پاکستانی سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ریاستی غنڈہ گردی

الیکشن کمشن آف پاکستان میں صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر وکلاء سیاسی کارکنوں اور صحافیوں پر حکومتی غنڈوں نے دہشت گردی کی انتہا کر دی۔ سیاسی رہنماؤں و کارکنوں اور بیسیوں وکلاء کو گرفتار کرلیا گیا۔ شاہراہ دستور پر مظاہرہ کرنے والے وکلاء کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، قانون دان اعتزاز احسن اور جسٹس (ر) طارق محمود کررہے تھے۔ ان کے ساتھ اے پی ڈی ایم کے کارکن بھی تھے، مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے الیکشن کمشن کی عمارت کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو تصادم شروع ہوگیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج، شیلنگ کی مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل سپریم کورٹ بلڈنگ کی طرف وکلاء پر فائر کیے جس سے ہر طرف سفید دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران سپریم کورٹ بلڈنگ پر بھی پتھر برستے رہے۔ وکلاء سپریم کورٹ میں کچھ دیر کیلئے پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ وکلاء اور پولیس کے درمیان گالم گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ دوسری جانب اعتزاز احسن، علی احمد کرد، چودھری زمرد ایڈووکیٹ و دیگر پر حکومتی اہلکاروں نے تشدد کیا۔ علی احمد کرد کو پولیس اہلکار لاتوں، مکوں سے مارنے کے بعد اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ تاہم بعد میں رہا کردیا جبکہ وکلاء کے ایک گروہ نے اعتزاز کو گرفتار کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ دھکم پیل میں پولیس وکلاء پر ڈنڈے برساتی رہی، اعتزاز احسن کی عینک ٹوٹ گئی۔ متعدد افراد کے سر پھٹ گئے۔ پولیس نے 17 وکلاء کو گرفتار کرلیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سید طیب کے مطابق وکلاء پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کیا جس سے اعتزاز احسن، علی احمد کرد کے علاوہ منیر احمد، زمرد خان، ثناء اللہ، زاہد محمود راجہ، مرتضیٰ وٹو، قاضی اعتماد، الطاف حسین، رانا نوید ارشاد سمیت 34 وکلاء زخمی ہوگئے جنہیں اسلام آباد کے پولی کلینک اور پمز میں داخل کروا دیا گیا جبکہ سید واجد علی گیلانی سمیت راولپنڈی کے 16 وکلاء کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرکے تھانہ سیکرٹریٹ سمیت دیگر تھانوں میں بندکردیاگیا اور وکلاء کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر اور مزاحمت سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے۔ مظاہرے میں موجود سپریم کورٹ کے باہر پیپلز پارٹی اور اے پی ڈی ایم کے 60 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ حنیف عباسی، مسلم لیگ (ن) راولپنڈی کے رہنما سردار نسیم ایڈووکیٹ، چودھری مصدق گھمن، راؤ کاشف رحیم، رانا محمودالحسن ایم این اے سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو الیکشن کمشن کے باہر سے بدترین تشدد کے بعد گرفتار کرکے مختلف تھانوں، اڈیالہ جیل اور دیگر میں منتقل کردیا گیا ہے۔ مظاہرے میں لیاقت بلوچ بھی زخمی ہوئے۔ شاہراہ دستور پر واقعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حالت بھی غیر ہوگئی۔ کوریج کے دوران یہ پولیس اہلکاران صحافیوں پر بھی چڑھ دوڑے، ان پر بھی بدترین لاٹھی چارج کیا۔ غیر ملکی خواتین صحافیوں کو بھی لاٹھی چارج اور پتھراؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ معمولی زخمی ہوگئیں۔ پولیس نے بعض خاتون رپورٹرز کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور ان کی توہین کی گئی جس پر مرد صحافی آگے بڑھے تو پولیس نے بھرپور لاٹھی چارج شروع کردیاجس سے متعدد صحافیوں کے کیمرے ٹوٹ گئے۔ تصادم میں تین درجن سے زائد وکلاء دس پولیس اہلکار اور 29 سے زائد صحافی زخمی ہوگئے ہیں۔ جن میں سے اکثر کی حالت ہسپتال میں خطرے سے باہر ہے۔ سرائیکی ٹی وی کے کیمرہ مین نعیم کی تشویشناک صورتحال کے باعث اسے الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جن صحافیوں پر پولیس تشدد ہوا اور وہ زخمی ہوئے ان میں "جناح" اخبار کے رپورٹر زاہد فاروق ملک اور فوٹو گرافر خادم حسین بھی شامل ہیں۔ باقی زخمی صحافیوں میں مظہر برلاس، افضل جاوید، مظہر شیخ، عمران چودھری، احسن بٹ، عرفان ملک، نعیم خان، شہریار خان، شکیل کرار، آفتاب ستی، بشیر چودھری، الطاف بھٹی شامل ہیں۔
اس ریاستی دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔لیکن آنے والے وقت میں اس میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے
اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ
نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائیگا
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد



![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)






