غزہ ' اک کربلا کا منظر' اور وقت کے یزید

اسرائیلی وحشت و بربریت کا شکارغزہ’ پھر کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ معصوموں کی چیخیں اور آہ بکا یہاں (پاکستان کے ہر شہر ‘گاؤں اور گلی کوچے )تک محسوس ہو رہی ہیں۔مقبوضہ فلسطین کے معصوم مسلمان بچے’ بوڑ ھے ‘خواتین اور مرد نوحہ کناں ہیں۔فلسطینی شہیدوں کے لہو سے نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے لیکن (مسلم و غیرمسلم )یزیدِ وقت ہیں کہ سبھی خواب خرگوش کے مزے لوٹتے ہوئے چشم پوش و خاموش ہیں ۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت دوسرے عشرے میں داخل ہوچکی ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر معاویہ حسنین کے مطابق اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 520 تک پہنچ چکی ہے۔جن میں 120معصوم بچے اور 50خواتین شامل ہیں جبکہ چار ہزار فلسطینی زخمی ہیں’چار سو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔غزہ پر زمینی حملے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ستر افراد کو شہید کیا گیا جن میں زیادہ تر شہری ہیں۔ ذرائع کے مطابق زمینی حملے کے بعد اب تک 82فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے جن میں زیادہ تر شہری اور بچے ہیں۔فلسطین کی آئینی حکومت کے وزیر صحت کے ترجمان ڈاکٹر باسم نعیم نے کہا ہے کہ شہدا کی تعداد میں اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ 400 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ہسپتالوں میں ادویات کی شدید کمی ہے۔ ادویات کی 109ایسی اقسام ہیں جن کا ذخیرہ بالکل ختم ہو چکا ہے جبکہ لیب کے متعلقہ ادویات میں سے نوے اقسام کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔غزہ میں سپیئر پارٹس کی عدم موجودگی کی وجہ سے پچاس فیصد ایمبولینسز ناکارہ ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لونی کا کہنا ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے اسرائیل کو فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑا ہے اور اس سلسلے میںمیزائیلوں سے بھری جس گاڑی کاجھوٹا ثبوت دیا گیا۔اسے مغربی میڈیا ہی آشکار کرچکا ہے کہ بتائی گئی وین مریضوں کیلئے گیس سلنڈرلے کر ہسپتال جا رہی تھی نہ کہ اسرائیل پر حملہ کرنے’ لہذا اس سلسلے میں جارحیت کا کوئی’’ جواز’’ نہیں بنتا۔

محرم الحرام کے مقدس مہینے ‘اور ایام عاشورہ میں پھر بساط ِ کربلا بچھی ہے اور یزیدوں نے ایک بار پھرصیہونی دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں و معاونین سے نام بدل لیا ہے ۔جگہ جگہ پر آگ اور دھویں میں لپٹی شہیدوں کی لاشیں بکھر رہی ہیں ایک تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے۔یہ بات سوچنے کی ہے کہ کیادہشت گرد یہ ہیں جو نہتے لوگوں کوجدید کیمیائی ہتھیاروں سے تباہ و برباد کر رہے ہیں یا وہ معصوم لوگ جو خود اپنے عہد کی کرب و بلا کا رزق بن رہے ہیں ۔بقولِ حاصل تمنائی
اب کہاں ہے درسِ انسانی حقوق؟
جذبہ ء ِانسانیت کیوں سرد ہے؟
کس نے بکھرایا نہتوں کا لہو؟
خود ہی کہئے کون دہشت گرد ہے؟
آج دنیا کا میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہاہے کہ امریکا اور برطانیہ نے غزہ پر اسرائیل کے ہولناک حملہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور اسرائیل سے غزہ پر بمباری روکنے کا مطالبہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دنیائے جمہوریت کے چمپین دو بڑے ملکوں پر کہ جنہوں نے انسانیت کے خلاف ناقابل معافی اسرائیلی جرم کی حمایت کر کے خود کو بھی مجرموں کی صف میں شامل کر لیاہے۔معصوم لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے والو سن لو! جب تک تمہاری یہ پالیسی رہے گی دنیا میں کبھی امن نہیں آسکتاسچ تو یہ ہے کہ ا س بربریت اور وحشت کے اندھے راج پر امن کی فاختہ کو رخصت لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہا ۔
اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ دہشت گردی کاجواب دینے کیلئے حماس کے جلاوطن رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی مجاھدوں کو خود کش حملوں کی اجازت دیتے ہیں ۔ انہیں اپنی زمین اور لوگوں کو بچانے کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔جبکہ سعودی اور ایرانی عالم بھی اس سلسلے میں فتویٰ دے چکے ہیں۔اگر دنیا چاہتی ہے کہ خودکش حملے پھر سے شروع نہ ہوں تواسے فوری طور پرکیمیائی ہتھیاروں کی تباہی وبمباری سے معصوم فلسطینی لوگوں کو بچانا ہوگانیز اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرنا ہوگا۔
٭…٭…٭
تحریر:قاضی ایم اے خالد
(Column Hikmat 06 01 2009)



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)







خدا ان کے اور ہمارے حال پر رحم کرے اور امت مسلمہ کو یکجا کرے آمین
Comment by Abdul Qudoos — January 6, 2009 @ 9:53 pm