رحمان ملک کا میڈیا کو دھمکانا انتہائی قابل مذمت ہے
پریس کو کسی طور ‘’پریس’’ نہیں کیا جا سکتا:پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل
رحمان ملک کا میڈیا کو دھمکانا انتہائی قابل مذمت ہے:قاضی ایم اے خالد
لاہور( نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا)وزیراعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک کی جانب سے میڈیا(خصوصاًہردلعزیز معروف کمپیئر ڈاکٹر شاہد مسعود) کو دھمکیاں دینا انتہائی قابل ِ مذمت ہے۔آزادیِ صحافت کسی حکمران کی دین نہیں ۔بلکہ یہ ہمارے اسلاف اور عصرحاضر کے صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔موجودہ دور میں پریس کو کسی طور ‘’پریس’’ نہیں کیا جا سکتا۔جمہوری معاشرے آزاد صحافت سے ہی پنپتے ہیں۔اس امر کا اظہارچیئرمین وبانی پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل اور فیڈرل یونین آف کارسپانڈنٹس کے صوبائی راہنما قاضی ایم اے خالد نے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کل جو آزادیِ صحافت کے نعرے لگارہے تھے آج طاقت میں آکر فن ِصحافت سے تعلق رکھنے والے اداروں وافراد کودھمکا رہے ہیں لیکن صحافی برادری متحد ہے اور وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائے گی اور نہ ہی عوام تک اصل حقائق پہنچانے میں حکمرانوں سے سمجھوتہ کیا جائے گا ۔قاضی ایم اے خالدنے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مطابق آزادیِ اطلاعات ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی ہے ‘جمہوریت کی بنیادبھی آزادی اظہارسے ہی وابستہ ہے میڈیا اس نازک دور میںنہ صرف آزادیِ صحافت اور آزادی رائے کا علم سربلند کر رہا ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی سربلندی و بحالی کی جنگ بھی لڑ رہا ہے جوجمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے آمرانہ ذہنیت رکھنے والے اور غیر ملکی آقاؤں کے تابع حکمرانوں کویقینا ناگوار گذرسکتا ہے۔ اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہراساں کرنے کی مذموم کوشش کی سخت مذمت کی گئی۔ اجلاس سے ممتاز صحافی راحت نسیم سوہدروی’عبدالوحید’محمدافضل میو’رفیق احمدصابر’احسان الرحمان سحری’نصراللہ ناصر’سرمد جعفری اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔
لاہور( نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا)وزیراعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک کی جانب سے میڈیا(خصوصاًہردلعزیز معروف کمپیئر ڈاکٹر شاہد مسعود) کو دھمکیاں دینا انتہائی قابل ِ مذمت ہے۔آزادیِ صحافت کسی حکمران کی دین نہیں ۔بلکہ یہ ہمارے اسلاف اور عصرحاضر کے صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔موجودہ دور میں پریس کو کسی طور ‘’پریس’’ نہیں کیا جا سکتا۔جمہوری معاشرے آزاد صحافت سے ہی پنپتے ہیں۔اس امر کا اظہارچیئرمین وبانی پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل اور فیڈرل یونین آف کارسپانڈنٹس کے صوبائی راہنما قاضی ایم اے خالد نے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کل جو آزادیِ صحافت کے نعرے لگارہے تھے آج طاقت میں آکر فن ِصحافت سے تعلق رکھنے والے اداروں وافراد کودھمکا رہے ہیں لیکن صحافی برادری متحد ہے اور وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائے گی اور نہ ہی عوام تک اصل حقائق پہنچانے میں حکمرانوں سے سمجھوتہ کیا جائے گا ۔قاضی ایم اے خالدنے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مطابق آزادیِ اطلاعات ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی ہے ‘جمہوریت کی بنیادبھی آزادی اظہارسے ہی وابستہ ہے میڈیا اس نازک دور میںنہ صرف آزادیِ صحافت اور آزادی رائے کا علم سربلند کر رہا ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی سربلندی و بحالی کی جنگ بھی لڑ رہا ہے جوجمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے آمرانہ ذہنیت رکھنے والے اور غیر ملکی آقاؤں کے تابع حکمرانوں کویقینا ناگوار گذرسکتا ہے۔ اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہراساں کرنے کی مذموم کوشش کی سخت مذمت کی گئی۔ اجلاس سے ممتاز صحافی راحت نسیم سوہدروی’عبدالوحید’محمدافضل میو’رفیق احمدصابر’احسان الرحمان سحری’نصراللہ ناصر’سرمد جعفری اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔
Cat:
- روز مرہ زندگی کے معاملات, حالاتِ حاضرہ | Time: 3:21 pm (UTC+8)






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)

















