اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


October 13, 2007

٭عید پر روزہ دار افرادکھانے پینے میں خصوصی احتیاط برتیں :حکیم خالد٭

٭روزے رکھنے سے جسمانی اعضاء کو ملنے والی شفا یکدم بسیار خوری سے ضائع ہوسکتی ہے٭
٭رمضان کریم کے نظم و ضبط کو قائم رکھ کر مستقل صحتمند رہا جا سکتا ہے٭

 مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ‘جگر’انتڑیوں ‘گردوں ‘پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں اورعید کے دن مرغن غذائیں مثلاًروسٹ’ بروسٹ’تکے ‘کباب’کڑاہی گوشت’ہریسہ’قورمہ’بریانی’حلوہ پوری’قتلمہ’کیک ‘مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذا یکدم بہت زیادہ مرغن غذاؤوں کے استعمال سے بچیں۔عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں’دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کےلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں’دماغی کمزوری’ہائی بلڈ پریشر’شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کریم کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحت مند رہ سکتے ہیں۔

 
میری طرف سے تمام قارئین’زائرین’تارکین وطن اورتمام امت مسلمہ کو عید مبارک
 
 
آپ کا اپنا حکیم خالد 

October 7, 2007

جنرل مشرف جیت گئےاور۔۔۔۔۔۔۔۔ عوام پھر ہار گئے

افسوس پھر ایوب خان جیت گئے مادر ملت پھر ہار گئیں۔

جنرل مشرف جیت گئے عوام ہار گئے۔

وردی جیت گئی قوم ہار گئی

اور شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عدل اور انصاف بھی کمزور پڑ گیا۔

ان موقعوں پہ حبیب جالب ہی آتا ہے لفظوں کو زباں دینے۔۔۔۔۔۔

یہ جودس کروڑ ہیں
(خیر اب تو سولہ کروڑ ہیں)
جہل کانچوڑ ہیں
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کاروگ ہیں
تو خدا کانور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہرصبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شرپسندہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کاگھونٹ دے گلا
اپنی تو دعا ہے یہ
صدرتو رہے سدا
میں  نے اسے یہ کہا

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا شمار ملکی تاریخ کے مہنگے ترین صدارتی انتخابات میں ہوگا۔
جہاں پچھلے دو ہفتے جنرل مشرف کے سیاسی مشیروں کی پس پردہ سرتوڑ کوششوں نے چھ اکتوبر کے انتخاب میں ان کی کامیابی کوتقریباً یقینی بنا لیا ہے وہاں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایک دھواں دار تشہیری مہم جاری ہے جو صدر مشرف کے مبینہ کارناموں کا پرچار کر رہی ہے۔

کہنے کو تو پاکستان کے چار صوبے ہیں لیکن صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بنیادی طور پر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں چلا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس مہم کو خوشحال پاکستان کا نام دیا گیا ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے یہ مہم خوشحال پنجاب کے نام سے چل رہی ہے۔

یہ دونوں تحریکیں ملکی اخبارات کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیلی وژن چینلز پر بھی چل رہی ہیں۔

حکومت پاکستان کی اشتہاری مہم کو سات موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف دورانیے کی اشتہاری فلمیں ہیں جن میں بنیادی سہولیات (تئیس سیکنڈ) ، پانی کی فراہمی (انیس سیکنڈ)، بجلی کی فراہمی (بائیس سیکنڈ)، سوئی گیس (پچیس سیکنڈ)، سڑکیں (پچیس سیکنڈ)، صحت (ستائیس سیکنڈ)، اور اسی طرح کے دیگر موضوعات شامل ہیں۔ ان سات مختلف اشتہاری فلموں کا کل دورانیہ لگ بھگ تین منٹ بنتا ہے۔
   

اس وقت ملک بھر میں تیس سے زائد نجی ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کم سے کم آدھے چینلز باقاعدہ یہ مہم نشر کر رہے ہیں۔

نجی چینلز کے اشتہاری شعبوں سے بات چیت کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے اس کے مطابق اس مہم کے لیے اوسط ریٹ تقریباً ایک لاکھ روپے فی منٹ طے کیا گیا ہے۔ پندرہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نجی چینلز زیادہ سے زیادہ رعایت تیس فیصد دیتے ہیں۔ اس حساب سے اگر جنرل سیلز ٹیکس نہ شامل کیا جائے تو اس اشتہاری مہم کا اوسط ریٹ تقریباً ستر ہزار روپے فی منٹ بنتا ہے۔

نجی چینلز کے افسران کے مطابق حکومت پاکستان نے اپنی اشتہاری مہم کا آغاز اٹھارہ ستمبر سے کیا ہے۔

ہر نجی چینل پر یہ اشتہاری مہم کم سے کم دن میں دو مرتبہ چلتی ہے یعنی وفاق اور پنجاب کی حکومتیں کم سے کم پندرہ ٹیلیوژن چینلز پر روزانہ کم از کم چھ منٹ کے وقت کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔

باقی حساب سیدھا سادہ ہے۔ پندرہ چینلز، چھ منٹ روزانہ، پندرہ دن اور ستر ہزار روپے فی منٹ کے حساب سے کل خرچہ ساڑھے نو کروڑ۔ واضح رہے کہ یہ ایک انتہائی محتات اندازہ ہے۔
 
اخبارات میں اگرچہ اردو روزناموں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن قومی روزناموں کی تعداد آٹھ کے قریب ہے۔ اسی طرح ملک میں پانچ بڑے انگریزی روزنامے ہیں۔

بڑے بڑے اردو اخبارات سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق صفحہ اول پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ روپے بنتی ہے اور یہ خصوصی اشتہاری نرخ صرف حکومت کو دیے جاتے ہیں۔ ان اخبارات میں پچھلے پندرہ دنوں سے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم جاری ہے۔

حساب ایک بار پھر سیدھا ہے دس اشتہار، پانچ لاکھ روپے فی اشتہار اور آٹھ قومی روزنامے، کل لاگت چھ کروڑ روپے۔

انگریزی کے قومی روزناموں میں صفحہ اوّل پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کے حکومتی نرخ تقریباً پونے تین لاکھ روپے بنتی ہے۔ انگریزی روزناموں میں بھی اگر روزانہ ایک اشتہار کی اوسط لیں تو حساب کچھ اس طرح بنتا ہے۔ پانچ اشتہارات، پونے تین لاکھ روپے اور پانچ قومی روزنامے۔ کل خرچہ تقریبا دو کروڑ روپے۔
   
اس نہایت ہی محتاط اندازے کے مطابق اٹھارہ ستمبر سے پانچ اکتوبر تک پندرہ دنوں میں حکومت پاکستان ساڑھے سترہ کروڑ روپے کے اشتہارات چلا چکی ہے۔

یہ تخمینہ پوری تصویر بالکل نہیں ہے بلکہ شاید اس کا ایک معمولی حصہ ہو۔ بڑے مقامی چینلز اور اخبارات کے علاوہ ملک بھر کے ہر طرح کے چھوٹے بڑے اخبارات، رسائل اور ٹیلیوژن چینلز کے علاوہ درجنوں ایف ایم ریڈیو سٹیشنز پر بھی یہ اشتہاری مہم پورے زورو شور سے جاری ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ محلے کی سطح پر کام کرنے والے کیبل آپریٹر کو بھی اس اشتہاری مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ کیبل آپریٹر غیر قانونی طور پر نئی ہندوستانی فلمیں نشر کرتے ہیں اور انہیں فلموں کے بیچ صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بھی چل رہی ہے۔

شاید اسی لیے اشتہاری دنیا میں کہا جا رہا ہے کہ اس اشتہاری مہم کا کل حجم اربوں روپے کا ہے۔ اور یہ سارا خرچہ حکمران مسلم لیگ کے بجٹ سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ہو رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں صدارتی انتخابی مہم پر اتنا پیسہ خرچہ گیا ہو۔

 
ماخذ

اور راج کرے گی خلق خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیل آرڈیننس کا اجراء اور صدر کی سلیکشن کا
ٹوپی ڈرامہ تو گذر گیا
فیکٹ تو یہی ہے کہ غلامی کا ایک اور دور شروع ہوا
لیکن پا کستانی عوام اب بھی پر امید ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 راج کرے گی خلق خدا

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل سفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

October 3, 2007

لال مسجد۔۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ کا ایک اور مستحسن اقدام

 
 
سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقعہ لال مسجد تین ماہ کی بندش کے بعد بدھ کے روز باضابطہ طور پر نمازیوں کے لیے کھول دی گئی۔

لال مسجد جولائی میں فوجی کارروائی کے بعد سے مسلسل بند تھی۔ فوجی کارروائی میں مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سمیت ہزاروں طلبہ و طالبات شہید ہو گئے تھے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے جب مسجد کو تعمیرو مرمت کے بعد جولائی کے آخری ہفتے میں دوبارہ کھولا تو جامعہ فریدیہ کے طلباء نے مسجد کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد مسجد کو دوبارہ سیل کر کے پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔

تاہم منگل کو سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ لال مسجد کو بدھ سےدوبارہ کھول دیا جائے۔

عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی حکم دیا تھا کہ ایک سال کی مدت میں منہدم کیے گئے جامعہ حفصہ کی جگہ ایک مدرسہ تعمیر کیا جائے۔ عدالت نے جامعہ فریدیہ کے مہتمم مولانا عبدالغفار کو عارضی طور پر لال مسجد کا خطیب مقرر کیا تھا جبکہ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے عامر صدیق کو نائب خطیب مقرر کیا گیا ہے۔

 
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس واقعے میں قتل اور اغوا کے مقدمات کے اندارج سے شہداء کے لواحقین کو انصاف کی امید بندھی ہے ۔
شکریہ سپریم کورٹ
 

October 1, 2007

اسلام آباد کے آئی جی ’ ڈی سی اور ایس ایس پی معطل

سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے چارو ناچار اسلام آباد کے آئی جی ’ ڈی سی اور ایس ایس پی کو معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس نے اسلام آباد میں وکلا اور صحافیوں پر پولیس تشدد کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد مروت شاہ ’ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اسلا م آباد کو معطل کر کے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا
چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کو اسلام آباد انتظامیہ کے ان تین افسران کی معطلی کے لیے آج (پیر ) ایک بجے تک کی مہلت دی تھی اور کہا کہ اگر اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عدالت اس سلسلے میں خود کوئی حکم جاری کرے گی۔
انصاف کی عدم فراہمی اور تاخیر پرتشدد کاروا ئیوں کےلیے راہ ہموار کرتی ہے۔انکوائری کمیٹیوں کا قیام اکثر بد نیتی پر مبنی ہوتا ہے اور معاملے سے جان چھڑانے کا تیر بہدف مجرب نسخہ ہے اسی بات کا چیف جسٹس کو واضح ادراک تھا اور اسی لیے جب سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے تشدد کے واقعات کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تو اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ انکوائری کو بھول جائیں، ہم نے ایسی کئی انکوائریاں دیکھی ہیں۔
 
 

چیف جسٹس پاکستان کا ایک اور مستحسن اقدام

 
سپریم کورٹ نے آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کی معطلی کا حکم دیدیا
 
چیف جسٹس نے اسلام آباد میں وکلا اور صحافیوں پر پولیس تشدد کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد مروت شاہ اور ڈپٹی کمشنر اسلا م آباد کو معطل کر کے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کو اسلام آباد انتظامیہ کے ان تین افسران کی معطلی کے لیے آج (پیر ) ایک بجے تک کی مہلت دی ہے اور کہا کہ اگر اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عدالت اس سلسلے میں خود کوئی حکم جاری کرے گی۔

چیف جسٹس نے یہ حکم  سپریم کورٹ اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے سامنے پولیس کے صحافیوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر تشدد کے بارے میں از خود نوٹس کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس راجہ محمد فیاض پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب مقدمے کی سماعت شروع کی تو سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے عدالت کو بتایا کہ  تشدد کے سلسلے میں سات پرچے درج کیے گئے ہیں۔

عدالت نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے معمولی زخموں کے باوجود ان پر حملہ کرنے والے وکلاء پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ سے شاہراہِ داستور پر تعینات کیے جانے والے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کی شناخت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔

جب سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے تشدد کے واقعات کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تو اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ انکوائری کو بھول جائیں، ہم نے ایسی کئی انکوائریاں دیکھی ہیں۔عدالت نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ آنسو گیس کے شیلوں کی درآمد کے بارے رپورٹ پیش کرے۔یاد رہے کہ صحافیوں اور وکلاء پر ٹیر گیس کے جو شیل فائر کیے گئے وہ امریکی ساختہ تھے

ہم تو اپنا ہی کام کر رہے تھے’لیکن آپ ۔۔۔

 
بے اختیار وزیر اعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے صحافیوں کو اپنا کام کرناچاہئے۔ انہوں نے بالکل بجا فرمایا صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی ہی کر رہے تھے وہ ہرگز فریق نہیں ہیں انہیں وکلاء اور حکومت کے مابین جنگ سے بھی کوئی سروکار نہیں ان کا مقصد صورتحال کو غیر جانبداری اور معروضیت برقرار رکھتے ہوئے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ایسے میں انہیں نشانہ بنانے کی کوئی توجیہ عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ ہمیں واقعتاً اپنا اپنا کام ہی کرنا چاہئے۔ اخبار نویس کا کام کوریج کرنا ہے اسے اپنی حدود و قیود میں رہنا چاہیے مگر یہ تعین کون کرے گا کہ اسے کس ایونٹ کی کوریج کرنا ہے اور کس کی نہیں، حدود و قیود سب کیلئے ہیں نہ اس سے حکومت مستثنیٰ ہے نہ اخبار نویس اور وکلا، جب حکومتیں اپنے لئے کسی حدود کے تعین کو ضروری نہیں سمجھتیں اور خود قانون کو ہاتھ میں لیتی ہیں تو دوسروں سے اس کی پاسداری کی امید کو ایک مذاق ہی تصور کیا جائے گا۔ اپنی اپنی حدود اور دائرہ کار میں ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے سبب ہی آج وطن عزیز بے پناہ مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہے کسی بھی مرحلے پر ہمیں اس کے استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو ناقص حکمت عملیوں کے سبب ہمیں کئی قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے جب تک ہم طاقت کے بجائے دلیل و منطق کا سہارا لینے کا راستہ اختیار نہیں کرتے بدامنی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ استحکام کا خواب تعبیر حاصل نہیں کر پائے گا اور امن و امان کے قیام میں کامیابی نہیں مل سکے گی۔ اس لئے جو جس کا شعبہ ہے اسے اس کیلئے کام کرنے دیا جائے ۔ غیر ضروری مداخلت کے اس عنصر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دیاجائے جو جونک کی طرح ہماری ترقی و خوشحالی چمٹ گیا ہے۔ انتظامیہ نے وکلاء اور صحافیوں کے خلاف اس واقعہ کے حوالے سے مقدمات کا اندراج بھی کیا ہے حالانکہ یہ معاملات مقدمات درج کرنے سے حل نہیں ہوں گے ہم پہ لازم ہے کہ ایسے ناخوشگوار واقعات کے اعادے کے خاتمے کا اہتمام کریں اور احتجاج اور اشتعال کو روکنے کے ایسے ذرائع اختیار کریںجو کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے بجائے امن کی راہ ہموار کریں۔