انصاف کی طاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” سرکاری نظام میں ایک عدالتی مقدمہ پانچ سال لیتا ہے اور بھاری رشوتیں اس کے علاوہ ہوتی ہے جبکہ طالبان ایک سہ پہر میں اس کا فیصلہ کردیتے ہیں۔“ … افغانستان کے صوبہ وردک کے سرکاری جج امان الله اسحق زئی کے یہ الفاظ افغانستان میں طالبان کی مقبولیت اور دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اور طاقتور اقوام کی غاصب فوجوں کے مقابلے میں ان کی مسلسل کامیابیوں کے اصل راز سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ برطانیہ کے معروف جریدے گارجین کے نمائندے Jason Burke کا کہنا ہے کہ طالبان کی اصل طاقت ان کی مستعد متوازی انتظامیہ ہے جس کے سبب وہ آج مقامی آبادی کے دل جیت کر کابل کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔24 اگست کو"Taliban win over locals at the gates of Kabul" کے عنوان سے منظر عام پر آنے والی گارجین کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ وردک کی آٹھ لاکھ کی آبادی میں سے سرکاری عدالت میں اکثر صرف وہی لوگ جاتے ہیں جنہیں اپنے کاغذات پر سرکاری مہر لگوانی ہو۔ باقی بیشتر آبادی اپنے معاملات کا تصفیہ کرانے کے لیے طالبان سے رجوع کرتی ہے۔ یہاں انہیں اگرچہ کھردرا انصاف ملتا ہے مگر عموماً موٴثر ہوتاہے۔ گارجین کے نمائندے کے بقول ہر دیہاتی کے پاس ایسی کہانیاں ہیں کہ طالبان نے کس طرح جائیدادوں کے بے شمار تنازعات طے کرائے جو افغان معاشرے میں بہت عام ہیں۔
طالبان لوٹ مار اور دیگر سماجی جرائم پر قابو پانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں، اس کی وضاحت کے لیے وردک سے رکن پارلیمنٹ محمد موسیٰ ہوتک نے جیسن برک کو یہ واقعہ سنایا کہ طالبان پچھلے ہفتے جل ریز نامی جنوبی ضلع کے ایک گاوٴں میں پہنچے ۔ وہاں کے تین مشہور ڈاکووٴں کو انہوں نے گرفتار کیا۔ ان کے چہرے تارکول سے کالے کیے، انہیں عبرت کی مثال کے طور پر علاقے میں گشت کرایا اور پھر غالباً موت کی سزا دے دی۔پچھلے سال افغانستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ تھا کہ جو علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں، وہاں انہوں نے مجموعی طور پر 70 سے90 مجرمان کو موت کی سزا دی جبکہ کم سنگین جرائم میں کئی ہزار لوگوں کو دوسری مختلف سزائیں دی گئیں۔رکن پارلیمنٹ موسیٰ ہوتک کے بقول طالبان کی ان کارروائیوں کا عام طور پر لوگوں کی جانب سے خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ہوتک بتاتے ہیں کہ کسی علاقے میں پہنچنے کے بعد طالبان سب سے پہلے قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری لینے کا اعلان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ”ہم ایک مرغی تک کے ذمہ دار ہیں۔“افغان رکن پارلیمنٹ معترف ہیں کہ ”لوگ ان پر اعتبار کرتے ہیں، جب وہ کسی ڈاکو کو قتل کرتے ہیں تو ہر شخص خوش ہوتا ہے۔“
حکومت کے ایک وزیر نے گارجین کے نمائندے کو بتایا کہ اس کے اپنے گاوٴں میں طالبان نے کس طرح ایک دکاندار کا لوٹا ہوا مال واپس دلوایا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ دکاندار نے طالبان سے ڈکیتی کی شکایت کی تو انہوں نے صرف اتنا کیا کہ علاقے میں رات کو ایک پمفلٹ جسے شب نامہ کہا جاتا ہے، تقسیم کیا۔لوگوں سے رابطے کا یہ طریقہ افغانستان کے مزاحمت کاروں نے برسوں سے اختیار کررکھا ہے۔ وزیر کے گاوٴں میں بانٹے جانے والے اس شب نامے کا مضمون یہ تھا : ” ہم ڈاکہ ڈالنے والے کو جانتے ہیں اور (لوٹا ہوا مال واپس نہ کیا گیا) تو اسے برسرعام پھانسی دیدی جائے گی۔“ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ محض اس کارروائی کے نتیجے میں متعلقہ دکاندار کو اس کا سارا سامان واپس مل گیا۔ جس وزیر نے گارجین کے نمائندے کو یہ واقعہ سنایا اسی نے یہ بھی بتایا کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا دکاندار لٹنے کے بعد سرکاری حکام کے پاس پہنچا مگر اسے اپنے لٹے ہوئے سامان میں سے کچھ بھی واپس نہیں ملا بلکہ اس ناکامی کے بعد جب اس نے طالبان سے مدد طلب کرنے کی بات کی تو اسے الٹا زدوکوب کیا گیا۔ کابل کے قریب میدان شاہ کے علاقے کے جوار میں رہنے والے ایک قبائلی سردار عصمت الله نے گارجین کے نمائندے کو بتایا: ”جب طالبان برسراقتدار تھے تو آپ نوٹوں سے بھرا ہوا تھیلا لے کر (ڈھائی سو میل دور) قندھار تک مسلسل ڈرائیو کرسکتے تھے اور کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ آپ کو ہاتھ بھی لگا سکتا۔ مگر اب چوروں کی حکومت ہے۔

جناب آصف زرداری نے اتفاق سے اگست کی 24ہی تاریخ کوبی بی سی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ مغربی دنیا اور حکومت پاکستان طالبان کے مقابلے میں ہاررہے ہیں اور اس جنگ میں یقینی طور پر طالبان کا پلہ بھاری ہے۔اس صورت حال پر حکومت پاکستان کی پریشانی قابل فہم ہے۔ چنانچہ جولائی کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم کی قیادت میں حکمراں اتحاد کے پہلے سربراہی اجلاس میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی گئی۔ مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی نے اس اجلاس میں غیرمبہم الفاظ میں کہا تھا کہ صوبہ سرحد پاکستان سے الگ ہورہا ہے اور طالبان کے قبضے میں جارہا ہے۔ اس اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پشاور کے گردوپیش کے ان اضلاع میں بھی طالبان کے اثرات مستحکم ہیں جہاں لڑائی نہیں ہورہی ہے۔ جبکہ آج پشاور تو کیا خود حکمرانوں کی جانب سے کراچی کی طالبانائزیشن کے اندیشے ظاہر کیے جارہے ہیں۔ 29 اگست کو چھپنے والی ایک نہایت چشم کشا رپورٹ کے مطابق سیکوریٹی سے متعلق ایک اہم سرکاری اہلکار نے براہ راست بات چیت میں قبائلی علاقوں کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ رونگٹے کھڑے کردینے والا سوال اٹھایا کہ ”اگر سوات اور فاٹا میں ہماری فوج خود اپنی خواہش یا سیاسی تائید کی کمی کی وجہ سے مزید لڑنے سے انکار کردے تو کیا ہوگا۔اس صورت میں ملک کہاں جائے گا اور طالبان کے سیلاب کو کون روکے گا۔“
ان حالات میں حکمرانوں کو پوری سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ دنیا کی طاقتور ترین قوموں کے مقابلے میں ان خاک نشینوں کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ خود مغرب کے لوگ کس طرح اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ یہ انصاف کی طاقت ہے جس کے بل پر طالبان نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ اس لیے پاکستان کوطالبانائزیشن کے خطرے سے بچانے کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہاں بھی بے لاگ ، فوری اور مفت انصاف عام ہو۔ جو بھی یہ کام کرے گا، لوگوں کے دلوں پر اسی کی حکومت ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اسی ادا نے انہیں کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا ہے۔انہوں نے بیرنگ خطوط پر بھی سوموٹو ایکشن لے کر اور ہر مظلوم کوبے لاگ انصاف کی فراہمی کو اپنا مشن بناکر عوام کی نگاہ میں ملکی نظام کو قابل اعتماد بنانے کی عظیم خدمت شروع کی تھی۔ کیونکہ یہ اعتماد ہی ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔ موجودہ حکمراں بھی ،عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی حقیقی بحالی اور آئین و قانون کی سچی حکمرانی کے قیام میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے کر لوگوں کو مایوس کررہے ہیں حالانکہ اگرآئین پر عمل ہو تو یہ ملک پوری دنیا کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق اسلام کے نظام عدل و رحمت کی قابل تقلید مثال بن سکتا ہے ۔ مگر ہمارے مقتدر طبقے مسلسل اس آئین کی بالادستی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ عدلیہ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستان کے لوگ بھی طالبان کے کھردرے مگر موٴثرانصاف کو خوش آمدید کہیں تو حکمرانوں کو کسی شکایت کا کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ انصاف ہر انسانی معاشرے کی سب سے ناگزیر ضرورت ہے۔
ثروت جمال اصمعی



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)







طالبان کے پاس کیونکہ ہر جرم کی ایک ہی سزا ہے (جو غالبا انکی شریعت کے عین مطابق ہے) چناچہ ایک ہی پیشی میں فیصلہ آجاتا ہے ۔۔ ثروت صاحب کو حالیہ بم دھماکے، معصوموں کی جانیں لینے والے طالبان کیوں نظر نہیں آئے؟ پاکستان میں خیر مقدم اور عوامی تائید طالبان کے لیے ملنا بہت مشکل ہے۔
Comment by Rashid Kamran — September 2, 2008 @ 9:36 pm
جو باتیں انگریز سمجھ چکا ہے کاٹھے انگریزوں کو سمجھانی پڑ رہی ہیں۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان میں حالیہ بم دھماکوں کے پیچھے طالبان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہ کینٹ سے گرفتار ہونے والے خود کش بمبار حمیداللہ خان سے دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانوں میں افغان ایجنسیوں اور را کے تعاون سے خودکش دھماکے کروانے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اس سلسلے میں انھوں نے ایک سو سے زائد خود کش بمبار تیار کر رکھے ہیں ان خود کش حملہ آوروں میں زیادہ تر وزیرستان کے وہ مشتعل نوجوان ہیں جن کے والدین اور اہل و عیال فوجی آپریشن میں جاں بحق ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رحمان ملک بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے غیرمکی ایجنسیاں خاص طور پر را ملوث ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا طالبان پر ان سب دھماکوں کی ذمہ داری ڈالناکسی طور درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقائق اب ہر فرد کی دسترس میں ہیں اس لئے جھوٹ جلد ہی دم توڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر افراد کو ننگی زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے تو اتنا ہی حق ستر پوشی کی زندگی گذارنے والوں کو بھی حاصل ہےان معصوم لوگوں پر جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے اس تصویر کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان لوگوں کا بھی خون سرخ ہی ہے خواتین اورمعصوم بچےان لوگوں کے بھی مر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نہیں بھولنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث اصل ذمہ داران کو بھی پہچاننا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comment by hakimkhalidگ — September 6, 2008 @ 12:36 pm