اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم اطفال منایا جا رہا ہے :: November :: 2008

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم اطفال منایا جا رہا ہے

بچوں میں امراض کی بنیادی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے: قاضی ایم اے خالد

دنیا بھر میں پچاس لاکھ بچے ہرسال مختلف امراض کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں

ماحولیاتی آلودگی سے ملیریا ‘اسہال’ہیضہ ‘یرقان خصوصاًہیپاٹایٹس اور دیگرامراض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

پینے کے پانی اور ماحو ل کی آلودگی دور کرکے ہم بیشتر امراض سے بچ سکتے ہیں

ملک کی 76فیصد آبادی طب یونانی کے معالجین کی خدمات سے مستفید ہورہی ہے: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

      لاہور(نما ئندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا )بچوں کے حقوق کے تحفظ ‘تعلیم’فلاح و بہبود اور ان کی صحت و امراض کے حوالے سے شعور و آگاہی کے جذبے کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میںبچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ بچوں میں سانس کی تکالیف اور دیگر امراض کی بنیادی وجہ فضائی آلودگی ہے ہرسال پانچ سال سے کم عمر کے دو ملین بچے سانس کی امراض سے ہلاک ہو جاتے ہیںجبکہ سینے کی انفیکشن ٹریفک کے دھوئیں میں شامل کاربن مونو آکسائیڈاور سیسے وغیرہ کی کثافت سے وقوع پذیر ہورہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 14سال تک کی عمر کے پچاس لاکھ بچے ہرسال مختلف امراض کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں یہ ننھے پھول خاص طور پر ملیریا ‘ہیضہ’اسہال اور سانس کی بیماریوںمیں مبتلاء ہوتے ہیں جس کی بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے ۔ان باتوں کا اظہار یونانی میڈیکل آفیسر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم اطفال کے حوالے سے ملکی و غیرملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ملیریا ‘اسہال’ہیضہ ‘یرقان خصوصاًہیپاٹایٹس بی اور سی وغیرہ کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کی سب سے بہتر صورت پینے کے پانی اور ماحو ل کی آلودگی کو دور کرناہے۔ سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر’ہسپتالوں کا کچرا ‘سرنجیں’استعمال شدہ بوتلیں’مضرِصحت کیمیائی کچرا’کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں وغیرہ سے بچے مختلف امراض خاص طور پر سانس کی بیماریوں اورجِلدی شکایات میں مبتلاء ہوجاتے ہیںاکثر بچو ں کامعمولی نزلہ زکام بگڑکر شدید کھانسی’دمے اور نمونئے کا باعث بن جاتا ہے۔ معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیںبلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دیگر عالمی و قومی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملک کی76فیصد آبادی طب مشرقی(اسلامی)کے معالجین کی خدمات سے مستفید ہورہی ہے اس سلسلے میں یہ معالجین بچوں کیلئے محفوظ ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان کی خدمات سے استفادہ حکومت کابھی اولیں فرض ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعور پیداکرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے تبھی ہم اپنے بچوں کو مستقبل کی خوبصورت زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/11/20/p152/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>