اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان ملک بچانے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑیں اپنی غیر اہم سیاست کو! آج جس طرح وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ہیروز ہیں ویسے ہی اعتزاز احسن، منیر اے ملک، نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین احمد آج کے ہیرو ہیں جنہوں نے بے مثال پروگرام کا اہتمام کیا۔ ہر طرف ایسا زبردست جوش و جذبہ دکھائی دے رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ بن چکی ہے اور لوگوں نے ایک بار پھر اپنے 18 فروری کے فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ مشرف کو جانا چاہئے اور معزول ججز کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔ عملاً ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، سابق فوجی، صحافی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جگہ جمع تھے جو اسلام آباد میں پریڈ ایونیو ہوا کرتا تھا۔ ہر چہرہ جوش و جذبے سے بھرپور تھا اور ایک نئے پاکستان کیلئے اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا۔ اسلام آباد میں ایسا عوامی سمندر کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا ہم نے جمعہ کو دیکھا۔ اور جب پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لوگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا تو اس وقت ایسی کوئی قریبی گلی نہیں تھی جو نعرے لگاتے ہوئے پرجوش لوگوں سے خالی ہو۔ اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وکلاء برادری کی دو ریلیوں کو ابھی وہاں پہنچنا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے والی قومی اسمبلی کی جانب سے دکھائی جانے والی لاتعلقی پر لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ 18 فروری کو عوام کی جانب سے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کیخلاف واضح عدم اعتماد کا فیصلہ آیا تھا۔ الیکشن کے مینڈیٹ سے عوام کی اس خواہش کا بھی واضح اظہار ہوتا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ فوراً ہی یہ بھول گئی کہ اسے اپنے قیام کے ابتدائی چند دنوں اور ہفتوں میں کیا کام کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی، انتخابات کے فوراً بعد حقیقت پسند بن گئی اور ایک کے بعد ایک وعدے توڑنے لگی۔ الیکشن میں دیئے گئے مینڈیٹ کے برخلاف پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صدر کے مواخذے کی بجائے انکے ساتھ محبت کے عہد و پیمان شروع کردیئے۔ آزاد عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے ان فاضل ججوں کی بحالی کو پیچیدہ بنانا شروع کردیا ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر سے وفاداری کا اظہار کرنے سے انکار کردیا تھا اور بالآخر پارٹی آئینی پیکیج لیکر آگئی جس نے ان عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا جنہوں نے فروری کے انتخابات میں پی پی پر اعتماد کیا تھا۔ آئینی پیکیج میں آرٹیکل نمبر 6 کی واضح خلاف ورزی پر صدر کو سزا دینے کی بجائے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کے مسئلے پر آئینی پیکیج میں، ججوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کرنے، پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججوں کی ملازمت جاری رکھنے یا وہ جنہیں پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد مقرر کیا، کے علاوہ ایک شخص سے مخصوص ترمیم جس کا نشانہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکلاء کا یہ شو، جسے نواز لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ان دونوں مسائل پر زرداری ہاؤس کی حکمت عملی کو مسترد کرچکا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو 18 فروری سے پہلے والی صورتحال سے مختلف ہو اور مشرف دور کی جوں کی توں صورتحال کا خاتمہ ہو، وہ پارلیمنٹ، جسے عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے؛ وہ چند مصالحت کئے ہوئے غیر منتخب نام نہاد سیاست دانوں کے اشاروں پر چل رہی ہے، اسکی لاتعلقی پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مفاد پرست عناصر نے وکلاء پر تنقید کی ہے۔ اس بات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان کی صفوں میں دراڑیں ڈالی جائیں تاکہ وکلاء تحریک کا خاتمہ ہوسکے لیکن وہ پرعزم رہے اور انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی۔ جمعہ پاکستان کی تاریخ کیلئے ایک قابل ذکر دن تھا اور یہ سب کچھ وکلاء کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمیں واقعی ان پر فخر ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے موقف پر قائم رہے ہیں۔ انکا انداز، انکے الفاظ اور انکی تقاریر اور ان کا ہر اظہار بہت متاثر کن اور غیر مبہم ہے، وہ انقلابی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، عمران خان اور قاضی حسین احمد پاکستان کے آج کے دو اہم ترین مسائل پر اپنے موقف کیلئے پورے نمبروں کے مستحق ہیں۔آج ہر انسان کی صرف یہ خواہش اور تمنا ہے کہ وکلاء کا مارچ پاکستان کیلئے نئے آغاز کے پیش لفظ کا کام کرے۔ یہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ دو نومبر کی عدلیہ کے تمام حامی اور پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے کے خواہش مند ایک ساتھ مل جائیں اور اس ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں مجتمع کردیں۔
Cat:
- روز مرہ زندگی کے معاملات, حالاتِ حاضرہ, خبر | Time: 2:42 pm (UTC+8)






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)

















