اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


September 30, 2007

آمر حکمرانوں نے پاکستان کے چہرے کو دنیا بھر میں پھر داغدار کر دیا

آمریت کھل کر سامنے آ گئی
 
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔29ستمبر کوقوم نے وہ منظر دیکھے جب سینئر وکیل ،سیاستدان اعتزازاحسن پر"پُلسئے" اندھادھند لاٹھیاں  برسا رہے تھے۔ جب سینئر ایڈووکیٹ علی احمدکُرد  کومار پیٹ کرغائب کیا جارہاتھا۔ جب رد عمل کے طور پر وزیرمملکت اطلاعات طارق عظیم کوتشدد کانشانہ بنایا جارہاتھا اورجب"پُلسئے" اپنی ڈیوٹی کرنے والے غیرجانبدار صحافیوں  پرحملے کرکے بہادری کے جوہر دکھارہے تھے۔ یہ مناظر افسوسناک نہیں تھے۔ یہ مناظرخوفناک بھی نہیں تھے۔ دراصل یہ مناظر شرمناک تھے۔ ان لوگوں  کیلئے جن کے ہاتھ میں طاقت تھی اوراس طاقت کاانہوں  نے وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے ملک وقوم کوپوری دنیا میں تماشا بناکررکھ دیا۔ روزے داروکیلوں  اورصحافیوں  پرجس طریقے سے تشدد کیاگیا اس سے صاف ظاہر ہورہاتھا کہ"پُلسیوں " کواوپر سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ "تُن کے رکھو" اورباوردی اوربغیر وردی پُلسئے اوردیگر سیکیورٹی اہلکاروں  کے جتھے کے جتھے نہتے،روزہ دار مظاہرین اوروکیلوں  پرٹوٹ پڑے۔ سیاسیات کے ماہرین ہمیشہ ریاستی طاقت کوکسی قانون ضابطے میں رکھنے کیلئے کوشش کرتے رہے کیونکہ یہ ایک ایسی طاقت ہوتی ہے جو صحیح استعمال کی جائے تو حکومتوں  کی مددگار اوراگر غلط استعمال کی جائے تو انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے خاص طور پر جب یہ اندھی ہوجائے تو پھر مست ہاتھی کی طرح اپنے راستے میں آنے والی ہرچیز اورذی روح کوتو کچلتی ہی ہے بعد ازاں  خود بھی اپنے منطقی انجام کوپہنچ جاتی ہے۔
 گزشتہ چند روز میں جس طرح سینئراپوزیشن سیاستدانوں  ،کارکنوں  کی گرفتاریاں  اورتشدد کیا جارہاہے ۔راستے بندکرکے عام لوگوں  کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔ ان دھڑادھڑ گرفتاریوں ،ناکوں ،تشدد سے صورتحال مزیدخراب ہوگی اورایساکرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں  کہ حکومت  کودیکھناہوگا کہ اس کے خلاف سازش تو نہیں ہورہی جیساکہ صدر پرویزمشرف خود اس کاخدشہ ظاہر کرچکے ہیں  اور ویسے بھی جہاں اقتدار کی غلام گردشیں  ہوتی ہیں وہاں  محلاتی سازشیں  بھی ضرور جنم لیتی ہیں ۔ اقتدار بدبخت چیز ہی ایسی ہے کہ جو بیٹے کوباپ سے،بھائی کوبھائی سے لڑادیتی ہے۔مروادیتی ہے۔ بھتیجے بھانجے تو بہت دور کی بات ہے۔ طاقت کابغیر ضرورت استعمال بھی ایسے ہی ہے جیسے اختیارات کاغلط استعمال کیاجائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں ،پولیس، انتظامیہ وغیرہ کے افسروں  کی بنیادی تربیت ہی یہ ہوتی ہے کہ ہنگامہ خیزصورتحال کوکس طرح کنٹرول میں رکھناہے اورامن وامان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دینی مگر اسلام آبادراولپنڈی میں گزشتہ چند دنوں  میں جوواقعات رونما ہوئے، سینئرسیاستدان حافظ حسین احمداورجاویدہاشمی کوتشدد کانشانہ بنایاگیا راجہ ظفرالحق کوبندکردیاگیا گزشتہ روز اعتزاز احسن، علی احمدکُرد ،حنیف عباسی، سردارنسیم، چوہدری مصدق گھمن، مظہربرلاس سمیت وکیلوں ،اپوزیشن سیاستدانوں  اورصحافیوں  کوجس طرح مارا اورگھسیٹا گیااس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ پولیس والوں کواحکامات جاری کرنے والے حکام یاتو نااہل واقع ہوئے ہیں  یاوہ کوئی اورکھیل کھیل رہے ہیں  کیونکہ حالات جس نہج پر 29ستمبر کوجاپہنچے ہیں ایساموڑ اس ملک کی تاریخ میں  پہلے کبھی شاید ہی آیاہو کہ جب وزیراعظم اورکابینہ کی موجودگی میں پولیس سینئر سیاستدانوں  اورصحافیوں  کے کھنے سینک رہی ہو اوروزیربالکونیوں  میں کھڑے چپ چاپ یہ مناظردیکھنے پر مجبور ہوں ۔ ان کے چہروں  سے صاف نظر آرہا ہو کہ وہ اندر سے اس تشدد اورمارا ماری کودرست نہیں سمجھتے مگر کیاکریں  چند لمحوں  بعد انہی کو اس کادفاع بھی کرناتھا جس کووہ خود اچھا نہیں سمجھتے۔ ہمیں ان کے ساتھ  پوری ہمدردی ہے مگر جوکچھ وکیلوں  اورصحافیوں  کے ساتھ کیاگیا اس کی حمایت نہیں  کی جاسکتی۔ طارق عظیم جیسے سنجیدہ  باوقار انسان کے ساتھ اس طرح نہیں ہوناچاہیے تھا مگر اعتزاز احسن جیسے معزز وکیل اور سابق وفاقی وزیر کوپتھر مار کرزخمی کرنا اور پھر لاٹھیاں  لے کرچڑھ دوڑنا بھی کسی جمہوری، روشن خیال اورمعتدل مزاج کی عکاسی نہیں کرتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہاں تک نوبت کیوں  آگئی ۔ کیا حکومت بوکھلا گئی ہے یاوکیلوں  کی طرف سے کچھ زیادہ ہی ردعمل ظاہر کردیاگیا  جسے روکنا ضروری تھا۔ آخر کیوں  طاقت کے بے دریغ استعمال کاناپسندیدہ آپشن اختیار کیاگیا۔ کیااس بار بھی صدر جنرل پرویزمشرف  نالائق مشیروں  کی باتوں  میں  آگئے ؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ان نالائقوں  نے رات  رات بھر رٹا رٹا کر سبق یاد کرلیا ہو اور اب امتحان پاس کرنے کے لائق ہوگئے ہیں ۔ یعنی اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے ہوں  کہ جب صحافیوں  کاخون بہے گا۔ وکیلوں  کے سرپھٹیں گے،وزیرمشیروں  کی دھنائی ہوگی اورسینئر سیاستدانوں  پر لاٹھیاں برسیں گی تو ایمرجنسی کے نفاذ میں کون سی رکاوٹ رہ جائے گی؟ ایمرجنسی کاحامی گروپ اپنے چکر میں ہے۔ اس کو یہی راستہ آسان اورمحفوظ لگتا ہے کہ ایمرجنسی لگا کر اسمبلیوں  کی مدت ایک سال بڑھالی جائے اورمزید12مہینے آرام سے حکومت کی جائے تب تک حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔پیپلزپارٹی سے مفاہمت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اورصدر کووردی بھی نہیں اتارنی پڑے گی وغیرہ وغیرہ  ۔ یہ دھڑا امن وامان کی صورتحال پیدا کرکے اپنا کام کیے جارہاہے  مگر جیسا کہ مشاہد حسین نے کہاتھا کہ ایمرجنسی لگانے کامشورہ دینے والے نالائق ہیں ۔ اس لیے یہ نالائق لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایمرجنسی لگنے سے بھی ان کوکچھ نہیں ملنے والا۔ البتہ ایمرجنسی کیلئے حالات سازگار بنانے کے چکر میں  خود ان کیلئے ایمرجنسی پیداہوسکتی ہے جبکہ حکومت کوملک اور بیرون ملک سے جس تنقید کاسامنا کرنا پڑے گا وہ ناقابل برداشت ہوگی۔ حکومت کے تمام کریڈٹ ڈس کریڈٹ میں  تبدیل ہوجائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کون سی جمہوریت اورکون سی میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ معتدل مزاجی اورروشن خیالی کے کون سے مظاہرے ہورہے ہیں ۔ دنیا کے کس مہذب ملک میں  صحافیوں  کوفریق بنا کرآگے لگا لیا جاتاہے۔ جس طرح پُلسئے اپنے لاٹھی چارج،ٹھڈوں اورمکوں  کے جواب میں  کہتے ہیں  کہ وہ تو نوکری سے مجبور ہیں ۔ اسی طرح صحافی بھی تو اپنی ڈیوٹی کررہے  ہوتے ہیں ۔ صحافیوں  کاکام جو جیساہے اسے ویسا دکھاناہے۔ اب اگر کسی کی اپنی صورت خراب ہے تواس میں بے چارے صحافیوں  کاکیاقصور؟
آئینہ توڑنے سے شکلیں  اچھی تھوڑی ہوجاتی ہیں ۔ 29ستمبر کوحکومت کامورال جتنابلندہوا ایک ہی روز بعد اس کے اہلکاروں  کے اعمال کی وجہ سے اتنا ہی زوال پذیر ہوگیا۔ ہم نے29 ستمبر کی اشاعت میں  لکھ دیا تھا کہ جمعہ کی شام حکومت کیلئے خوشگوار ہوگئی ہے مگر جوحالات اس ملک میں چل رہے ہیں  ان کی روشنی میں  کچھ کہا نہیں  جاسکتا کہ اگلی صبح کیسی ہو؟ اور29کی صبح ویسی ہی تھی کہ28ستمبر کی ساری خوشیاں  خاک میں ملتی محسوس ہورہی تھیں ۔ میڈیا کی آزادی کے دعوؤں  کے باوجود کئی ٹی وی چینلز پرالیکشن کمیشن کی صورتحال۔ پولیس کے حملے۔ لاٹھی چارج۔ سینئرلوگوں  کی پٹائی کے مناظر کے بجائے تفریحی پروگرام چلائے جارہے تھے۔ ایک دو چینلز پر باقاعدہ پٹی چل رہی تھی کہ حکومت نے تفریحی پروگرام دکھانے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح حکومت کو28ستمبر کی شام4بجے سپریم کورٹ سے صدر کے دوعہدوں  کے خلاف پٹیشن خارج ہونے پرجواخلاقی برتری حاصل ہوئی تھی بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ حکومت اس برتری  کو12گھنٹے تک بھی سنبھال نہ پائی اور29ستمبر کو اس اخلاقی برتری کاحشرنشر حکومت کے اپنے کارندوں  اورعمّال ہی نے ساری دنیا کے سامنے کردیا۔حکومت کویہ سمجھانے والا کوئی نہیں  کہ طاقت تمام مسائل کاحل نہیں ہوتا ۔نہ زبردستی سے آپ کسی کے اوپر زیادہ دیر مسلط رہ سکتے ہیں ۔ زور زبردستی سے کسی کوزیادہ دیر ساتھ بھی نہیں  رکھا جاسکتا۔ 9مارچ سے پہلے والی پوزیشن پرواپسی اب شایدحکومت کے نصیب میں  نہ ہو۔ دعویٰ جمہوریت  کاہے تو اپوزیشن لیڈروں  کی گرفتاریاں  کیوں ؟ فخرروشن خیالی اور برداشت کلچر پرہے تو وکیلوں  پرڈنڈے کیوں  برسائے جارہے ہیں ؟ تمغہ میڈیا کی آزادی کاچاہیے تو ان کوفریق بناکر پُلسئے چھوڑنے کاکیامقصد ہے؟ ۔ ہم نے ان صفحات پر متعدد بار حکومت کی توجہ ان امور کی طرف دلائی مگر29ستمبر کے واقعات سے لگتاہے کہ یہاں  کسی کودرست مشورہ درکار ہی نہیں ۔ کسی کواچھی بات کہنا بات گنوانے والی بات ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپ کس کس سے لڑیں گے۔ وکیلوں  سے لڑیں گے۔ مقبول اپوزیشن جماعتوں  سے لڑیں گے۔ علماء سے لڑیں گے۔ مدارس والوں  سے لڑیں گے۔ شہریوں  سے لڑیں گے۔ صحافیوں  سے لڑیں گے؟ اگر ان سب کے ساتھ لڑیں گے تو پھر ملک کے دشمنوں  سے کیسے لڑیں گے؟
 بشکریہ جناح
 
نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائیگا
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں  جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے  جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

September 29, 2007

پاکستانی سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ریاستی غنڈہ گردی

 
الیکشن کمشن آف پاکستان میں صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر وکلاء سیاسی کارکنوں اور صحافیوں پر حکومتی غنڈوں نے دہشت گردی کی انتہا کر دی۔ سیاسی رہنماؤں و کارکنوں اور بیسیوں وکلاء کو گرفتار کرلیا گیا۔ شاہراہ دستور پر مظاہرہ کرنے والے وکلاء کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، قانون دان اعتزاز احسن اور جسٹس (ر) طارق محمود کررہے تھے۔ ان کے ساتھ اے پی ڈی ایم کے کارکن بھی تھے، مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے الیکشن کمشن کی عمارت کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو تصادم شروع ہوگیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج، شیلنگ کی مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل سپریم کورٹ بلڈنگ کی طرف وکلاء پر فائر کیے جس سے ہر طرف سفید دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران سپریم کورٹ بلڈنگ پر بھی پتھر برستے رہے۔ وکلاء سپریم کورٹ میں کچھ دیر کیلئے پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ وکلاء اور پولیس کے درمیان گالم گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ دوسری جانب اعتزاز احسن، علی احمد کرد، چودھری زمرد ایڈووکیٹ و دیگر پر حکومتی اہلکاروں نے تشدد کیا۔ علی احمد کرد کو پولیس اہلکار لاتوں، مکوں سے مارنے کے بعد اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ تاہم بعد میں رہا کردیا جبکہ وکلاء کے ایک گروہ نے اعتزاز کو گرفتار کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ دھکم پیل میں پولیس وکلاء پر ڈنڈے برساتی رہی، اعتزاز احسن کی عینک ٹوٹ گئی۔ متعدد افراد کے سر پھٹ گئے۔ پولیس نے 17 وکلاء کو گرفتار کرلیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سید طیب کے مطابق وکلاء پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کیا جس سے اعتزاز احسن، علی احمد کرد کے علاوہ منیر احمد، زمرد خان، ثناء اللہ، زاہد محمود راجہ، مرتضیٰ وٹو، قاضی اعتماد، الطاف حسین، رانا نوید ارشاد سمیت 34 وکلاء زخمی ہوگئے جنہیں اسلام آباد کے پولی کلینک اور پمز میں داخل کروا دیا گیا جبکہ سید واجد علی گیلانی سمیت راولپنڈی کے 16 وکلاء کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرکے تھانہ سیکرٹریٹ سمیت دیگر تھانوں میں بندکردیاگیا اور وکلاء کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر اور مزاحمت سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے۔ مظاہرے میں موجود سپریم کورٹ کے باہر پیپلز پارٹی اور اے پی ڈی ایم کے 60 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ حنیف عباسی، مسلم لیگ (ن) راولپنڈی کے رہنما سردار نسیم ایڈووکیٹ، چودھری مصدق گھمن، راؤ کاشف رحیم، رانا محمودالحسن ایم این اے سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو الیکشن کمشن کے باہر سے بدترین تشدد کے بعد گرفتار کرکے مختلف تھانوں، اڈیالہ جیل اور دیگر میں منتقل کردیا گیا ہے۔ مظاہرے میں لیاقت بلوچ بھی زخمی ہوئے۔ شاہراہ دستور پر واقعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حالت بھی غیر ہوگئی۔ کوریج کے دوران یہ پولیس اہلکاران صحافیوں پر بھی چڑھ دوڑے، ان پر بھی بدترین لاٹھی چارج کیا۔ غیر ملکی خواتین صحافیوں کو بھی لاٹھی چارج اور پتھراؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ معمولی زخمی ہوگئیں۔ پولیس نے بعض خاتون رپورٹرز کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور ان کی توہین کی گئی جس پر مرد صحافی آگے بڑھے تو پولیس نے بھرپور لاٹھی چارج شروع کردیاجس سے متعدد صحافیوں کے کیمرے ٹوٹ گئے۔ تصادم میں تین درجن سے زائد وکلاء دس پولیس اہلکار اور 29  سے زائد صحافی زخمی ہوگئے ہیں۔ جن میں سے اکثر کی حالت ہسپتال میں خطرے سے باہر ہے۔ سرائیکی ٹی وی کے کیمرہ مین نعیم کی تشویشناک صورتحال کے باعث اسے الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جن صحافیوں پر پولیس تشدد ہوا اور وہ زخمی ہوئے ان میں "جناح" اخبار کے رپورٹر زاہد فاروق ملک اور فوٹو گرافر خادم حسین بھی شامل ہیں۔ باقی زخمی صحافیوں میں مظہر برلاس، افضل جاوید، مظہر شیخ، عمران چودھری، احسن بٹ، عرفان ملک، نعیم خان، شہریار خان، شکیل کرار، آفتاب ستی، بشیر چودھری، الطاف بھٹی شامل ہیں۔
 
اس ریاستی دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔لیکن آنے والے وقت میں اس میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے
اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ
نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائیگا
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں  جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے  جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

September 28, 2007

پی ٹی سی ایل ڈائل اپ استعمال کرنے والوں کے لیے ایک بری خبر۔۔۔۔۔

جیو نیوز کے مطابق پی ٹی سی ایل نے انٹر نیٹ کال کا لامحدود دورانیہ ختم کر کےاسے پندرہ منٹ تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یقینا پی ٹی سی ایل ڈائل اپ استعمال کرنے والوں کے لیے یہ ایک بری خبر ہے۔

پی ٹی سی ایل کے اس فیصلے سے انٹرنیٹ فی گھنٹہ اخراجات دو ڈھائی روپے سے بڑھ کر کم و بیش دس روپے ہو جائیں گے جس سے انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کرنے والے مشکل کا شکار ہوں گے لہذا پی ٹی سی ایل اس  فیصلہ کو واپس لے۔امید ہے دیگر دوست بھی اس ناروا اقدام کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں گے

September 15, 2007

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم خالد

افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے

 پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک ہو۔

   روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے’اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے ‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’ خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

September 13, 2007

یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لکھنے کو بہت کچھ تھا لیکن ملکی حالات نے جذبات اور احساسات کو کچھ اس طرح متاثر کیا  کہ کافی عرصہ سے حالات حاضرہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں لکھ سکا۔
 
جنرل مشرف نے صر ف 10 ستمبر2007 کو ہی نہیں بلکہ 12اکتوبر1999سے ہر قدم پر پاکستانی قوم کویہ پیغام دیا ہے

 کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ یہ ملک اُن کا ہے ۔یہاں میری مرضی کے بغیر  پتہ  بھی نہیں ہل سکتا۔اس ملک میں صرف میری مرضی سے کوئی شہری رہ سکتا ہے ۔جس کو چاہوں امریکہ کے حوالے کر دوں جسے چاہوں جدہ ملک بدر کر دوں اور جسے چاہوں ملک کے اندر بھی کراچی بدری کا حکم صادر کردوں (حال ہی میں عمران خان کو کراچی بدر کر دیا گیا ہے )اس ملک کا آئین  اورقانو ن وہ رہے گا جو میں چاہونگا’‘۔

جنرل مشرف کے خلاف پارلیمنٹ کی اپوزیشن صرف اس لئے بولتی رہی کہ یہ ان کی ضرورت تھی تاکہ دنیاکو پاکستان کا جھوٹا جمہوری چہرہ   دکھایا جاسکے۔

نواز شریف صاحب کی حالت تو اس بہادر کی ہے جو ہارے ہوئے لشکر میں ہوتاہے۔اگر ان کے ساتھی تحریک نہیں چلاسکتے تو پھر ان کو آرام سے بیٹھ کر جرنیل شاہی کے خاتمے کا انتظار کرنا چاہیے۔

پاکستان اس وقت بد ترین آمریت کے چنگل میں پھنسا ہے بقول جالب۔

نہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے
یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے

باوجود اس کے جمہوریت کی بحالی کی امید اب بھی موجود ہےکیونکہ ہمارے پیارے مذہب میں ناامیدی تو کفر ہے۔

مردہ باد مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

September 7, 2007

مائی ایس کیو ایل ‘ ڈیٹا بیس بنانے کا طریقہ

مائی ایس کیو ایل ’ ڈیٹا بیس بنانے کا طریقہ حسب ذیل ہے۔

Please follow these instructions to make a MySQL database:

1) Log into  http://cpanel.0lx.net/  your free hosting control panel
2) Choose Manage SQL
3) Choose Add/Remove MySQL database or MySQL Manager
4) Underneath ‘Make a new database’ type the name of your database you want to make.
5) Click the Create Database button۔

مزید مفت ڈومین نیم کیسے حاصل کریں؟

بعض دوستوں نے دریافت کیا ہے کہ
http://wpi.0lx.net
فری ہوسٹ کمپنی کے اکاؤنٹ میں مزید ڈومین نیم
http://www.yourname.iblogger.org
http://www.yourname.isgreat.org
http://www.yourname.kool4u.net
http://www.yourname.talk4fun.net
http://www.yourname.66ghz.com
http://www.yourname.22web.net
http://www.yourname.10001mb.com
http://www.yourname.totalh.com
وغیرہ کیسے حاصل کیے جائیں۔اس کا طریقہ درج ذیل ہے۔

You can add upto 5 additional sub domains to your free hosting account.

To add an extra sub domain, please follow these instructions:

1) Log into  http://cpanel.0lx.net/  your free hosting control panel
3) Choose SUB-DOMAIN MANAGER
4) Type in your domain name (without http:// "www’s) into the box.
6) Select from the Drop Down menu the domain you want.
5) Click CREATE DOMAIN button