اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


March 24, 2007

چوبیس مارچ۔ورلڈ ٹی بی ڈے

دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے
ہربیس سیکنڈ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے
اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے:

یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور24 مارچ ۔۔۔۔۔۔بھوک اور وزن میں کمی ’ لگاتار ہلکا بخار’ بہت جلد تھکاوٹ ہونا’خصوصاً رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہربیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے کم وبیش بیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہء اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سلسلے میں یہ دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیںجبکہ ان میں ہرسال دو لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دو لاکھ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصاً ڈیرہ غازی خان’ اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی ‘مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک ‘کان’ تھوک ‘بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے ‘کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئی مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات ‘غلاظت کے ڈھیر ‘گندے غذائی اجزاء اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی ‘نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ وکچا گوشت استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ میڈیکل’طبی تنظیموںاور دیگر این جی اوز کو اس مرض کی بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا چاہئے جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کےلئے اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے لیکن اس مرض کے علاج کےلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے اس موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔

(World TB Day 2007 Theme:TB ANY WHERE IS EVERY WHERE)

March 23, 2007

یومِ پاکستان اور طب اسلامی

  یومِ پاکستان اور طب اسلامی

تئیس مارچ 1940ء

کے دن کی یاد ہمیں سعی مسلسل کی ترغیب دیتی ہے۔اسی دن ہمارے بزرگوں
نے ایک قراداد کے ذریعے اپنی زندگیوں کا ایک مقصد اور منزل کا تعین کیا تھا اور انہوں نے متحد
ہوکر اپنی تمام تر توانائیاں اس مقصد کے حصول کےلئے وقف کردیں اور صرف سات سال کے عرصے میں دنیا کے خطے پر پہلی اسلامی نظریاتی مملکت وجود میں آگئی اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان سچے مسلمانوں نے حضرت عثمان غنی(رض )کے اس قول پر عمل کیا کہ’‘زندگی کا کوئی مقصد بنالو پھر اپنی ساری طاقت اس پر لگا دو تو تم ضرور کا میاب ہو جاؤ گے ‘’۔یوم پاکستان کایہ دن ہمارے لئے تجدید عہد کا دن بھی ہے بے شک قیام پاکستان کی منزل پا لی گئی مگر تعمیر پاکستان کا سفر تو ہنوزجاری ہے لیکن اس سلسلے میں منزل ہم سے دور ہو چکی ہے دیگر تمام شعبوںاور اداروں کی تعمیر میں کوتا ہیوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی قوم کے

مسلہ ء صحت کے حل کےلئے بھی اغیار کے محتاج ہیں حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1942ء میں طلبائے طبیہ کالج دہلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ’‘جب زمام اختیار مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی تو وہ تمام علوم و فنون اسلامیہ کے ساتھ طب اسلامی (یونانی)کے تحفظ و بقا کا بھی خیال رکھیں گے کیونکہ یہ ایک بہترین قومی ورثہ ہے اور اس کی حفاظت قوم کا فرض ہے۔’‘اسی طرح مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1956ء میں کراچی میں پاکستان طبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’‘طب اسلامی اور اس کا تحفظ ایک مسلمہ امر ہے اگرچہ طب اسلامی کی روشنی طب مغرب کی مصنوعی چمک کے سامنے دھندلا گئی ہے تاہم آج بھی ہمارے عوام اس طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں ۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی بھی فن حکومت کے تعاون اور امداد کے بغیر بلندیوں کو نہیں چھو سکتا ۔طباسلامی (یونانی) عوام کی عادات و مزاج کے عین مطابق ہے اس خصوصیت نے اس طریقہ علاج کو ہر آزمائش میں کامیاب کیا ہے۔ اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔پاکستان میں اس کےلئے ہر دروازہ کھلا رہنا چاہئے طبی ہسپتال ‘طبی شفا خانے اور تجربہ گاہیں بالکل ان ہی خطوط پر جن پر طب مغرب کو یہ سب سہولتیں فراہم کی گئی ہیں مہیا کی جائیں تاکہ امراض اور ادویات پر تحقیقات کی جائیں ۔’’ لیکن آج نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود طب اسلامی کی حالت انتہائی ابتر اور سنگین تر ہے۔قومی طبی کونسل ‘طب اسلامی کے معاملات اوردیگر ادارے نا اہل قیادتوں اور منفی سیاست کی وجہ سے مزید زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہیں ۔طبی نظام تعلیم انتہائی ناقص ہوچکا ہے۔ طبی دواسازی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان حالات میں تمام منتشر اطبائے کرام ‘طبی تنظیمیں اور عمائدین و قائدین طب’ متحد ہوں اورہرقسم کی سیاستوتعصب سے بالا تر ہو کر’علمی و سائنسی انداز فکر اپناتے ہوئے ‘طب یونانی اسلامی مشرقی کی ترویج و ترقی کو اپنا مقصد اولین بنالیں نیز اپنی منزل کا تعین کرکے تمام تر قوت اورتوانائیاں اس پر لگاکرتعمیر پاکستان کی تکمیل کےلئے تعمیر طب کے سفر کانئے سرے سے آغاز کریں’قائدین ِطب اس مقولہ پر عمل کریں کہ’‘آگے بڑھو یا راستہ چھوڑ دو’’ یا درکھئے !جمود موت ہے اور حرکت زندگی ۔قائد اعظم کے بقول ‘’آگے بڑھئے اور بڑھتے ہی جائیے ‘’کیونکہ مل جل کر کرنے کےلئے ابھی بہت کام باقی ہیں اگر ہم مندرجہ بالا پر عمل کرکے ایک متحد طاقت بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے مقصد
میں کامیاب نہ ہوسکیں۔آخر میں ایک بات مزید کہوں گا
کہ۔۔۔
نیک باتوں پر عمل کرنا تمھارا کام ہے
یہ نہ دیکھوکہنے والا کون ہے کیا نام ہے

March 8, 2007

عالمی یوم گردہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔8مارچ2007ء

 

گردوں کی بیماریوں کے خلاف جنگ

لاہور جنرل ہسپتال کے سنگ

 پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور گردے فیل ہونا،گردوں میں پتھری بننا،مثانے میں پتھری ہونا یا گردوں اور مثانے کے کینسر کے کیسز بھی کافی تعداد میں سامنے آرہے ہیں،اس کی وجوہات میں بہت سے عوامل شامل ہیں جس میں سے پینے کے لئے استعمال ہونے والے پانی کا آلودہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی،ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش،پان مصالحے،گٹکے کا استعمال ،پان کھانے کی لت،نیم حکیموں اور عطائیوں سے علاج،کشتہ کھانے اور بڑھاپے میں جوان بننے کی خواہش میں مختلف ادویات وغیرہ کا بے تحاشا استعمال بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بلڈ پریشر اور شوگر(زیابطس)کے برے اثرات بھی گردوں میں خرابی اور ان کے ناکارہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔بلڈ پریشر کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے اور شوگر کنٹرول نہ ہونے سے بعض اوقات اچانک گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر اور شوگر کے علاج کے دوران گردوں کے فنکشن پر بھی توجہ دی جائے اور ضروری ٹیسٹ وغیرہ کروائے جائیں تا کہ بیماری کا بروقت پتہ چل سکے۔ گردے کی بیماریوں کی علامات میں گردوں میں درد،کمرایک یا دونوں طرف درد کا ہونا،پیشاب کا بار بار آنا،اس کی مقدار میں کمی یا زیادتی اور خون آنا،جسم میں سوجن کا نمودار ہونا،متلی یا قے کی کیفیت ،جسمانی کمزوری، سانس کی تکلیف۔ آج سے کچھ سال پہلے تک گردوں کی بیماریوں کے بارے میں عوامی سطح پر زیادہ آگاہی نہیں تھی اور نہ ہی اس موضوع پراخبارات وغیرہ میں مضامین اور خبریں نمایاں تھیں لیکن جس سے پاکستان ایسوسی ایشن آف یور الوجیکل سرجنز کی سربراہی پروفیسر سجاد حسین کے حصہ آئی اور وہ صدر بنے تب سے عوامی سطح پر لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی کہ پاکستان میں گردوں کی بیماریوں کا مسئلہ بھی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔پروفیسرسجاد حسین نے اس مسئلہ کو ہر پلیٹ فارم پر اُجاگر کیا ہے۔انہوں نے کراچی میں ہونی والی متعدد کانفرنسز میں بھی اس مسئلہ کی سنگینی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ یورالوجی کے امراض کی روک تھام کے سلسلہ میں بہت سر گرم ہیں۔انہوں نے پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹرز کو یورالوجی میں خصوصی تریبیت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے اور متعدد کورسزميں بھی شروع کئے ہیں تا کہ تربیت یافتہ یورالوجسٹ کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکے۔اس سلسلہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ممتاز احمد بھی ان کے دست راست ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں صرف 200یورالوجی کے سرجنز اور90نیفر الوجسٹ دستیاب ہیں جو 14,15کروڑ کی آبادی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اسی طرح یورالوجی کے فزیشنز کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں ہے اور ان کی تعداد بھی بہت کم ہے ۔اس مسئلہ کی سنگینی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے حکام کو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے فوری توجہ دینی چاہئیے کیونکہ گردوں کی بیماریوں میں روز افزوں میں اضافے کے سبب اموات بڑھ رہی ہیں۔ گردوں کی خرید و فروخت کے سکینڈل آئے دن اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔حکومت نے اس مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے اگرچہ انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کو ممنوع قرار دینے کے لئے اسمبلی میں قانون سازی تو ضرور کی ہے لیکن جب تک طلب برقرار رہی اس کو روکا نہیں جا سکتا۔اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر صحت کے انفراسٹر کچر کو اَپ گریڈ کیا جائے اور گردوں کی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور علاج معالجہ کے سلسلے میں بنیادء صحت مراکز، رورل ہیلتھ سینٹرز،تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں یورالوجسٹس تعینات کئے جائیں تا کہ لوگوں کو مقامی سطح پر گردوں کی بیماریوں سے متعلق احتیاطی تدا بیر اور علاج معالجہ سے متعلق معلومات مہیا ہو سکیں اور ان کا علاج ممکن ہو کیونکہ ہمارے دیہی علاقوں میں غربت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ان بیماریوں میں زیادہ مبتلا ہو رہی ہیں۔ صاف پانی کو عدم دستیابی اور دریاؤں ،ندی نالوں میں کارخانوں کا کیمیکل زدہ اور زہر آلودہ پانی لوگ ہینڈ پمپوں اور کنوؤں سے حاصل کرتے ہیں جوانہیں جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ اس کا تدارک اپنی جگہ انتہائی ضروری ہے۔بڑے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم کرنے کےلئے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر امراض کی روک تھام ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے۔ گردے انسان کے جسم میں جو حیثیت رکھتے ہیں اُس کو عام طور پر قابل غور نہیں سمجھا جاتا۔گردوں کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ جس کے گردے پاس ہوں وہی زندگی پاس کرسکتا ہے۔گردوں کے فیل ہونے کی دیر ہے،بندہ لمحوں میں زندگی سے فیل ہو جاتا ہے۔ دل،دماغ اور جسم کے دیگر حصے صرف اس وقت تک متحرک رہتے ہیں جب تک گردے پوری طرح کام کر رہے ہوں۔ انسان جب بکرے کے گردے کھاتا ہے اُس وقت شاید اُس نے کبھی نہیں سوچا کو وہ کتنی اہم شے کھا رہا ہے۔گردے جتنے اہم،اُن کی اُتنی نگہداشت اور پرواہ نہیں کرتے۔انہیں جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے انہیں اتنا پانی فراہم نہیں کرتے۔جب گردے ناراض ہو جاتی ہیں تو مشینوں کے ذریعے پانی دے کر راضی رکھنا پڑتا ہے۔ صوبہ پنجاب پاکستان کس سب سے بڑا صوبہ ہے۔سندھ جیسے چھوٹے صوبے میں گردوں کے علاج کے تین خصوصی مراکز قائم ہیں جبکہ پنجاب میں ایک مرکز بھی موجود نہیں۔صرف سرکاری ہسپتالوں میں دیگر امراض کے ساتھ گردوں کے علاج کئے جا رہے ہیں۔اس صورتحال میں مریضوں کا رش کنٹرل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔ان سرکاری ہسپتالوں میں لاہور جنرل ہسپتال ایک ایسا ہسپتال ہے جہاں گردوں کے علاج کے لئے قائم شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال کسی دور میں صرف نیورو سرجری کی وجہ سے پہچانا جاتا تھالیکن آج اس ہسپتال کی شناخت و شہرت گردوں کے علاج اور بالخصوص ڈائلسز کے باعث ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تمام بڑے ہسپتالوں اور کچھ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں گردوں کی صفائی ڈائلسز کی سہولت موجود ہے لیکن مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور ان ہسپتالوں میں ڈائلسز مشینیں دن رات کام کر رہی ہیں لیکن رش کم ہونے میں نہیں آتا۔لاہور جنرل ہسپتال میں20ڈائلسز مشینیں دن رات لوگوں کو یہ سہولت مفت فراہم کر رہی ہیں۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے سب سے اہم ضرورت عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔جس کے لئے ماہرین کو ہنگامی بنیادوں پر مہم کا آغاز کرنا چاہئیے اورذرائع ابلاغ کے علاوہ دیہات اور چھوٹے شہروں میں سےمینار اور اجتماعات منعقد کر کی لوگوں کو باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ بڑے بڑے ہوٹلوں کے ائیر کنڈیشنڈ ہالز میں سیمینار اور ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں۔ماہرین ایک دوسرے کو اپنی تقاریر اور تحقیقی مقالے قسم کی تحریریں سنا کر مجلس ستائش باہمی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ ان محفلوں تک عوام کی رسائی ممکن نہیں ہوتی ۔ ایسی تقاریب کا اہتمام ضرور ہونا چاہئیے مگر مسئلہ کے اصل متاثرین جنہیں آپ سٹاک ہولڈربھی کہہ سکتے ہیں وہ تو بے چارے عوام ہیں جو نا خواندہ یا نیم خواندہ ہونے کی وجہ سے ماہرین کی طرح بدیشی زبان میں کی جانے والی تقریروں کو نہیں سمجھتے ۔لہذا ضروری ہے کہ پورے ملک میں ان بیماریوں سے متعلق معلومات اور احتیاطی تدابیر پر مبنی مقامی زبانوں میں لٹریچر شائع کر کے لوگوں میں تقسیم کیا جائے اور آگاہی کے لئے دیگر ذرائع بھی استعمال میں لائے جائیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی 8مارچ کو گردوں کا عالمی دن(کڈنی ڈے) منایا جائے گا۔اس دن دیگر تقریبات کے علاوہ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورالو جیکل سرجنز کے صدر اور پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل پروفیسر سجاد حسین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ممتاز نے فیروز پور روڈ پر عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے ایک’’واک’’کا بھی اہتمام کیا ہے۔ان دونوں شخصیات کی کوششیں بجا لیکن ان کوششوں کا دائرہ کار بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔عالمی دن منانے اور واک کا اہتمام کرتے وقت ہمیں محض رسم نہیں پوری کرنی چاہئیی بلکہ ایسے مواقعوں سے بھر پور استفادہ کرنا ضروری ہے۔اس دن کے حوالے سے منعقد ہونے والے سیمینار میں ماہرین کو اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا چاہئیے اور حکومت کو اپنی مفید اور ماہرانہ تجاویز سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے کہ شعور اور آگاہی کے سلسلہ میں زیادہ کام دیہات اور دور درازکے علاقوں میں کرنا زیادہ ضروری ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر لوگ’’واک’’اور دیگر سر گرمیوں کا مرکز لاہور کی بڑی شاہراہیں اور بڑے ہوٹل ہی ہوتے ہیں۔ہمیں ان مسائل پر توجہ دینے کےلئے آرام کو بھی چھوڑنا ہوگا اور محض اخبارات میں تصاویر شائع کرانے کی خواہش کو بھی کم کر کے ان لوگوں کے پاس ان علاقوں میں بھی جانا ہوگا جہاں اخبارات نہیں پہنچتے اور نہ وہاں ان کو پڑھنے والا موجود ہوتا ہے۔لیکن ان بیماریوں کا شکار بھی وہی لوگ زیادہ بنتے ہیں اور جب تک یہ بے چارے بڑے ہسپتالوں تک پہنچتے ہیں تو بہت سا پانی بلوں سی بہہ چکا ہوتا ہے۔ آخری بات اس سلسلہ کی یہ ہے کہ عالمی کڈنی ڈے کے موقع پر گردہ کی بیماریوں کی روک تھام سے متعلق ٹھوس عملی تجاویز اگر وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو پیش کی جائیں تو وہ یقینا اس سلسلہ میں بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ان کے پاس جذبہ بھی ہے اور اختیار بھی۔

March 2, 2007

نیشنل کونسل فار طب کے الیکشن کےلیے ووٹر لسٹوں کا اجراء کر دیا گیا ہے

نیشنل کونسل فار طب کے الیکشن کےلیے ووٹر لسٹوں کا اجراء

نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کے الیکشن کے سلسلے میں ووٹر لسٹوں کا اجراء کر دیا گیا ہے تمام اطباء اور طبی تنظیمیں درج ذیل ویب ایڈریس پر ملاحظہ فرمائیں

http://www.nct.com.pk/Voters.asp