اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


May 31, 2007

World No Tobacco Day 2007

٭۔۔۔۔۔۔ تمباکو نوشی انسانی جسم کودیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔طبی ماہرین


٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ جبکہ دنیا بھر میں 50لاکھ سے زائد افراد

 سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں


٭۔۔۔۔۔۔ حکومت پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرے

ڈاکٹررفیق بشارت’یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالداورڈاکٹر ضیا ء اللہ چیمہ

 کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو

لاہور( نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا  ) دنیا میں اس وقت 65 کروڑ افراد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں اوراس پر سالانہ دو کھرب ڈالر ضائع کر دیئے جاتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ جبکہ دنیا بھر میں 50لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔اگر تمباکو نوشی کا موجودہ رجحان یونہی برقرار رہا تو 2020ء تک تمباکو نوشی سے اموات کی موجودہ سالانہ شرح دوگنی ہو جائے گی۔اس امر کا اظہار پی جی ایم آئی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرآف میڈیسن و نیوروفزیشن ڈاکٹر رفیق بشارت ‘یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالداور ڈاکٹر ضیا ء اللہ چیمہ نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی ایک ایسازہر ہے جو انسانی جسم کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔اس سال عالمی دن کا موضوع ‘’ سوفیصد تمباکو سے پاک ماحول پیدا کرنا ‘’ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں نیز آرتھرائٹس اور تھائی رائڈ غدود کے امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔اور تمباکونوشی کرنےوالے افراد میں گلوکوز برداشت نہ کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو ذیابطیس کے مرض کی شروعات ہیں۔اس طرح بلواسطہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔عورتوں میں تمباکو نوشی اکثر جلد سن یاس کا باعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے بوسیدگیِ استخواںکی مرض بھی پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کسی فرد کو نہ صرف جسمانی بلکہ معاشی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ اور آج کل کم عمر نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے حکومت کوچاہئے کہ سگریٹ نوشی کی روک تمام کیلئے موثر اقدامات کرے اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کےونکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالے دھویں سے ان لوگوں کی کثیر تعدادبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتے۔ لوگوں میں تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کیلئے شعور پیدا کرناحکومت سمیت ہم سب کا فرض ہے۔

May 17, 2007

موسم گرما کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں

٭… موسم گرما کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد

٭… سوتی ملبوسات استعمال کریں’پانی ابال کر پیئں’لیموں کی سکنجبین اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں ‘سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے 

لاہور ( نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا  )اگر موثّراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا’بھوک کی کمی ‘سردرد’صفراوی بخار’گھبراہٹ’خفقان ‘ٹائیفائڈ’پھوڑے پھنسیاں’گیسٹرو’ہیضہ ‘اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی ’ بزوری ‘صندل ‘فالسہ اور نیلوفر کا شربت’لیموں پانی ‘تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی’نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان’‘موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ’‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ’تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖکے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریںتو یقینناًہم موسم گرماکے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔

May 13, 2007

میرے پیارے شہر کراچی پر شیطانیت کا رقص

زندگی پر سب راستے بند تھے
اور اجل اپنی راہیں بناتی رہی
حبسِ جاں کے لیے ایک جھونکا نہ تھا
بادِ صر صر دیوں کو بجھاتی رہی
فصل گل کو نہ اذنِ سفر مل سکا
اور آندھی قیامت مچاتی رہی
پا بہ زنجیر کر دی گئی روشنی
ظلمتِ شب سیاہی بڑھاتی رہی
رہ میں لٹتا رہا خواب کا کارواں
رہ زنی منزلیں اپنی پاتی رہی
پھر گئے دور کی ابتدا ہوگئی
کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی