آمر حکمرانوں نے پاکستان کے چہرے کو دنیا بھر میں پھر داغدار کر دیا
آمریت کھل کر سامنے آ گئی

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔29ستمبر کوقوم نے وہ منظر دیکھے جب سینئر وکیل ،سیاستدان اعتزازاحسن پر"پُلسئے" اندھادھند لاٹھیاں برسا رہے تھے۔ جب سینئر ایڈووکیٹ علی احمدکُرد کومار پیٹ کرغائب کیا جارہاتھا۔ جب رد عمل کے طور پر وزیرمملکت اطلاعات طارق عظیم کوتشدد کانشانہ بنایا جارہاتھا اورجب"پُلسئے" اپنی ڈیوٹی کرنے والے غیرجانبدار صحافیوں پرحملے کرکے بہادری کے جوہر دکھارہے تھے۔ یہ مناظر افسوسناک نہیں تھے۔ یہ مناظرخوفناک بھی نہیں تھے۔ دراصل یہ مناظر شرمناک تھے۔ ان لوگوں کیلئے جن کے ہاتھ میں طاقت تھی اوراس طاقت کاانہوں نے وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے ملک وقوم کوپوری دنیا میں تماشا بناکررکھ دیا۔ روزے داروکیلوں اورصحافیوں پرجس طریقے سے تشدد کیاگیا اس سے صاف ظاہر ہورہاتھا کہ"پُلسیوں " کواوپر سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ "تُن کے رکھو" اورباوردی اوربغیر وردی پُلسئے اوردیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے جتھے کے جتھے نہتے،روزہ دار مظاہرین اوروکیلوں پرٹوٹ پڑے۔ سیاسیات کے ماہرین ہمیشہ ریاستی طاقت کوکسی قانون ضابطے میں رکھنے کیلئے کوشش کرتے رہے کیونکہ یہ ایک ایسی طاقت ہوتی ہے جو صحیح استعمال کی جائے تو حکومتوں کی مددگار اوراگر غلط استعمال کی جائے تو انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے خاص طور پر جب یہ اندھی ہوجائے تو پھر مست ہاتھی کی طرح اپنے راستے میں آنے والی ہرچیز اورذی روح کوتو کچلتی ہی ہے بعد ازاں خود بھی اپنے منطقی انجام کوپہنچ جاتی ہے۔
گزشتہ چند روز میں جس طرح سینئراپوزیشن سیاستدانوں ،کارکنوں کی گرفتاریاں اورتشدد کیا جارہاہے ۔راستے بندکرکے عام لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔ ان دھڑادھڑ گرفتاریوں ،ناکوں ،تشدد سے صورتحال مزیدخراب ہوگی اورایساکرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ حکومت کودیکھناہوگا کہ اس کے خلاف سازش تو نہیں ہورہی جیساکہ صدر پرویزمشرف خود اس کاخدشہ ظاہر کرچکے ہیں اور ویسے بھی جہاں اقتدار کی غلام گردشیں ہوتی ہیں وہاں محلاتی سازشیں بھی ضرور جنم لیتی ہیں ۔ اقتدار بدبخت چیز ہی ایسی ہے کہ جو بیٹے کوباپ سے،بھائی کوبھائی سے لڑادیتی ہے۔مروادیتی ہے۔ بھتیجے بھانجے تو بہت دور کی بات ہے۔ طاقت کابغیر ضرورت استعمال بھی ایسے ہی ہے جیسے اختیارات کاغلط استعمال کیاجائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں ،پولیس، انتظامیہ وغیرہ کے افسروں کی بنیادی تربیت ہی یہ ہوتی ہے کہ ہنگامہ خیزصورتحال کوکس طرح کنٹرول میں رکھناہے اورامن وامان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دینی مگر اسلام آبادراولپنڈی میں گزشتہ چند دنوں میں جوواقعات رونما ہوئے، سینئرسیاستدان حافظ حسین احمداورجاویدہاشمی کوتشدد کانشانہ بنایاگیا راجہ ظفرالحق کوبندکردیاگیا گزشتہ روز اعتزاز احسن، علی احمدکُرد ،حنیف عباسی، سردارنسیم، چوہدری مصدق گھمن، مظہربرلاس سمیت وکیلوں ،اپوزیشن سیاستدانوں اورصحافیوں کوجس طرح مارا اورگھسیٹا گیااس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ پولیس والوں کواحکامات جاری کرنے والے حکام یاتو نااہل واقع ہوئے ہیں یاوہ کوئی اورکھیل کھیل رہے ہیں کیونکہ حالات جس نہج پر 29ستمبر کوجاپہنچے ہیں ایساموڑ اس ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی شاید ہی آیاہو کہ جب وزیراعظم اورکابینہ کی موجودگی میں پولیس سینئر سیاستدانوں اورصحافیوں کے کھنے سینک رہی ہو اوروزیربالکونیوں میں کھڑے چپ چاپ یہ مناظردیکھنے پر مجبور ہوں ۔ ان کے چہروں سے صاف نظر آرہا ہو کہ وہ اندر سے اس تشدد اورمارا ماری کودرست نہیں سمجھتے مگر کیاکریں چند لمحوں بعد انہی کو اس کادفاع بھی کرناتھا جس کووہ خود اچھا نہیں سمجھتے۔ ہمیں ان کے ساتھ پوری ہمدردی ہے مگر جوکچھ وکیلوں اورصحافیوں کے ساتھ کیاگیا اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ طارق عظیم جیسے سنجیدہ باوقار انسان کے ساتھ اس طرح نہیں ہوناچاہیے تھا مگر اعتزاز احسن جیسے معزز وکیل اور سابق وفاقی وزیر کوپتھر مار کرزخمی کرنا اور پھر لاٹھیاں لے کرچڑھ دوڑنا بھی کسی جمہوری، روشن خیال اورمعتدل مزاج کی عکاسی نہیں کرتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہاں تک نوبت کیوں آگئی ۔ کیا حکومت بوکھلا گئی ہے یاوکیلوں کی طرف سے کچھ زیادہ ہی ردعمل ظاہر کردیاگیا جسے روکنا ضروری تھا۔ آخر کیوں طاقت کے بے دریغ استعمال کاناپسندیدہ آپشن اختیار کیاگیا۔ کیااس بار بھی صدر جنرل پرویزمشرف نالائق مشیروں کی باتوں میں آگئے ؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ان نالائقوں نے رات رات بھر رٹا رٹا کر سبق یاد کرلیا ہو اور اب امتحان پاس کرنے کے لائق ہوگئے ہیں ۔ یعنی اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے ہوں کہ جب صحافیوں کاخون بہے گا۔ وکیلوں کے سرپھٹیں گے،وزیرمشیروں کی دھنائی ہوگی اورسینئر سیاستدانوں پر لاٹھیاں برسیں گی تو ایمرجنسی کے نفاذ میں کون سی رکاوٹ رہ جائے گی؟ ایمرجنسی کاحامی گروپ اپنے چکر میں ہے۔ اس کو یہی راستہ آسان اورمحفوظ لگتا ہے کہ ایمرجنسی لگا کر اسمبلیوں کی مدت ایک سال بڑھالی جائے اورمزید12مہینے آرام سے حکومت کی جائے تب تک حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔پیپلزپارٹی سے مفاہمت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اورصدر کووردی بھی نہیں اتارنی پڑے گی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دھڑا امن وامان کی صورتحال پیدا کرکے اپنا کام کیے جارہاہے مگر جیسا کہ مشاہد حسین نے کہاتھا کہ ایمرجنسی لگانے کامشورہ دینے والے نالائق ہیں ۔ اس لیے یہ نالائق لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایمرجنسی لگنے سے بھی ان کوکچھ نہیں ملنے والا۔ البتہ ایمرجنسی کیلئے حالات سازگار بنانے کے چکر میں خود ان کیلئے ایمرجنسی پیداہوسکتی ہے جبکہ حکومت کوملک اور بیرون ملک سے جس تنقید کاسامنا کرنا پڑے گا وہ ناقابل برداشت ہوگی۔ حکومت کے تمام کریڈٹ ڈس کریڈٹ میں تبدیل ہوجائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کون سی جمہوریت اورکون سی میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ معتدل مزاجی اورروشن خیالی کے کون سے مظاہرے ہورہے ہیں ۔ دنیا کے کس مہذب ملک میں صحافیوں کوفریق بنا کرآگے لگا لیا جاتاہے۔ جس طرح پُلسئے اپنے لاٹھی چارج،ٹھڈوں اورمکوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ تو نوکری سے مجبور ہیں ۔ اسی طرح صحافی بھی تو اپنی ڈیوٹی کررہے ہوتے ہیں ۔ صحافیوں کاکام جو جیساہے اسے ویسا دکھاناہے۔ اب اگر کسی کی اپنی صورت خراب ہے تواس میں بے چارے صحافیوں کاکیاقصور؟
آئینہ توڑنے سے شکلیں اچھی تھوڑی ہوجاتی ہیں ۔ 29ستمبر کوحکومت کامورال جتنابلندہوا ایک ہی روز بعد اس کے اہلکاروں کے اعمال کی وجہ سے اتنا ہی زوال پذیر ہوگیا۔ ہم نے29 ستمبر کی اشاعت میں لکھ دیا تھا کہ جمعہ کی شام حکومت کیلئے خوشگوار ہوگئی ہے مگر جوحالات اس ملک میں چل رہے ہیں ان کی روشنی میں کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ اگلی صبح کیسی ہو؟ اور29کی صبح ویسی ہی تھی کہ28ستمبر کی ساری خوشیاں خاک میں ملتی محسوس ہورہی تھیں ۔ میڈیا کی آزادی کے دعوؤں کے باوجود کئی ٹی وی چینلز پرالیکشن کمیشن کی صورتحال۔ پولیس کے حملے۔ لاٹھی چارج۔ سینئرلوگوں کی پٹائی کے مناظر کے بجائے تفریحی پروگرام چلائے جارہے تھے۔ ایک دو چینلز پر باقاعدہ پٹی چل رہی تھی کہ حکومت نے تفریحی پروگرام دکھانے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح حکومت کو28ستمبر کی شام4بجے سپریم کورٹ سے صدر کے دوعہدوں کے خلاف پٹیشن خارج ہونے پرجواخلاقی برتری حاصل ہوئی تھی بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ حکومت اس برتری کو12گھنٹے تک بھی سنبھال نہ پائی اور29ستمبر کو اس اخلاقی برتری کاحشرنشر حکومت کے اپنے کارندوں اورعمّال ہی نے ساری دنیا کے سامنے کردیا۔حکومت کویہ سمجھانے والا کوئی نہیں کہ طاقت تمام مسائل کاحل نہیں ہوتا ۔نہ زبردستی سے آپ کسی کے اوپر زیادہ دیر مسلط رہ سکتے ہیں ۔ زور زبردستی سے کسی کوزیادہ دیر ساتھ بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ 9مارچ سے پہلے والی پوزیشن پرواپسی اب شایدحکومت کے نصیب میں نہ ہو۔ دعویٰ جمہوریت کاہے تو اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاریاں کیوں ؟ فخرروشن خیالی اور برداشت کلچر پرہے تو وکیلوں پرڈنڈے کیوں برسائے جارہے ہیں ؟ تمغہ میڈیا کی آزادی کاچاہیے تو ان کوفریق بناکر پُلسئے چھوڑنے کاکیامقصد ہے؟ ۔ ہم نے ان صفحات پر متعدد بار حکومت کی توجہ ان امور کی طرف دلائی مگر29ستمبر کے واقعات سے لگتاہے کہ یہاں کسی کودرست مشورہ درکار ہی نہیں ۔ کسی کواچھی بات کہنا بات گنوانے والی بات ہے۔
گزشتہ چند روز میں جس طرح سینئراپوزیشن سیاستدانوں ،کارکنوں کی گرفتاریاں اورتشدد کیا جارہاہے ۔راستے بندکرکے عام لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔ ان دھڑادھڑ گرفتاریوں ،ناکوں ،تشدد سے صورتحال مزیدخراب ہوگی اورایساکرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ حکومت کودیکھناہوگا کہ اس کے خلاف سازش تو نہیں ہورہی جیساکہ صدر پرویزمشرف خود اس کاخدشہ ظاہر کرچکے ہیں اور ویسے بھی جہاں اقتدار کی غلام گردشیں ہوتی ہیں وہاں محلاتی سازشیں بھی ضرور جنم لیتی ہیں ۔ اقتدار بدبخت چیز ہی ایسی ہے کہ جو بیٹے کوباپ سے،بھائی کوبھائی سے لڑادیتی ہے۔مروادیتی ہے۔ بھتیجے بھانجے تو بہت دور کی بات ہے۔ طاقت کابغیر ضرورت استعمال بھی ایسے ہی ہے جیسے اختیارات کاغلط استعمال کیاجائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں ،پولیس، انتظامیہ وغیرہ کے افسروں کی بنیادی تربیت ہی یہ ہوتی ہے کہ ہنگامہ خیزصورتحال کوکس طرح کنٹرول میں رکھناہے اورامن وامان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دینی مگر اسلام آبادراولپنڈی میں گزشتہ چند دنوں میں جوواقعات رونما ہوئے، سینئرسیاستدان حافظ حسین احمداورجاویدہاشمی کوتشدد کانشانہ بنایاگیا راجہ ظفرالحق کوبندکردیاگیا گزشتہ روز اعتزاز احسن، علی احمدکُرد ،حنیف عباسی، سردارنسیم، چوہدری مصدق گھمن، مظہربرلاس سمیت وکیلوں ،اپوزیشن سیاستدانوں اورصحافیوں کوجس طرح مارا اورگھسیٹا گیااس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ پولیس والوں کواحکامات جاری کرنے والے حکام یاتو نااہل واقع ہوئے ہیں یاوہ کوئی اورکھیل کھیل رہے ہیں کیونکہ حالات جس نہج پر 29ستمبر کوجاپہنچے ہیں ایساموڑ اس ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی شاید ہی آیاہو کہ جب وزیراعظم اورکابینہ کی موجودگی میں پولیس سینئر سیاستدانوں اورصحافیوں کے کھنے سینک رہی ہو اوروزیربالکونیوں میں کھڑے چپ چاپ یہ مناظردیکھنے پر مجبور ہوں ۔ ان کے چہروں سے صاف نظر آرہا ہو کہ وہ اندر سے اس تشدد اورمارا ماری کودرست نہیں سمجھتے مگر کیاکریں چند لمحوں بعد انہی کو اس کادفاع بھی کرناتھا جس کووہ خود اچھا نہیں سمجھتے۔ ہمیں ان کے ساتھ پوری ہمدردی ہے مگر جوکچھ وکیلوں اورصحافیوں کے ساتھ کیاگیا اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ طارق عظیم جیسے سنجیدہ باوقار انسان کے ساتھ اس طرح نہیں ہوناچاہیے تھا مگر اعتزاز احسن جیسے معزز وکیل اور سابق وفاقی وزیر کوپتھر مار کرزخمی کرنا اور پھر لاٹھیاں لے کرچڑھ دوڑنا بھی کسی جمہوری، روشن خیال اورمعتدل مزاج کی عکاسی نہیں کرتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہاں تک نوبت کیوں آگئی ۔ کیا حکومت بوکھلا گئی ہے یاوکیلوں کی طرف سے کچھ زیادہ ہی ردعمل ظاہر کردیاگیا جسے روکنا ضروری تھا۔ آخر کیوں طاقت کے بے دریغ استعمال کاناپسندیدہ آپشن اختیار کیاگیا۔ کیااس بار بھی صدر جنرل پرویزمشرف نالائق مشیروں کی باتوں میں آگئے ؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ان نالائقوں نے رات رات بھر رٹا رٹا کر سبق یاد کرلیا ہو اور اب امتحان پاس کرنے کے لائق ہوگئے ہیں ۔ یعنی اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے ہوں کہ جب صحافیوں کاخون بہے گا۔ وکیلوں کے سرپھٹیں گے،وزیرمشیروں کی دھنائی ہوگی اورسینئر سیاستدانوں پر لاٹھیاں برسیں گی تو ایمرجنسی کے نفاذ میں کون سی رکاوٹ رہ جائے گی؟ ایمرجنسی کاحامی گروپ اپنے چکر میں ہے۔ اس کو یہی راستہ آسان اورمحفوظ لگتا ہے کہ ایمرجنسی لگا کر اسمبلیوں کی مدت ایک سال بڑھالی جائے اورمزید12مہینے آرام سے حکومت کی جائے تب تک حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔پیپلزپارٹی سے مفاہمت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اورصدر کووردی بھی نہیں اتارنی پڑے گی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دھڑا امن وامان کی صورتحال پیدا کرکے اپنا کام کیے جارہاہے مگر جیسا کہ مشاہد حسین نے کہاتھا کہ ایمرجنسی لگانے کامشورہ دینے والے نالائق ہیں ۔ اس لیے یہ نالائق لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایمرجنسی لگنے سے بھی ان کوکچھ نہیں ملنے والا۔ البتہ ایمرجنسی کیلئے حالات سازگار بنانے کے چکر میں خود ان کیلئے ایمرجنسی پیداہوسکتی ہے جبکہ حکومت کوملک اور بیرون ملک سے جس تنقید کاسامنا کرنا پڑے گا وہ ناقابل برداشت ہوگی۔ حکومت کے تمام کریڈٹ ڈس کریڈٹ میں تبدیل ہوجائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کون سی جمہوریت اورکون سی میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ معتدل مزاجی اورروشن خیالی کے کون سے مظاہرے ہورہے ہیں ۔ دنیا کے کس مہذب ملک میں صحافیوں کوفریق بنا کرآگے لگا لیا جاتاہے۔ جس طرح پُلسئے اپنے لاٹھی چارج،ٹھڈوں اورمکوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ تو نوکری سے مجبور ہیں ۔ اسی طرح صحافی بھی تو اپنی ڈیوٹی کررہے ہوتے ہیں ۔ صحافیوں کاکام جو جیساہے اسے ویسا دکھاناہے۔ اب اگر کسی کی اپنی صورت خراب ہے تواس میں بے چارے صحافیوں کاکیاقصور؟
آئینہ توڑنے سے شکلیں اچھی تھوڑی ہوجاتی ہیں ۔ 29ستمبر کوحکومت کامورال جتنابلندہوا ایک ہی روز بعد اس کے اہلکاروں کے اعمال کی وجہ سے اتنا ہی زوال پذیر ہوگیا۔ ہم نے29 ستمبر کی اشاعت میں لکھ دیا تھا کہ جمعہ کی شام حکومت کیلئے خوشگوار ہوگئی ہے مگر جوحالات اس ملک میں چل رہے ہیں ان کی روشنی میں کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ اگلی صبح کیسی ہو؟ اور29کی صبح ویسی ہی تھی کہ28ستمبر کی ساری خوشیاں خاک میں ملتی محسوس ہورہی تھیں ۔ میڈیا کی آزادی کے دعوؤں کے باوجود کئی ٹی وی چینلز پرالیکشن کمیشن کی صورتحال۔ پولیس کے حملے۔ لاٹھی چارج۔ سینئرلوگوں کی پٹائی کے مناظر کے بجائے تفریحی پروگرام چلائے جارہے تھے۔ ایک دو چینلز پر باقاعدہ پٹی چل رہی تھی کہ حکومت نے تفریحی پروگرام دکھانے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح حکومت کو28ستمبر کی شام4بجے سپریم کورٹ سے صدر کے دوعہدوں کے خلاف پٹیشن خارج ہونے پرجواخلاقی برتری حاصل ہوئی تھی بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ حکومت اس برتری کو12گھنٹے تک بھی سنبھال نہ پائی اور29ستمبر کو اس اخلاقی برتری کاحشرنشر حکومت کے اپنے کارندوں اورعمّال ہی نے ساری دنیا کے سامنے کردیا۔حکومت کویہ سمجھانے والا کوئی نہیں کہ طاقت تمام مسائل کاحل نہیں ہوتا ۔نہ زبردستی سے آپ کسی کے اوپر زیادہ دیر مسلط رہ سکتے ہیں ۔ زور زبردستی سے کسی کوزیادہ دیر ساتھ بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ 9مارچ سے پہلے والی پوزیشن پرواپسی اب شایدحکومت کے نصیب میں نہ ہو۔ دعویٰ جمہوریت کاہے تو اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاریاں کیوں ؟ فخرروشن خیالی اور برداشت کلچر پرہے تو وکیلوں پرڈنڈے کیوں برسائے جارہے ہیں ؟ تمغہ میڈیا کی آزادی کاچاہیے تو ان کوفریق بناکر پُلسئے چھوڑنے کاکیامقصد ہے؟ ۔ ہم نے ان صفحات پر متعدد بار حکومت کی توجہ ان امور کی طرف دلائی مگر29ستمبر کے واقعات سے لگتاہے کہ یہاں کسی کودرست مشورہ درکار ہی نہیں ۔ کسی کواچھی بات کہنا بات گنوانے والی بات ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپ کس کس سے لڑیں گے۔ وکیلوں سے لڑیں گے۔ مقبول اپوزیشن جماعتوں سے لڑیں گے۔ علماء سے لڑیں گے۔ مدارس والوں سے لڑیں گے۔ شہریوں سے لڑیں گے۔ صحافیوں سے لڑیں گے؟ اگر ان سب کے ساتھ لڑیں گے تو پھر ملک کے دشمنوں سے کیسے لڑیں گے؟
بشکریہ جناح

نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائیگا
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)






