اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


August 29, 2007

اردو بلاگنگ’اردو ویب ڈیویلپمنٹ کے تجربات کےلیے ایک بہترین فری ہوسٹ

سائبر ورلڈ پر اردو بلاگنگ کافی حد تک اپنی جگہ بنا چکی ہے اور اس سلسلے میں مزید پیش رفت جاری ہے۔ اردو بلاگنگ کو مکمل مقامیانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ ورڈ پریس کا مکمل ترجمہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔جبکہ ورڈپریس کیلیے بیسیوں اردو سانچوں (تھیمز) کا ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ سانچے اب اردو میں دستیاب ہیں۔ اردو ویب کے ساتھی " دیگر ہم عصر فاضل بلاگرز محترم قدیر احمد’ساجد اقبال"محب علوی"شاکر عزیز "پردیسی اور دیگر دوست اس سلسلے میں مصروف عمل ہیں اسی حوالے سے ایک فاضل بلاگر(قدیر احمد) نے مکمل فورم بھی سیٹ اپ کیا ہے، جس کے پلیٹ فارم سے بلاگنگ کو اردوانے کی قابل تحسین کوششیں کی جارہی ہیں۔
مندرجہ بالا بلاگرز کے تجربات سے مستفید ہونے کےلیے درج ذیل ایک فری ہوسٹ کو کافی بہتر پایا ہے ۔

http://wpi.0lx.net

یہاں آپ آٹومیٹک انسٹالر سے چند منٹوں میں ورڈ پریس انسٹال کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ جملہ سمیت اٹھائیس مزید سکرپٹس بغیر اپلوڈ کیے انسٹال کر سکتے ہیں ایف ٹی پی رسائی کی وجہ سے اپنی پسندیدہ اردو تھیمز اپلوڈ کر کے لاگو کر سکتے ہیں ۔یہاں آپ کو درج ذیل سب ڈومین مفت ملتا ہے۔

http://www.yourname.wpi.0lx.net

نہیں پسند آیا؟

 کوئی بات نہیں آپ اس فری ہوسٹ کمپنی کے کنٹرول پینل سے ڈومین سلیکٹر سے درج ذیل میں سے پانچ فری ڈومین حاصل کر سکتے ہیں۔
 
http://www.yourname.iblogger.org
http://www.yourname.isgreat.org
http://www.yourname.kool4u.net
http://www.yourname.talk4fun.net
http://www.yourname.66ghz.com
http://www.yourname.22web.net
http://www.yourname.10001mb.com
http://www.yourname.totalh.com

اس کے علاوہ درج ذیل سہولتیں یہاں موجود ہیں

250 MB disk space
6 GB Monthly transfer
3 MySQL databases
Vista Panel
Web mail    
PHP Flags manager    
POP email accounts    
Automatic installer (29 scripts)     
Password protected folders
5 Add-on domains     
FTP account      
Php MyAdmin
 5 Sub domains     
File manager (browser upload)    
Clustered servers

اپنا فری اکاؤنٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں۔


 

August 28, 2007

شب برأت کے فضائل و وظائف

اُم المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  "میں نے ایک رات رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کو موجود نہ پایا تو میں باہر نکلی تو آپ بقیع (جنت البقیع قبرستان )میں تھے، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی (یعنی اس کی خصوصی رحمتیں)شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت )کو آسمان دنیا (نیچے والے آسمان) پر نازل ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالی "بنوکلب قبیلہ" کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرمادیتے ہیں۔"
لیکن شب برات کن کچھ بد نصیبوں کی توبہ کے بغیر مغفرت نہیں ہوتی۔ "مسند البزار" میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور "سنن ابن ماجہ" میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات تجلی فرماتا ہے اور تمام مخلوقات کو بخش دیتا ہے، ما سوائے مشرک اور مشاحن کے (مشاحن سے مراد کینہ رکھنے والا، اسلام میں نیا فرقہ بنانے والا، چغل خور ہے)۔
دیگر روایات میں کافر و مشرک و مشاحن کے علاوہ والدین کانافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بد سلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (جو محکمہ ٹیکس میں ہو اور لوگوں پر ظلم کرتا ہو )، میوزک ، سارنگی ، طبلہ اور ڈھول بجانے والا( یعنی گانے بجانے والا)، ہمسائے کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر، اور شرطہ (یعنی رشوت خور وظالم سپاہی) کا بھی ذکر آیا ہے۔ اور فرمان نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے کہ ان بخشش سے محروم لوگوں پر اللہ شعبان کی پندرہویں رات کو نظر بھی نہیں فرماتا (جب تک کہ سچی توبہ نہ کریں)۔
15شعبان کا نام شب برأت کیوں ہے؟ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "غنیۃ الطالبین" میں اور دیگرمفسرین واَئمہ دین نے احادیث مبارکہ کے مضامین ومفاہیم کی روشنی میں پندرہویں شعبان کی رات کا نام "شب برات" اس لئے رکھا ہے کہ برات کا معنیٰ ہے: دور ہونا،جداہونا، نجات پانا وغیرہ۔ اور اس رات اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آخرت کی رسوائی و ذلت سے دور کر دیئے جاتے ہیںاور بد بخت لوگ (یعنی جو اس رات کو اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ومغفرتوں سے دور رکھے جاتے ہیں۔
اس رات کو سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:  "اس رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتاہے۔"
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں رات سے مراد شب برأت ہے۔" اُم المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو کیا ہوتاہے؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول اس میں کیا ہوتا ہے؟  فرمایا:  اس سال جس بچے نے پیدا ہونا ہے اس رات وہ لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جس نے وفات پانی ہے اس رات اسے لکھا جاتا ہے، اور اس رات(سال بھر کے ) اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اور (سال بھر کا)رزق نازل کیا جاتا ہے۔"
ایک روایت میںاُم المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: "چار راتو ں میں اللہ تعالیٰ خیروبرکت کی بارش فرماتے ہیں:  عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، پندرہویں شعبان کی رات اس رات اللہ تعالیٰ کاموں (اور بالخصو ص موت)کے اوقات اور رزق لکھ دیتا ہے اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھ دیتا ہے، اور عرفہ یعنی یوم الحج کی رات۔ ان راتوں میں خیر وبرکت کی برسات اذان فجر تک جاری رہتی ہے۔"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں اُ ن کی روحیں قبض کرو!  بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے ، شا دیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (اور اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔
احادیث بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ شب برات رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے، کچھ بد نصیب ایسے ہیں جن کی مغفرت اس بخشش بھری رات میں بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو سال بھر کے اہم امور کا پروگرام دے دیتے ہیں۔ چونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اپنی قضاوں میںتبدیلی بھی فرما دیتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اس رات اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی خیرات و برکات کا سوال کرے اور رب غفور و رحیم کی بارگاہ میں دنیا و آخرت کے مصائب و آلام سے نجات کا سوال کرے۔
شب برأت کے معمولات: ویسے تو تمام عبادات اور تمام کلمات طیبات برکت و رحمت اور ثواب کا ذریعہ ہیں، لیکن اس مبارک رات میں درج ذیل معمولات نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام اور بزرگان سے ثابت ہیں: 15شعبان کا روزہ۔ اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: "جب شعبان کی پندرہویں تاریخ آئے تو رات کو شب بیداری اختیار کرو اور دن کو روزہ رکھو بیشک اللہ تعالیٰ یعنی اس کی رحمت غروب آفتاب کے وقت نیچے والے آسمان پر نزول فرماتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش مانگنے  والا کہ اسے بخشش دوں؟  ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟  ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں؟  ہے کوئی ایسا؟  ہے کو ئی ایسا؟  حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے۔"
نوٹ:  فقہاء اسلام کا اجماع ہے کہ حدیث بالا میں روزہ اور شب بیداری کا امر نبوی و جوب کیلئے نہیں ہے، بلکہ پندرہویں شعبان کا روزہ اور شب بیداری مستحب کے درجہ میں ہے۔
اس رات قبرستان جانا سنت نبوی ہے۔ جیسا کہ حدیث ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہامیں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ لہٰذا شب برات کو قبرستان میں جانا بھی سنت نبویﷺ ہے۔ نیز دیگر احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہر سال شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے جاتے، اہل قبور کو سلام فرماتے اور دعا فرماتے۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل قبور کو سلام کہو۔ بلکہ سنن بیہقی شریف میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: "جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت تک اس کا جواب دیں گے، اے مسلمانو!  تم انہیں سلام کہو اور انکی زیارت کرو۔"
ایک اور حدیث پاک میںہے کہ نبی اکر م(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: " میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو!  کیونکہ یہ عمل دنیا میں زُہد پیدا کرتا ہے، اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔"
شب برأت کا ایک اور عمل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)نے پندرہویں شعبان کو دو رکعت نفل پڑھے، دو سری رکعت میں آپ نے لمبا سجدہ کیا جو کہ فجر تک جاری رہا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم)کہیں حالت سجدہ میں وصال تو نہیں فرما گئے، میں نے آپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا تو حرکت فرمائی اور میں نے آپ سے حالت سجدہ میں یہ کلمات سنے: "اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَ عُوْ ذُبِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَاوُکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا َاثْنَیْتَ عَلٰی َنفْسِکَ۔ "
نماز سے فارغ ہو کر حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے فرمایا:  ان کلمات کو یاد کرلو اور دوسروں کو انکی تعلیم دو۔
نوافل نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم): "سنن بیہقی شریف" میں حضر ت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اس رات کو 14 رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ 14بار، قل شریف 14بار، سورہ فلق 14 بار، سورہ الناس 14 بار، آیت الکرسی 1بار اور آیت مبارکہ "لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَُسْولٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِےْزٌ عَلَےْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِےْصٌ عَلَےْکُمْ بِالْمُؤْمِنِےْنَ رَؤُفُ الرَّحِےْم۔" 1بار پڑھی اور فرمایا:  جو اس طرح کرے گا، اسے 20 حج مبرور ، 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ملے گا۔ اور جو آئند ہ دن روزہ رکھے گا اسے 120 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
صلوٰۃ الخیر: "غنیۃ الطالبین" میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شب برات کو "صلوٰۃ الخیر" ایک سو رکعت نوافل اور ہر رکعت میں دس بار قل شریف پڑھنا ہے۔ اور حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: "مجھے تیس صحابہ کرام نے بتایا کہ جو شخص اس رات کو "صلوٰۃ الخیر" پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ستر بار نظر کرم فرمائے گا، اور ایک بار نظر کرم سے اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا، جن میں کم از کم ایک حاجت گناہوں کی بخشش ہے۔"
استاد ذی مکرم مفتی اعظم سید ابو البرکات لاہوری اپنے ایک رسالہ میں جو کہ شب برأت کے موضوع پر لکھا ہوا ہے، میں درج ذیل وظائف تجویز فرمائے ہیں: 1۔  صلوٰۃ الخیر، جس کا طریقہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔  دس رکعت نفل ہر رکعت میں دو بار قل شریف ہو۔ 3۔  نماز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے چھ رکعت نفل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھنا، جبکہ ہر رکعت میں چھ بار قل شریف ہو ، پھر پہلی دو رکعت کے بعد ایک بار سورہ یس، اور اسکے بعد عمر میں برکت کی دعا، پھر دوسری دو رکعت کے بعد دوبارہ سورہ یس اور پھر رزق کی فراخی کیلئے دعا، اور آخری دو رکعتوں کے بعد پھر سورہ یس اور پھر خاتمہ بالایمان کی دعا مانگے۔
آخر میں یہ کلمات : " اَلّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔"کثرت کے ساتھ پڑھے۔
گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کا تدارک: احادیث بالا کے مطابق شب برأت کو سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا شب برات کو مغرب سے پہلے پہلے والدین، بھائیو ں ، بہنوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دیگر لوگو ں سے اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے، اور اگر کسی کا کو ئی حق ذمہ میں ہو تو اسکی ادائیگی کر دینی چاہیے یا پھر صاحب حق سے معافی مانگ لینی چاہیے، تاکہ اعمال جب اللہ کی بار گا ہ میں پیش ہو ں تو بندوں کیساتھ زیادتیوں کے گناہ دھل چکے ہوں۔
ارکانِ توبہ: اس طرح اس شب میں رب غفور الرحیم سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کیلئے چار چیزیں ضروری ہیں:
1۔  رب کریم کی بار گاہ میں گنا ہو ں کا اعتراف۔
2۔  گذشتہ گناہوں پر سخت ندامت اور آہ وزاری۔
3۔  آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ اور سچا وعدہ۔
4۔  گناہ کی تلافی۔ مثلا نمازیں نہیں پڑھیں تو حساب یا اندازے سے بالغ ہونے کے بعد کی تمام فر ض اور واجب نمازیں قضا کرے، اسی طرح رمضان کے روزوں کی قضاکرے، اسی طرح جتنے بر س کی زکوۃ ادا نہیں کی حساب یا اندازے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حد یث نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے: " جو شخص (شرع شریف کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق)توبہ کرنے والا ہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا" لہٰذا شب برأت کے موقع تمام گناہوں کی معا فی مانگنی چاہئے اور فوت شدہ عبادات کی قضا کا پختہ ارادہ کر لینا چاہیے۔
ایک خاص وظیفہ: یہ رات حکم و قضا کی رات ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کو سال بھر کا پروگرام دے دیتے ہیں، اس میں موت و حیا ت، اعمال نیک و بد، ہر قسم کے رز ق اور انعامات، مصائب و آلام اور بیماریوں کا پروگرام بھی دیا جاتا ہے، لہذا اس شب کو اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے خیر و برکت کی دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔
مرشدی و استاد ذی والد صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز جو کہ "دربار عالیہ بغداد شریف" اور "دربار عالیہ بٹالہ شریف" کے خلیفہ مجاز ہیں، آپ اس رات کو نماز مغرب و عشاء کے درمیان درج ذیل و ظیفہ پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ اور مریدین و تلا مذہ کو بھی اس وظیفہ کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے: اس وظیفہ سے عمرو رزق میں برکت ہوجاتی ہے اور مصائب ومشکلات سے نجات ہوتی ہے۔
شب برأت کو غیر شرعی رسوم کا رواج
راقم الحروف کے نزدیک درج ذیل وجوہات کی بنا ء پر آتش بازی حرام ہے اور جو والدین اور ذمہ دار حضرات آتش بازی سے نہیں روکتے وہ سخت گناہگار ہیں:
*آتش بازی کھلا اسراف و فضول خرچی ہے، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ترجمہ: "بیشک بغیر کسی غرض کے پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
*اس شب کو خصوصی طور پر آتش بازی حرام ہے کہ لیلہ مبارکہ اور ملائکہ کی بے ادبی ہے۔
* آتش بازی سے عبادت گزاروں کی عباد ت، علماء وطلبہ کی تعلیم وتعلم،اور بیماروں، بوڑھوں اور تھکے ماندے لوگوں کے آرام و نیند میں خلل ڈالنا ہے، جو کہ ظلم و زیادتی ہے اور عبادات کی سخت تو ہین اور علم کا نقصان ہے۔
*آتش بازی سے بسااوقات دکانوں، گھروں اور قیمتی اشیاء کو آگ لگ جاتی ہے، اور ہر سال درجنوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لہذا آتش بازی سخت "فساد فی الارض" ہے۔
* نیز آتش بازی کے بہانے بچے شب بھر گھروںسے باہر رہتے ہیں، غلط ماحول اور غلط سو سائٹی کی وجہ سے جرائم اور کبیر ہ گناہو ں کی عادت پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا آتش بازی سخت خطرناک و حرام ہے۔
کئی ایک مقامات پر رواج ہے کہ سال بھر میں جس گھر موت واقع ہوتی ہے، عورتیں موت وااے گھر جاکر ماتم و نوحہ کرتی ہیں۔ صحابہ(رض) فرماتے ہیں کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے ماتم و نو حہ کرنے والی اور سننے والی دونوں پر لعنت کی ہے۔"
ایک اور حدیث میں ہے: "وہ ہم میں سے نہیں جو (بوقت مصیبت ) اپنے رخساروں پر طمانچے مارے، اپنے گریباں پھاڑے یا زمانہ جاہلیت کی طرح بین کرے۔"
الغرض حکومت پر لازم ہے کہ اس انتہائی خطرناک رسم کا سختی کے ساتھ انسداد کرے۔ اور اساتذہ، علماء ، والدین، اور ہر علاقہ کے معززین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے تحت ان برائیوںسے روکنے کیلئے تمام مناسب تدابیر اختیار کریں، اور شب برأت کی مبارک گھڑیوں کو غیر شرعی رسوم سے پاک کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔
ماخذ: روزنامہ جناح

August 14, 2007

ساٹھویں یوم آزادی پر پوری قوم کی التجا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت ہوچکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بصیرت اور بصارت کا تقاضا یہ ہے کہ نوشتہ دیوار پڑھ لیا جائے۔فوج میں موجود اقتدار پسندوں کا ٹولہ یہ جان لے کہ دنیا میں کسی جگہ بھی یہ قانون رائج نہیں کہ گھر میں لڑائی ہونے پر گھر کا دربان ہی گھر والوں اور گھر پر قبضہ جمالے یہ بات اب تمام پاکستانی عوام سمجھ چکی ہے۔لہذا فوج عزت سے اپنی بیرکس میں واپس چلی جائےاور پارٹ ٹائم کے بجائے اسے فل ٹائم جاب سمجھتے ہوئے اپنا تقدس بحال کرے۔ بندوقوں کا رخ پاکستانی عوام سے دشمن کی طرف موڑ لے۔ملک کوجنرل مشرف کی خود ساختہ شخصیت پرستی کے چنگل سے نکالا جائے یہ بات انتہائی غلط ہے کہ مشرف اور پاکستان ناگزیر ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب مشرف اور پاکستان ساتھ ساتھ چل ہی نہیں سکتے۔ فوجی حکومت ختم کر کے سلطانی جمہور کو خوش آمدید کہا جائے۔ آج ساٹھویں یوم آزادی پر پوری قوم کی یہی التجا اور آرزو ہے۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بقول حبیب جالب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائیگا
عصاء اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائیگا
اگر ہے فکر گریبان تو گھر میں  جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے  جودیوانگی سے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مردہ باد ‘مردہ باد آمریت مردہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد

*دل بے خبر ذرا حوصلہ*

آج کے پیارے دن جو کہ آزادی’محبت’غلامی اور نفرت’غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات پر مشتمل ہے کے اظہار کےلیے اپنے پاس جو الفاظ ہیں وہ کچھ بے ترتیب ہو رہے ہیں۔لہذا اس سلسلے میں محترم امجد اسلام امجد کا سہارا لے رہا ہوں ان کی شاعری کا شکریہ کہ جو میں اب کہنا چاہتا ہوں وہ بہت پہلے کہہ چکے ہیں۔مندرجہ بالا بہتے ہوئے جذبات کے دریا کو انہوں نے کس طرح کوزے میں بند کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں  جہاں  ہر مکین ہو مطمئن
کوئی ایسا دن بھی کہیں  پر ہے جسے خوف آمد شب نہیں
یہ جو گرد باد زمان ہے یہ ازل سے ہے کوئی اب نہیں
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
ترے سامنے وہ کتاب ہے جو بکھر گئی ورق ورق
ہمیں  اپنے حصے کے وقت میں  اسے جوڑنا ہے سبق سبق
ہیں  عبارتیں  تو جدا جدا مگر ایک اصل سوال ہے
جو سمجھ سکو تو یہ زندگی کسی ہفت خواں  کی مثال ہے
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
نہیں  مستقل کوئی مرحلہ
یہ جو شب نما سی ہے بے دلی یہ جو زرد رو سا ملال ہے
کیا عجب کہ کل کو یقیں  بنے، یہ جو مضطرب سا خیال ہے!
دل بے خبر ذرا حوصلہ
*دل بے خبر ذرا حوصلہ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امجد اسلام امجد

صبح آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض

August 13, 2007

کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ 14 اگست 2007′جشن منایا جائے یا سوگ؟؟؟

زندہ قومیں  اپنا جشن آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہیں  بلاشبہ ہم بھی ایک زندہ قوم ہیں  اور ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی کا جشن بھرپور طریقہ سے مناتے ہیں  ہمیں  یہ جشن مناتے ہوئے ان 60 سالوں  کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات کو بھی یاد رکھنا چاہئے بلکہ خود احتسابی سے ان کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر سال جشن آزادی کے موقع پر 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان اور "اسلامی جمہوریہ" پاکستان میں  بار بار جمہوریت کی ناکامی اور معیشت کی زبوں  حالی کی وجوہات پر بھی غور کرکے ان کو دور کرنے اور جس حد تک ہو سکے ان کا کفارہ ادا کرنے کا بھی عہد کرنا چاہئے۔

پاکستان دنیائے عالم میں  واحد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی بناء پر معرض وجود میں  آئی ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لئے خوراک ، پوشاک ، ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اگر صرف زندہ رہنا ہی مقصد ہو تو ان ضروریات کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہیں  لیکن ایسی زندگی کو کسی بھی طرح حیوانی زندگی سے بہتر قرار نہیں  دیا جا سکتا۔ ضروریات زندگی تو کشمیریوں  کو بھارتی تسلط میں  بہت بہتر بلکہ آزاد ملک کی نسبت کئی گنا بہتر میسر آ سکتی ہیں  لیکن انہوں  نے حصول آزادی کے لئے لاکھوں  جانوں  کا نذرانہ پیش کرکے شمع آزادی کو روشن کر رکھا ہے۔ آزادی دراصل نظریہ مذہب ، خیالات ، مساوات ، عدل و انصاف اور حقوق کا نام ہے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے معاملہ میں  ہندو اور مسلمان دونوں  متفق تھے بلکہ ہندو تو اکٹھے رہتے ہوئے ہی آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند تھے اس کے لئے انہوں  نے قائداعظم کو وزارت عظمیٰ اور گورنر جنرل بنانے کا لالچ بھی دیا مگر قائداعظم کسی بھی صورت علیحدہ ملک کے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئے کیونکہ ہندو کی نفسیات ہے وہ بطور ماتحت بہت تابعدار ثابت ہوتا ہے مگر بطور حکمران اس سے بدتر شاید ہی کوئی دوسری قوم ہو ہندوؤں  نے انگزیروں  کو اپنی وفاداری کا یقین دلا کر مسلمانوں  پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے انگریز نے اقتدار چونکہ مسلمانوں  سے چھینا تھا اس لئے وہ مسلمانوں  کو اپنا حریف خیال کرتا لیکن ہندو پہلے مسلمانوں  کی رعایا تھے اور پھر انگریزوں  کے فرمانبردار ہو گئے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں  سے صدیوں  پرانا انتقام لینا شروع کر دیا جو ان کے دل و دماغ میں  مسلمانوں  کے دور اقتدار سے پل رہا تھا۔
 
قائداعظم نے ہندو ذہنیت کو سمجھتے ہوئے کسی بھی قیمت پر پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک پر سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا اور قیام پاکستان کے لئے لاکھوں  مسلمانوں  نے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں  دیں ۔ قیام پاکستان کے موقع پر تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی مسلمانوں  میں  اس وقت جذبہ ایمانی اور علیحدہ وطن حاصل کرنے کی خوشی تمام دکھ اور پریشانیاں  خوشی سے قبول کرنے کی وجہ تھی۔ چند سال قبل ایک برطانوی طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کا تھیسس "پاکستان" دیا گیا اس نے لکھا کہ "1947ء میں  ایک قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی جو اسے پاکستان کے نام پر مل گیا لیکن آج ایک ملک "پاکستان" کو ایک قوم کی ضرورت ہے"۔ برطانوی طالبہ کے اس خیال سے انکار کسی بھی طور ممکن نہیں  کیونکہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہمارے دفاتر میں  لکھنے کے لئے کاغذ اور پیپر پن کے بجائے درختوں  کے کانٹوں  سے کام چلایا گیا سب نے دن رات کام کیا اور سب کے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا پاکستان کی ترقی و کامیابی۔ ایک واقعہ ہے کہ قیام پاکستان کے موقع پر ایک بے سہارا عورت ریل میں  بغیر ٹکٹ سفر کر رہی تھی ٹکٹ چیکر نے پوچھا تو اس نے اپنی مجبوری بتا دی عام حالات میں  زیادہ سے زیادہ اس مہربانی کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سے ٹکٹ کی رقم نہ لی جاتی مگر ٹکٹ چیکر نے عورت کی مجبوری کو تسلیم کیا لیکن اس کے ذمہ واجب الادا رقم اپنی جیب سے ادا کی۔ یہ جذبہ ایک قوم کے فرد کا تھا مگر آج ہماری صورتحال کیاہے ہم اپنے دس روپے کے فائدہ ے لئے ملک کے دس ہزار روپے کے نقصان کو بخوشی تیار ہو جاتے ہیں  ہمارے اعلیٰ سرکاری ملازمین دفاتر اور اپنے اختیارات کو عوام کے مسائل میں  کمی کی بجائے ان کو مزید الجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں  ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں  کو اپنے پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک کے بکنگ سنٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں  ہمارے سیاستدان ذاتی اقتدار کی خاطر ملک کے وقار اور سلامتی کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں  کرتے ہماری عدلیہ انصاف کی فراہمی کے اسلامی اصولوں  کے بجائے ٹیکنیکل گراؤنڈز کا سہارا لینے پر مجبور ہے ہمارے وکلاء  انصاف کی فراہمی اور مظلوم کی مدد کے بجائے وکالت کو محض پیسے کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں  ہمارے صنعت کار ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے اور ملک کی نیک نامی میں  اضافہ کے بجائے ایک ہی چھلانگ میں  سمندر پار کر جانے کی کوشش میں  مصروف نظر آتے ہیں  ہمارا استاد تعلیم دینا اپنا فرض سمجھنے کے بجائے نفع نقصان کا حساب کتاب کرنے میں  مصروف ہوگیا ہے۔ ہمارا دکاندار اورتاجر چور بازاری ملاوٹ جیسے اداروں  کو صرف اورصرف دولت کمانے کے لئے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے ہماری پولیس کا صرف اور صرف ایک ہی ماٹو ہے اور وہ ہے عوام کو ذلیل کرنا اور پیسے کمانا اس کے لئے انہیں  کسی شریف آدمی کو قاتل ڈکیٹ بنانا پڑے یا کسی قاتل ڈکیت کے اشاروں  پرناچنا پڑے اس سے انہیں  قطعاً کوئی فرق نہیں  پڑتا۔ ہماری فوج ملکی دفاع جو اس کا فرض اولین ہے اس کو بھلا کر ملکی اقتدار کے مزے لوٹنے کے بہانے تلاش کرتی نظر آتی ہے ہمارے عوام کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگانے کے لئے واٹر کولرز ، پانی کی ٹینکی یا نلکے کے ساتھ زنجیر سے باندھا گیا گلاس دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری املاک کی زبوں  حالی اور عوام کی بے حسی بھی دیدنی ہے ہم اپنے گھر کا تمام کوڑا کرکٹ گلی میں  پھینک دیتے ہیں  سرکاری و عوامی فنڈز سے تعمیر کی جانے والی سڑکوں  ، گلیوں  اور نالیوں  کی دیکھ بھال ہم اپنے فرائض میں  شامل کرنے سے انکاری ہیں  ذاتی چند روپوں  کے نقصان پر ہم مارنے مرنے پر تل جاتے ہیں  لیکن ملک و قوم کے کروڑوں  کے نقصان پر بھی ہمارے کان پر جوں  تک نہیں  رینگتی۔
اگر گزشتہ 60 سالہ مختصر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں  ہوگی کہ ہمارے ملک کو سب سے زیادہ نقصان سیاستدانوں  سے یا ان کی وجہ سے پہنچا ہے۔ قائداعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک و قوم یتیم ہو گئے اور پاکستان کی حکومت و سیاست شطرنج کی بساط بن گئی ذاتی خواہشات پسند ناپسند اور انا پر ملکی مفاد کو قربان کیا جانے لگا حکومتیں  ہفتوں  میں  تبدیل ہونے لگیں  تو نہرو کو پھبتی کسنے کا موقع مل گیا کہ اتنی تو اس نے دھوتیاں  تبدیل نہیں  کیں  جتنی پاکستان میں حکومتیں  تبدیل ہو گئی ہیں ۔ پاکستان کے لئے دستور بنانے والوں  نے جب سیاسی شطرنج شروع کر دی تو ان کا فرض اولین بھی فرض دوئم ہو گیا پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ اور "ماہر معیشت" ملک غلام محمد نے بطور گورنر جنرل جو گل کھلائے وہ آج بھی ملک و قوم کو بچھو کی طرح ڈنک مار رہے ہیں  اس کے بعد سکندر مرزا کا "بھولا پن" کہ خود کو طاقتور کرنے کے لئے آرمی چیف کو وزیر دفاع کا منصب سونپ کر کابینہ کے ممبر کی حیثیت سے شریک اقتدار کیا جانا بھی کسی جمہوری ملک کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا ۔ 1956 ء کے بننے والے آئین اوراس کے نتیجہ میں  منعقد ہونے والے انتخابات سے جان چھڑوانے کے لئے مارشل لاء کی دعوت دے کر اپنے پاؤں  پر سکندر مرزا نے خود کلہاڑی ماری اور ملک کو طویل آمریت کی گود میں  دے دیا گیا ایوب خان کے دور میں  مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بیج نہ صرف بویا گیا بلکہ اس کو خوب پانی اور کھاد مہیا کی گئی مادر ملت فاطمہ جناح جنہوں  نے مشرقی پاکستان سے بہت بھاری اکثریت میں  ووٹ حاصل کئے تھے انہیں  انتظامیہ کی مدد سے ہرا دیا گیا۔حالات زیادہ خراب ہونے پر ایوب خان نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار سپیکر اسمبلی کے حوالے کرنے کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالہ کردیا جو اس کے لئے بہت بیتاب اور سازشوں  میں  مصروف تھا۔ جنرل یحییٰ آزادانہ الیکشن کی "غلطی" کر بیٹھا بھٹو کی ہر قیمت پر اقتدار کی ہوس ، عالمی سازش اور مجیب الرحمان شیخ کی "بندر کے ہاتھ ماچس" جیسی وجوہات اور یحییٰ خان کی نااہلی اور شراب و کباب میں  مست رہنے اور غلط پالیسیوں  کی وجہ سے پاکستان کی فوج کو ناقابل تلافی نقصان اور ہزیمت اٹھانا پڑی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
 
بچے کچھے پاکستان میں  بھٹو نے جمہوری لبادے میں  بدترین آمریت قائم کرنے کی کوشش کی اور جنرل ضیاء الحق کو جسے بہت جونیئر ہونے کے باوجود بھٹو نے آرمی چیف مقرر کیا تھا کو "ملک کے بہترین مفاد میں " مداخلت کرنا پڑی جو اسلام کے نام پر 1988ء تک طیارہ تباہ ہونے تک قائم رہی اس کے بعد جمہوری شہزادہ اور شہزادی باری باری لاکھوں  مسلمانوں  کی قربانیوں  سے معرض وجود میں  آنے والے ملک کو لوٹنے میں  مصروف ہو گئے بے نظیر بھٹو نے ملک کو خاندانی جاگیر کی طرح چلانے کی کوشش کی جبکہ میاں  نواز شریف نے اسے بھی اتفاق فونڈری جس کے چیف ایگزیکٹو "ابا جی" تھے کی حیثیت دینے کی کوشش کی اور آمریت کے بھی تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو میاں  نواز شریف کی طرف سے مکمل جمہوری آمریت کی خواہش کے سلسلہ میں  آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش کی اوراپنے سسرالی رشتہ دار کو آرمی چیف بنانے کی کوشش میں  ناکامی پر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میاں  نواز شریف جو جمہوری آمریت میں  ذوالفقار علی بھٹو کا نمبر بھی کراس کرنے کے لئے کوشاں  تھے کو پہلی بار جیل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ عدالت سے سزا ہونے پر سعودی مہربانوں  کے ذریعے جیل کی کوٹھری سے بھاگ نکلنے میں  کامیاب ہوگئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویز مشرف کے "انقلاب" کو نہ صرف جائز قرار دے دیا بلکہ انہیں  تین سال کا مزید وقت بھی دے دیا اور آئین میں  حسب ضرورت ترمیم کا اختیار بھی دے دیا صدر صاحب بذریعہ ریفرنڈم پانچ سال کے باوردی صدر "منتخب" ہو گئے اور پھر اسمبلیوں  کے انتخابات کی سوچی اور 2002ء کے انتخابات کے بعد معرض وجود میں  آنے والے اسمبلی سے انہوں  نے وردی سمیت پانچ سال کے لئے صدر ہونے کی توثیق کروالی۔
مسلم لیگ جو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہر کسی کے اقتدار کی سیڑھی بخوشی بنتی رہی ہے جرنیل نے بھی آزمودہ لیگ کو مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے انتخابی اکھاڑے میں  اتارا اور اسمبلی میں  اکثریتی جماعت بنا لیا لیکن اس کے صدر میاں  اظہر کو چاروں  شانے چت کرکے گجرات کے چوہدری برادران کو آل ان آل بنا دیا وزارت اعلیٰ پنجاب جو ان  کا دیرنہ خواب تھا اس کے ساتھ ساتھ ڈیفکٹو پرائم منسٹر شپ بھی چوہدری شجاعت کو مل گئی وزیراعظم جمالی قائد ایوان اور ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی اپنے پرسنل سیکرٹری تک کا تبادلہ کرنے کا اختیار حاصل نہ کر سکے قانون ساز اسمبلی میں  قائد ایوان کے انتخاب کے سوا سال بعد تک قائد حزب اختلاف کا تقرر نہ ہو سکا باقاعدہ ڈیل کے تحت ایم ایم اے (ملاں  ملٹری الائنس) کے فضل الرحمان کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا گیا اس کے کچھ دنوں  بعد ہی قائد ایوان کی چھٹی کروا کر ملکی تاریخ میں  ایک مزید انوکھے باب کا اضافہ ہوا کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ بلا جبر و اکراہ بحالت صحت نفس و اثبات عقل ، برضا و رغبت خود "مستعفی" ہونے والے وزیراعظم سردار ظفراللہ جمالی نے ملک کے آئندہ وزیراعظم کے لئے وزیر خزانہ سینیٹر شوکت عزیز کو نامزد کیا جبکہ ان کے ممبر اسمبلی منتخب ہونے تک کے عرصے کے لئے عبوری وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین صدر مسلم لیگ (ق) کو نامزد کیا گیا جنہوں  نے باقاعدہ قومی اسمبلی سے اپنے آپ کو منتخب کروایا اور بوقت انتخاب ہی بزبان خود 18 اگست 2004ء کو وزارت عظمی سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا اور شوکت عزیز کو ممبر اسمبلی منتخب کروانے کے لئے زور شور سے انتخابی مہم میں  حصہ لینے کی خاطر قومی اسمبلی سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں  ترمیم کروائی کہ حکومتی عہدے دار پارٹی عہدہ بھی رکھ سکتا ہے اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے کسی امیدوار کی انتخابی مہم بھی چلا سکتے ہیں ۔
اسمبلی کے معرض وجودمیں  آنے پر ایل ایف اوکو آئین کا حصہ بنانے پر قانون سازوں  میں  کافی لے دے ہوتی رہی اپوزیشن نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا کیونکہ جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایل ایف او آئین کا حصہ خود بخود بن چکا ہے جبکہ اپوزیشن کااصرار تھا کہ ہم اسے آئین کا حصہ نہیں  مانتے اپوزیشن نے سابق اسمبلی کے سپیکر الہی بخش سومرو کی یقین دہانی پر جس آئین (جو کتاب ان کے پاس موجود تھی) کے تحت حلف ہو رہا ہے ایل ایف او اس کا حصہ نہیں  حلف اٹھا لیا لیکن نئی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے اپنے انتخاب (بلکہ حسن انتخاب) کے فوری بعد "فرمان" جاری کیا  ایل ایف او آئین کا حصہ بن چکا ہے متحدہ اپوزیشن خصوصاً ایم ایم اے کی "ضد" پر ایل ایف او کو اسمبلی میں  پیش کر دیا گیا ایم ایم اے کی خصوصی شفقت سے حکومت دو تہائی اکثریت سے اسے پاس کروانے میں  کامیاب ہو گئی جس میں  31 دسمبر 2004ء تک صدر اور آرمی چیف میں  سے کوئی ایک عہدہ چھوڑنے کی شق بھی شامل کروائی گئی اور صدر نے اس کا قوم سے وعدہ بھی کیا کہ وہ اس مدت تک ایک عہدہ چھوڑ دیں  گے لیکن دسمبر سے کئی ماہ قبل ہی حکومتی حلقوں  سے صدر سے پرزور مطالبہ کیا جانے لگا کہ صدر کے لئے وردی ملکی مفاد کے لئے بہت ضروری ہے صدر نے "عوام کے پرزور مطالبہ" پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کیا اور آئینی شق کو مختص اسمبلی کی سادہ اکثریت سے منظور ہونے والی ایک قرارداد سے غیر موثر کر دیا گیا۔

میاں  نواز شریف اور فاروق لغاری کے دور حکومت میں  ہم نے یوسف رمزی اور ایمل کانسی جو امریکہ کو مطلوب تھے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کئے تھے اور خصوصی انعامات کے حقدار ٹھہرے لیکن جرنیلی دور میں  تو امریکی تابعداری کی حد ہو گئی "سب سے پہلے پاکستان" کے نظریہ پر 1978ء سے جاری افغان پالیسی پر یوٹرن لے لیا گیا افغانستان میں  طالبان کو ہم نے پروان چڑھایا ان کی سرپرستی کی ان کی حکومت تسلیم کی لیکن پھر ان کے مخالف شمالی اتحاد جو بھارت نواز ہے سے راہ و رسم کا امریکی آرڈر آ گیا تو ہم نے طالبان کو کچلنے کے لئے دن رات ایک کردیا جس سے ہماری افغان بارڈر بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے بھارت کے افغانستان میں  قونصل خانے پاکستان میں  تخریبی سرگرمیوں  میں  براہ راست ملوث ہیں ۔ رچرڈ آرمٹیج کی طرف سے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں  بھیج دینے کی دھمکی اور صدر بش کی طرف سے دوستی یا دشمنی کا جواب ہاں  یا نہ میں  دینے کے حکم پر ہم نے سب سے پہلے پاکستان کا نظریہ ضرورت ایجاد کرکے قومی غیرت کا سودا کر لیا جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں  کہ فاٹا کے علاقوں  میں  امریکی طیاروں  سے براہ راست بمباری سے ہزاروں  بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں  لیکن ہم مجبوراً انہیں  اپنی فورسز کی کارروائی قرار دینے پر مجبور ہیں ۔ لال مسجد آپریشن قوم کو خون کے آنسو رلانے والا سانحہ ہے آئی ایس آئی کی ناک کے بالکل نیچے اور ایوان اقتدار سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر بقول حکومت ریاست کے اندر ریاست کا قائم ہونا ہی لمحہ فکریہ ہے۔ اکبر بگٹی جو نہ صرف ایک ممتاز بلوچ لیڈر تھا بلکہ ایک بہت بڑے قبیلہ کا سردار بھی تھا ممتاز سیاستدان ، سابق گورنر ، وزیراعلیٰ اورممبر پارلیمنٹ بھی رہا۔ لال مسجد کے غازی برادران سے مذاکرات کی طرح بگٹی سے بھی مذاکرات کا خصوصی ٹاسک "ٹیبل ٹاک کے شہنشاہ" چوہدری شجاعت حسین کو ہی سونپا گیا اور کامیاب مذاکرات کی خبروں  کے بعد بھی آپریشن سائیلنس کی طرح اکبر بگٹی کے خلاف بھی آپریشن کرکے انہیں  مار دیا گیا جس سے بلوچستان لبریشن موومنٹ کی تخریبی کارروائیوں  میں  تیزی آ چکی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف جنہیں  12 اکتوبر 1999ء کو ایک باقاعدہ منتخب وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات کے استعمال سے آرمی چیف کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا جو "فوجی انقلاب" کی وجہ سے اگر کامیاب نہ ہوتا تو یقیناً بغاوت قرار پاتا الٹا پڑ گیا اور نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ کارگل کی جنگ پر دونوں  کا موقف متضاد ہے اور اصل وجہ تنازعہ بھی یہ بتائی جاتی ہے کہ جنرل صاحب تو 12 اکتوبر 1999ء کو ریٹائر ہو چکے ہیں  ریٹائرمنٹ کی عمر کراس کرنے کے باوجود "ٹو ان ون" کے مزے لے رہے ہیں  اور سب سے پہلے ذاتی اقتدار کے سنہری اصول پر عمل پیرا ہیں  اور اس کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں ۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2007ء کو آرمی ہاؤس بلا کر ساتھی افسروں  کے ہمراہ استعفیٰ پر مجبور کیا انکار پر بات دھمکیوں  اور حبس بے جا تک جا پہنچی صدر نے چیف جسٹس کو معطل کرکے قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر کر دیا اور انہیں  ان کے گھر میں  قید کر دیا گیا اوران کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں  بھیج دیا گیا جسے انہوں  نے سپریم کورٹ میں  چیلنج کر دیا

 
جس کی سماعت سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں  کی اور ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر چیف جسٹس کو بحال کر دیا اور مولوی تمیز الدین کیس میں  جسٹس منیر نے ملک غلام محمد کے دور میں  جو نظریہ ضرورت ایجاد کیا تھا اس کو گہرے کھڈے میں  دفن کر دیا چیف جسٹس کے دوروں  پر جو انہیں  عوامی پذیرائی ملی ہے اور جس پرتپاک طریقہ سے عوام نے ان کا استقبال کیا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی لیڈر (بقول جیالوں  کے) کو بھی نصیب نہ ہو سکا تھا وکلاء کی تحریک حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ تھا جس نے تحریک پاکستان کی یاد تازہ کر دی۔

صدر جنرل پرویز مشرف اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ عوامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے پینگیں  بڑھانے میں مصروف ہیں  جو یقیناً پی پی پی کے سابقہ دعوؤں  کی مکمل نفی کے مترادف ہے اور بے نظیر کے ہر قیمت پر حصول اقتدار کی خواہش کا اظہار ہے البتہ میاں  نوازشریف جو نہ صرف ایک جرنیل کی پیداوار ہیں  اور اپنے آپ کو ضیاء الحق کا سیاسی وارث قرار دیتے رہے ہیں  اور پرویز مشرف کیس میں  سزا ہونے پر سعودی حکومت کی مدد سے جان بچا کر فرار ہونے کا داغ بھی ان کے ماتھے پر لگا ہوا ہے لیکن اب انہوں  نے جرنیل کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرکے عوامی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء و مثبت پیش رفت ہے۔

12 مئی 2007ء کو صدارتی ریفرنس کے خلاف وکلاء تحریک اور چیف جسٹس کے جلوس کے جواب کے طور پر کراچی میں  صدر کی خصوصی زیر شفقت جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے کھلم کھلا دہشت گردی میں  سینکڑوں  معصوم شہریوں  کی جانیں  چلی گئیں  اور ٹی وی اسٹیشنوں  پر مسلح افراد کئی گھنٹوں  تک حملے کرتے رہے ہیں  بار بار مدد کی درخواست کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد کو نہ پہنچا اور صدر نے اسی شام اسلام آباد میں  جشن منایا اور کراچی کی غنڈہ گردی کو عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے متنازعہ ترین آپریشن اور ہزاروں بے گناہوں و معصوموں کے قتل کے بعد امریکہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے پاکستان کے جس علاقہ میں  بھی انہیں  خدشہ ہوا کہ دہشت گرد ہیں  وہاں  براہ راست امریکی فورسز حملے کریں  گی امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کا کہنا ہے اگر وہ صدر بنے تو اعتراض کے باوجود امریکی فورسز کو پاکستان میں  القاعدہ پر حملوں  کا کہوں گا کیونکہ اصل میدان جنگ پاکستان ہے۔ یہ سب سے پہلے پاکستان کے نظریہ کے موجد کو سوچنا چاہئے  اب نیا نظریہ کون سا کام آئے گا۔

 ہم نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹم بم بنانے کے "جرم" میں  کئی برسوں  سے قید میں  ڈال رکھا ہے اور بیرونی آقاؤں  کے حکم پر ان کو ٹی وی پر لا کر ان سے اقبال جرم کروا کر ملک و قوم کی عزت کو خاک میں  ملانے سے بھی دریغ نہ کیا ہے۔

آزاد عدلیہ شروع سے ہی حکمرانوں  کی "ضد" رہی ہے اپوزیشن میں  ہوتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کی بڑھکیں  اور اقتدار میں  آ کر عدلیہ کو بھی کابینہ کی سی حیثیت دینے کی خواہش۔ بے نظیر بھٹو نے تو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں  سجاد علی شاہ چیف جسٹس کی جگہ جہانگیر بدر کو چیف بنانے کی خواہش ظاہر کردی تھی جو اعتزاز احسن کی مہربانی سے عدلیہ اس "کرم" سے بچ گئی میاں  نواز شریف نے توہین عدالت کی کارروائی پر سپریم کورٹ پر باقاعدہ حملہ کروا دیا اور اب پرویز مشرف کی طرف سے نو مارچ کا واقعہ ہمارے عادلانہ اور جمہوری مزاج کی بھرپور عکاسی کے لئے کافی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی میں  ہوتے ہوئے بھی جاتی ہوئی اسمبلی سے آئندہ پانچ سال کی مدت کے لئے انتخاب کی خواہش اور اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور اور جوڑ توڑ ہمارے اقتدار برائے خدمت کے نظریہ کی وضاحت کے لئے کافی ہے ہمارے حکمرانوں  نے شاید اسلامی تاریخ اور خلفاء راشدینؓ کی حکومت کے واقعات کا مطالعہ نہیں  کیا خلیفہ وقت تمام رات سو نہ سکتا تھا حضرت عمر فاروقؓ دوپہر کے وقت شدید گرمی میں  کہیں  جا رہے تھے حضرت علیؓ نے دریافت فرمایا تو بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا ہے اس کی تلاش میں  نکلا ہوں  انہوں  نے کہا کسی ملازم کو اس کام پر روانہ کر دیتے تو جواب دیا قیامت کو اس کی جواب طلبی مجھ سے ہو گی پھر کہا اس وقت تو شدید گرمی ہے تھوڑی دیر بعد تلاش کر لیں  جب گرمی کی شدت کم ہو جائے تو جواب دیا  دوزخ کی آگ اس سے کہیں  زیادہ شدید ہو گی۔ لیکن حکومتی خزانہ کو جی بھر کر لوٹنے والوں  کو نیب کے ذریعے ہم نوا بنا کر وزیر بنا دیا جاتا ہے تا کہ مزید لوٹ مار کر سکیں  اور دیانتدار افسروں  کو چند سو روپوں  کی کرپشن کے الزام میں  جیل میں  ڈال دیا جاتا ہے۔


سیاسی دانشوروں  کا خیال ہے بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے اس وقت بھی آمریت مزیداپنے پنجے گاڑھنے کے لئے ہاتھ پاؤں  مار رہی ہے اورآمرانہ ذہن کے مالک لیڈران جو جمہوری لبادہ میں  عوام کو عرصہ سے بے وقوف بناتے چلے آ رہے ہیں  اس آمریت کے استحکام کے ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔ بقول شاعر
ہیں  کواکب کچھ نظر آئے ہیں  کچھ
دیتے ہیں  دھوکا یہ بازی گر کھلا
فوج جیسا اہم ملکی ادارہ جس کے لئے کبھی عوام آنکھیں  بچھانے کو تیار ہوتے تھے اور بچوں  کو فوج میں  بھرتی کروانا ہر والدین کا خواب تھا اس ادارہ کی صورت یہ ہو چکی ہے فوجی گاڑیوں  کو چھاؤنی سے باہر اور جوانوں  کو وردی میں  عوامی مقامات پر جانے کی ممانعت ہے اور فوجی ایریا میں  بھی خصوصی تحفظ کا بندوبست کیا گیا ہے جو پاکستان کے لئے اور اس کے استحکام کے لئے اچھی اور نیک فال نہیں ۔

14 اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2007ء کو ہم بالواسطہ بیرونی آقاؤں  کی غلامی میں  ہیں  کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں  کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں  بلکہ ہم تو اپنے سکولوں  کا نصاب بھی خود تیار نہیں  کر سکتے اور موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے اور پاکستان کی مختصر سی تاریخ غلامی سے لبریز ہے ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2007ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے یا سوگ؟؟؟’’ ۔ بقول نثار ناسک
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے
 
ماخذ:سنڈے میگزین روزنامہ جناح

August 11, 2007

شوگر سکینڈ ل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک حکومتی رپورٹ ‘کتنا سچ ‘کتنا جھوٹ؟؟؟؟؟؟؟؟

لوگ آصف زرداری پر "مسٹرٹین پرسنٹ" کا الزام لگاتے رہے آج پتا چلا کہ الزام بالکل صحیح تھا۔ سپریم کورٹ کو دسمبر 2004ء سے فروری 2006ء تک چینی کے بحران کی جو رپورٹ بھیجی گئی ہے اُس کے مطابق کُل 3 لاکھ 16 ہزار ٹن چینی بلیک میں  بیچی گئی، جس میں  سے "جہادِ افغانستان" کے ایک "مجاہد" جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادوں  ہمایوں  اختر، ہارون اختر اور اُن کے ایک کزن نے مل کر 99464 ٹن چینی ذخیرہ کی۔ ایک میٹرک ٹن ایک ہزار کلوگرام کا ہوتا ہے اور اگر ایک کلوگرام پر 20 روپے بھی کمائے گئے ہوں  تو یہ "نیک کمائی" دو ارب روپے سے کچھ ہی کم بنتی ہے۔ اور اگر 21 روپے کلو گرام کی چینی 45 روپے بیچنے کا حساب لگایا جائے تو منافع 24 روپے یعنی 2 ارب 38 کروڑ روپے بن جاتا ہے۔ 20 روپے کلوگرام کے حساب سے ہی میاں  نوازشریف اور شہباز شریف نے 68648 ٹن یعنی کوئی ایک ارب 37 کروڑ روپے کی دیہاڑی لگائی، اُن کے ایک کزن نے بھی 10344 ٹن کی ذخیرہ اندوزی کر کے بہتی گنگا سے 20 کروڑ 68 لاکھ روپے کے ہاتھ دھوئے۔ موجودہ حکومت کے ایک وزیر جہانگیر ترین نے 46920 ٹن چینی اپنے گوداموں  میں  روک کر کوئی 94 کروڑ روپے جیب میں  ڈال لئے، چودھری شجاعت شریف آدمی ہیں  اُنہوں  نے صرف 5459 ٹن چینی ذخیرہ کی اور 10 کروڑ 90 لاکھ کمائے۔ حکومت کے ایک چہیتے اور سیلاب زدہ علاقوں  کے فنڈز کے رکھوالے جو نجکاری کے انچارج بھی رہ چکے ہیں  یعنی الطاف سلیم نے 22104 ٹن چینی "چکھی" اور 44 کروڑ 20 لاکھ روپے سے اپنی "غربت" کو کم کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ اسمبلی میں  حکومتی پارٹی کے چیف وہپ اور پنجاب کے وزیرخزانہ کے والد نصراللہ دریشک نے 20288 ٹن چینی کے ذریعے 40 کروڑ 57 لاکھ روپے جیب میں  ڈالے، چودھری برادران کے قریبی عزیز اور قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین چودھری انور علی چیمہ سب سے پیچھے رہے اور صرف 1575 ٹن کے ذریعے 3 کروڑ 13 لاکھ روپے گھر لے گئے، نیک نام میاں  اظہر بھی کانِ نمک میں  جا کر نمک بن گئے اور 4880 ٹن چینی بلیک میں  بیچ کر "صِرف" کوئی پونے دس کروڑ روپے حاصل کر سکے جبکہ آصف علی زرداری نے رپورٹ کے مطابق 8377 ٹن چینی ذخیرہ کی اور کوئی پونے سترہ کروڑ کمائے۔ سارے حساب میں  لوگوں  کی جیبوں  پر کوئی پونے 6 ارب روپے کا ڈاکہ مارا گیا اور 16 کروڑ کی آبادی میں  سے ہر ایک کی جیب سے 36 روپے نکال لئے گئے۔  جس دورمیں  اپوزیشن کے لوگ اس طرح کھلی لوٹ مار کر سکتے ہیں ۔ حکمرانوں  کا کیا حال ہو گا؟

ایمرجنسی کی افواہ پھیلا کر سٹاک مارکیٹ سے دو دن میں  کوئی پونے دو کھرب روپے بٹور لئے گئے جبکہ وزارتِ خوراک کی رپورٹ کے مطابق گندم کی ذخیرہ اندوزی میں  بھی بڑے بڑے لوگ شامل ہیں  جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں  تقریباً 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب کی حکومتوں  کو پتا ہے کہ ذمہ دار کون ہیں  لیکن سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے کوئی ان پر ہاتھ نہیں  ڈالتا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سٹاک ایکسچینج میں  ہونے والی پرانی لوٹ مار کی فائل ہی گم ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نے تحقیق کا حکم دیا ہے لیکن اُن کو بتایا گیا کہ فائل قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ سٹاک ایکسچینج کے سکینڈل میں  بھی بڑے بڑے لوگوں  کے نام آ رہے تھے سو ابھی تک تحقیقات ہی نہیں  ہو سکیں  اور سپیکر کے اِس فائل کو اپنے پاس رکھنے کی وجہ بھی صاف نظر آتی ہے

آج تک شیخ کے اِکرام میں  جو شے تھی حرام
اَب وہی دُشمن دِیں ، راحت جاں  ٹھہری ہے

ابوجاہل دوراں’وفاقی وزیر(تعلیم )جاوید اشرف کی اسلام دشمن نئی کارستانیاں۔۔۔۔۔۔۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ‘جنرل مشرف کے قریبی رفیق اور وفاقی وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی نے روٹس سکول سسٹم کے زیر اہتمام تین روزہ ڈویلپمنٹ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو اسلامیات پاکستانی طلبہ میں صبر، بھائی چارے اور حقیقی اسلامی اقدار کو فروغ نہ دے اسے پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اردو میں تعلیم حاصل کرنے کا مطلب وقت کا ضیاع ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے اکثرکھلاڑی انگریزی بولنے پر پریشان ہوجاتے ہیں ۔اسلام کے ٹھیکیدار جتنا مرضی شور مچائیں اگلے سال سے نیا نصاب ملک بھر میں نافذ کردیا جائیگا ۔ چالیس مضمون تبدیل کیے جا رہے ہیں جن میں سے23مکمل جبکہ17چھپائی کیلئے جا چکے ہیں نصاب سے تمام متنازعہ چیزیں نکال دی گئی ہیں تاہم سکولوں میں پہلی جماعت سے بچوں کو انگریزی تعلیم دی جائیگی پانچویں جماعت تک مخلوط تعلیم ہوگی اور اس مقصد کیلئے خواتین اساتذہ تعینات کی جائیں گی کیونکہ مرد اساتذہ بچوں کیلئے دہشت کی علامت بن چکے ہیں اساتذہ کی کم از کم تعلیم گریجویشن رکھی جائیگی امتحانات کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا جائیگا ۔
 
بد قسمتی سے پاکستان کی تخلیق کو 60سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہم آج تک اپنے نظام تعلیم کے تعین کا فیصلہ نہیں کرسکے نصاب کی تبدیلی اور تعلیمی نظام ہر آنے والی حکومت کی خواہشات سے عبارت رہا ہے مغرب سے مرعوبیت کے باعث طبقہ اشراف (جسے طبقہ عیاش کہنا زیادہ مناسب ہے)یہ سمجھتا ہے کہ انگریزی ہی تعلیمی نظام کی کامیابی کی ضمانت ہے مگر وہ اپنی اس ناکامی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ قومی زبان میں تعلیم دے کر وہ کامیابیوں کی منازل کیوں طے نہیں کر سکے بیرونی آقاؤں کےاحکامات پر ساری توجہ نصاب کی تبدیلی کی طرف تو مرکوز کرکے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے ۔ لیکن اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ ہم اپنی اقدار ، روایات ، اخلاقیات کو ہرگز پس پشت نہیں ڈال سکتے اگر نصاب تعلیم طلباء کی اخلاقی راہنمائی سے عاری ہے تو وہ خواہ عہد حاضر سے کتنا ہی ہم آہنگ کیوں نہ ہو اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے حیرت اس امرپر ہے کہ وزیر تعلیم کو 60برس بعد یاد آیا کہ مرد اساتذہ بچوں کیلئے دہشت کی علامت ہیں حالانکہ قوم کی اکثریت انہی اساتذہ سے تعلیم پا چکی ہے چند علماء اورمولویوں کے اقدامات کے سبب ہم فیشن کے طورپر علماء کی تضحیک اور ان پر تنقید کا رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں اسلام کے ٹھیکیداروں سے تعبیر کرتے ہیں اگر نئے نصاب کو اسلام کے ٹھیکیداروں کے شور مچانے کے باوجود نافذ کئے جانے کا اعلان کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات سے عاری ایسا نصاب ہی کیوں مرتب کیا گیا ہے جس پر تنقید کی گنجائش نکلتی ہو۔
 
یاد رہے کہ یہ وہی جاہل وزیر تعلیم ہے جس کی ‘’انگلش’‘معلومات کے مطابق (نعوذ باللہ) قرآن پاک چالیس پاروں پر مشتمل ہے ۔ نماز کا طریقہ موصوف ابو جاہل دوراں کے مطابق فضول ہے۔اسلامیات اور نظریہ پاکستان پر مشتمل تدریسی مواد انہیں کھٹکتا ہے کیا چالیس پاروں کی معلومات کے حامل ایسے جاہل افراد کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ نصاب کے ذریعے پاکستانی قوم کے مستقبل کا فیصلہ کریں اورقوم کی خواہشات و توقعات کے برعکس ایسا نصاب ترتیب دیں جو ان کی ذاتی خواہشات اور ایک اور دین اکبری یعنی دین مشرف کی معلومات پر مبنی ہو؟؟؟
 خدارا قوم کے حال پر رحم کرتے ہوئے نصاب تعلیم کو ماہرین تعلیم کی صوابدید پر چھوڑ دیں اورصرف انہی چیزوں کو متنازعہ نہ سمجھیں جو مغربی آقاؤں کے نزدیک متنازعہ ہیں بلکہ ملک و قوم کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قوم کے نونہالوں کو وہی تعلیم دیں جو ان کیلئے ہر لحاظ سے ضروری ہو۔اس کےلیے ایک اور یوٹرن کی ضرورت ہے جو جلد یا بدیر آنے والا ہے۔لہذا ایسے بےدین لوگ اپنے آقاؤں کے پاس جانے کےلیے ہمیشہ رخت سفر باندھ کر رکھیں۔۔۔۔۔۔کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس قوم کا ضمیر سویا ضرور ہے مردہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔

واقعہ معراج مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم)قرآن و حدیث کی روشنی میں۔۔۔

معراج رسول کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) تسخیر کائنات کی جانب ایک بلیغ اشارہ ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر واقعہ کی پوری عکاسی کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی(ص) سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
تاریخ عالم میں واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) انتہائی خصوصیت کا حامل ہے یہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جس پر ایمان اور عشق رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) سے سرشار مسلمان تو بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ اس عظیم المرتبت محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کی امت ہیں کہ جنہیں رب کائنات نے حالت شعور میں زمینوں اور آسمانوں کی سیر کرائی ۔ اس واقعہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے آج تک شش و پنج میں گرفتار ہوکر اس عظیم واقعہ کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ معجزات وہی ہوتے ہیں جو عقل سے بالاتر ہوں اور معجزات کو عقل سے پرکھنا ہی بے عقلی کی نشانی ہے۔
بقول شاعر مشرق
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
عشق والوں اور عقل والوں میں یہی فرق ہے جو انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے محبوب سردار الانبیاء خاتم المرسلین حضور رحمۃ اللعالمین کو تمام انبیاء سے ممتاز کرنے کیلئے جسمانی معراج شعور کی حالت میں کرایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) راتوں رات مکہ المکرمہ، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ کائنات کی سیر کی اور سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں اس سے آگے ایک قدم بھی بڑھا تو میرے پر جل جائیں گے۔ سدرۃالمنتہیٰ کے آگے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کا سفر مبارک آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔
اس مضمون میں قرآن و احادیث اور سائنس کے کلیات کی روشنی میں واقعہ معراج کو سمجھنے اور بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ معراج مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہر لحاظ سے ایک عظیم الشان واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو شعوری حالت میں سیر کرائی اور انہیں حیات بعد الموت کے واقعات بھی دکھائے۔ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اعلان نبوت کے بارہویں سال27 ویں شب رجب المرجب کو پیش آیا قرآن پاک میں واضح الفاظ میں واقعہ معراج اور اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
معراج کے واقعہ کے وقت حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کی عمر مبارک اکاون سال8ماہ اور بیس یوم تھی، یہ نبوت کا وہ زمانہ تھا جب حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمانوں پر کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی لیکن خداوند قدوس کا پیغام حق عام کر رہے تھے۔ اس زمانہ میں حضور نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج نصیب ہوئی اس وقت آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سو رہے تھے کہ رات کے پہلے پہر حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور رب العزت کی جانب سے سلام پیش کیا اور پھر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو معراج پر چلنے کیلئے تیاری کی درخواست کی۔ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ پہلے مدینۃ  المنورہ سے مکۃ المکرمہ اور پھر بیت المقدس کا سفر کیا۔ مسجد اقصیٰ میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء  علیہم السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے ہمراہ ایک سواری (براق) لائے تھے، براق کا مطلب بجلی یعنی بجلی سے تیز رفتار، حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے پہلے مسجد الحرام طور سینا اور بیت اللہ سے ہوتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اور پھر براق پر سوار ہوکر کائنات کی سیر کو نکلے جسے معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کہا جاتا ہے۔ براق کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک قدم اٹھاتا تو حد نگاہ سے پرے تک یعنی کم و بیش500 سال کا سفر طے کرلیتا تھا۔
آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اور جبرائیل علیہ السلام پہلے آسمان پھر دوسرے اور اسی طرح ساتویں آسمان تک پہنچے، ہر آسمان پر انبیاء کرام اور پیغمبران خدا سے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ملاقات کرائی گئی۔ بعد ازاں سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے اجازت لی اور اس سے آگے آپ نے اکیلے معراج کا سفر طے کیا جس کے بارے میں صرف خداوند تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہاں خداوند کریم کا خصوصی قرب حاصل ہوا، یہیں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو امت کیلئے50 نمازوں کا تحفہ عطاء ہوا جو بعد میں روزانہ5 نمازوں میں تبدیل ہوئیں اور یہ نمازیں روزانہ مسلمانوں پر فرض کر دی گئیں۔ اس سفر میں محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) و محب میں جو رازو نیاز کی باتیں ہوئیں ان کا علم کسی بشر کو نہیں صرف خداوند کریم ہی جانتے ہیں۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کا ذکر ام ہانیؓ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو(نعوذ باللہ) حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا  اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپؓ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ یہ واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کیلئے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبرؓ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں اور معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مقدس رات عبادت و ریاضت اور ذکر الٰہی میں گزارتے ہیں۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں۔
آج انسان تسخیر کائنات کی جانب جو قدم بڑھا رہا ہے تو حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کام کی ابتدا کرنے والے تھے اور انتہا کرنے والے بھی، اس طرح واقعہ معراج تسخیر کائنات کیلئے بنی نوع انسان کیلئے خوشخبری بھی ہے، معراج النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی رات تمام نوع انسان کیلئے بلا لحاظ رنگ و نسل مذہب، ملک و وطن تکمیل انسانیت کی جانب رجوع کی رات ہے اور مسلمانوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ دنیا میں ایک ارب کی تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان کمزور، پسماندہ اور یہود و نصاریٰ کے نرغے میں ہیں اپنی مرکزیت کھوچکے ہیں اور روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جارہے ہیں، انہیں دنیا کی امامت کیلئے رب کائنات نے خلیفہ فی الارض، زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا تھا، ان کی اکثریت ذلت اور رسوائی میں بھٹک رہی ہے اور دنیا میں رہبری کا منصب ترک کرکے بے یارومددگار بھٹک رہے ہیں، اس کی بڑی وجہ قرآن سے دوری، خداوند تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم سے بھٹک کر مادی دولت کے پیچھے بھاگنا اور محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق و محبت میں والہانہ جوش ولولہ میں کمی ہے۔ آئیں آج عہد کریں کہ ہم ایک مرتبہ پھر دنیا میں مسلمانوں کی امامت قائم کریں گے۔ قرآن و حدیث کے قانون شریعت کی بالادستی کیلئے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا جذبہ لے کر کام کا آغاز کریں گے، توحید کا ڈنکہ بجانے اور حضور رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وسلم) کا پیغام مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پہنچانے کیلئے تن، من، دھن سے دن رات کام کریں گے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے شکنجے سے آزاد کراکے خانہ کعبہ کو ایک ارب مسلمانوں کا مرکز بنائیں گے۔ مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ اور خلیج سے یہودی و نصاریٰ کو بے دخل کرکے اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے اور مسلمانوں کی خلافت قائم کریں گے
ماخذ: روزنامہ جناح( 10۔اگست بروز جمعۃ المبارک)دینی ایڈیشن

August 9, 2007

حکومتی اراکین کی جانب سے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا برملا اظہار۔۔۔۔۔۔۔۔غیرت یا ضرورت؟؟؟

امریکہ سے دوستی کے سلسلے میں پہلے جو آوازیں عوام اور دیگر دانشور طبقات کی طرف سے بلند ہوتی تھیں اب وہ حکومتی اراکین کی زبانوں پر بھی آگئی ہیں گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بحث کے دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکہ کی مشروط امداد پر تھوک دیا جائے ۔ چینی شہریوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے نے قتل کرایا امریکہ کو سبق سکھانے کیلئے جہادیوں کو کھلی چھوٹ دے دینی چاہئے امریکہ سے معاشقہ ختم کیا جائے انہوں نے کہا کہ پاک فوج سے برسرپیکار طالبان کی ہم سے کوئی دشمنی نہیں وہ امریکہ کے دشمن ہیں اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکی دوستی میں ہم اپنا بے پناہ نقصان کرتے ہوئے اپنے دوستوں کو بھی دشمن بنا چکے ہیں۔ جو ہمارے خیرخواہ تھے ہم سے ہی برسرپیکار ہیں اور ہم محض امداد کی خاطر ان کیخلاف اپنی پوری طاقت استعمال کر رہے ہیں ۔

ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال تک خاموش رہنے والے حکومتی اراکین انتخابات کے نزدیک عوام کو متاثر کرنے کیلئے ایسے بیانات دے رہے ہوں کیونکہ ان کے ایک بار پھر عوام کی عدالت میں جانے کا وقت قریب آگیا ہے ۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکہ سے ہماری یہ دوستی اٹھانوے فیصد عوام کو سخت ناپسند ہے یہ کیسی دوستی ہے جس میں ہم صرف احکامات مانتے ہیں اور نہ جانے یہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں کہ اس کے بغیر ہمارا گزارا نہیں۔

اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت آگیا ہے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے ان ممالک سے روابط استوار کئے جائیں جو حقیقی معنوں میں ہمارے بہی خواہ ہیں اور وہ امریکہ کی طرح دباؤ، مداخلت اور سازشوں پر بھی یقین نہیں رکھتے۔ ہم جس امریکی امداد کیلئے ہلکان ہوئے جا رہے ہیں اس کے ناجائز احکامات نہ ماننے کی صورت میں وہ یہ امداد لئے ہمارے پیچھے پیچھے گھومے گا تاہم اس کیلئے اس غیرت و حمیت سے کام لینا ہو گا جس سے بوجوہ ہمارا دامن خالی ہو چکا ہے۔

August 8, 2007

وقت کی یہی آواز ہے یعنی “الجہاد، الجہاد”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پارلیمانی سیکرٹری دفاع میجر(ر) تنویر حسین

 پاکستان میں مقیم چینی باشندوں کے قتل میں امریکہ اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔امریکہ کے مقابلے میں ہمیں طالبان اور جہاد کی حمایت کرنی چاہئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ "معاشقہ" ختم کیا جائے اور ایسی امداد جس سے ہم اپنی نظروں میں گر جائیں اور اپنوں پر ظلم کرنا پڑے تھوک دینی چاہیے۔ پاک فوج کے ساتھ بر سر پیکارطالبان کی ہمارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ وہ امریکہ کے دشمن ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ چینی باشندوں کو کوئی پاکستانی نہیں مار سکتا۔ یہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور سی آئی اے کی پاکستان کیخلاف سازش ہے۔ کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے بھارت اب امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے تو ہمیں بھی جہادیوں کو کھلی چھوٹ دینی چاہیے اور امریکہ کو سبق سکھانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس سے روابط بڑھائے اور طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے لہذا اس کی پالیسی کا منبع قرآن کو ہونا چاہیے اور وزیرستان سے لیکر کشمیر تک ایک ہی آواز ہے اور وقت کی بھی یہی آواز ہے یعنی "الجہاد، الجہاد، الجہاد"
یہ باتیں حکیم خالد نے نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں حکومتی رُکن اور دفاع کے پارلیمانی سیکرٹری میجر(ر) تنویر حسین نے قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کے دوران جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہیں ہیں۔
 ایک سرکاری رکن کی طرف سے اس نوعیت کی غیر روایتی تقریر پر جہاں حزب اختلاف کے ارکان نے زور زور سے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔وہیں حکیم خالد بھی میجر سید(ر)تنویر حسین گیلانی کو سلام پیش کرتا ہے کیوں کہ انہوں نے اٹھانوے فیصد پاکستانی عوام کے خیالات کی بھر پور نمائندگی کی ہے۔

August 7, 2007

آ ٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ ٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
روئےجب بھی رات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کو جب گہری کالی برکھا کی
سونپ گیا سوغات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بھی جب چھوڑ کے واپس پلٹے تھے
تھاما اس نے ہاتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو ہر نقصان پہ حاوی ضبط رہا
بکھر گئی جب ذات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو آنکھوں میں حیرت ٹہری تھی
سمجھ میں آئی بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات بچھڑنے پر ہی ختم نہیں ہوتی
چلا جو کوئی ساتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر الزام کو سہنے کا کچھ عہد تو تھا
اور چھڑی جب بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرن رباب نقوی