حکیم آصف علی زرداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم آصف علی زرداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر آباد میں ایک حکیم صاحب ہوتے تھے تھوڑے سے خللِ دماغ سے قطع نظر ان کی تشخیص کی بہت شہرت تھی۔ وہ نبض دیکھ کرمریض کو اس کے جملہ امراض سے آگاہ کردیتے تھے، میں ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں وزیر آباد گیا تو بیمار پڑگیا۔ میں نے حکیم صاحب کی شہرت سن رکھی تھی، چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ابھی اپنا مسئلہ بیان کرنے کیلئے لب کھولے ہی تھے کہ انہوں نے میری نبض تھامتے ہوئے اشارے سے چپ رہنے کیلئے کہا اور پھر ایک منٹ تک مکمل”مراقبے“ کی کیفیت میں رہنے کے بعد انہوں نے پوری تفصیل سے میری ساری کیفیت بیان کردی اور یہ سوفیصد صحیح تھی۔ میں بہت متاثر ہوا اور انہیں دوا کے لئے کہا توانہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ۔ میں نے عرض کی جناب !میرے لئے دوا تجویز کریں ، اس پروہ جھینپ گئے اور پوچھا”کتنے دنوں کے لئے دوا چاہئے؟“ میں نے کہا”جتنے دنوں میں آرام آسکتا ہو۔ تو پھر دو مہینے کی دوا باندھ دیں کیونکہ میں لاہور میں ہوتا ہوں“،چنانچہ ایک بوری ادویات جو پڑیوں کی صورت میں تھیں باندھ کر لاہور لے آیا اور یہ بدمزہ دوا پورے دو مہینے تک بادل نخواستہ نوش جاں کرتا رہا مگر رتی بھر فائدہ نہ ہوا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ حکیم صاحب موصوف تشخیص کے تو یقینا ماہر تھے لیکن دوا اکثر غلط تجویز کرتے تھے، چنانچہ بہت سے مریض تشخیص ان سے کراتے ا ور دوا کسی دوسرے حکیم سے لیتے تھے۔
اپنے آصف علی زرداری صاحب بھی مجھے وزیر آباد کے حکیم صاحب ہی کی طرح لگتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ بیمار قوم کی نبض پر ہے اور وہ اسے بتارہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا سبب مسلسل مارشل لا ہیں، ایک غیر آئینی صدر ہے اور اس کے غیر آئینی اقدامات ہیں۔ وہ بیمار کو صحت مند بنانے کے لئے اس غیر آئینی صدر کوبھی ہٹانا چاہتے ہیں، اس کے حکم سے معزول کی گئی عدلیہ کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کی وجہ سے مریض کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے جس سے مرض طاقت پکڑ سکتا ہے ۔آصف علی زرداری کو یہ بھی علم ہے کہ اگر اتحاد میں مزید رخنہ پڑا تو مریض قوم اور زیادہ مریض ہوجائے گی۔ وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں اور خلوص دل سے اپنے مریض کو تندرست ہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ جو دوا تجویز کر رہے ہیں وہ طویل عرصہ استعمال کے بعد بھی موثر ثابت نہیں ہوسکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو دوامرض کے مطابق نہیں ہے دوسرے اسے ”عطار“ نے جن لونڈوں کو پڑیا بنانے کے لئے کہا ہے وہ اپنی ”حکیمیاں“ دکھانے سے بھی باز نہیں آ رہے چنانچہ ایک تو نسخہ ناقص ہے اور اوپر سے اس میں ہیرپھیر، سو مریض آصف علی زرداری صاحب سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ زرداری صاحب لاہور کے اس ہومیوپیتھ ڈاکٹر کے نقش قدم پر بھی چل رہے ہیں جو معمولی مرض کا علاج کرتے ہی نہیں تھے لیکن اگر کوئی نزلے زکام کا مریض غلطی سے ان کے پاس آ ہی جاتا تو وہ پہلے اسے تیسرے د رجے کی ٹی بی میں مبتلا کرتے تھے اور پھر اس کا علاج کرتے تھے۔ آصف علی زرداری کے پاس اس وقت جو ”مریض“ ہے فی الحال اس کی بیماری ان کی ایک ”پُڑی“ سے ٹھیک ہوسکتی ہے مگر وہ اس سے لمبے پینڈے طے کرانے میں لگے ہوئے ہیں جس سے ان کی شہرت وزیرآباد کے حکیم اور لاہور کے ہومیوپیتھ ڈاکٹر جیسی ہوتی چلی جارہی ہے ۔ زرداری صاحب سے محبت کرنے والے ان کے ساتھیوں میں سے ڈاکٹر سومرو پر خصوصاً یہ فرض عائد ہوتاہے کہ وہ انہیں ”عطائیوں“ کے چکر سے نکالیں، انہیں بتائیں کہ جناب اگر آپ کی تشخیص صحیح ہے تو علاج میں تاخیر کی وجہ اپنے مطب میں موجود پڑیاں باندھنے والے ”لونڈوں“ میں بھی تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ یہ مشورہ ایک صحیح ”ڈاکٹر“ ہی دے سکتاہے چنانچہ ڈاکٹر سومرو کا نام میں نے اسی لئے تجویز کیا ہے۔
میرے ادبی مرشد احمد ندیم قاسمی مرحوم و مغفور کے ایک گردے میں معمولی سا پرابلم تھا یعنی ایک بہت چھوٹے سائز کا کنکر تھا جو آپریشن سے بآسانی نکالا جاسکتا تھا لیکن ان کے بعض ”خیرخواہوں“ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ آپریشن کے بارے میں سوچیں بھی نہیں چنانچہ وہ انہیں ایسے ”معالجوں“ کے پاس لئے پھرتے رہے جن کادعویٰ تھا کہ وہ صرف دوا سے پتھر کو پگھلا کر رکھ دیں گے چنانچہ انہوں نے یہ کام کر دکھایا۔ پتھر پگھل گیا لیکن جو دوا پتھر پگھلا سکتی تھی وہ گردے کو کیسے معاف کرسکتی تھی چنانچہ اس کے ساتھ گردہ بھی سکڑ کر ناکارہ ہو گیا۔ یہی حال دوسرے گردے کا بھی ہوتے ہوتے بچامگر یہ کام بہرحال آپریشن ہی کے ذریعے ممکن ہوا تاہم ڈاکٹروں کو ان کا نصف بیمار گردہ کاٹنا پڑا اور یوں ندیم صاحب کو بقیہ عمر صرف نصف گردے کے ساتھ بسر کرنا پڑی۔ ڈیڑھ گردہ ”دوستوں“ کی طرف سے ”احتیاط“ کے مشورے کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ زرداری صاحب کے بیرونی دوست انہیں جس احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں یہ احتیاط اگر ”مریض“ کو لے بیٹھے گی تو ”معالج“ بھی اس کے برے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ علامتی گفتگو کی بجائے اگر میں سیدھے سادھے لہجے میں بات کروں تو میرے نزدیک اس وقت ملک و قوم کو مسائل درپیش ہیں۔ وہ بظاہر بہت بڑے ہیں لیکن درحقیقت اگر ارادہ ہو تو ان کا حل بہت آسان ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ زرداری صاحب کو کسی خوف نے گھیرا ہوا ہے۔ خوف کوئی بری چیز نہیں ہے۔ منیر نیازی کے بقول بلی جنگلوں میں رہا کرتی تھی ۔ایک دن جنگل کی وحشتوں سے وہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ شیر بن گئی۔ میرا دل کہتا ہے کہ ایک دن یہ خوف آصف علی زرداری کو بھی شیر بنا دے گا۔ اس کے لئے انہیں یہ سوچنا ہے کہ وہ ایک اکثریتی جماعت کے رہنما ہیں، دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے، تیسری ”بڑی جماعت“ وکلا، سول سوسائٹی اور میڈیا پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اے پی ڈی ایم کی جماعتیں ہیں، استعمار دشمن اسفندیار ولی کی جماعت ہے، چنانچہ زرداری صاحب اگر کسی اور طاقت پر بھروسہ کرنے یا اس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان جماعتوں کی طاقت سے دشمن کو للکاریں تو نہ صرف یہ کہ دشمن ان کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوسکے گا بلکہ پاکستان سے خوف کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ یہ فتح اگرچہ پوری قوم کی ہوگی لیکن آصف علی زرداری پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہری لفظوں میں ثبت کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ایک دفعہ دما دم مست قلندر کا نعرہ تو بلند کرکے دیکھیں ۔
آصف علی زرداری صاحب نے حکومت سازی کے بعد ازراہ کرم مجھے فون کیا تھا اور ازراہ ِ تفنن کہا تھا ”میں آپ کی شاگردی میں آنا چاہتا ہوں!“ جبکہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ آگے بڑھ کر اس اسٹیبلشمنٹ پر وار کریں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا، میاں نوازشریف کو قید و بند اور جلاوطنی کی اذیتوں سے گزارا، محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا ،ہزاروں سیاسی کارکنوں کو ٹارچر کیا، شہید کیا، ہزاروں پاکستانیوں کو امریکہ کے پاس فروخت کیا ، جو آپ کو بھی گروی رکھنے کی کوشش میں ہے اور جس نے پاکستان کے 16کروڑ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا۔ آپ پاکستانی عوام کے اس اندرونی اور بیرونی دشمن کے سامنے ملک کی تمام عوامی قوتوں کے ساتھ ڈٹ جائیں۔ آپ کی یہ للکار آپ کو ہمیشہ کے لئے خوف سے اور پاکستانی قوم کو غلامی سے آزادکردے گی۔ آپ نے تو ازراہ ِ تفنن یا ازراہ ِ انکسار میری شاگردی میں آنے کی بات کی تھی جبکہ میں سنجیدگی سے آپ کی شاگردی میں آنے کی سوچ رہا ہوں۔ بس اس وقت کا انتظار ہے جب ”حکیم“ آصف علی زرداری صحیح تشخیص سے صحیح علاج تک کا مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اپنے آصف علی زرداری صاحب بھی مجھے وزیر آباد کے حکیم صاحب ہی کی طرح لگتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ بیمار قوم کی نبض پر ہے اور وہ اسے بتارہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا سبب مسلسل مارشل لا ہیں، ایک غیر آئینی صدر ہے اور اس کے غیر آئینی اقدامات ہیں۔ وہ بیمار کو صحت مند بنانے کے لئے اس غیر آئینی صدر کوبھی ہٹانا چاہتے ہیں، اس کے حکم سے معزول کی گئی عدلیہ کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کی وجہ سے مریض کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے جس سے مرض طاقت پکڑ سکتا ہے ۔آصف علی زرداری کو یہ بھی علم ہے کہ اگر اتحاد میں مزید رخنہ پڑا تو مریض قوم اور زیادہ مریض ہوجائے گی۔ وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں اور خلوص دل سے اپنے مریض کو تندرست ہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ جو دوا تجویز کر رہے ہیں وہ طویل عرصہ استعمال کے بعد بھی موثر ثابت نہیں ہوسکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو دوامرض کے مطابق نہیں ہے دوسرے اسے ”عطار“ نے جن لونڈوں کو پڑیا بنانے کے لئے کہا ہے وہ اپنی ”حکیمیاں“ دکھانے سے بھی باز نہیں آ رہے چنانچہ ایک تو نسخہ ناقص ہے اور اوپر سے اس میں ہیرپھیر، سو مریض آصف علی زرداری صاحب سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ زرداری صاحب لاہور کے اس ہومیوپیتھ ڈاکٹر کے نقش قدم پر بھی چل رہے ہیں جو معمولی مرض کا علاج کرتے ہی نہیں تھے لیکن اگر کوئی نزلے زکام کا مریض غلطی سے ان کے پاس آ ہی جاتا تو وہ پہلے اسے تیسرے د رجے کی ٹی بی میں مبتلا کرتے تھے اور پھر اس کا علاج کرتے تھے۔ آصف علی زرداری کے پاس اس وقت جو ”مریض“ ہے فی الحال اس کی بیماری ان کی ایک ”پُڑی“ سے ٹھیک ہوسکتی ہے مگر وہ اس سے لمبے پینڈے طے کرانے میں لگے ہوئے ہیں جس سے ان کی شہرت وزیرآباد کے حکیم اور لاہور کے ہومیوپیتھ ڈاکٹر جیسی ہوتی چلی جارہی ہے ۔ زرداری صاحب سے محبت کرنے والے ان کے ساتھیوں میں سے ڈاکٹر سومرو پر خصوصاً یہ فرض عائد ہوتاہے کہ وہ انہیں ”عطائیوں“ کے چکر سے نکالیں، انہیں بتائیں کہ جناب اگر آپ کی تشخیص صحیح ہے تو علاج میں تاخیر کی وجہ اپنے مطب میں موجود پڑیاں باندھنے والے ”لونڈوں“ میں بھی تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ یہ مشورہ ایک صحیح ”ڈاکٹر“ ہی دے سکتاہے چنانچہ ڈاکٹر سومرو کا نام میں نے اسی لئے تجویز کیا ہے۔
میرے ادبی مرشد احمد ندیم قاسمی مرحوم و مغفور کے ایک گردے میں معمولی سا پرابلم تھا یعنی ایک بہت چھوٹے سائز کا کنکر تھا جو آپریشن سے بآسانی نکالا جاسکتا تھا لیکن ان کے بعض ”خیرخواہوں“ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ آپریشن کے بارے میں سوچیں بھی نہیں چنانچہ وہ انہیں ایسے ”معالجوں“ کے پاس لئے پھرتے رہے جن کادعویٰ تھا کہ وہ صرف دوا سے پتھر کو پگھلا کر رکھ دیں گے چنانچہ انہوں نے یہ کام کر دکھایا۔ پتھر پگھل گیا لیکن جو دوا پتھر پگھلا سکتی تھی وہ گردے کو کیسے معاف کرسکتی تھی چنانچہ اس کے ساتھ گردہ بھی سکڑ کر ناکارہ ہو گیا۔ یہی حال دوسرے گردے کا بھی ہوتے ہوتے بچامگر یہ کام بہرحال آپریشن ہی کے ذریعے ممکن ہوا تاہم ڈاکٹروں کو ان کا نصف بیمار گردہ کاٹنا پڑا اور یوں ندیم صاحب کو بقیہ عمر صرف نصف گردے کے ساتھ بسر کرنا پڑی۔ ڈیڑھ گردہ ”دوستوں“ کی طرف سے ”احتیاط“ کے مشورے کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ زرداری صاحب کے بیرونی دوست انہیں جس احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں یہ احتیاط اگر ”مریض“ کو لے بیٹھے گی تو ”معالج“ بھی اس کے برے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ علامتی گفتگو کی بجائے اگر میں سیدھے سادھے لہجے میں بات کروں تو میرے نزدیک اس وقت ملک و قوم کو مسائل درپیش ہیں۔ وہ بظاہر بہت بڑے ہیں لیکن درحقیقت اگر ارادہ ہو تو ان کا حل بہت آسان ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ زرداری صاحب کو کسی خوف نے گھیرا ہوا ہے۔ خوف کوئی بری چیز نہیں ہے۔ منیر نیازی کے بقول بلی جنگلوں میں رہا کرتی تھی ۔ایک دن جنگل کی وحشتوں سے وہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ شیر بن گئی۔ میرا دل کہتا ہے کہ ایک دن یہ خوف آصف علی زرداری کو بھی شیر بنا دے گا۔ اس کے لئے انہیں یہ سوچنا ہے کہ وہ ایک اکثریتی جماعت کے رہنما ہیں، دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے، تیسری ”بڑی جماعت“ وکلا، سول سوسائٹی اور میڈیا پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اے پی ڈی ایم کی جماعتیں ہیں، استعمار دشمن اسفندیار ولی کی جماعت ہے، چنانچہ زرداری صاحب اگر کسی اور طاقت پر بھروسہ کرنے یا اس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان جماعتوں کی طاقت سے دشمن کو للکاریں تو نہ صرف یہ کہ دشمن ان کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوسکے گا بلکہ پاکستان سے خوف کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ یہ فتح اگرچہ پوری قوم کی ہوگی لیکن آصف علی زرداری پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہری لفظوں میں ثبت کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ایک دفعہ دما دم مست قلندر کا نعرہ تو بلند کرکے دیکھیں ۔
آصف علی زرداری صاحب نے حکومت سازی کے بعد ازراہ کرم مجھے فون کیا تھا اور ازراہ ِ تفنن کہا تھا ”میں آپ کی شاگردی میں آنا چاہتا ہوں!“ جبکہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ آگے بڑھ کر اس اسٹیبلشمنٹ پر وار کریں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا، میاں نوازشریف کو قید و بند اور جلاوطنی کی اذیتوں سے گزارا، محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا ،ہزاروں سیاسی کارکنوں کو ٹارچر کیا، شہید کیا، ہزاروں پاکستانیوں کو امریکہ کے پاس فروخت کیا ، جو آپ کو بھی گروی رکھنے کی کوشش میں ہے اور جس نے پاکستان کے 16کروڑ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا۔ آپ پاکستانی عوام کے اس اندرونی اور بیرونی دشمن کے سامنے ملک کی تمام عوامی قوتوں کے ساتھ ڈٹ جائیں۔ آپ کی یہ للکار آپ کو ہمیشہ کے لئے خوف سے اور پاکستانی قوم کو غلامی سے آزادکردے گی۔ آپ نے تو ازراہ ِ تفنن یا ازراہ ِ انکسار میری شاگردی میں آنے کی بات کی تھی جبکہ میں سنجیدگی سے آپ کی شاگردی میں آنے کی سوچ رہا ہوں۔ بس اس وقت کا انتظار ہے جب ”حکیم“ آصف علی زرداری صحیح تشخیص سے صحیح علاج تک کا مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
Cat:
- روز مرہ زندگی کے معاملات, حالاتِ حاضرہ | Time: 2:15 pm (UTC+8)






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)


















اس سارے معاملے میں زرداری صاحب کا قصور بالکل نہیں ہے۔ قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نےان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ناکارہ دوائیاں بیچنے کیلیے مجبور کر رکھا ہے۔
Comment by میرا پاکستان — May 14, 2008 @ 5:18 pm