اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


July 10, 2007

لال مسجد میں محصور ‘’عام لوگ'’اور طاقت وقانون کا بھرپور نفاذ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لمحہ فکریہ؟؟؟



 لال مسجد میں  محصور طلباء وطالبات اور معصوم بچوں  کا قصورکیا تھا؟  ان کا قصور آئین اور قانون ہے، ان لوگوں  نے سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بنا رکھی تھی اور یہ پچھلے چھ ماہ سے حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے لہٰذا حکومت ان کے خلاف اقدام پر مجبور ہو گئی"۔

  "نہیں " ، ان معصوم بچوں  کا صرف ایک قصور ہے کہ یہ عام لوگوں  کے بچے ہیں ،ان تمام بچوں  میں  سے کسی ایک بچی یا بچے کا تعلق حکمران طبقے ، کسی وزیر، کسی مشیر اور کسی جرنیل سے نہیں

  اگر آج لال مسجد کے اندر حکمران جماعت کے کسی صاحب کا کوئی بچہ ہوتا تو کیا اس مسجد اور
 مدرسے پر اس طرح حملہ ہوتا؟
" یقیناً نہیں"

یہی اس ملک کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے،

اس ملک میں  جب بھی کوئی عام شخص یا اس کے خاندان کا کوئی فرد کسی غیر قانونی کام کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر پورا آئین اور قانون نافذ کر دیا جاتا ہے جبکہ اگر یہی جرم کوئی خاص شخص یا اس کا خاندان کرے تو اس کیلئے اس قانون سے سیکڑوں   گنجائشیں  نکال لی جاتی ہیں ۔

 مجھے یقین ہے اگر آج لال مسجد میں  کسی بڑے خاندان کا کوئی بچہ محصور ہوتا تو نا صرف ان لوگوں  کو باہر نکلنے کا محفوظ راستہ دے دیا جاتا بلکہ ہو سکتا ہے مولانا عبدالرشید غازی صاحب سمیت مسجد میں  موجود تمام لوگوں  کو باعزت رہائی کی اجازت بھی دے دی جاتی۔


اگر ہم پاکستان کی پچھلی 60سالہ تاریخ دیکھیں 
  ہمیں  یہ باتیں  حقیقت معلوم ہوں  گی۔ 2001ء میں  جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اس وقت افغانستان میں  پاکستان کی دوبڑی اعلیٰ شخصیات کے بیٹے جہاد میں  مصروف تھے، ان دونوں  بیٹوں  کو پاکستان واپس لانے کے لئے حکومتی سطح پر زبردست کوششیں  کی گئی تھیں  جب تک یہ دونوں  پاکستان واپس نہیں  پہنچے تھے اس وقت تک حکومت نے افغانستان پر امریکی حملے کو روکے رکھا تھا۔

یہ باتیں  اور یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں  بدقسمتی سے سارے قوانین اور ان کا نفاذ صرف اور صرف عام لوگوں پر ہی ہوتا ہے اور خاص لوگ اس سے مستثنی ہیں ۔

1 Comment »

The URI to TrackBack this entry is: http://hakimkhalid.blogsome.com/2007/07/10/p37/trackback/

  1. مجھے تو یہی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس وقت ملک میں حکومت کس کی ہے

    Comment by اجمل — July 10, 2007 @ 9:07 am

RSS feed for comments on this post.

Leave a comment

Line and paragraph breaks automatic, e-mail address never displayed, HTML allowed: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>



Anti-spam measure: please retype the above text into the box provided.