اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: بے حمیتی کا آسیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :: September :: 2008

بے حمیتی کا آسیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

16 کروڑ آبادی 8 لاکھ مربع کلو میٹر رقبے پر مشتمل عالم اسلام کی واحد اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کی ایک غریب و خستہ حال سی بستی گہری نیند سو رہی ہے رمضان کا سعید مہینہ شروع ہو چکا ہے رات کا آخری پہر ہولے ہولے سرک رہا ہے شمال کی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے لوگ گہری نیند سو رہے ہیں ابھی کچھ ہی دیر بعد نوبت نقارے بجیں گے۔ دین میں پکے اور عمل کے سچے غریب و سادہ و رنگین سے لوگ بیدار ہوں گے اور روکھی سوکھی کھا کر روزہ رکھ لیں گے۔
لیکن نوبت نقارے بجنے سے پہلے ہی فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹرز کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر زمین پر اترتا ہے۔ اس سے مسلح امریکی کمانڈوز برآمد ہوتے ہیں۔ ان کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی دو ہیلی کاپٹرز دو بستیوں کو نشانہ بناتے ہیں پھر کمانڈوز حرکت میں آتے ہیں وہ کچھ گھروں میں داخل ہو کر تلاشی لیتے ہیں کہیں گولیاں چلنے، کہیں ہینڈ گرنیڈ پھٹنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں حملہ آور اطمینان سے اپنی کارروائی مکمل کرتے ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے اور واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔ صبح کی روشنی پھیل رہی ہے تباہ حال لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں بیس افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں پانچ خواتین اور تین بچے۔ اکثر کے سروں میں گولیاں داغی گئی ہیں اور اکثر جسم ادھڑے ہوئے ہیں۔

تین ہیلی کاپٹر سرحد پار سے آئے دفاع وطن کی ضامن کوئی آنکھ، کوئی آلہ، کوئی ریڈار انہیں نہیں دیکھ پایا وہ اپنی آزادانہ مرضی کے ساتھ داخل ہوئے آزادانہ مرضی کے ساتھ اپنا مشن مکمل کرتے اور آزادانہ مرضی کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ بتایا گیا کہ یہ سب کچھ ایک پاکستانی چوکی سے صرف تین سو گز دور ہوا۔
 
یہ ہے وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو پرویز مشرف نامی شخص چھوڑ گیا ہے۔ 18/اگست کو استعفیٰ دیتے ہوئے اس نے کمال فخر سے اپنے کارنامے گنوائے۔ قوم کو اپنے بے کراں احسانات یاد دلائے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کیا اور گارڈ آف آنر کے جلوس میں رخصت ہوا جیسے وہ قائد اعظم کے پاکستان کی عزت و آبرو کو معراج کمال تک پہنچا کر جا رہا ہو۔ اپنی نوکری کے تحفظ کے لئے پاکستان کے آئین پر چڑھ دوڑنے ، جمہوری نظام کو بھاری بوٹوں تلے روند ڈالنے اور اپنے سیاسی حریفوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینے والا ”جری کمانڈو“ واشنگٹن سے آنے والے ایک فون کے سامنے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اپنی قوم سے پیہم لڑنے، اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کچلنے، اپنے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے والوں کو ریاستی قوت کے ذریعے قتل کرانے، اپنے مخالفین کو رعونت کے ساتھ ملک بدر کرنے، اپنی عدالتوں کو بلڈوز کرنے، اپنے ججوں کو قید میں ڈالنے، اپی پھول جیسی بچیوں کو فاسفورس کے بموں سے بھسم کرنے، اپنی پارلیمنٹ کو ’مکے‘ دکھانے اور اپنے اہل وطن کے لئے فولاد بن جانے والا کمانڈو صدر ، غیروں کے پاؤں تلے ریشم کے تھان کی طرح بچھتا چلا گیا۔ اس نے کچھ بھی طے کئے بغیر، کوئی شرط منوائے بغیر، کوئی ضمانت لئے بغیر، کسی قومی مفاد کے تحفظ کا تقاضا کئے بغیر، پاکستان کے تمام مفادات، طشتری میں سجا کر جارج ڈبلیو بش کے قدموں میں رکھ دیے۔ اس نے قوم سے کہا ”میرے اس فیصلے سے کشمیر کاز کو تقویت ملے گی۔ امریکہ خطے میں ہماری سرپرستی کرے گا، افغانستان پر امریکی حملہ انتہائی مختصر ہو گا جلد ہی امریکی افواج واپس چلی جائیں گی۔ وہاں شمالی اتحاد کی حکومت نہیں بننے دی جائے گی…“ اور ہوا یہ پورے کا پورا پاکستان اپنے تمام تر مفادات کے ساتھ افغانستان کی چتا میں جھونک دیا گیا۔ قیمت صرف یہ وصول کی گئی کہ مشرف کے قلعہٴ اقتدار کی فصیلیں مضبوط رہیں۔ پاکستان کی مشکیں کس کر امریکیوں کے سامنے ڈھیر کر دینے ہی کا ثمر ہے کہ آج بھی امریکہ مشرف کو انڈیمنٹی دینے کے لئے بضد ہے اور نئی حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے۔

مشرف کو انڈیمنٹی دینے والے جو جی چاہیں کریں لیکن اس شخص کا سب سے گھناؤنا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے اقتدار کی خاطر پاکستان کی آزادی کو رسوا کیا پاکستان کی خود مختاری کو داؤ پر لگایا اور پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کو جنس بازار بنا دیا۔ اس نے صرف اپنی کرسی کے تحفظ کے لئے درندوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ پاکستان کی بستیوں کو نوچتے پھریں اس نے صرف اپنے اقتدار کے لئے امریکہ کو پاکستان کے داخلی معاملات میں دور اندر تک گھس آنے کی اجازت دے دی۔ اس نے صرف اپنی بقا کے لئے پاکستان کو امریکی مفادات کی چراگاہ بنا دیا اور اس نے صرف اپنی ذات کے لئے بے ننگ و نام امریکی کروسیڈ کو ”اپنی جنگ“ کا نام دے دیا۔ آج وہ آرمی ہاؤس کے سبزہ زاروں میں بنے کورٹ میں ٹینس کھیل رہا ہے۔ پاکستان آتشکدہ بنا ہوا ہے لاشیں گر رہی ہیں، اس کی پالیسیوں کا عفریت پاکستانیوں کا لہو چاٹ رہا ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے دعویدار حکمران بھی اسے ”اپنی جنگ“ قرار دے رہے ہیں۔
دفاع پاکستان کے ذمہ دار وزیر عالی مقام کہ اسم گرامی ان کا احمد مختار ہے بیس پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل اور سرزمین پاکستان کی شرمناک بے حرمتی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” کچھ ہوا ہو گا تو امریکیوں نے حملہ کیا ہے“۔ میرا قلم اس فرمودے پر تبصرے سے عاجز ہے۔ اقبال بتا چکا ہے کہ غلامی کی خوبو قوموں کا مزاج بدل کے رکھ دیتی ہے۔ امریکی حملے کے جواب میں بہانے بنانے دلیلیں تراشنے اور جواز تلاشنے کا غلامانہ ہنر پرویز مشرف نے عام کیا اور جمہوری حکمرانوں نے اسے اپنے بزرگوں کا ترکہ سمجھ کر سینے سے لگا لیا۔ کل تک جو شگوفے شیخ رشید احمد جیسوں کے لب لعلیں پر کھل رہے تھے آج احمد مختاروں کے ہونٹوں پہ پھوٹ رہے ہیں۔ ان شگوفوں میں حمیت کی مہک ہے نہ غیرت کی خوشبو۔ بس غلامانہ ذہنیت کی بساندھ ہے جس سے ہر پاکستانی کا دماغ پھٹا جا رہا ہے۔
شاید قیام پاکستان کے بعد یہ ہماری مغربی سرحد پر پہلی کارروائی ہے جس میں ڈیورنڈ لائن کے اس پار سے باضابطہ زمینی اور فضائی حملہ ہوا۔ غنیم کی فوج کئی میل اندر تک گھس آئی اور ایک بڑی واردات کے بعد واپس چلی گئی۔ ایسا افغانستان پر روسی یلغار اور ایک عشرے پر محیط جہاد کے دنوں میں بھی نہیں ہوا۔ ایسا بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی تین جنگوں کے دوران بھی نہیں ہوا۔ ایسا افغان حکمرانوں کے ساتھ شدید کشیدگی کے عرصے میں بھی نہیں ہوا۔ امریکہ نے ڈھٹائی کے ساتھ اس حملے کا اقرار کیا اور دھمکی دی کہ آئندہ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ حملے کے ایک دن بعد سرحد پار سے میزائل داغے گئے اور چھ مزید شہری شہید ہو گئے۔ میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اور خبر آئی ہے کہ میران شاہ میں امریکی طیارے منڈلا رہے ہیں۔ ہماری قومی اسمبلی اور سینٹ نے قرار دادیں منظور کر کے حجت تمام کر لی اور حکمرانوں نے کچھ بیانات دے کر فریضہ پورا کر دیا۔ خوف میں جکڑے ہوئے لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟
اللہ نہ کرے، لیکن آثار ایسے ہیں کہ ہماری بے حمیتی کا یہی عالم رہا تو امریکہ لاؤلشکر لے کر قبائلی علاقے میں آبیٹھے گا اور ہمارے احمد مختار یہ کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیں گے کہ ”کچھ ہوا ہی ہوگا تو یہاں آئے ہیں“۔ جب تک ہمارے جمہوری حکمران عوام کی طاقت پر اعتماد نہیں کرتے اور جب تک وہ امریکہ کو اقتدار کا سرچشمہ خیال کرنے کے فریب سے نہیں نکلتے اور جب تک وہ اس حقیقت کو نہیں پا لیتے کہ امریکی کروسیڈ، ہماری جنگ نہیں۔ اس وقت تک ہماری بستیاں کھنڈر ہوتی رہیں گی۔ ہماری لاشیں گرتی رہیں گی اور ہماری آزادی و خود مختاری کی آبروریزی ہوتی رہے گی۔ کیا آصف علی زرداری ایوان صدر کو ایک بے حمیت آسیب کے اثرات بد سے نجات دلا سکیں گے؟

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/09/06/p133/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>