اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


June 26, 2007

۲۶جون عالمی یوم انسداد منشیات

٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں 60لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں

٭۔۔۔۔۔۔دولت کی فراوانی’ غربت’ عدم مساوات’ناانصافی اورگھریلو تنازعات منشیات کے استعمال کا باعث ہیں۔

٭۔۔۔۔۔۔کونسل آف ہربل فزےشنز پاکستان اور ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمینار سے مقررین کا خطاب

لاہور(نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )عالمی یوم انسداد منشیات کے موقع پر کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ایک سیمینار بعنوان’’ عالمی یوم ترک منشیات اور اس کے تقاضے’’ منعقد ہوا کونسل ہذا کے مرکزی سیکرٹری جنرل حکیم قاضی ایم اے خالد نے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بیس کروڑجبکہ پاکستان میں60 لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں ۔ دس سال قبل 1997ء میں ان کی تعداد28لاکھ تھی ۔ملک کی22فیصددیہاتی آبادی اور38فیصد شہری آبادی منشیات کا شکار ہے۔ان نشیؤں میں سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشے کے عادی ہیںاور 80فیصد افراد مشترکہ سرنج استعمال کرتے ہیں جس سے بعد ازاں مہلک ترین بیماریاںہیپاٹائٹس سی’ ایڈز’ کئی قسم کے کینسر اور دیگر خطرناک امراض جنم لیتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر 14 سے 18سال کے نوجوان ہیں۔پاکستان میں کم وبیش2ملین افراد ہیروئن اور 50ہزار افراد افیون کے نشے کے عادی ہیں ۔ نشہ آور اور سکون آور ٹرانکولائزر گولیاں استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 9لاکھ کے قریب ہے اور سکون ونیندآور ان ادویات کی بغیر نسخہ دستیابی سے ان کا استعمال کرنے والوں کا گراف بتدریج بڑھ رہا ہے۔ ان گولیوں کا استعمال چھوٹے اور بڑے مرد اور عورتیں جوان اور بوڑھے سب ہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی کوالیفائڈ طبیب جنسی اور دیگر امراض میں نشہ آور دوا دینے سے پرہیز کرتا ہے تاہم ملک میں عطائیوں اورنیم حکیموں کی بھی کمی نہیں جن کی وجہ سے ہر سال 45ہزار افراد صرف نشہ آورجنسی ادویہ کا شکار ہورہے ہیں۔ نئی نسل میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کا رجحان درحقیقت دولت کی انتہائی فراوانی یا انتہائی غربت’ دوستوں کی بری صحبت، جنس مخالف کی بے وفائی، اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھنے،اپنے مقاصد میں ناکامی اور اس تناظر میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی ’ والدین کی مادیت پرستی ‘انتہائی مصروفیت اور بچوں کے معاملات میں عدم دلچسپی وعدم تعاون’معاشرہ کی طرف سے نظر انداز کئے جانے’ عدم مساوات’ناانصافی’انارکی ‘والدین کے گھریلو تنازعات بھی نشہ کے آغاز کے اسباب ہو سکتے ہیں۔اسلام نے 14 سو سال قبل تاقیامت’ انسان کے لئے جو ضابطہ حیات تفویض کیا گیا’اس میں ہر طرح کے نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روحانی و جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ ظاہر ہے اس بد عادت کا بھی پرہیز ہی اصل علاج ہے۔شراب ‘ہیروئن’ چرس’ افیون’ بھنگ ‘صمد بونڈ ‘نشہ آور ٹیکے اور ادویات نیز دیگر جدید نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔منشیات فروش مافیا اور ان کے سرپرست وطنِ عزیز میںہر طرف دندنا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان منشیات فروشوں کوایسی حکومت عبرت ناک سزا دے سکے گی جس نے شراب کے پرمٹ اور لائسنس ہر خاص و عام کو جاری کرکے منشیات فروشی کا دھندہ اپنا رکھا ہے۔پاکستان کی آنے والی نسل کس طرح انسانیت کے ان دشمنوں سے محفوظ رہے گی؟ان کے خلاف ایکشن کون لے گا؟ ان کو پھانسی پر کون لٹکائے گا؟یہ ایک لمحہء فکریہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی منشیات کے تدارک کےلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسا شخص جو نشہ کرتا ہے اس سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے کمتر سمجھتے ہیں جبکہ منشیات کے عادی سے نفرت نہیں کرنی چاہئے بلکہ منشیات بیچنے والوں اور اس دلدل کی جانب دھکیلنے والوں سے نفرت کی جانی چاہئے۔سیمینار سے حکیم راحت نسیم سوہدروی ‘حکیم رفیق احمد صابر’چیئرمین آلٹرنیٹو میڈیسن حکیم محمد افضل میو’مولانابلال احمد قریشی اور دیگر نے خطاب کیا ۔