امریکی حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے دوسرا حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ نے پہلے تو ہماری فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کیں، انہیں اندرونی وبیرونی دوستوں سے دور کر کے تنہا کیا۔ پاک فوج کے ذریعے نہتے عوام کو مارا اور اب بالآخر فوج کو بھی براہ راست جنگ میں گھسیٹ لیا۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرویز مشرف کی غلطیوں کا خمیازہ نہ صرف عوام بھگت رہے ہیں بلکہ اب اس کے "ثمرات"سے پاک فوج بھی مستفید ہورہی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام عمائدین مملکت خداداد پاکستان متحد ہو جائیں۔اور قوم کو بھی اعتماد میں لیکر جامع حکمت عملی وضع کر لی جائے ورنہ عراق اور افغانستان جیسے حشر کےلئے تیار رہا جائے۔
صرف بیان بازی سے کام نہیں چلےگا۔ جہاں تک بات ہماری خود مختاری پر حملے کی ہے تو ہماری خود مختاری بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب سے یہ احمد مختار جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔توبات بیان بازی،اور احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی احتجاج کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا نذر قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک خان صاحب کے ہاں ایک نوکر کم تنخواہ پر کام کر رہا تھا۔ ایک دن تنگ آکر اس نے اپنے مالک سے دھمکی کے انداز میں کہا: میری تنخواہ میں اضافہ کردو ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں۔۔۔۔
مالک نے کہا: ورنہ تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا: ورنہ پھر اسی پر ہی گزارہ کروں گا۔‘
پاکستان کے احتجاج کی بھی یہی حیثیت ہے امریکہ آقا کے سامنے۔
مکمل خود مختاری کے لیے ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی چائنہ سے دوستی مزید بڑھانی ہوگی۔ نام نہاد امریکی دوستی کا خاتمہ اب نا گذیر ہے۔
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر
امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی کا دوست نہیں۔ اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اندرونی اختلافات کو خیرباد کہہ کر بیرونی جارحیت کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا پڑے گا۔پاکستانی قوم گیدڑ کی زندگی کی بجائے شیر کی زندگی کو ترجیح دے گی۔افواج پاکستان ناقابل شکست تھیں اور ہیں۔ قوم آج بھی اس شجاع فوج کے ساتھ ہے۔اگر یہ کرائے کےقاتل اور امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ساتھ دینے کی بجائےاصل دفاع کے حقداروں کےلئےانیس سو پینسٹھ والا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہو جائے۔
- روز مرہ زندگی کے معاملات, حالاتِ حاضرہ, خبر | Time: 8:49 pm (UTC+8)






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)

















