اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


November 9, 2007

جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں گا وہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔

ضابطہ
یہ ضابطہ ہے، کہ باطل کو مت کہوں  باطل
یہ ضابطہ ہے، کہ گرداب کو کہوں  ساحل
یہ ضابطہ ہے، بنوں  دست و بازوئے قاتل
یہ ضابطہ ہے، دَھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل
یہ ضابطہ ہے، کہ غم کو نہ غم کہا جائے
یہ ضابطہ ہے،  ستم کو کرم کہا جائے
بیاں  کروں ، نہ کبھی اپنے دل کی حالت کو
نہ لاؤں ، لب پہ کبھی شکوہ و شکایت کو
کمالِ حسن کہوں  عیب کو، جہالت کو
کبھی جگاؤں ، نہ سوئی ہوئی عدالت کو
یہ ضابطہ ہے، حقیقت کو اِک فسانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، قَفس کو بھی آشیانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، کہوں  دشت کو، گلستاں  زار
خزاں  کے روپ کو، لکھوں  فروغِ حسن بہار
ہر ایک دشمن جاں  کو، کہوں  میں  ہمدم و یار
جو کاٹتی ہے سَرِ حق، وہ چوم لوں  تلوار
خطا و جرم کہوں ، اپنی بے گناہی کو
سحر کا نور لکھوں ، رات کی سیاہی کو
جو مٹنے والے ہیں ، اُن کیلئے دَوام لکھوں
ثنا یزید کی، اور شمر پر سلام لکھوں
جو ڈَس رہا ہے وطن کو ، نہ اُس کا نام لکھوں
سمجھ سکیں  نہ جسے  لوگ ، وہ کلام لکھوں
دروغ گوئی کو، سچائی کا پیام کہوں
جو راہزن ہے، اُسے رہبر عوام کہوں
مرے جنوں  کو ، نہ پہنا سکو گے تم زنجیر
نہ ہوسکے گا کبھی ، تم سے میرا ذِہن اسیر
جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں  گا وہ تحریر
متاع ہر دو جہاں  بھی نہیں ، بہائے ضمیر
نہ دے سکے گی ، سہارا تمہیں  کوئی تدبیر
فنا تمہارا مقدر، بقا مری تقدیر

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2007/11/09/p97/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>



Anti-spam measure: please retype the above text into the box provided.