عالمی یوم قلب اور اس کے تقاضے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کے امراض کی بنیادی وجوہات ذیا بیطس ‘بلڈ پریشر اور موٹاپا ہیں
مرغن اشیاء ’ فاسٹ فوڈز’کولا مشروبات ‘تمباکو نوشی سے پرہیز
مرغن اشیاء ’ فاسٹ فوڈز’کولا مشروبات ‘تمباکو نوشی سے پرہیز
اور سادہ غذا وسیر کو معمول بنائیں:حکیم قاضی ایم اے خالد
لاہور (الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) طبیب اعظم روحانی وجسمانی’ سید الانبیاء حضرت محمد ۖ کا فرمان ہے’‘بیشک جسم میں ایک ٹکڑاہے ۔جب تک وہ ٹھیک رہتا ہے سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔بیشک وہ ٹکڑا دل ہے’‘۔(بخاری’کتاب الایمان)یہی ‘’حضرت دل’’ جب بگڑنے پر آئیں تو انسان کو اسفل سافلین میں پہنچا دیتے ہیں۔روحانی امراض قلب میں سب سے بڑی مرض منافقت ہے یعنی منہ پر کچھ’اور دل میں کچھ اور’اسی لئے صوفی شاعر بلھے شاہ فرماتے ہیں ۔دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہو۔ جسمانی امراض کے حوالے سے’ دل کے امراض کی بنیادی وجوہات ذیا بیطس ‘بلڈ پریشر اور موٹاپاہیںدنیا بھرمیںدل کے مریضوں کی تعداد 6کروڑ 70لاکھ جبکہ پاکستان میں ایک کروڑکے لگ بھگ ہے کم و بیش سالانہ 70 لاکھ افراد امراض قلب کی وجہ سے وفات پاجاتے ہیں جبکہ اس کا تناسب پاکستان میں کل آبادی کی اموات کا 25 فیصد ہے ۔چکنائی والی مرغن اشیاء ‘کولا مشروبات ‘شراب وتمباکو نوشی سے پرہیز اور سادہ غذا وسیر کو معمول بنانے سے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں اموات کی سب سے بڑی وجہ امراضِ قلب خصوصاً ہارٹ اٹیک ہے ۔ امراض قلب بڑھنے کا بنیادی سبب عوام میں شعور ِصحت کا فقدان ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال عالمی یوم قلب منانے کامقصدِ اولین عوام کے شعورِصحت میں اضافہ کرنا ہے۔ عالمی یوم قلب کے حوالے سے اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذا کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ میں کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے ۔بیمارِ دل ہو کر طرح طرح کی دوائیں کھانے کی بجائے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے امراض قلب سے دور رہا جا سکتا ہے۔ اپنے قلب کو صحت مند رکھنے کے لئے اپنی غذاء میں تبدیلی لائیں ۔ روزمرہ کی غذاء میں پھل اور ترکاریوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ بغیر چھانے ہوئے آٹے (گیہوں ) کی روٹی ا ورکم چکنائی والا دودھ استعما ل کیجئے ۔ کولا مشروبات ‘تلی ہوئی اشیاء اور فاسٹ فوڈز سے پرہیز کریں ۔ خاص طور پراپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔ تمباکو نوشی اور الکحل سے دور ر ہیں۔سیر کومعمول بنانے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے سے اس مرض سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ خوشی یا غم سے ہونے والے ذہنی دبائو سے بچنے کی کوشش کیجئے ۔اگر خاندانی طور پر دل کی بیماری وراثتاً چلی آرہی ہو تو زیادہ محتاط رہیے ۔آپ اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے دوسری بار ہونے والے ہارٹ اٹیک کا تدارک کر سکتے ہیں۔ ذیابطیس کے شکار ہونے کی صورت میں اسے ہمیشہ کنٹرول میں رکھئے اگر آپ نے ان مشوروں پر عمل کرنے کا تہیہ کرلیا تو یقینا آپ امراض قلب سے تو محفوظ رہیں گے ہی ‘لیکن اس سے عالمی یوم قلب کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)







بہت اچھی کام کی پوسٹ ہے۔
Comment by ڈفر — September 29, 2008 @ 12:47 am
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈفر
Comment by hakimkhalid — September 29, 2008 @ 11:37 am