اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: ذہنی صحت کا عالمی دن اور اس کے تقاضے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :: October :: 2008

ذہنی صحت کا عالمی دن اور اس کے تقاضے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد(چیف ایگزیکٹو’‘ہیلتھ پاک ‘’)

٭…ذہنی امراض کی سب سے بڑی وجہ ناانصافی ہے…٭

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن دس اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1992سے منایا جا رہا ہے ۔اس دن کے منانے کا مقصدعوام میں ذہنی صحت و ذہنی مریضوں کے علاج اور ذہنی بیماریوں سے بچاؤکا شعور پیدا کرنا ہے۔اس سال اس دن کا موضوع’’ ذہنی صحت کیلئے عوام الناس کومشاورت وعملی اقدامات ‘’ہے۔

 
جنگوں اور پاکستان سمیت عالمی سطح پر دہشت گردی کی فضا کی وجہ سے نہ صرف جانی و مالی نقصان عام ہو رہا ہے بلکہ اس کے ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دنیا میں بچوں کی معذوری کی 10بڑی وجوہات میں سے 5ذہنی بیماریوں سے تعلق رکھتی ہیںیعنی ذہنی بیماریوں سے ہر عمر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اوراس سے بچے بھی محفوظ نہیں ۔ پاکستانی قبائلی علاقوں’افغانستان اور عراق جنگ سے 15لاکھ سے زائد بچے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ڈپریشن سے تنگ آکر ہر سال 10لاکھ کے قریب افراد خودکشی کرلیتے ہیں۔ دنیا میں 45کروڑ افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ پاکستان اورعالمی سطح پر غربت میں اضافے کے باعث بھی ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور دنیا میں 10سے 20فیصد نوجوان ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن فار مینٹل ہیلتھ کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ اور آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک کے بچے اور نوجوان زیادہ جذباتی ذہنی مسائل میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں 45کروڑ افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 5سے 10فیصد افراد ڈپریشن جیسی خطرناک ذہنی بیماری سے دوچار ہیں اور کسی بھی آبادی کے 8سے 20فیصد افراد کو کسی بھی وقت ڈپریشن جیسا مہلک مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن کا مرض 20سے 40سال کی عمر میں ہونے کا امکان ہوتا ہے مردوں کی نسبت خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہیں۔ ڈپریشن سے تنگ آکر ہر سال 10لاکھ کے قریب افراد خودکشی کر لیتے ہیں ذہنی معذور افراد میں سے 10کروڑ شراب اور دیگر منشیات کا سہارا لیئے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر چھٹا شخص سگریٹ نوشی کا عادی ہوچکا ہے دنیا کے ہر چوتھے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد ذہنی معذور ہے جبکہ 2کروڑ  افراد ایک ایسی بیماری میں جس میں انسان اپنی ذہنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور کسی کی شناخت نہیں کرسکتا’ سے دوچار ہیں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد سال 2025 تک 3کروڑ 40لاکھ ہونے کا خدشہ ہے اس بیماری کے 50فیصد مریض ترقی پذیر ممالک میں ہیں اور سال 2025 تک تعداد 50سے 70فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔ 5کروڑ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں 4کروڑ یعنی 80فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے 2کروڑ 50لاکھ افرادشیزوفرینیاکے مرض میں مبتلا ہیں جس میں انسان کے کانوں میں خوفناک آوازیں محسوس ہوتی ہیں اور وہ ذہنی خوف وہراس کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہسپتال میں آنے والا ہر چوتھا شخص ذہنی یا اعصابی بیماری میں مبتلا ہے وطن عزیز میں کل آبادی کے دس سے بیس فیصد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔

ذہنی بیماریوں کی مختلف وجوہات ہیں جن میں حیاتیاتی، نفسیاتی ،معاشی ، ثقافتی اور سیاسی وجوہات شامل ہیں۔عدم انصاف ذہنی امراض کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہمارے ملک میں ان اضافی وجوہات کی بنا پر ذہنی امراض کی شرح زیادہ پائے جانے کے شواہد ہیں مگر ناکافی اعداد و شمار اور ذہنی بیماریوں کے متعلق شعور کی کمی کی وجہ سے صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس وقت پورے ملک میں تین سو سائیکاٹرسٹ موجود ہیں اور چند بڑے ہستپالوں میں ذہنی مریضوں کے لئے مو جود ہیں۔ نشہ آور ادویات میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے ۔ سابق صدرپاکستان ضیاالحق نے ذہنی امراض و ذہنی مریضوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کافی عملی اقدامات کئے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دیگر کئی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ موجودہ صدر پاکستان بھی ذہنی امراض کا شکار رہے ہیں یقینا وہ اس کی اذیت کو ضرور سمجھتے ہوں گے لہذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کی نگہداشت اور علاج کے لئے مریض ‘ڈاکٹروں’ نرسوں اور دیگر معالجین کو خصوصی ٹریننگ دی جائے اور خصوصی مراکز بنائے جائے جبکہ معاشرے میںمکمل انصاف کی فراہمی ‘غربت اور بیروز گاری کے خاتمے شرح خواندگی میں اضافہ’ امن و امان ‘بہتر طرز زندگی خصوصاً عوامی ضروریات زندگی کی فراہمی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات ، بہتر سیاسی نظام اور مذہب کے زرین اصولوں کی پیروی کے لئے بھی سنجیدہ اور موثر اقدامات کئے جائیں جن سے نہ صرف ذہنی امراض کی شرح میں یقینی کمی ہو گی بلکہ اس دن کے منانے کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔ 

1 Comment »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/10/10/p147/trackback/

  1. واہ جی واہ
    آج میرا عالمی دن ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں

    Comment by ڈفر — October 10, 2008 @ 3:07 pm

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>