اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


November 9, 2007

٭ذرائع ابلاغ پر پابندی دہشت گردی کے مزید فروغ کا باعث بن سکتی ہے: حکیم خالد٭

٭ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے٭
٭حکومت پریس آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات
فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل٭

لاہور (نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) طب قدیم وجدید میڈیکل سائنس کے مطابق آزادی تحریر و تقریراور ذرائع ابلاغ پرقدغن لوگوں کو پرتشدد کاروائیوں پر اکساتی ہے۔ جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔اس حالت میں اگر جانبدارسرکاری ٹی وی دیکھا جائے توجھوٹ کو سچ دکھانے کے باعث ڈیپریشن وبلڈ پریشرمیں اضافہ ہو کر مزید جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔اس امر کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل ‘مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحیح معلومات تک عدم رسائی سے سینہ گزٹ اور افواہ ساز فیکٹریاں وجود میں آتی ہیں ۔جو حکومت کےلئے انتہائی نقصان دہ اور پاکستانی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ۔ لہذا اس فرسٹریشن اور دیگر نفسیاتی امراض اور پر تشدد کاروائیوں سے بچنے کےلئے حکومت اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق دونوں آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے تا کہ عوام ان پرامن ذرائع ابلاغ سے اختلاف رائے کا اظہارکر سکیں۔اور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پا سکے۔(یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جدید مغربی تحقیق کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والے ہی ریاست کے اصل وفادار ہوتے ہیں جبکہ خوشامدی اورچاپلوسی کرنے والے کئی ذہنی بیمار لوگ حکومتوں اور معاشروں کو لے ڈوبتے ہیں۔)

 
 http://www.express.com.pk

Comments »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2007/11/09/p96/trackback/

No comments yet.

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>



Anti-spam measure: please retype the above text into the box provided.