اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


June 14, 2008

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان ملک بچانے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
چھوڑیں اپنی غیر اہم سیاست کو! آج جس طرح وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ہیروز ہیں ویسے ہی اعتزاز احسن، منیر اے ملک، نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین احمد آج کے ہیرو ہیں جنہوں نے بے مثال پروگرام کا اہتمام کیا۔ ہر طرف ایسا زبردست جوش و جذبہ دکھائی دے رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ بن چکی ہے اور لوگوں نے ایک بار پھر اپنے 18 فروری کے فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ مشرف کو جانا چاہئے اور معزول ججز کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔ عملاً ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، سابق فوجی، صحافی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جگہ جمع تھے جو اسلام آباد میں پریڈ ایونیو ہوا کرتا تھا۔ ہر چہرہ جوش و جذبے سے بھرپور تھا اور ایک نئے پاکستان کیلئے اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا۔ اسلام آباد میں ایسا عوامی سمندر کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا ہم نے جمعہ کو دیکھا۔ اور جب پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لوگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا تو اس وقت ایسی کوئی قریبی گلی نہیں تھی جو نعرے لگاتے ہوئے پرجوش لوگوں سے خالی ہو۔ اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وکلاء برادری کی دو ریلیوں کو ابھی وہاں پہنچنا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے والی قومی اسمبلی کی جانب سے دکھائی جانے والی لاتعلقی پر لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ 18 فروری کو عوام کی جانب سے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کیخلاف واضح عدم اعتماد کا فیصلہ آیا تھا۔ الیکشن کے مینڈیٹ سے عوام کی اس خواہش کا بھی واضح اظہار ہوتا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ فوراً ہی یہ بھول گئی کہ اسے اپنے قیام کے ابتدائی چند دنوں اور ہفتوں میں کیا کام کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی، انتخابات کے فوراً بعد حقیقت پسند بن گئی اور ایک کے بعد ایک وعدے توڑنے لگی۔ الیکشن میں دیئے گئے مینڈیٹ کے برخلاف پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صدر کے مواخذے کی بجائے انکے ساتھ محبت کے عہد و پیمان شروع کردیئے۔ آزاد عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے ان فاضل ججوں کی بحالی کو پیچیدہ بنانا شروع کردیا ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر سے وفاداری کا اظہار کرنے سے انکار کردیا تھا اور بالآخر پارٹی آئینی پیکیج لیکر آگئی جس نے ان عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا جنہوں نے فروری کے انتخابات میں پی پی پر اعتماد کیا تھا۔ آئینی پیکیج میں آرٹیکل نمبر 6 کی واضح خلاف ورزی پر صدر کو سزا دینے کی بجائے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کے مسئلے پر آئینی پیکیج میں، ججوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کرنے، پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججوں کی ملازمت جاری رکھنے یا وہ جنہیں پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد مقرر کیا، کے علاوہ ایک شخص سے مخصوص ترمیم جس کا نشانہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکلاء کا یہ شو، جسے نواز لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ان دونوں مسائل پر زرداری ہاؤس کی حکمت عملی کو مسترد کرچکا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو 18 فروری سے پہلے والی صورتحال سے مختلف ہو اور مشرف دور کی جوں کی توں صورتحال کا خاتمہ ہو، وہ پارلیمنٹ، جسے عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے؛ وہ چند مصالحت کئے ہوئے غیر منتخب نام نہاد سیاست دانوں کے اشاروں پر چل رہی ہے، اسکی لاتعلقی پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مفاد پرست عناصر نے وکلاء پر تنقید کی ہے۔ اس بات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان کی صفوں میں دراڑیں ڈالی جائیں تاکہ وکلاء تحریک کا خاتمہ ہوسکے لیکن وہ پرعزم رہے اور انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی۔ جمعہ پاکستان کی تاریخ کیلئے ایک قابل ذکر دن تھا اور یہ سب کچھ وکلاء کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمیں واقعی ان پر فخر ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے موقف پر قائم رہے ہیں۔ انکا انداز، انکے الفاظ اور انکی تقاریر اور ان کا ہر اظہار بہت متاثر کن اور غیر مبہم ہے، وہ انقلابی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، عمران خان اور قاضی حسین احمد پاکستان کے آج کے دو اہم ترین مسائل پر اپنے موقف کیلئے پورے نمبروں کے مستحق ہیں۔آج ہر انسان کی صرف یہ خواہش اور تمنا ہے کہ وکلاء کا مارچ پاکستان کیلئے نئے آغاز کے پیش لفظ کا کام کرے۔ یہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ دو نومبر کی عدلیہ کے تمام حامی اور پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے کے خواہش مند ایک ساتھ مل جائیں اور اس ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں مجتمع کردیں۔
 
 (تجزیہ: … انصار عباسی)

June 12, 2008

امریکی حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ’امریکی حملے‘ میں ایک میجر سمیت تیرہ پاکستانی فوجی شہید ہوگئےاور چوبیس گھنٹوں کے اندر۔۔۔۔ پھر
خبر آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے دوسرا حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
امریکہ نے پہلے تو ہماری فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کیں، انہیں اندرونی وبیرونی دوستوں سے دور کر کے تنہا کیا۔ پاک فوج کے ذریعے نہتے عوام کو مارا اور اب بالآخر فوج کو بھی براہ راست جنگ میں گھسیٹ لیا۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
روشن خیالی کے ٹھیکےداروں کو اس انجام کا ادراک ہوتا۔
پرویز مشرف کی غلطیوں کا خمیازہ نہ صرف عوام بھگت رہے ہیں بلکہ اب اس کے "ثمرات"سے پاک فوج بھی مستفید ہورہی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام عمائدین مملکت خداداد پاکستان متحد ہو جائیں۔اور قوم کو بھی اعتماد میں لیکر جامع حکمت عملی وضع کر لی جائے ورنہ عراق اور افغانستان جیسے حشر کےلئے تیار رہا جائے۔

صرف بیان بازی سے کام نہیں چلےگا۔ جہاں تک بات ہماری خود مختاری پر حملے کی ہے تو ہماری خود مختاری بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب سے یہ احمد مختار جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔توبات بیان بازی،اور احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی احتجاج کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا نذر قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک خان صاحب کے ہاں ایک نوکر کم تنخواہ پر کام کر رہا تھا۔ ایک دن تنگ آکر اس نے اپنے مالک سے دھمکی کے انداز میں کہا: میری تنخواہ میں اضافہ کردو  ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں۔۔۔۔
مالک نے کہا: ورنہ تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا: ورنہ پھر اسی پر ہی گزارہ کروں گا۔‘
پاکستان کے احتجاج کی بھی یہی حیثیت ہے امریکہ آقا کے سامنے۔

 مکمل خود مختاری کے لیے ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی چائنہ سے دوستی مزید بڑھانی ہوگی۔ نام نہاد امریکی دوستی کا خاتمہ اب نا گذیر ہے۔

 ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی کا دوست نہیں۔ اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اندرونی اختلافات کو خیرباد کہہ کر بیرونی جارحیت کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا پڑے گا۔پاکستانی قوم گیدڑ کی زندگی کی بجائے شیر کی زندگی کو ترجیح دے گی۔افواج پاکستان ناقابل شکست تھیں اور ہیں۔ قوم آج بھی اس شجاع فوج کے ساتھ ہے۔اگر یہ کرائے کےقاتل اور امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ساتھ دینے کی بجائےاصل دفاع کے حقداروں کےلئےانیس سو پینسٹھ  والا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہو جائے۔

June 10, 2008

پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث
 

 
 پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔ مغرب کے افکار کو پاکستانی معاشرے میںشامل کرنے کیلئے ‘’روشن خیالی’’ کا نعرہ ایجاد کیا گیا۔ اسی ‘’روشن خیالی’’ کی آڑ لے کر پہلے پہل توتہواروں کے موقع پر شراب کو عام کیا گیا اور اب یہ حال ہے کہ ‘’اعلیٰ’’ تقریبات شراب کے بغیر ادھوری تصور ہوتی ہیں۔

بیشتر اراکین اسمبلی اوربیوروکریٹس تو اس کے عادی تھے ہی اب ایلیٹ کلاس سے لیکرعام غریب آدمی کی رسائی بھی ‘’ام الخبائث’’ تک ہو چکی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق چند سالوں کے اندر پاکستان میں شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح اور ٹریفک حادثات میں حیران کن اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈانلڈ۔آر۔کریسی اپنے مضمون Criminological Research and the Definition of Cirmeمیں لکھتے ہیں کہ 80فیصد جرائم کی وجہ شراب خانہ خراب ہے۔ معصوم لوگوں کے قتل ‘آبروریزی کے واقعات ‘ڈاکہ زنی’ دھوکہ دہی ‘غبن اور دیگر جرائم میں شراب ایک محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ شراب کے حوالے سے ہی ایک بہت پرانا واقعہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ میسور کرناٹک(بھارت )1881 ء میں ایک انگریز چیئرمین بنائے گئے تو ایک غیرمسلم نے اس انگریز چیئر مین سے یہ درخواست کی کہ مسلمان اپنی پسند کا گوشت کھاتے اور فروخت کرتے ہیں تو ہمارے کھائے جانے والے گوشت پر پابندی کیوں؟

لہذٰا مجھے بھی بازار میں خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا جائے چنانچہ چیئرمین نے اس غیر مسلم کو لائسنس دے دیا دوسرے دن ہی خنزیر کے گوشت کی دکان کھل گئی اور بورڈ بھی آویزاں کر دیا گیا جب مسلمانوں کو لحم خنزیر کی دکان سے متعلق علم ہوا تو شہر کے سارے مسلمانو ں نے انگریز چیئرمین کا گھیرائو کر لیا اور کہا کہ آپ میسو ر کرناٹک کے پہلے چیئرمین ہیں جنہوں نے خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا ہے آپ کو یہ لائسنس منسوخ کر کے دکان بند کرانا پڑے گی۔

چیئرمین نے شہر کے سارے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ تمہیں اس دکان کے کھلنے پر اس وجہ سے غصہ آ رہا ہے کہ تمہارے مذ ہب میں لحم خنزیر حرام ہے دوسری اور کوئی وجہ نہیں لیکن میں تم مسلمانوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تمہارے مذہب میں شراب بھی حرام ہے اس سے پہلے میں نے بیشتر لائسنس شراب کی دکانوں کیلئے دئیے اور شہر میں بے شمار دکانیں شراب کی کھلی ہوئی ہیں لیکن تم میں سے کوئی مسلمان میرے پاس نہیں آیا کہ انہیں بند کیا جائے محض اس لئے کہ بہت سارے مسلمان خود شراب کے عادی ہیں۔

قارئین محترم ! … تھا تو وہ انگریز اور غیر مسلم بھی لیکن بات بہت سچی اور پکی کہہ گیا۔ ہمارے عظیم مذہب اسلام میں لحم خنزیراور شراب دونوں حرام ہیں ان کی حرمت میں رتی برابر فرق نہیں دونوں کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر نوے (90) کے چار کلمات شراب کی حرمت کو واضح کرتے ہیں۔
رجس …شراب ایک ناپاک چیز ہے۔
من عمل الشیطان… شراب نوشی شیطانی عمل ہے۔
فاجتنبوہ …شراب نوشی سے بچو۔
لعلکم تفلحون… شراب نوشی ترک کرو گے تو فلاح پاجاؤ گے۔
اگلی آیت مبارکہ میں اس شیطانی عمل کے مزید نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان’ شراب نوشی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور شیطان کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے۔

حدیث قدسی ۖہے کہ ‘’شراب پینے والے، پلانے والے، فروخت کرنے والے اور خریدنے والے اور جس کے لئے نچوڑی جائے، اٹھاکر لے جانے والے اور جس کے لئے اٹھاکر لے جائی جائے ان تمام لوگوں پر خدائے تعالیٰ کی لعنت ہے ‘’۔

سنن ابن ماجہ’ابواب الشرب ’ ص 250 میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شراب کو دس وجوہات کی بناپر ملعون قرار دیاگیا ہے۔
1…شراب پر لعنت ہے۔
2…اس کو نچوڑنے والا ملعون ہے۔
3…جس کیلئے نچوڑی جائے وہ لعنتی ہے۔
4…اس کا بیچنے والا لعنتی ہے
5…اس کے خریدنے والے پر لعنت ہے۔
6…اس کا اٹھانے والا ملعون ہے۔
7…جس کیلئے اٹھائی جائے اس پر بھی لعنت ہے۔
8…اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت ہے۔
9…شراب کے پینے والا لعنتی ہے۔
10…اور اس کا پلانے والا بھی لعنت کا مستحق ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق شراب منہ، معدہ، جگر، انتڑیوں اور چھاتی کے کینسر، دل کے امراض اور بیسیوں دیگر خطرناک بیماریوں کا باعث ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت شراب کی حرمت کو سمجھتے ہوئے اس پر مکمل پابندی عائد کرتی لیکن اس کی بجائے حدیث پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق لعنتوں کے طوق گلے میں ڈالتے ہوئے پورے ملک میں غیر مسلموں کے نام پرشراب فروشی کے پرمٹ جاری کرتی ہے جس سے یہ خبائث عام آدمی کی دسترس میں بھی موجود ہے پاکستان کا کوئی نہ کوئی قریہ ایسا نہیں جہاں شراب دستیاب نہ ہو۔

شراب کو قرآن حکیم میں ‘’ام الخبائث’’ کہا گیا ہے اور اس کے استعمال سے اہل اسلام کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی شراب کو کسی طور جائز قرار نہیں دیا گیا تمام مذاہب اور ادیان میں شراب کی ممانعت ہے اسی لئے اکثر پاکستان میں عیسائی اور دیگر مذہبی راہنمائوں کے واضح بیان آتے رہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں بھی شراب قطعی حرام ہے لہذٰا صرف اس بنا ء پرکسی کو پرمٹ نہ دیا جائے کہ وہ عیسائی یا غیر مسلم ہے یہ اقدام ہمارے مذاہب کی توہین کے مترادف ہے۔

اس کے باوجود حکومت کی طرف سے شراب فروشی کے پرمٹوں کا اجراء وطن عزیز میں شراب نوشی کی حوصلہ افزائی اور اس کے استعمال کے چور راستے کھولنے کے برابر ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ حکومت شراب کے عام استعمال سے اس قوم کے ضمیرکو مردہ اور احساس کو ہمیشہ کیلئے سلانے میں دشمنوں کی معاونت کررہی ہے ۔بھارت اور دیگر مغربی ممالک جو کہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت اٹھا چکے ہیں ایک خدا ‘ایک قرآن اور کلمہ طیبہ پر متحد ہو جانے والوں سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔

موجودہ دور میں جنگوں کے طریقہ کار بدل چکے ہیںمسلمان قوم کو بے حس اور بے غیر ت بنانے کیلئے الیکٹرانک میڈیا ‘پرنٹ میڈیاکے استعمال کے علاوہ شراب اور دیگر منشیات کے عام استعمال کا دائو چلایا جارہا ہے ۔ امریکی ایجنڈے کے تحت بے حیائی کے تحفظ کے قوانین بن چکے ہیں ۔ محترم محمد بشیر احمد کی باغ جناح لاہور میں فحاشی کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ اور کم و بیش ملک بھر میں فحاشی کی یہی صورتحال غیر محسوس طریقے سے پیدا کی جارہی ہے۔

پاکستان کا قیام صرف اور صرف اسلامی اقدار کو فروغ دینے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا’ قرارداد مقاصد اس کا بین ثبوت ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ نہ تو اس پر کسی حکمران نے عملدرآمد کیا اور نہ ہی بیورو کریسی نے اس کا نفاذ ممکن ہونے دیا ان حالات میں شراب پر مکمل پابندی اور شریعت ایکٹ نافذ کرنے کے حوالے سے صوبہ سرحدکی سابق حکومت نے کچھ کوشش کی جبکہ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے موجودہ اے این پی کی مخلوط حکومت نے بھی مقامی طور پرکچھ معاہدے کئے ہیں جو لائق تحسین ہیںاور جس کی تقلید دیگر صوبوں سمیت مرکز کو بھی کرنی چاہئے حکومت پاکستان اور دیگر صوبائی حکومتیں وطن عزیزمیں ام الخبائث بننے بنانے’لانے لیجانے’ خریدوفروخت کرنے اور پینے پلانے پر مکمل پابندی عائدکریں۔ ملک بھر میںشریعت کے نفاذ کو جلد ازجلد یقینی بنایا جائے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر فوری عملدرآمدکیا جائے ۔

پرویز مشرف ‘چند سیکولر ذہن رکھنے والے مشیران’ وزراء مملکت ’ امراء اور دیگر بیوروکریٹ آفیسران نیز غیرملکی آقائوں کے آلہ کاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے آئینِ پاکستان ‘قرار داد مقاصد’مقاصد قیامِ پاکستان اور سب سے بڑھ کراحکامِ خداوندی کو پس ِپشت نہ ڈالیں۔امریکی حکام پرویز مشرف کو مندرجہ بالا مطالبات کی تکمیل کسی صورت نہیں کرنے دیں گے ۔ لہذا انہیں پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بچانے کیلئے فوری مستعفی ہو جانا چاہئے (کیونکہ سیاسی ڈھانچے کی تعمیر ہوسکتی ہے سماجی ڈھانچے کی نہیں) ورنہ اگر ملک بھر میں غیرت مسلم جاگ اٹھی تو وسیع پیمانے پر احتجاج اور ایسی بد امنی پھیلے گی کہ جس پر حکومت اور اس کے سر پرست بھی قابو نہ پا سکیں گے۔

تحریر: قاضی ایم اے خالد

 
یہ کالم مندرجہ ذیل اخبارات اور ویب سائٹس پر بھی پڑھا جا سکتا ہے