پاکستان کا مریض جسد قومی اور معالجوں کی نارسائیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم ارشاد احمد حقانی فن صحافت میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں موجودہ حالات کے تناظر میں ان کی ایک فکر انگیز تحریر نذر قارئین ہے۔

پاکستان کے جسد قومی کو بدقسمتی سے اور ہماری ناکامیوں اور نارسائیوں کے باعث اتنے امراض لاحق ہو چکے ہیں کہ ان کا شمار بھی آسان نہیں رہا۔ غالباً اسی لئے اس کا علاج کرنے کے لئے کسی ایک ڈاکٹر یا معالج کی طرف رجوع نہیں کیا جا رہا بلکہ ماہرین طب کا ایک بہت بڑا بورڈ اس کے بنیادی امراض کی تشخیص کرنے اور ان کا علاج کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اس بورڈ میں زبدة الحکما بھی ہیں، ایم آر سی پی (معالج) بھی ہیں، ایف آر سی ایس (سرجن) بھی ہیں۔ ان کے علاوہ دم درود کرنے والے، تعویذ دینے والے اور ہومیوپیتھی کے ماہرین بھی جمع ہیں۔ جب کسی ایک مریض کو لاحق امراض بے شمار ہو جائیں اور ان میں سے بعض مرض ایک دوسرے کے متضاد ہوں تو معمول یہ ہے کہ ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بٹھا دیا جاتا ہے جو مرض کے تمام عوامل اور اس کی تمام تفصیلات کو سامنے رکھ کر کوئی نسخہ تجویز کرتا ہے۔ یہ تدبیر بالعموم کامیاب رہتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے جسد قومی کو لاحق امراض کا علاج کرنے کے لئے جو بورڈ جمع کیا گیا ہے اس کے ارکان کے درمیان تاحال کسی بھی نسخے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو علاج ایک معالج تجویز کرتا ہے دوسرا اس کے عین برخلاف کوئی دوسری دوائی تجویز کر دیتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ مریض اور اس کے لواحقین (یعنی پاکستانی عوام) حیرانی اور تشویش کی حالت میں مریض کی صحت روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی دیکھ رہے ہیں لیکن معالجین کی طرف سے انہیں کوئی اچھی خبر نہیں مل رہی بلکہ اب تو پہلے سے بھی بڑھ کر بیرونی کنسلٹنٹس معالجین کے اس بورڈ میں دخل اندازی کر رہے ہیں اور وہ اپنا ہی کوئی خاص نسخہ استعمال کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جس سے مریض کے ورثا مزید الجھن کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان معالجین میں سے کون سچا ماہر ہے، کون عطائی ہے ،کون نیک نیت ہے ،کس کی نیت میں فتور ہے اور ان متضاد نسخوں کی موجودگی میں آخرکار مریض کا انجام کیا ہو گا۔
امراض پہلے ہی کچھ کم نہ تھے اور معالجین کے خیالات کا فرق اور اختلاف پہلے ہی تصادم کی شکل اختیار کر رہا تھا کہ اب مریض کو علاج کے نام پر ایک ایسے نئے مرض میں مبتلا پایا گیا ہے جس کا کوئی علاج کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا اور تمام معالج حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں اور سب کو اپنے اپنے تجویز کردہ نسخے بیکار اور غیر موٴثر دکھائی دینے لگے ہیں۔ بڑے عرصے سے ایک بہت بڑے معالج کی طرف سے یہ امید دلائی جا رہی تھی کہ ان کے پاس ایک ایسا کافی و شافی نسخہ موجود ہے جو تمام امراض اور عوارض کا علاج کر سکے گا اور مریض بھلا چنگا اور تندرست ہو کر معمول کی زندگی گزار سکے گا لیکن مریض کے وارثوں کی مایوسی اور بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ جو نیا نسخہ تجویز کیا گیا ہے اور ابھی تک بھی جس کے بعض اجزا مریض کے وارثوں سے مخفی ہیں وہ بظاہر مرض کی سنگینی میں غیر معمولی اضافے کا باعث بنتا دکھائی دیتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس سے مرض کی علامات میں سے کسی ایک کا بھی شافی علاج نہیں ہوتا بہت سے دوسرے معالجوں کی نظر میں وہ مرض کو اور بھی سنگین تر اور پیچیدہ تر بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ نیا نسخہ جس کی مسیحائی پر ہمیں بڑی دیر سے تسلیاں دی جا رہی تھیں وہ 62 اجزا پر مشتمل ہے اور ان 62 اجزا میں سے شاید ہی چند ایک ایسے ہوں جن پر معالجین کے بورڈ کے تمام یا اکثر اراکین متفق ہوں۔ بورڈ کا ہر رکن اس نسخے میں کوئی نہ کوئی سقم بیان کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس نسخے کے تمام اجزا پر معالجین کے بورڈ کے متفق ہونے تک نہ معلوم مریض کی کیا حالت ہو جائے گی اور کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ اس کا مرض عملاً لاعلاج ہو کر رہ جائے۔
اس نئے نسخے کے جزوی انکشاف کے بعد نہ صرف مریض اور اس کے وارث بلکہ طبی بورڈ کے اکثر ارکان بھی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنتے دکھائی دیتے ہیں اور جن میں سے ایک آدھ کے سوا کسی بھی بڑے معالج نے اس نسخے کی مسیحائی پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ جناب زرداری کا آئینی پیکیج (نسخہ کیمیا) ابھی پورے کا پورا سامنے بھی نہیں آیا (اور کہا جاتا ہے کہ ابھی اس کے سب سے متنازع حصے اور اجزا بھی بورڈ کے سامنے آئے ہیں نہ وارثوں کے) تو اس حالت میں بھی یہ نسخہ معالجوں کے بورڈ میں سنگین قسم کی پھوٹ ڈالنے کا باعث بن گیا ہے جس پر ورثا میں سے بعض کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ”تا تریاق از عراق آوردہ شود، مارگزیدہ مردہ شود“ گویا پیکیج نے کسی بھی معالج کی نظر میں کسی ایک بھی بڑے مرض کا شافی اور متفق علیہ علاج تجویز نہیں کیا۔ ایک اور ستم یہ ہوا ہے کہ معالجین کے بورڈ میں سے کسی بھی ماہر نے اپنے علاج سے مریض کی کامل صحت یابی کی کوئی زمانی حد مقرر نہیں کی سب معالج یہی کہہ رہے ہیں کہ بس ہمارے تجویز کردہ علاج سے مریض صحت مند ہو جائے گا۔ کب اور کیسے، یہ وہ بھی واضح نہیں کر رہے۔ اس اثنا میں مریض کی حالت لمحہ بہ لمحہ خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں وارثان یہ دعا ہی کر سکتے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے اور ایسا کوئی نسخہ تجویز ہو جائے جس پر تمام معالج متفق ہوجائیں بظاہر جس کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔
مریض بیمار تو ایک عرصے سے تھا اور ڈاکٹروں اور ماہروں کی ایک ٹیم پہلے بھی اس کا علاج کر رہی تھی لیکن ان کا علاج موٴثر نہ ہوتے دیکھ کر وارثوں نے معالجین کی ایک نئی ٹیم کا انتخاب کیا جس میں سابقہ ٹیم کے بھی کچھ ماہر شامل ہو گئے یا کر لئے گئے تاکہ سب کی اجتماعی بصیرت سے مریض کو صحت یاب کرنے کی کوشش کر دیکھی جائے لیکن ابھی تک تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نئے معالج بھی پرانے معالجوں جیسے ہی ہیں اور ان کے پاس کوئی اکسیری نسخہ نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مریض کے وارث حیرانی اور پریشانی کے عالم میں سوچ رہے ہیں کہ مریض کی صحت یابی کے لئے اور کس طرف رجوع کیا جائے لیکن انہیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔
دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جس مریض کے اکثر اعضائے رئیسہ صحت مند بتائے جاتے ہیں اسے ہومیو پیتھی، ایلوپیتھی، طب یونانی حتیٰ کہ سرجری سے بھی کوئی افاقہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ علاج کے دوران بھی معالجین کے بورڈ کے ارکان کھلے مشورے بھی کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے کان میں بھی ان کی کھسر پھسر جاری ہے لیکن نتیجہ بالکل ندارد۔ ظاہر ہے کہ مریض کے وارث علاج تو آخر وقت تک جاری رکھیں گے اس امید کے ساتھ کہ کوئی نہ کوئی نسخہ شاید کسی وقت موٴثر ثابت ہو جائے بظاہر مریض کی کامل صحت یابی کے آثار روشن نہیں ہیں۔ ایسے میں خدا سے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ معالجین میں اتفاق رائے پیدا کر دے اور وہ کسی ایک نسخے پر متفق ہو جائیں۔ ایسی صورت میں جو بظاہر مشکل نظر آتی ہے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ شاید مریض روبہ صحت ہونا شروع ہو جائے اور آخرکار معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے لیکن ابھی تک تو یہ امید پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ غالب نے شاید ہماری موجودہ صورت حال ہی کی تصویر کشی ان اشعار میں کی ہے :
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دِن معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی، اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے، پر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)







آپ کو اور آپ کی فیملی کو عید مبارک ہو
Comment by میرا پاکستان — September 30, 2008 @ 7:10 am
بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو اور آپ کی فیملی کو بھی بہت بہت عید مبارک قبول ہو۔
Comment by hakimkhalid — September 30, 2008 @ 5:48 pm