اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog :: سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔حکیم خالد :: May :: 2008

سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔حکیم خالد

WORLD NO TOBACCO DAY 2008
 
لاہور31مئی …ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس سال کا موضوع ‘تمباکو سے آزاد نوجوان’ ہے جس کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ’کاربن مونو آکسائیڈ’اونیا’ایسے ٹون اور تقریبا 4000دوسرے مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔ سگریٹ کی مدد سے خود کشی کرنے والا صرف اپنی سانسوں کو ہی کم نہیں کرتا’بلکہ اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے ہر شخص کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اس امر کا اظہار چیف ایگزیکٹو ‘’ہیلتھ پی کے ‘’ حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم انسداد تمباکو نو شی کے موقع پر ایک مجلس مذاکرہ میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشوں کے چھوڑے ہوئے دھوئیں میں محض آدھا گھنٹہ سانس لینے سے تمباکو نہ پینے والوں کے قلب کو خون کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے ، اس دھوئیں کی مضرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تجرباتی طور پر جن افراد نے روزانہ بیس سگریٹ پھونکے انہیں ان کے دھوئیں نے یہ تکلیف نہیں پہنچائی اور اس ماحول میں موجود ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے۔پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اورکم عمر نوجوان اس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کے باعث ہلاک ہوجائیں گے سگریٹ نوشی کے تدارک کیلئے سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ سگریٹ نوشی کے اشتہارات شائع اور نشر نہ کئے جائیں۔حکومت سگریٹ نوشی پر پابندی نیز سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے آرڈیننس برائے 2002 کا سختی سے اطلاق کرے ۔تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/05/31/p106/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>