شہد'رائل جیلی اور پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کا بہترین علاج ہیں :حکیم خالد

ڈینگی مچھروں سے محفوظ رہنے کیلئے کا فوراور لیمن گراس گھروں میں مختلف جگہوں پر رکھیں
لاہور (الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ طب یونانی و اسلامی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کے مطابق شہد ڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے۔پروپولس(رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن ‘اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔ یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات’دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیںپپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے Plateletsحیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کالی مرچ’کلونجی ‘چرائتہ’افسنتین ہر ایک دس گرام باریک پیس لیںاور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے سے ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔ ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے’وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔ چاول ‘مونگ کی دال ‘کھچڑی’شلجم ‘چقندر’گاجر بند گوبھی’کریلا’انار’سنترہ’مسمی’میٹھااور امروداس مرض میں مفید غذا ہے۔
احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروںسے بچاؤ کیلئے لیمن گراس کو گھروں میں رکھا جائے ۔ یہ پودا سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے طور پرموثر ثابت ہوچکا ہے۔
ضروری نوٹ :مذکورہ تحریر کے جملہ حقوق قومی و بین الاقوامی طور پر حکیم قاضی ایم اے خالد کے نام رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم افادہ عام کیلئے اس تحریر کی نشرو اشاعت کی مشروط اجاز ت ہے۔ حکیم قاضی ایم اے خالد کے نام کے بغیر یا کسی اور نام کی شراکت کے ساتھ اس تحریر کی نشرو اشاعت تحریری سرقہ شمار ہوگی۔



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)







جو مچھر آپ نے تصویر میں دکھایا ہے یہ پاکستان میں پہلی بار آج سے پینتیس چھتیس سال قبل دیکھا گیا تھا اور محققین نے بتایا تھا کہ یہ مچھر امریکہ کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مسافر طیاروں کے ذریعہ پاکستان پہنچ گیا ہے اور بہت خطرناک ہے ۔ واہ چھاؤنی میں اسے ختم کرنے کیلئے مچھر مار دوائی کے ہفتہ وار چھڑکاؤ کئی ماہ تک کئے جاتے رہے تھے اور لوگوں کو اس کی تصویں دکھا کر متنبہ کیا گیا تھا کہ اس سے بچیں اور اسے فوراً مار دیں ۔ اچھے دن تھے وہ
Comment by افتخار اجمل بھوپال — September 17, 2008 @ 7:46 am
شکریہ انکل اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات جو کئی جہتیں لئے ہوئے ہے، میرے لئے بالکل نئی اور اہم ہے۔ قارئین اور میرے علم میں اضافہ کرنے کےلئے بہت شکریہ
Comment by hakimkhalid — September 17, 2008 @ 4:14 pm