وزیر دفاع ؟؟؟ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقے پر حملہ کیا ہے تو ضرور اس کی کوئی وجہ ہو گی ورنہ ایسے ہی حملہ کون کرتا ہے؟ معافی چاہتا ہوں یہ بیان امریکہ کے نہیں، پاکستان کے وزیر دفاع کا ہے۔ غلط فہمی اس کے نفس مضمون کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ویسے ممکن ہے احمد مختار صاحب نے یہ بیان نیک نیتی ہی سے دیا ہو کیونکہ امریکہ پاکستان سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی محبت منیر نیازی کے اس مصرعہ سے مماثل ہے۔
میں جس سے پیار کرتا ہوں، اس کو مار دیتا ہوں
یہ غالباً محبت کی آخری قسم ہے، اس کے بعد محبوب کے لئے صرف دعائے مغفرت کی گنجائش ہی باقی رہتی ہے۔ میں احمد مختار صاحب سے متعدد مواقع پر مل چکا ہوں وہ ازراہ کرم میرے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں بھی تشریف لائے تھے۔ وہ مجھے جسمانی اور دماغی طور پر پوری طرح صحت مند لگے تھے۔ وہ عمر کے اس حصے میں بھی نہیں ہیں جس میں انسان ”سترا بترا“ جاتا ہے لیکن ان کے بیانات مسلسل اس طرح کا تاثر دے رہے ہیں جن کی وجہ سے ان کی عمر کے بارے میں تحقیق کرنا پڑے گی۔
میں جس سے پیار کرتا ہوں، اس کو مار دیتا ہوں
یہ غالباً محبت کی آخری قسم ہے، اس کے بعد محبوب کے لئے صرف دعائے مغفرت کی گنجائش ہی باقی رہتی ہے۔ میں احمد مختار صاحب سے متعدد مواقع پر مل چکا ہوں وہ ازراہ کرم میرے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں بھی تشریف لائے تھے۔ وہ مجھے جسمانی اور دماغی طور پر پوری طرح صحت مند لگے تھے۔ وہ عمر کے اس حصے میں بھی نہیں ہیں جس میں انسان ”سترا بترا“ جاتا ہے لیکن ان کے بیانات مسلسل اس طرح کا تاثر دے رہے ہیں جن کی وجہ سے ان کی عمر کے بارے میں تحقیق کرنا پڑے گی۔
علاوہ ازیں وزیر دفاع کے کسی امریکی دوست کو چاہے کہ وہ انہیں ایسے امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دے جس میں یہ نکتہ بہت واضح طور پر انہیں سمجھایا جائے کہ امریکہ جب کبھی کسی خفیہ معاہدے کے تحت پاکستان کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی کی لبرٹی ہے جو وہ اکثر لیتا رہتا ہے، تو اس پر جو ردعمل ظاہر کیا جائے وہ ویسا نہیں ہونا چاہئے جو انہوں نے تازہ حملے پر ظاہر کیا ہے بلکہ ایسے موقع پر وزیر دفاع صاحب کو انتہائی غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان جاری کرنا چاہئے کہ پاکستان کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے ساتھ امریکی سفیر کی طلبی کی خبر بھی ہو اور وہ جب از راہ کرم فارن آفس میں تشریف لائیں تو ان کی خدمت میں ہاتھ جوڑ کر عرض کی جائے کہ مائی باپ یہ طلبی محض آپ کی زیارت کے لئے تھی ورنہ ہمارا گھر آپ کا گھر ہے آپ کی فوجیں جب چاہیں ہمارے علاقے میں قدم رنجہ فرما سکتی ہیں بس براہ کرم ذرا پیشگی اطلاع کر دیا کریں تاکہ ہم اپنے عوام کو بتا سکیں کہ جو پاکستانی شہری اس حملے میں مارے گئے ہیں وہ ہم نے بقلم خود مارے ہیں لہٰذا اس کا کریڈٹ خواہ مخواہ امریکہ کو نہ دیا جائے، امید ہے اس طرح کا رویہ اپنانے سے ہماری حکومت اپنے عوام کو بھی یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو جائے گی کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ کو بھی ایک بار پھر یقین آ جائے گا کہ پاکستان کی خود مختاری میں احمد مختاری کتنی شامل ہے؟ بصورت دیگر پاکستانی عوام احمد مختار صاحب کی اس صاف گوئی کی داد دینے کی بجائے الٹا ان کے بارے میں بے ہودہ قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا رہیں گے!
احمد مختار صاحب کا ایک اور شاہکار بیان بھی حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بلوچستان کے لئے مخصوص ملازمتوں کے کوٹے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو احمد مختار صاحب نے فرمایا کہ چپڑاسی کی چند ملازمتیں ان کی خدمت میں حاضر ہیں۔ بلوچیوں نے ان کے اس جواب میں برا مانا حالانکہ اس میں برا ماننے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے جو ماحضر تھا وہ پیش کر دیا۔ ایک اسی طرح کا واقعہ 1970ء کی دہائی میں بھی پیش آیا تھا۔ لاہور کے نیشنل سنٹر میں بلوچستان کی گھمبیر اور تشویشناک صورتحال (یعنی یہ سلسلہ پرانا ہے) پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے معتدل سوچ کے دانشوروں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔ تقریب کی صدارت پیپلز پارٹی کے ایک دانشور وزیر کر رہے تھے۔ جب متعلقہ موضوع پر بہت خوبصورت اور جذبات کو ٹھنڈا کرنے والی باتیں ہو چکیں تو آخر میں جناب صدر یعنی وزیر موصوف سٹیج پر خطبہٴ صدارت کے لئے تشریف لائے اور انہوں نے پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ ”بلوچ کے لغوی معنی ہی لونڈیوں کی اولاد“ قومی یکجہتی کے لئے منعقد کئے گئے اس سیمینار کا انجام اس ”قول زریں“ کے نتیجے میں کیا ہوا ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ میں نے اگلے روز اپنے کالم میں وزیر صاحب کے اس بیان کے لتے لئے تو انہوں نے اپنے جوابی مضمون میں فرمایا ”کالم نگار نے خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنا دیا، ورنہ انہوں نے لونڈیوں کی اولاد والی جو بات کہی تھی وہ محض اکیڈمک نوعیت کی تھی!“ میرے خیال میں احمد مختار صاحب کو بھی اسی قسم کا کوئی اسٹینڈ لینا چاہئے۔
ہمارے یہ وزیر دفاع امریکہ کا دفاع کرنے سے پہلے جنرل (ر) پرویز مشرف کا دفاع کیا کرتے تھے۔ جب پوری قوم جنرل کے خلاف صف آراء تھی، موصوف کا یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ”جنرل صاحب پاکستانی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں“ ہماری قوم جذباتی قوم واقع ہوئی ہے چنانچہ انہیں احمد مختار صاحب کی یہ مدح پسند نہ آئی لیکن ان کی دور بینی ملاحظہ فرمائیں کہ ان کا کہا لفظ بہ لفظ سچ نکلا چنانچہ جنرل کی صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا تو قوم کی اسی قیمتی متاع کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہیں ایک جائز اور قانونی صدر کی طرح وہ تمام سہولتیں اور مراعات دی گئیں جو کسی آئینی ریٹائرڈ صدر کو آئینی طور پر حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن ہم لوگ حقائق سے آنکھیں چرانے والے لوگ ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ احمد مختار صاحب ہم میں سے نہیں ورنہ اتنی نازک ذمہ داریوں کا حامل شخص اپنے جذباتی رویوں سے قوم کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھ جاتا! یہ سطور لکھتے ہوئے میں محسوس کر رہا ہوں کہ وزارت دفاع کا منصب اتنے بڑے وژن والے شخص کے شایان شان نہیں۔
آصف علی زرداری صاحب کی بطور صدر نامزدگی پر کچھ حلقے اعتراضات کر رہے ہیں۔ تو کیوں نہ زرداری صاحب قوم کے لئے ایک قربانی اور دیں اور اپنی صدارت کی امیدواری سے دستبردار ہوتے ہوئے جناب احمد مختار کو صدر پاکستان بنا دیں اگر صدر پاکستان بننے کے لئے امریکہ کی منظوری لینا پڑتی ہے تو یہ بھی لی جا سکتی ہے بلکہ زرداری صاحب اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کام اولین فرصت میں خود ہی کر دیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے یہ سمری امریکہ کی طرف سے آ جائے اور حکومت کو اس کی رسمی منظوری کا حکم بذریعہ ٹیلیفون موصول ہو جائے۔





![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)









