اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


November 23, 2007

صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے

 
 
بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج
طلوع ہوگا

صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے

حکومت جیو اور دیگرآزاد ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل

لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صحیح معلومات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔آمریت کی اندھیری رات ہمیشہ رہنے والی نہیںاسے ختم ہوناہی ہے اور بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج طلوع ہوگاجب میڈیا بے خوف وخطر ایک بار پھر اپنے فرائض منصبی انجام دے سکے گاانشاء اللہ جیوسمیت تمام چینل پھر کھلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل قاضی ایم اے خالد نے اپنے ایک بیان میں  کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک صحتمنداور پرامن معاشرہ کی تشکیل کےلئے اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق آرڈیننس واپس لے کر جیو نیوز’اے آر وائے و دیگرآزادٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے۔علاوہ ازیں حکیم قاضی ایم اے خالد کے زیر قیادت پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل کے ایک وفد نے اظہار یکجہتی کےلئے جیو کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور گیسٹ بک میں اپنے تاثرات درج کئے۔

http://www.express.com.pk
 

November 10, 2007

یزید چَین سے مسند نَشِین آج بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صعوبتوں  کے سفر میں ہے کاروان حسین
 
جھکے گا ظلم کا پرچم یقین آج بھی ہے
میرے خیال میں  دنیا حسین آج بھی ہے
بہت ہوا ئیں  چلیں  میرا رخ بدلنے کو
مگر نگاہ میں  وہ سرزمین آج بھی ہے
صعوبتوں  کے سفر میں ہے کاروان حسین
یزید چین سے مسند نشین آج بھی ہے
 
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

قائداعظم کے اِس تحفے، محمد الرسول اللہ کی اِس عطا کو
 زندہ رہنا ہے، سرفراز رہنا ہے
ابھی مجھے اِک دَشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
ایک مسافت ختم ہوئی ہے، ایک سفر ابھی کرنا ہے
ڈر جانا ہے دَشت و جبل نے تنہائی کی ہیبت سے
آدھی رات کو جب مہتاب نے تاریکی سے اُبھرنا ہے
یہ تو ابھی آغاز ہے جیسے اُس پہنائے حیرت کا
آنکھ نے اور سنور جانا ہے، رنگ نے اور نکھرنا ہے
 
 

November 9, 2007

جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں گا وہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔

ضابطہ
یہ ضابطہ ہے، کہ باطل کو مت کہوں  باطل
یہ ضابطہ ہے، کہ گرداب کو کہوں  ساحل
یہ ضابطہ ہے، بنوں  دست و بازوئے قاتل
یہ ضابطہ ہے، دَھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل
یہ ضابطہ ہے، کہ غم کو نہ غم کہا جائے
یہ ضابطہ ہے،  ستم کو کرم کہا جائے
بیاں  کروں ، نہ کبھی اپنے دل کی حالت کو
نہ لاؤں ، لب پہ کبھی شکوہ و شکایت کو
کمالِ حسن کہوں  عیب کو، جہالت کو
کبھی جگاؤں ، نہ سوئی ہوئی عدالت کو
یہ ضابطہ ہے، حقیقت کو اِک فسانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، قَفس کو بھی آشیانہ کہوں
یہ ضابطہ ہے، کہوں  دشت کو، گلستاں  زار
خزاں  کے روپ کو، لکھوں  فروغِ حسن بہار
ہر ایک دشمن جاں  کو، کہوں  میں  ہمدم و یار
جو کاٹتی ہے سَرِ حق، وہ چوم لوں  تلوار
خطا و جرم کہوں ، اپنی بے گناہی کو
سحر کا نور لکھوں ، رات کی سیاہی کو
جو مٹنے والے ہیں ، اُن کیلئے دَوام لکھوں
ثنا یزید کی، اور شمر پر سلام لکھوں
جو ڈَس رہا ہے وطن کو ، نہ اُس کا نام لکھوں
سمجھ سکیں  نہ جسے  لوگ ، وہ کلام لکھوں
دروغ گوئی کو، سچائی کا پیام کہوں
جو راہزن ہے، اُسے رہبر عوام کہوں
مرے جنوں  کو ، نہ پہنا سکو گے تم زنجیر
نہ ہوسکے گا کبھی ، تم سے میرا ذِہن اسیر
جو دیکھتا ہوں ، جو سچ ہے کروں  گا وہ تحریر
متاع ہر دو جہاں  بھی نہیں ، بہائے ضمیر
نہ دے سکے گی ، سہارا تمہیں  کوئی تدبیر
فنا تمہارا مقدر، بقا مری تقدیر

٭ذرائع ابلاغ پر پابندی دہشت گردی کے مزید فروغ کا باعث بن سکتی ہے: حکیم خالد٭

٭ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے٭
٭حکومت پریس آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات
فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل٭

لاہور (نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) طب قدیم وجدید میڈیکل سائنس کے مطابق آزادی تحریر و تقریراور ذرائع ابلاغ پرقدغن لوگوں کو پرتشدد کاروائیوں پر اکساتی ہے۔ جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ ناانصافی ‘حق تلفی اورنجی ٹی وی چینلزپر پابندی سے عوام میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔اس حالت میں اگر جانبدارسرکاری ٹی وی دیکھا جائے توجھوٹ کو سچ دکھانے کے باعث ڈیپریشن وبلڈ پریشرمیں اضافہ ہو کر مزید جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔اس امر کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل ‘مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحیح معلومات تک عدم رسائی سے سینہ گزٹ اور افواہ ساز فیکٹریاں وجود میں آتی ہیں ۔جو حکومت کےلئے انتہائی نقصان دہ اور پاکستانی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ۔ لہذا اس فرسٹریشن اور دیگر نفسیاتی امراض اور پر تشدد کاروائیوں سے بچنے کےلئے حکومت اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق دونوں آرڈیننس واپس لے کر ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے تا کہ عوام ان پرامن ذرائع ابلاغ سے اختلاف رائے کا اظہارکر سکیں۔اور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پا سکے۔(یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جدید مغربی تحقیق کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والے ہی ریاست کے اصل وفادار ہوتے ہیں جبکہ خوشامدی اورچاپلوسی کرنے والے کئی ذہنی بیمار لوگ حکومتوں اور معاشروں کو لے ڈوبتے ہیں۔)

 
 http://www.express.com.pk

November 3, 2007

اس قوم کو اب تم معاف کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجرم بھی تم منصف بھی تم ، کیا تم سے کہیں انصاف کرو
بس وطن کی ایک گذار سنو ، اس قوم کو اب تم معاف کرو

اس دیس کے دھارے دیکھتے ییں
سب درد کے مارے پوچھتے ہیں

کیا اب بھی تم کو یاد ہیں دن جب لٹ کے لوگ یاں آتے تھے
آزاد فضا کی آس میں سب وہ اپنا سوگ مناتے تھے

کیا تم کو صدائیں یاد نہیں اٹھتی تھیں جو ہر زینے پر
وہ بوڑھے بچے مرد جواں قرباں ہوئے پاک نگینے پر

پھر تم نے کیا تھا عہدِ وفا اپنے سب پاک شہیدوں سے
بھائیوں کے سینے چاک کئے ، کھیلے تم سب امیدوں سے

میں بلوچ پٹھان تو پنجابی‘ بنگلہ سندھی کو کاٹ دیا
تفریق کو تم نے ھوا دے کر میری مٹی کو یوں بانٹ دیا

کبھی آزادی کے نام پہ سب یہ خواب سہانے بیچے ہیں
کبھی آڑ بھی مذہب کی لے کر لباس جسم سے کھینچے ہیں

کیا نالے ان کے یاد نہیں سہاگ جنہوں نے گنوائے تھے
بہنوں کی آہیں بھول گئےسب ویر جنہوں نے لٹائے تھے

راشد کی وفائیں بھول گئے بھٹی کا مقصد یاد نہیں
جو کمزورں کی چیخ سنے تم وہ قاسم زیاد نہیں

اپنے شہروں میں آگ لگا تم نے سب کو محصور کیا
خاموشی سے معصوموں کو پھر مرنے پر مجبور کیا

سب خوابوں کو سب وعدوں کو تبدیل کیا ہے رونے میں
ہے اپنے لئے پھر بیچ دیا اس دیس کو چاندی سونے میں

ہیں صرف اناؤں کی خاطر کتنے دل پھر ناشاد کئے
اپنے اک آج کی خاطر پھر، کل کتنوں کے برباد کئے

مجرم بھی تم منصف بھی تم ، کیا تم سے کہیں انصاف کرو
بس وطن کی ایک گذار سنو ، اس قوم کو اب تم معاف کرو

ضیاء عثمانی

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ملک میں ٹی وی چینلوں کی نشریات بند ہیں اور حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور اس ضمن میں اسلام آباد میں پنجاب سے اضافی فورس طلب کرلی گئی ہے۔ ملک میں موبائل نیٹ ورک بھی جیم کر دیے گئے ہیں۔ شاہراہ دستور پر رینجر تعینات ہیں اور سپریم کورٹ جانے والے تمام راستے بھی بند ہیں۔

حکومتی ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہیں اور ان افواہوں میں تیزی آج اس وقت نظر آئی جب ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں حکومت کے قانونی مشیروں نے بھی شرکت کی اور اطلاعات کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کو خلاف آئین قرار دیے جانے کی صورت میں متبادل انتظامات کے بارے میں مشاورت کی گئی۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ملک بھر میں نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کردی گئی تھیں۔

اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو ڈپلومیٹک انکلیو کے باہر واقع سفارت خانوں پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ عوامی مقامات پر بھی پولیس اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں تعینات کیا گیا ہے۔

 
یا اللہ پاکستان پر رحم فرما۔آمین