اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 31, 2008

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم خالد

افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے

 پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک ہو۔

   روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے’اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے ‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’ خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

August 28, 2008

فراز تجھے سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


احمد فراز چودہ جنوری 1931 کو نوشہرہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے
اقبال اور فیض کے بعد قبولِ عام کا جو درجہ فراز کو حاصل ہوا وہ اُردو شاعری میں اور کسی کو نصیب نہ ہوا۔

1976 میں وہ اکادمی ادبیات کے بانی ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور بعد میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی نگرانی بھی انھیں سونپی گئی۔ سن 2004 میں انھیں ادبی خدمات کے صِلے میں ’ہلالِ امتیاز‘ بخشا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے صدر مشرف کی پالیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ اعزاز واپس کردیا۔
قبل ازیں وہ صدر ضیا الحق کے دور میں حکومت کے زیرِ عتاب رہے۔

ایک شاعر کے طور پر فراز اگرچہ صحتِ زبان کے ساتھ ساتھ اوزان و بحور پر دسترس اور شعر کی تکنیکی باریکیوں سے واقفیت کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اس کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شحضیت اگرچہ اُن کا سیاسی آئیڈیل تھی لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ ملک کی سیاسی صورتِ حال سے سخت نالاں تھے۔ ججوں کی برطرفی ان کے نزدیک مشرف کا انتہائی بد ترین اقدام تھا اس ھوالے سے انہوں نے بیماری کی حالت میں تیرہ جون 2008کواسلام آباد میں ہونے والے لانگ مارچ میں شرکت کی اور سات آٹھ گھنٹے نعرے لگاتے رہے ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کو نوکریاں، وزارتیں، ٹھیکے اور پرمٹ دِلوانے والے کمیشن ایجنٹوں کا ایک گروہ قرار دیتے رہے۔

میڈیا پہ ہونے والی گفتگو کے دوران انھوں نے این آر او کو رشوت کی ایک قِسم قرار دیا تھا جس کے ذریعے عوام کا اربوں روپیہ لوٹ لے جانے والے ٹھگ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ سانحہ لال مسجد پر بہت دل گرفتہ رہے۔سیاسی جرنیلوں کرنیلوں کے شروع سے ہی خلاف رہے حالانکہ ان کی اولاد فوج میں اعلی عہدے کی حامل ہے۔وہ فوج کے خلاف نہیں تھے بلکہ فوج کے سیاسی کردار کے خلاف تھے۔اور فوج کو صحیح معنوں میں اپنے اصل پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔
فراز بظاہر آج ہم میں نہیں رہے لیکن اپنی جرات مندانہ شاعری کے حوالے سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
فراز تجھے سلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
آمریت کے حوالے سے فراز کی ایک معروف نظم
 
میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے
فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہے لشکری اس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دارورسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پے ایوانِ کج نگاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے شناگر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا ،میرے عدو کے لئے
کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدیدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا۔۔۔۔۔۔
 

ذہنی امراض کی سب سے بڑی وجہ ناانصافی ہے:ہیلتھ پاک

دنیا بھر میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا آٹھ لاکھ سے زائد مریض ہر سال خود کشی کرتے ہیں
 
لاہور(الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) دنیا بھر میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا آٹھ لاکھ سے زائد مریض ہر سال خود کشی کرتے ہیں اور اندازے کے مطابق ہسپتال میں آنے والا ہر چوتھا شخص ذہنی یا عصابی بیماری میں مبتلا ہے وطن عزیز میں کل آبادی کے دس سے بیس فیصد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ذہنی بیماریوں سے ہر عمر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اوراس سے بچے بھی محفوظ نہیں گیارہ سال سے کم عمر کے بچوں میں ساتھ فیصد مختلف ذہنی و عصابی بیماریوں میں مبتلا ہو تے ہیں دنیا بھرمیں پندرہ کروڑ افراد ڈپریشن اور دس کروڑ افراد مختلف نشہ آور ادویات کے استعمال میں مبتلا ہے پانچ کروڑافراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں اور ڈھائی کروڑ سے زائد افرادحافظہ کی کمزوری کا شکار ہیں ان خیالات کا اظہارچیف ایگزیکٹو’‘ہیلتھ پاک’’ قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی بیماریوں کی مختلف وجوہات ہیں جنمیں حیاتیاتی، نفیساتی ،معاشی ، ثقافتی اور سیاسی وجوہات شامل ہیں۔عدم انصاف ذہنی امراض کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہمارے ملک میں ان اضافی وجوہات کی بناء پر ذہنی امراض کی شرح زیادہ پائے جانے کے شواہد ہیں مگر ناکافی اعداد و شمار اور ذہنی بیماریوں کے متعلق شعور کی کمی کی وجہ سے صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس وقت پورے ملک میں تین سو سائیکاٹرسٹ موجود ہیں اور چند بڑے ہستپالوں میں ذہنی مریضوں کے لئے مو جود ہیں انہوں نے کہاکہ نشہ آور ادویات میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے ۔ سابق صدر ضیاءالحق نے اس حوالے سے کافی عملی اقدامات کیے۔ (خواہ اس کی وجہ ذہنی مرض میں مبتلاء ان کی اپنی بیٹی رہی ہو) اسی طرح سننے میں آ رہا ہے کہ وطن عزیز کے موجودہ حکمران بھی ذہنی امراض کا شکار رہے ہیں یقیناً وہ اس کی اذیت کو ضرور سمجھتے ہوں گے لہذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کی نگہداشت اور علاج کے لئے مریض ڈاکٹروں’ نرسوں اور دیگر معالجین کو خصوصی ٹریننگ دی جائے اور خصوصی مراکز بنائے جائے جبکہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی ، غربت اور بیروز گاری کے خاتمے شرح خواندگی میں اضافہ،بہتر طرز زندگی خصوصاً عوامی ضروریات زندگی کی فراہمی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات ، بہتر سیاسی نظام اور مذہب کے زرین اصولوں کی پیروی کے لئے بھی سنجیدہ اور موثر اقدامات کئے جائیں جن سے ذہنی امراض کی شرح میں یقینی کمی ہو گی ۔۔

August 25, 2008

لائی”بے قدراں “ نال یاری تے ٹٹ گئی ”تڑک“ کرکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 
 
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ تقریباً چھ ماہ پرانے اپنے حکمراں اتحاد کو خیرباد کہتے ہوئے سابق چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔

پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی طرف سے بار بار معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی اور ایوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہونے کے ناتے قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کا بھی مطالبہ کرے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ آصف زرداری نے آخری خلاف ورزی اس وقت کی جب انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد ججوں کو بحال نہیں کیا اور خود کو صدرارتی امیدوار بنا دیا۔

انہوں نے ایک معاہدے کی کاپی صحافیوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کے دونوں صفحات پر ان کے اور آصف علی زرداری کے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت صدر کا امیدوار متفقہ طور پر یا اگر پیپلز پارٹی امیدوار سامنے لاتی ہے تو سترہویں ترمیم کے خاتمے کے بعد ایسا کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہایت افسوس کے ساتھ چاروں اطراف سے ناامید ہونے کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے ہیں۔ ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کا نظام کاغذات پر طے پانے والے معاہدات کے گرد گھومتا ہے اور ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کریں گے‘۔

August 24, 2008

مستقبل کا صدر پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بے اصول اور عہد شکن سیاستدان

 
 
 
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی اور دیگر امور پر ہونے والے معاہدوں کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوئی قرآن کے الفاظ یا حدیث تو نہیں ہیں کہ ان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ تبدیلی نہ لائی جاسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 پاکستانی عوام یہ جان لے کہ ان کا آٓئندہ صدر وعدوں سے پھر جانے والے’ایک بے اصول اور عہد شکن سیاستدان ہیں۔(جو کبھی وطن عزیز کے سب سے زیادہ بدعنوان افراد کی  لسٹ میں سر فہرست رہے ہیں) جنھیں پاکستان اور پاکستانی عوام کے مسائل کے حل کی بجائے اپنے ملکی اور غیرملکی آقاوں کے احکامات کی تعمیل کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف زرداری کا صدر بننے کی خواہش رکھنا کئی اعتبار سے سمجھ سے بالاتر ہے۔
آخر وہ کسی بھی ایسے عہدے کی خواہش کیوں کریں گے جس کے اختیارات سلب کرنے کے لیے ان کی اپنی ہی جماعت نے ایک جامع آئینی اصلاحاتی پیکیج ترتیب دیا ہے۔ اور پھر ان کے صدر بننے کے بعد ان کی جماعت کا کیا ہو گا؟؟؟

آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صدر ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے چئرمین بھی رہے۔ اس لیے صدر بن کر پارٹی چھوڑنا قطعی ضروری نہیں۔

لیکن ایسی صورت میں مسلم لیگ نواز کے علاوہ کیا ان کے باقی حلیف بھی ان کے ساتھ رہ سکیں گے؟؟؟ اور کیا ان کی جماعت ایسی صورت میں ایک نئی قاف لیگ نہیں بن جائے گی جس کے سیاسی مستقبل کی ضامن اس کی اپنی سیاست سے کہیں زیادہ کرسیِ صدارت بن جائے گی۔؟؟؟

تو پھر ایسا کیا کام ہے جس کی تکمیل کے لیے آصف زرداری کے دل میں صدر کے عہدے کی خواہش جاگی؟؟؟

موجودہ حالات میں آصف زرداری کا ایک طاقتور صدر کے طور پر ابھرنا پاکستان کے
 لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی ناکامی ملک کو مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی تصادم کی راہ پر دھکیل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں سب سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوجی قیادت کی جانب سے ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں میں زبردست تیزی کی پیشین گوئی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بعید از قیاس نہ ہو گا کہ جس طرح سن دو ہزار سات میں ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی، معاشی و سکیورٹی صورتحال میں  مشرف اپنے سیاسی حریفوں سمیت مذہبی انتہا پسندوں کی نفرت کا نشانہ بن گئے تھے اسی طرح آنے والے دنوں میں ان ناراض قوتوں کا ہدف شاید آصف زرداری بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستقبل میں جو بھی ہو سو ہو، فی الحال صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ آصف زرداری کے صدارتی امیدوار بننے کے فیصلے نے ملکی سیاست کو پچھلے چند مہینوں کی اصولی اور نظریاتی بحثوں سے نکال کر ایسی سیاست میں لا پھینکا ہے۔ جہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔ اب آگے صرف موقع پرست اور جھوٹی سیاست ہے۔ یا اللہ پاکستان کی خیر’بےبس عوام دعا کے علاوہ اب کر بھی کیا سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 

August 23, 2008

شیر نے آخر گھاس ہی کھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف مشرف بھائی بھائی
شیر نے آخر گھاس ہی کھائی
 قوم نے پھر سے ناک کٹائی
کالے کوٹ کی شامت آئی
 
جیسے اُس سے پہلے نکلے
زرداری بھی ویسا نکلا

آس کے پتے جھڑ گئے سارے
شیدے شوکی ڈر گئے سارے
دعوے سان پے چڑھ گئے سارے
جسٹس وسٹس وڑ گئے سارے

تو اے بھولے پاکستانی
بھول کے سب کچھ کھوجا اب تو
بند کر ٹی وی سو جا اب تو!

 

August 22, 2008

آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
ارشاد نبویۖ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے کہ
 تم سے پہلی قومیں اسی لئے تباہ ہو گئیں کہ جب معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اورمعمولی آدمی جرم کرتے تو سزا پاتے تھے

اس حوالے سے تو مشرف کا احتساب انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کرے گا کون؟
کیونکہ احتساب کرنے والے تو خود" کانے" ہیں اور پھر انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کو یقین دہانی بھی کروا رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ مشرف احتساب سے مبرا ہے اور اس کی سلامتی کے تحفظ کے بعد ہی استعفی ممکن ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ بھی ایک ڈیل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شنید ہے کہ بروز پیر 25اگست کو عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جائے گی اور بحث کے بعد بدھ تک عدلیہ کی بحالی متوقع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب ان باتوں پر عوام کا یقین متزلزل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہا جا رہا ہے کہ مشرف کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کے بعد ہی عدلیہ کی بحالی کی توقع کی جا سکتی ہے۔اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری سب سے بڑا خطرہ ہیں لہذا انہیں دیگر اعلا عہدوں کی پیشکش کی جا رہی ہے تا کہ وہ اپنے اصل عہدے سے خود ہی دستبردار ہو جائیں ۔ تا کہ مشرف اور محترم زرداری صاحب کو تحفظ حاصل ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی بات عدلیہ کی بحالی میں آڑے آ
رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ایک اور بات بھی نظر آ رہی ہے کہ 6ستمبر کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  محترم زرداری صاحب کی پانچوں گھی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہے لہذا صدر پاکستان کے خواب نظر آنا لازم ہے جس کی تکمیل بھی ہو سکتی ہے لہذا عدلیہ کی بحالی کو صدارتی الیکشن تک لٹکایا بھی جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرف کی پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے کل واہ کینٹ دھماکوں میں پچاسی سے زائد معصوم افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ۔
بقول بلاگر ابو شامل’ صورتحال جو بھی ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ یہ سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے کہ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں “صف اول کا اتحادی” رہ کر اپنا مزید خانہ خراب کرواتا رہے گا یا پھر اس ملک کی بقا کے لیے حقیقی اقدامات بھی اٹھائے گا۔
 
مشرف کی پالیسیوں کو از سر نو مرتب کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔القائدہ اور امریکہ کی جنگ کو اپنے خطے سے دور کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے دہشتگردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں پندرہ ہزار سے زائد پاکستانی اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ 9/11میں صرف تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
کئی بہتر گھنٹے گذر چکے ہیں پاکستان کے سیاستدان اپنی مہارت نہ دکھا سکے۔موجودہ تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستانی عوام کی یہ حالت ہے کہ آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمارے سیاستدانوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمایے آمین   

August 18, 2008

اگلے بہتر گھنٹے پاکستانی سیاستدانوں کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
اگلے بہتر گھنٹے پاکستانی ساستدانوں کے امتحان اور مہارت کاوقت ہے  عدلیہ کی فوری بحالی پہلا قدم ہو گا 
اللہ تعالی ہمارے سیاستدانوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمایے آمین 

یوم نجات مشرف مبارک

 
تمام پاکستانی عوام کو یوم نجات مشرف مبارک ہو

ملک و قوم و عوام پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی

 
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک و قوم و عوام اور سیاستدانوں پر الزامات کا پلندہ عاید کر کے مشرف مستعفی ہو گیا۔
اس کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر کے لبادے میں ایک آمر کا دور ختم ہوا۔ایک بردہ فروش کا اقتدار ختم ہوا۔اس ملک و ملت  کو ڈی مورال کرنے والے کا مورال ختم ہوا۔ہزاروں معصوم بچوں اور پاکستانیوں کے خونی کا اقتدار ختم ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

آج دوپہر ایک بجےمشرف سے نجات متوقع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
شنید کی جارہی ہے کہ آج ریٹائرڈ جنرل مشرف مستعفی ہو جائیں گے جس کا اعلان آج دوپہر ایک بجے ان کی تقریر میں متوقع ہے۔
 

August 17, 2008

شب برأت کے فضائل و وظائف

اُم المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  "میں نے ایک رات رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کو موجود نہ پایا تو میں باہر نکلی تو آپ بقیع (جنت البقیع قبرستان )میں تھے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی (یعنی اس کی خصوصی رحمتیں)شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت )کو آسمان دنیا (نیچے والے آسمان) پر نازل ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالی "بنوکلب قبیلہ" کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرمادیتے ہیں۔"
لیکن شب برات کن کچھ بد نصیبوں کی توبہ کے بغیر مغفرت نہیں ہوتی۔ "مسند البزار" میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور "سنن ابن ماجہ" میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات تجلی فرماتا ہے اور تمام مخلوقات کو بخش دیتا ہے، ما سوائے مشرک اور مشاحن کے (مشاحن سے مراد کینہ رکھنے والا، اسلام میں نیا فرقہ بنانے والا، چغل خور ہے)۔
دیگر روایات میں کافر و مشرک و مشاحن کے علاوہ والدین کانافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بد سلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (جو محکمہ ٹیکس میں ہو اور لوگوں پر ظلم کرتا ہو )، میوزک ، سارنگی ، طبلہ اور ڈھول بجانے والا( یعنی گانے بجانے والا)، ہمسائے کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر، اور شرطہ (یعنی رشوت خور وظالم سپاہی) کا بھی ذکر آیا ہے۔ اور فرمان نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے کہ ان بخشش سے محروم لوگوں پر اللہ شعبان کی پندرہویں رات کو نظر بھی نہیں فرماتا (جب تک کہ سچی توبہ نہ کریں)۔
15شعبان کا نام شب برأت کیوں ہے؟ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "غنیۃ الطالبین" میں اور دیگرمفسرین واَئمہ دین نے احادیث مبارکہ کے مضامین ومفاہیم کی روشنی میں پندرہویں شعبان کی رات کا نام "شب برات" اس لئے رکھا ہے کہ برات کا معنیٰ ہے: دور ہونا،جداہونا، نجات پانا وغیرہ۔ اور اس رات اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آخرت کی رسوائی و ذلت سے دور کر دیئے جاتے ہیںاور بد بخت لوگ (یعنی جو اس رات کو اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ومغفرتوں سے دور رکھے جاتے ہیں۔
اس رات کو سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:  "اس رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتاہے۔"
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں رات سے مراد شب برأت ہے۔" اُم المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو کیا ہوتاہے؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول اس میں کیا ہوتا ہے؟  فرمایا:  اس سال جس بچے نے پیدا ہونا ہے اس رات وہ لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جس نے وفات پانی ہے اس رات اسے لکھا جاتا ہے، اور اس رات(سال بھر کے ) اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اور (سال بھر کا)رزق نازل کیا جاتا ہے۔"
ایک روایت میںاُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: "چار راتو ں میں اللہ تعالیٰ خیروبرکت کی بارش فرماتے ہیں:  عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، پندرہویں شعبان کی رات اس رات اللہ تعالیٰ کاموں (اور بالخصو ص موت)کے اوقات اور رزق لکھ دیتا ہے اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھ دیتا ہے، اور عرفہ یعنی یوم الحج کی رات۔ ان راتوں میں خیر وبرکت کی برسات اذان فجر تک جاری رہتی ہے۔"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں اُ ن کی روحیں قبض کرو!  بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے ، شا دیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (اور اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔
احادیث بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ شب برات رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے، کچھ بد نصیب ایسے ہیں جن کی مغفرت اس بخشش بھری رات میں بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو سال بھر کے اہم امور کا پروگرام دے دیتے ہیں۔ چونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اپنی قضاوں میںتبدیلی بھی فرما دیتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اس رات اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی خیرات و برکات کا سوال کرے اور رب غفور و رحیم کی بارگاہ میں دنیا و آخرت کے مصائب و آلام سے نجات کا سوال کرے۔
شب برأت کے معمولات: ویسے تو تمام عبادات اور تمام کلمات طیبات برکت و رحمت اور ثواب کا ذریعہ ہیں، لیکن اس مبارک رات میں درج ذیل معمولات نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام اور بزرگان سے ثابت ہیں: 15شعبان کا روزہ۔ اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: "جب شعبان کی پندرہویں تاریخ آئے تو رات کو شب بیداری اختیار کرو اور دن کو روزہ رکھو بیشک اللہ تعالیٰ یعنی اس کی رحمت غروب آفتاب کے وقت نیچے والے آسمان پر نزول فرماتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش مانگنے  والا کہ اسے بخشش دوں؟  ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟  ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں؟  ہے کوئی ایسا؟  ہے کو ئی ایسا؟  حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔"
نوٹ:  فقہاء اسلام کا اجماع ہے کہ حدیث بالا میں روزہ اور شب بیداری کا امر نبوی و جوب کیلئے نہیں ہے، بلکہ پندرہویں شعبان کا روزہ اور شب بیداری مستحب کے درجہ میں ہے۔
اس رات قبرستان جانا سنت نبوی ہے۔ جیسا کہ حدیث ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہامیں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ لہٰذا شب برات کو قبرستان میں جانا بھی سنت نبویﷺ ہے۔ نیز دیگر احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہر سال شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے، اہل قبور کو سلام فرماتے اور دعا فرماتے۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل قبور کو سلام کہو۔ بلکہ سنن بیہقی شریف میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: "جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت تک اس کا جواب دیں گے، اے مسلمانو!  تم انہیں سلام کہو اور انکی زیارت کرو۔"
ایک اور حدیث پاک میںہے کہ نبی اکر م(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو!  کیونکہ یہ عمل دنیا میں زُہد پیدا کرتا ہے، اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔"
شب برأت کا ایک اور عمل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)نے پندرہویں شعبان کو دو رکعت نفل پڑھے، دو سری رکعت میں آپ نے لمبا سجدہ کیا جو کہ فجر تک جاری رہا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)کہیں حالت سجدہ میں وصال تو نہیں فرما گئے، میں نے آپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تو حرکت فرمائی اور میں نے آپ سے حالت سجدہ میں یہ کلمات سنے: "اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَ عُوْ ذُبِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَاوُکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا َاثْنَیْتَ عَلٰی َنفْسِکَ۔ "
نماز سے فارغ ہو کر حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے فرمایا:  ان کلمات کو یاد کرلو اور دوسروں کو انکی تعلیم دو۔
نوافل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): "سنن بیہقی شریف" میں حضر ت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اس رات کو 14 رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ 14بار، قل شریف 14بار، سورہ فلق 14 بار، سورہ الناس 14 بار، آیت الکرسی 1بار اور آیت مبارکہ "لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَُسْولٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِےْزٌ عَلَےْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِےْصٌ عَلَےْکُمْ بِالْمُؤْمِنِےْنَ رَؤُفُ الرَّحِےْم۔" 1بار پڑھی اور فرمایا:  جو اس طرح کرے گا، اسے 20 حج مبرور ، 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ملے گا۔ اور جو آئند ہ دن روزہ رکھے گا اسے 120 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
صلوٰۃ الخیر: "غنیۃ الطالبین" میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شب برات کو "صلوٰۃ الخیر" ایک سو رکعت نوافل اور ہر رکعت میں دس بار قل شریف پڑھنا ہے۔ اور حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: "مجھے تیس صحابہ کرام نے بتایا کہ جو شخص اس رات کو "صلوٰۃ الخیر" پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ستر بار نظر کرم فرمائے گا، اور ایک بار نظر کرم سے اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا، جن میں کم از کم ایک حاجت گناہوں کی بخشش ہے۔"
استاد ذی مکرم مفتی اعظم سید ابو البرکات لاہوری اپنے ایک رسالہ میں جو کہ شب برأت کے موضوع پر لکھا ہوا ہے، میں درج ذیل وظائف تجویز فرمائے ہیں: 1۔  صلوٰۃ الخیر، جس کا طریقہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔  دس رکعت نفل ہر رکعت میں دو بار قل شریف ہو۔ 3۔  نماز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھنا، جبکہ ہر رکعت میں چھ بار قل شریف ہو ، پھر پہلی دو رکعت کے بعد ایک بار سورہ یس، اور اسکے بعد عمر میں برکت کی دعا، پھر دوسری دو رکعت کے بعد دوبارہ سورہ یس اور پھر رزق کی فراخی کیلئے دعا، اور آخری دو رکعتوں کے بعد پھر سورہ یس اور پھر خاتمہ بالایمان کی دعا مانگے۔
آخر میں یہ کلمات : " اَلّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔"کثرت کے ساتھ پڑھے۔
گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کا تدارک: احادیث بالا کے مطابق شب برأت کو سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا شب برات کو مغرب سے پہلے پہلے والدین، بھائیو ں ، بہنوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دیگر لوگو ں سے اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے، اور اگر کسی کا کو ئی حق ذمہ میں ہو تو اسکی ادائیگی کر دینی چاہیے یا پھر صاحب حق سے معافی مانگ لینی چاہیے، تاکہ اعمال جب اللہ کی بار گا ہ میں پیش ہو ں تو بندوں کیساتھ زیادتیوں کے گناہ دھل چکے ہوں۔
ارکانِ توبہ: اس طرح اس شب میں رب غفور الرحیم سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کیلئے چار چیزیں ضروری ہیں:
1۔  رب کریم کی بار گاہ میں گنا ہو ں کا اعتراف۔
2۔  گذشتہ گناہوں پر سخت ندامت اور آہ وزاری۔
3۔  آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ اور سچا وعدہ۔
4۔  گناہ کی تلافی۔ مثلا نمازیں نہیں پڑھیں تو حساب یا اندازے سے بالغ ہونے کے بعد کی تمام فر ض اور واجب نمازیں قضا کرے، اسی طرح رمضان کے روزوں کی قضاکرے، اسی طرح جتنے بر س کی زکوۃ ادا نہیں کی حساب یا اندازے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حد یث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے: " جو شخص (شرع شریف کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق)توبہ کرنے والا ہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا" لہٰذا شب برأت کے موقع تمام گناہوں کی معا فی مانگنی چاہئے اور فوت شدہ عبادات کی قضا کا پختہ ارادہ کر لینا چاہیے۔
ایک خاص وظیفہ: یہ رات حکم و قضا کی رات ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کو سال بھر کا پروگرام دے دیتے ہیں، اس میں موت و حیا ت، اعمال نیک و بد، ہر قسم کے رز ق اور انعامات، مصائب و آلام اور بیماریوں کا پروگرام بھی دیا جاتا ہے، لہذا اس شب کو اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے خیر و برکت کی دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔
مرشدی و استاد ذی والد صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز جو کہ "دربار عالیہ بغداد شریف" اور "دربار عالیہ بٹالہ شریف" کے خلیفہ مجاز ہیں، آپ اس رات کو نماز مغرب و عشاء کے درمیان درج ذیل و ظیفہ پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ اور مریدین و تلا مذہ کو بھی اس وظیفہ کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے: اس وظیفہ سے عمرو رزق میں برکت ہوجاتی ہے اور مصائب ومشکلات سے نجات ہوتی ہے۔
شب برأت کو غیر شرعی رسوم کا رواج
راقم الحروف کے نزدیک درج ذیل وجوہات کی بنا ء پر آتش بازی حرام ہے اور جو والدین اور ذمہ دار حضرات آتش بازی سے نہیں روکتے وہ سخت گناہگار ہیں:
*آتش بازی کھلا اسراف و فضول خرچی ہے، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ترجمہ: "بیشک بغیر کسی غرض کے پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
*اس شب کو خصوصی طور پر آتش بازی حرام ہے کہ لیلہ مبارکہ اور ملائکہ کی بے ادبی ہے۔
* آتش بازی سے عبادت گزاروں کی عباد ت، علماء وطلبہ کی تعلیم وتعلم،اور بیماروں، بوڑھوں اور تھکے ماندے لوگوں کے آرام و نیند میں خلل ڈالنا ہے، جو کہ ظلم و زیادتی ہے اور عبادات کی سخت تو ہین اور علم کا نقصان ہے۔
*آتش بازی سے بسااوقات دکانوں، گھروں اور قیمتی اشیاء کو آگ لگ جاتی ہے، اور ہر سال درجنوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا آتش بازی سخت "فساد فی الارض" ہے۔
* نیز آتش بازی کے بہانے بچے شب بھر گھروںسے باہر رہتے ہیں، غلط ماحول اور غلط سو سائٹی کی وجہ سے جرائم اور کبیر ہ گناہو ں کی عادت پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا آتش بازی سخت خطرناک و حرام ہے۔
الغرض حکومت پر لازم ہے کہ اس انتہائی خطرناک رسم کا سختی کے ساتھ انسداد کرے۔ اور اساتذہ، علماء ، والدین، اور ہر علاقہ کے معززین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے تحت ان برائیوںسے روکنے کیلئے تمام مناسب تدابیر اختیار کریں، اور شب برأت کی مبارک گھڑیوں کو غیر شرعی رسوم سے پاک کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔