آویزاں نظر آئی لیکن قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب تھی۔ امریکی وفد سے ملاقات کے دوران بھی قائداعظم کی تصویر دکھائی نہیں دی۔ قانون کے تحت صدر‘ وزیراعظم اور سرکاری افسران کے دفاتر میں قائداعظم کی تصاویر آویزاں کرنا لازمی ہے۔
سٹاف رپورٹر نوائے وقت کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم ہائوس سے بانی پاکستان کی تصاویر ہٹانے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام نے اس حکومتی اقدام پر شدید احتجاج کیا ہے۔ نوائے وقت سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ کمال راواں کے رہائشی تاجر تنویر اختر نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دینے والے کی تصویر کے ساتھ یہ سلوک قوم کبھی نہیں بھولے گی۔ ٹائون شپ کے جمیل حسین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر محب وطن جماعتیں اس حکومتی اقدام کیخلاف فوری طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں احتجاج ریکارڈ کرائیں اور حکمران اتحاد سے الگ ہو جائیں۔ نواب ٹائون کے افتخار کھوکھر نے کہا کہ بانی پاکستان کی تصویر کے ساتھ یہ معاندانہ سلوک کر کے حکمرانوں نے اپنے پائوں پرخود کلہاڑی ماری ہے جس کا خمیازہ انہیں جلد بھگتنا پڑے گا۔ نیو گارڈن ٹائون کے شکیل احمد نے کہا کہ یہ خبر سن کے مجھے ایسا لگا جیسے میں بھارت میں رہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جیالے حکمران نہ جانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذمہ داروں کیخلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہئے۔ ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں بانی پاکستان کی تصاویر ہٹانے کی خبروں پر مسلم لیگی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم لیگی حلقوں نے اس اقدام کو حکمرانوں کی بدنیتی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے اور تصاویر فوری دوبارہ آویزاں کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے اس عمل کو الارمنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان کو غیرملکیوں کے قدموں میں پھینکنے والوں کیلئے قائداعظم کی تصویر کی کیا قیمت اور اہمیت ہو گی اور یہ عمل ظاہر کر رہا ہے کہ ایوان صدر کے عزائم کیا ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی فنانس سیکرٹری مرزا عبدالقیوم نے کہا کہ کیا ایسے حکمرانوں کو مسند اقتدار پر رہنے کا حق ہے؟ رکن پنجاب اسمبلی شمائلہ رانا نے کہا کہ اس عمل پر ہمیں اپنی آنکھیں کھولنے اور پاکستان کے مستقبل کے فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایوان صدر سے قائداعظم کا پورٹریٹ ہٹائے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر سے قائداعظم کی تصویر ہٹائے جانے کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہائوس نے بھی کہا ہے کہ وزیراعظم ہائوس سے قائداعظم کی تصاویر نہیں ہٹائی گئیں۔
ماخذ







![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)














ye tou inthai ghtia harkat hai hakomat ki.
Comment by Naveed — July 2, 2009 @ 1:20 am