اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: دنیا بھر میں آج(19نومبرکو) دائمی تنگی تنفسCOPD کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ :: November :: 2008

دنیا بھر میں آج(19نومبرکو) دائمی تنگی تنفسCOPD کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

دنیا کے 600ملین افراد دائمی تنگی
تنفس کا شکار’ سالانہ تیس لاکھ اموات ہوجاتی ہیں

دنیا بھرمیںاموات کی چوتھی بڑی وجہ دائمی تنگی تنفس ہے:طبی ماہرین

  پھیپھڑوں کے اس مرض کا سب سے بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے:ڈاکٹر رفیق بشارت ‘قاضی ایم اے خالد

لاہور(نما ئندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) دنیا بھر میں آج(19نومبرکو) دائمی تنگی تنفسCOPD کا عالمی  دن  منایا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں سینے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دائمی تنگی تنفس دنیا بھرمیںاموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔اس مرض میں دنیا کے 600ملین افراد مبتلا ہیں جن میں سے ہرسال تیس لاکھ افرادہلاک ہو جاتے ہیں۔
سانس لینے میں دشواری کی مرضCOPDیعنی دائمی تنگی تنفس ‘پھیپھڑوں کی ایک مرض نہیں بلکہ کئی خطرناک دائمی امراض کے مجموعے کا نام ہے۔اس امر کا اظہار ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ‘پی جی ایم آئی ‘ڈاکٹر رفیق احمد بشارت اور چیف ایگزیکٹو ہیلتھ پاک وہیلتھ میڈیا کنسلٹنٹ فزیشن قاضی ایم اے خالد نے COPD کے عالمی دن کے حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران کیا ۔
انہوں نے کہا کہ دائمی تنگی تنفس کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی ‘لکڑی ‘کوئلہ ‘اپلوں’کیمیائی مادوں اور گاڑیوں کا دھواں بھی اس مرض کا باعث بن سکتا ہے ۔’‘سی او پی ڈی’‘کی ابتدائی علامات میں سانس کی تنگی ‘مسلسل کھانسی ‘بلغم کا اخراج اوردوران مشقت سانس پھول جاناوغیرہ شامل ہے۔علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی حالت دن بہ دن بگڑتی جاتی ہے اور معمول کے کاموں کے دوران بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اس مرض کی تشخیص پھیپھڑوں کے فنکشن ٹیسٹ ‘’سپرومیٹری’’ سے کی جاتی ہے ۔COPDکی اگر بروقت تشخیص ہو کر علاج شروع ہوجائے تو مریض جلد شفایاب ہوجاتے ہیں۔لیکن اکثر اس سلسلے میں شعور کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مریضوں کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب ان کی مرض بہت بڑھ چکی ہوتی ہے۔ لہذادائمی تنگی تنفس سے متعلق عوام الناس میں آگاہی و راہنمائی کی انتہائی ضرورت ہے۔
 

1 Comment »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/11/19/p151/trackback/

  1. Bhai aap nai koi piles (bawasir) par bhi blog likha hai?

    Comment by Sam — November 27, 2008 @ 11:19 am

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>